حرام جادی – اردو کے شاہکار افسانے
نصیبن بہار سے لوٹ آئی تھی۔ اسے شیخ صفدر علی کے ہاں بلایا گیا تھا اور پکارنے والے نے بار بار کہا تھا ”جلدی بلایا ہے جلدی“ ہر ایک یہی کہتا ہوا آتا ہے جلدی آخر وہ کیوں جلدی کرے؟ کیا وہ ان کی نوکر ہے؟ یا وہ اسے دولت بخش دیتے ہیں۔ ہونہہ جلدی! وہ نہ پہنچے گی تو کیا سب مر جائیں گے؟ اور پھر وہ کریں گے ہی کیا اسے بلا کر؟ کہتی ہیں چڑیلیں ”اسے کیا خاک آتا ہے“ کیا خاک آتا ہے کچھ نہیں آتا اچھا پھر؟ بیٹھیں اپنے گھر، کون ان کی خوشامد کرنے جاتا ہے کچھ نہیں آتا؟ جیسے جیسے آئے اس نے دیکھے ہیں ان لوگوں کے تو خواب و خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے چمکدار، تیز، ہاتھی دانت کے دستے والے اور وہ ڈاکٹر کارٹ فیلڈ کے لیکچر، وہ نقشے دکھا دکھا کر جسم کے حصوں کو سمجھاتی تھی کچھ نہیں آتا ہونہہ!
ایملی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ پہلے تو اس کا جی چاہا کہ کہلوا دے وہ جلدی نہیں آسکتی۔ وہ بالکل نہیں آئے گی۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ یہ لوگ محض جاہل ہی تو ہیں۔ ان کے کہنے سے اس کا بگڑتا کیا ہے اور آخر ذمہ داری تو خود اس کی ہی ہے۔ چنانچہ اس نے نصیبن سے کہا ”کہہ دو کہ چلو میں آ رہی ہوں۔ “ مطمئن ہو کر اس نے کروٹ لے لی۔ سر کو تکیے پر ڈھیلا چھوڑ دیا۔ آنکھیں بند کر لیں، ایک بازو بستر کی ٹھنڈی چادر پر پھیلا دیا اور ہاتھ چہرے پر رکھ لیا۔
اس نے چاہا کہ دماغ کو بالکل خالی کر لے اور ساکت ہو جائے مگر اس کے دل کی کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ کانوں میں بج رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد یکایک ایک پتھر سا دماغ میں آ کر لگتا تھا۔ ”جلد“ جس سے اس کے ماتھے اور کنپٹیوں کی نسیں تن جاتی تھیں اور ٹوٹتی ہوئی معلوم ہونے لگتی تھیں۔ اسے جلدی جانا تھا جلدی اور اسی بات کے تو وہ ٹاؤن ایریا کمیٹی سے تیس روپے ماہوار پاتی تھی۔ جلد جانا تھا لیکن آخر وہ فرض پر صحت کو تو نہیں قربان کر سکتی تھی۔
کل رات ہی اسے بہت دیر ہو گئی تھی۔ وہ انسان ہی تو تھی نہ کہ مشین اب وہ محسوس کر رہی تھی کہ اس کے سر میں درد ہو رہا ہے، کمر بیٹھی جا رہی ہے، کندھے اور ٹانگیں بے جان ہو گئے ہیں۔ ایسی حالت میں اتنی جلدی بہت مضر ہو گا اور خصوصاً اس قصبہ جیسی آب و ہوا میں جہاں اس کی صحت روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ ابھی آخر چار مہینے میں اسے چار دن بخار آ چکا تھا اور پھر وہ وہاں جا کر بنا ہی کیا لے گی، ان لوگوں کو ایسی کیا خاص ضرورت ہے اس کی تھوڑا سا اور سو لینا ہی بہتر ہو گا۔۔۔
وہ سو جاتی مگر انگلیوں کے بیچ میں ہو کر صبح کی روشنی آ رہی تھی اور اس کی آنکھوں کو بند نہ ہونے دیتی تھی۔ اس نے ہاتھ آنکھوں پر کھسکا لیا اور آنکھیں خوب بھینچ کر بند کر لیں۔ اب اسے جھپکیاں آنا شروع ہو گئیں۔ مگر ہر دفعہ ”دودھ اور دودھ“ ابے او کلو ہوئے۔ ”اٹھ! اٹھ! ابے پڑھنے نہیں جانے کا؟ “ کی صداؤں اور نسین کی لکڑیاں توڑنے اور دیگچیاں اٹھانے کی آوازوں سے وہ چونک پڑتی تھی۔ سونے کی کوشش کرتے کرتے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
