جینی – اردو کے شاہکار افسانے
جب لیلیٰ اسٹیج پر چاندی کا بڑا سا وزنی کپ لینے آئی تو اس کی پریشان زلفیں اور پریشان ہو گئیں۔ نگاہیں جھک گئیں۔ جب اس سے اتنا بڑا کپ نہ سنبھالا گیا، تو جی بی نے لپک کر چوبی حصہ خود اٹھا لیا۔ لیلیٰ نے جی بی کو جھکی ہوئی نگاہوں سے ایک مرتبہ دیکھا۔
اس بھولی بھالی الہڑ لڑکی سے ہمارا تعارف یوں ہوا۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا تانتا بندھ گیا۔ جی بی کالج کا ہیرو تھا۔ لڑکو ں اور استادوں میں ہر دل عزیز۔ کالج میں سب سے ذہین، چست، ہنس مکھ اور خوش پوشاک۔ بڑے امیر والدین کا اکلوتا بیٹا۔ اس کی کار پروفیسروں کی کاروں سے بھی بڑھیا تھی۔ جہاں بھی ادبی تقریب ہوتی مجھے اور بی جی کو مدعو کیا جاتا۔ ہمارے کہنے پر لیلیٰ کو بھی بلایا جاتا؛ لیلیٰ کے خد و خال حسین نہیں تھے۔ اگر اسے نقادانہ طور سے دیکھا جاتا تو وہ حسین ہر گز نہیں تھی، لیکن اگر حسین خد و خال کے بغیر بھی کوئی خوب صورت ہو سکتا ہے تو وہ لیلیٰ تھی۔ اس کی لہراتی ہوئی زلفیں، جھکی ہوئی شرمیلی آنکھیں، مسکراتے ہوئے ننھے منے ہونٹ، ملیح چمپئی رنگت اور نہایت معصوم باتیں سب مل کر نرالی جاذبیت پیدا کر دیتے۔ بعض اوقات تو وہ بے حد پیاری معلوم ہوتی۔
وہ ہوسٹل میں رہتی تھی، سب سے الگ تھلگ۔ کبھی ہم نے اسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ اس کے والدین کے متعلق طرح طرح کی افواہیں سننے میں آتیں۔ ان کے خاندان میں انگریزی اور پرتگالی خون کی آمیزش تھی۔ اس کی والدہ جنوبی ہندوستان کی تھی۔ اس لیے نہ ان کا کوئی خاص مذہب تھا نہ کوئی نسل۔ لیلیٰ کا نام بھی عجیب تھا، اس کا لباس بھی ملا جلا ہوتا وہ اپنے والدین کے ذکر سے احتراز کرتی۔ یہ مشہور تھا کہ ان کی خانگی زندگی نہایت نا خوش گوار ہے۔ وہ ہمیشہ جدا رہتے ہیں ایک دفعہ ان کا تنازِع عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔
پھر کسی نے یونھی کہہ دیا کہ لیلیٰ جی بی کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔ یہ افواہ بنی، پھر عام ہو گئی۔ ہر جگہ اس نئے معاشقے پر تبصرے ہونے لگے۔ سب نے دیکھا کہ لیلیٰ کے دل کا راز عیاں ہو چکا تھا۔ وہ بی جی کو چاہتی ہے۔ طرح طرح کے بہانوں سے وہ اسے ملتی۔ جانے پہچانے راستوں سے ایسے گزرتی کہ بی جی نظر آ جاتا۔ بی جی کو دیکھ کر اسے دنیا بھر کی نعمتیں مل جاتیں۔ یہ نوزائیدہ محبت اس کی زندگی میں طرح طرح کی تبدیلیاں لے آئی۔ وہ مسرور رہنے لگی۔ ادبی سر گرمیوں میں نمایاں حصہ لینے لگی۔ اس کا اجنبی لہجہ درست ہوتا گیا۔ اس کی گفت گو میں مٹھاس آ گئی۔