سر میں درد ہونے لگا اور ماتھا جلنے لگا۔ وہ مایوس ہو کر سیدھی لیٹ گئی اور آنکھوں پر دونوں بازو رکھ لئے۔ اب اس کے اعضاء اور بھی بوجھل اور ناقابل حرکت ہو گئے اور وہ ان صداؤں، آوازوں، ان تحکمانہ طلبیوں ”جلدی بلایا ہے۔ “ اس صبح کے چاند نے، اس قصبہ پر دانت پیسنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ کوئی ایسی چادر اوڑھ لے کہ اس کو ان صداؤں، آوازوں، ان تحکمانہ طلبیوں۔ ”جلدی بلایا ہے“ اس صبح کے چاند نے، اس قصبے۔ سب سے چھپاکے۔
جس کے نیچے ان میں سے کسی کی بھی پہنچ نہ ہو، جہاں وہ ان سب سے اپنے آپ سے غافل ہو جائے اپنے کو کھو دے اسے محسوس ہو کہ دو مضبوط اور مدت کے آشنا بازو اس کے جسم کا حلقہ کیے بھینچ رہے ہیں سر کے درد کو گویا یکایک کسی نے پکڑ لیا دو آنکھیں بھی ذرا دور چمکیں، مسکراتی ہوئی معلوم ہوئیں اور اس نے اپنے آپ کو ان بازوؤں کی گرفت میں چھوڑ دیا جسم ہوا کی طرح ہلکا ہو گیا تھا۔ سر ہلکے ہلکے جھکولے کھاتا موجوں پر بہا چلا جا رہا تھا۔ سکون تھا، خاموشی تھی اور صرف دل کے مسرت سے دھڑکنے کی آواز آ رہی تھی دو بازو اس کے جسم کو بھینچ رہے تھے۔ وہ مضبوط اور مدت کے آشنا بازو۔
اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ صبح کے چاند میں چمک آ گئی تھی۔ نصیبن نے چولہے پر دیگچی رکھی۔ بکری والا محلہ سے جانے کے لئے بکریاں جمع کر رہا تھا اور کنویں کی گراری زور زور سے چل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اوپر اٹھیں اور ہوا میں کسی چیز کو تلاش کرنے لگیں۔
دو بادامی سائے اترنے لگے۔ آنکھوں کے پردے پھڑکے اور پلکیں آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے مل گئیں گویا وہ ان سایوں کو پھنسا لینا چاہتی ہیں سائے کچھ دور پر رک گئے، وہ ڈگمگائے اور دھندلے ہوتے ہوتے ہوا میں تحلیل ہو گئے آنکھیں صبح بے رنگ آسمان کو دیکھ رہی تھیں۔ اس کی گردن ڈھلک گئی اور بازو دونوں طرف گر پڑے وہ مدت کے آشنا بازو مگر وہ یہاں کہاں!
چند لمحے بے حس پڑے رہنے کے بعد وہ ولیمن کو یاد کرنے لگی۔ لمبے لمبے پیچھے الٹے ہوئے بال، چوڑا سینہ، سرخ ڈوروں والی جلد، پھرتی ہوئی آنکھیں، موٹا سا نچلا ہونٹ، کان کی لو تک کٹی ہوئی قلمیں، سانولے رنگ پر منڈھی ہوئی داڑھی کا گہرا نشان، آنکھوں کے نیچے ابھری ہوئی ہڈیاں اور مضبوط بازودن میں کتنی کتنی مرتبہ اس کے بازو اسے بھینچتے تھے اور ان کے درمیان وہ بالکل بے بس ہو جاتی تھی اور بعض دفعہ تو جھنجھلا پڑتی تھی مگر اس کے جواب میں اس کا پیار اور بڑھ جاتا تھا اور اس کے دونوں گالوں پر وہ گرم اور نم آلود بوسے اور دن میں کتنی کتنی مرتبہ اس کے منہ سے شراب کی تیز بدبو تو ضرور آتی تھی۔
مگر وہ کیسے جوش سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیتا تھا اور پاگلوں کی طرح اس کے چہرے، ہاتھوں، گردن، سینے سب پر بوسے دے ڈالتا تھا اور پھر قہقہے مار مار کر ہنستا تھا ”میری جان ہاہاہا ہا اے می لی ڈی یرپیاری پیاری ہا ہا ہاہا“ اور وہ اس کی کیسی نگہداشت کرتا تھا۔ وہ اس سے اپنے بازوؤں میں پوچھتا۔ ”اس مہینے میں کیسی ساڑھی لاؤ گی، میری جان؟ ہیں؟ اس سینے پر تو سرخ کھلے گی! کہو کیسی رہی؟ ہا ہا ہاہا“ اور وہ اسے دو پہر میں تو کبھی نہ نکلنے دیتا تھا اگر اسے ایسے وقت ہسپتال سے بلایا جاتا تو وہ کہلوا دیتا کہ مس ولیمن سو رہی ہیں اور وہ اس کے اٹھنے سے پہلے چائے تیار کرا کے اپنے آپ اس کے قریب میز پر لا رکھتا تھا اور وہ اسے کتنے پیار سے بھیجتا تھا مگر وہ یہاں کہاں! اگر وہ یہاں ہوتا تو وہ اسے اتنے سویرے کہیں نہ جانے دیتا۔ وہ یہاں ہوتا تو وہ خود کہیں نہ جاتی۔ وہ تو ایسے کواڑ پیٹ کر جگانے والے کا سر توڑ دیتالیکن وہ یہاں ہوتا وہ اس کے پاس ہوتا تو وہ خود یہاں کیوں ہوتی۔
لیکن کچھ دوسری شکلیں ابھریں اچھا ہی ہے کہ وہ اس کے پاس نہیں ہے اس کے بال الجھے ہوئے اور پریشان تھے اور وہ اس طرح دانتوں سے ہونٹ چبا رہا تھا گویا ان کا قیمہ کر کے رکھ دے گا اور اس نے اسے کیسی بے رحمی سے بید سے پیٹا تھا۔ ”لے اور لے گی بڑی بن کر آئی ہے وہاں سے وہ“ اگر میم صاحب شور سن کر نہ آ جاتیں تو نہ معلوم وہ ابھی اور کتنا مارتا ایملی اپنے بازوؤں پر نشان دھونڈنے لگی ایسے ظالم سے تو چھٹکارہ ہی اچھا کیسی خونی آنکھیں اور آخر میں وہ شراب کتنی پینے لگا تھا مگر وہ ہوتا تو اسے اتنے سویرے کہیں نہ جانے دیتا مانا کہ وہ روڈا کے ساتھ رات کو بڑی دیر ٹہلتا رہتا تھا لیکن ظاہراً تو اس کے ساتھ اس کا برتاؤ ویسا ہی رہا تھا اگر وہ خود اتنا نہ بگڑتی اور اسے اٹھتے بیٹھتے طعنے نہ دیتی تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی وہ اسے کتنے پیار سے بھینچتا تھا لیکن وہ لمبے منہ پر ہڈیاں نکلی ہوئی، سوکھی جیسے لکڑی ہو اور فراک پہننے کا بڑا شوق تھا آپ کو، بڑی میم صاحب بنتی تھیں۔
چار حرف انگریزی کے آ گئے تھے تو زمین پر قدم نہ رکھتی تھی مارے شیخی کے نہ معلوم ایسی کیا چیز لگی ہوئی تھی اس میں جو وہ ایسا لٹو ہو گیا تھا اس نے خواہ مخواہ فکر کی، وہ خود اسے تھک کر چھوڑ دیتا وہ اسے تھوڑے دن یونہی چلنے دیتی تو کیا تھا مگر اس نے کیسی بے رحمی سے اسے مارا تھا ہاں ایک دفعہ مار ہی لیا تو کیا ہو گیا۔ وہ خود بھی شرمندہ معلوم ہوتا تھا اور اس کے سامنے نہ آتا تھا اوراگر ڈینا اسے اتنا نہ بہکاتی تو وہ شاید طلاق بھی نہ لیتی۔
بس وہ اپنا ذرا مزا لینے کو اسے اکساتی رہی یہ اچھی دوستی ہے اب وہ ڈینا سے نہیں بولے گی اور اگر وہ ملے گی بھی تو وہ منہ پھیر کر دوسری طرف چل دے گی اور جو ڈینا اس سے بولی تو وہ صاف کہہ دے گی کہ وہ دھوکا دینے والوں سے نہیں بولنا چاہتی ڈینا بگڑ جائے گی تو بگڑا کرے۔ اب وہ شہر کے ہسپتال سے چلی ہی آئی، اب کوئی روز کا کام کاج تو ہے نہیں کہ بولنا ہی پڑے وہ اسی طرح ڈینا کی مکاری پر پیچ و تاب کھاتی رہتی، اگر نصیبن اسے نہ پکارتی۔ ”اجی میم صاحب اٹھو، سورج نکل آیا۔ “ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی اور چاروں طرف دیکھا اب تو واقعی اسے چلنا چاہیے تھا مگر پھر بھی پلنگ سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے کئی مرتبہ انگڑائیاں لیں اور تکیہ پر سر رگڑا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