لیکن جی بی کچھ اتنا متاثر نہیں ہوا۔ اس کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ کتنی ہی مرتبہ اسے محبت خراج کے طور ملی تھی۔
وہ لیلیٰ سے ملتا، اسے ملنے کے موقع دیتا، خوب باتیں کرتا۔ بڑی شوخ اور چنچل قسم کی گفت گو، جس کا وہ عادی تھا۔
چاندنی رات میں دور ایک باغ میں تقریب ہوئی۔ لڑکیوں کے ساتھ لیلیٰ بھی آئی۔ جی بی ہمارے ساتھ نہیں آیا، معلوم ہوا کہ وہ ایک انگریز لڑکی کو لے کر آئے گا جس کا شہر بھر میں چرچا تھا۔ جو نوجوانوں کی گفت گو کا محبوب ترین موضوع تھی۔ یہ اس کی نئی محبوبہ تھی۔
جی بی دیر میں پہنچا، کار سے وہ اکیلا اترا۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں تھی، وہ مایوس اور کھویا سا تھا اور فوراً واپس جانا چاہتا تھا لیکن اسے اجازت نہ ملی، وہ تو ایسی محفلوں کی جان تھا۔ جب وہ اپنا غزل سنا رہا تھا تو لیلیٰ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے آئنے میں خود اپنا عکس دیکھ رہی ہو۔ جیسے خود اپنی روح کو کسی اور روپ میں دیکھ رہی ہو۔ جی بی نے خلاف توقع غم آمیز اشعار سنائے، جن میں شکوے تھے، التجا تھی اور وہ اشعار کسی خاص ہستی کے لیے تھے جو وہا ں نہیں تھی۔
لیلیٰ نے کئی مرتبہ اس سے باتیں کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بدستور خاموش رہا۔ میں نے اسے ٹوکا، ایک طرف لے جا کر ڈانٹا بھی، لیکن وہ جیسے وہ وہاں تھا ہی نہیں۔ ہم دونوں اکیلے کھڑے تھے کہ لیلیٰ آ گئی۔ جی بی کچھ دیر اس کی طرف یونھی دیکھتا رہا پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک اونچے سرو کے پیچھے لے گیا۔ وہ مبہوت بنی چپ چاپ چلی گئی۔ جی بی نے اسے بازوؤں میں لے کر چوم لیا۔ پہلے بوسے سے وہ کانپ اٹھی۔ ان جانی لذت سے مغلوب ہو کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور جی بی کے سینے پر سر لگا دیا۔ وہ اسے پھیکے ہونٹوں سے چومتا رہا ایسے الفاظ اس کے لبوں سے نکلتے رہے جو لیلیٰ کے لیے نہیں کسی اور کے لیے تھے۔ اس کے بازوؤں میں لیلیٰ نہیں تھی، کوئی اور بے وفا حسینہ تھی جس کے لیے وہ بے تاب تھا۔
لیلیٰ شدتِ احساس سے آنکھیں بند کیے خاموش کھڑی رہی، وہ جی بی اور اس کے بوسوں کی دنیا سے دور نکل گئی۔ وہ شعر و نغمے کی وادیوں میں جا پہنچی جہاں اس کے سہمے ہوئے خوابوں کی تعبیریں آباد تھیں، جہاں فضاؤں میں اس کی معصوم امنگیں تحلیل ہو چکی تھیں، جہاں کیف و خمار چھائے ہوئے تھے؛ جہاں صرف رعنائیاں تھیں اور محبت پاشیاں!
اس کے بعد لیلیٰ کی نئی زندگی شروع ہوئی۔ اس کی دنیا میں ہر چیز پر نیا نکھار آ گیا، جو پہلے محض تخیل تھا، وہ تخلیق ہو گیا۔ غنچے چٹکے، خوش الحان طیور چہچہانے لگے۔ رنگ برنگ پھولوں کی خوشبوؤں نے ہوائیں بوجھل کر دیں۔ زمین سے آسمان تک قوسِ قزح کے رنگ مچلنے لگے، ہر شے کا خوابیدہ حسن جاگ اٹھا اور اس کے بعد نہ دنیا رہی اور نہ زندگی محض خواب تخیل اور حقیقت کی حدوں پر چھا گیا۔
بہت دیر کے بعد لیلیٰ اس خواب سے چونکی۔ دفعتہََ اس پر اس بھیانک حقیقت کا انکشاف ہوا کہ وہ جی بی کے لیے محض ایک کھلونا تھی۔ جی بی کو اس سے محبت نہیں تھی اور وہ جی بی کے لیے ان متعدد لڑکیوں میں سے ایک تھی جو اس کا تعاقب کرتی تھیں اور بغیر کسی صلے کے اسے چاہتی تھیں۔
جب بات بہت مشہور ہوئی تو جی بی کترانے لگا۔ اس نے تقریبوں میں آنا بند کر دیا۔ لیلیٰ کو دیکھ کر کار تیز کر دیتا۔ اس کی طرف سے منہ پھیر لیتا۔
اپنی پہلی محبت کی شکست پر لیلیٰ کو یقین نہ آیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یوں بھی ہو سکتا ہے۔ اس صدمے کو اس نے اپنی روح کی گہرائیوں میں چھپا لیا لیکن اس کی محبت جوں کی توں رہی۔ وہ اس سے ملنے کے بہانے تلاش کرتی۔ اسے خط لکھتی، تحائف بھیجتی۔
ایک روز سب نے لیلیٰ کے خطوط کو نوٹس بورڈ پر دیکھا۔ یہ وہ محبت بھرے خطوط تھے جو اس نے جی بی کو لکھے۔ بہت سے لڑکے یہ خطوط دیکھنے گئے میں بھی گیا۔ سب نے مزے لے لے کر خطوط کو پڑھا، دل چسپ فقرے نقل کیے ۔ خوب ہنسے بھی۔
بعد میں جب مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے جی بی کو برا بھلا کہا، اسے یہ حرکت ہر گز نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ کہنے لگا کہ لیلیٰ نے اسے اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ اب وہ اس کے نام سے نفرت کرتا ہے۔ وہ اس سے ملتا ضرور رہا ہے لیکن کسے علم تھا کہ معمولی سا مذاق ایسی شکل اختیار کر لے گا اور وہ مفت میں بد نام ہو جائے گا۔ محض لیلیٰ کی وجہ سے بقیہ لڑکیاں اس سے دور دور رہنے لگی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پہل بی جی کی طرف سے ہوئی تھی۔
جی بی میرا گہر ا دوست تھا۔ ہم دونوں ہم عمر تھے، ہمارے خیالات ایک سے تھے۔ میں خاموش ہو گیا۔ دیر تک خطوط کا چرچا رہا۔ لیلیٰ کئی ہفتے کالج میں نہیں آئی۔ تنہا گوشوں میں بیٹھ کر رویا کرتی۔ اس نے کسی سے شکایت نہیں کی۔ جو کچھ اسے کہا گیا اس نے خاموشی سے برداشت کیا۔
جی بی نے لیلیٰ کی سہیلیوں کی منتیں کیں کہ اسے سمجھائیں کہ کسی طرح اسے دور رکھیں۔ اس نے ان راستوں سے گزرنا چھوڑ دیا جہاں لیلیٰ کے نظر آنے کا احتمال ہوتا۔ اپنے کمرے کی وہ کھڑکیاں مقفل کر دیں جو سڑک کی طرف کھلتی تھیں، جن کی طرف سے لیلیٰ گزرتے ہوئے اسے دیکھ لیا کرتی۔ ایک دن مجھے ترس آگیا۔ میں جی بی سے خوب لڑا کہ جہاں ہم اتنی لڑکیوں سے ملتے رہتے ہیں وہاں کبھی کبھی لیلیٰ سے مل لینے میں کیا حرج ہے۔ وہ کہنے لگا۔
تمہیں معصومیت اور سادگی پسند ہے مجھے نہیں۔ مجھے نا پخت اور الہڑ لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔ ذرا ذرا سی بات پر آنسو نکل آتے ہیں۔ خوش ہوئیں تو رونے لگیں۔ غم گیں ہوئیں تو آنسو بہنے لگے۔ دنیا کی کسی چیز کا بھی انھیں علم نہیں۔ ہر چیز خود بتانی پڑتی ہے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں مجھے تجربہ کار اور کھیلی ہوئی لڑکیاں زیادہ پسند ہیں۔
۔ ۔
جی بی کے اس رویے کا اثر یہ ہوا کہ لیلیٰ اس سے ڈرنے لگی۔ وہ اسے دور دور سے دیکھتی۔ کہیں آمنا سامنا ہوتا تو وہ کترا جاتی۔ دوسروں سے جی بی کے متعلق پوچھتی رہی۔ کئی مرتبہ میں نے خود اسے جی بی کے بارے میں باتیں بتائیں۔ اس کی تصویریں بھی دیں جس پر وہ مجھ سے خفا ہو گیا۔ پھر جی بی کو کچھ عرصے کے لیے اپنی تعلیم چھوڑ دینی پڑی۔ اس کے کچھ رشتہ دار دوسرے ملک میں بہت بڑے تجّار تھے۔ اسی سلسلے میں جی بی کے والد اسے باہر بھیجنا چاہتے تھے اور ان کے لیے تعلیم اتنی اہم نہ تھی۔
ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بچھڑنے کا بہت افسوس ہوا۔ ایک شام ہم اداس بیٹھے تھے کہ میں نے اسے لیلیٰ سے آخری مرتبہ ملنے کو کہا۔ اس نے انکار کر دیا۔ جب میں نے پرانی دوستی کا واسطہ دیا تو وہ راضی ہو گیا۔ میں نے لیلیٰ کو بتایا تو اسے یقین نہ آیا۔ اس نے آنسو خشک کیے، اپنا بہترین لباس پہنا۔ سہیلیوں سے مانگ کر زیور پہنے۔ ان کے مشورے سے سنگار کیا۔ اپنے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں آرزوئیں لیے اپنے محبوب سے ملنے گئی۔ اس رات بی جی پیے ہوئے تھا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس نے محض اس ملاقات کی وجہ سے پی تھی تا کہ وہ لیلیٰ سے پیار بھری باتیں کر سکے۔
اس نے لیلیٰ سے بہت سی باتیں کیں۔ اسے ہمیشہ مسرور رہنے کو کہا۔ جلد لوٹنے کے وعدے کیے۔ لیلیٰ کو ایک بار پھر اس فردوسِ گم شدہ کی جھلک دکھا دی جسے محبت کے پہلے بوسے نے تخلیق کیا تھا۔ لیلیٰ نے اقرار کیا کہ وہ ہمیشہ خوش رہے گی اور اس کا انتظار کرے گی۔ اگر اس کی وجہ سے جی بی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ سزا کی طالب ہے۔ اگر جی بی حکم دے تو وہ کہیں دور چلی جائے۔ اگر وہ چاہے تو لیلیٰ مر جائے۔ جدا ہوتے وقت اس نے اپنا رومال جی بی کو نشانی کے طور پر دیا۔ یہ رومال جی بی نے مجھے دے دیا۔ کہنے لگا ”شاید تمھارے پاس محفوظ رہے ورنہ میں تو اسے کہیں ادھر ادھر پھینک دوں گا۔“ رومال سے بھینی بھینی خوش بو آ رہی تھی۔ ایک کونے میں سرخ دھاگے سے ننھا سا دل بنا ہوا تھا جسے لیلیٰ نے خود کاڑھا تھا۔
جی بی کے چلے جانے پر لیلیٰ ذرا بھی غم گین نہ ہوئی۔ اس کے وعدوں کو دل سے لگائے انتظار کرتی رہی۔ یہ انتظار طویل ہوتا گیا۔
پتے زرد ہو کر گر پڑے، پھول مرجھا گئے، ٹہنیاں لنج منج رہ گئیں، خزاں آ گئی۔ وہ نہ آیا۔ جھکڑ چلے، سوکھے پتے اڑنے لگے۔ گرد و غبار نے آسمان پر چھا کر چاندنی اداس کر دی۔ تاروں کو بے نور کر دیا۔ وحشتیں پھیل گئیں۔ وہ نہ آیا۔
کونپلیں پھوٹیں، ہریالی میں پیلی پیلی سرسوں پھولی، رنگین تتلیاں اڑنے لگیں۔ غنچے مسکرانے لگے، پرندوں کے نغموں سے ویرانے گونج اٹھے۔ بہار آ گئی لیکن وہ نہ آیا۔
دن لمبے ہوتے گئے۔ لمبی لمبی جھڑیاں لگیں۔ سفید بگلوں کی قطاریں سیاہ گھٹاؤں کو چیرتی ہوئی گزر گئیں۔ نیلے بادل آئے اور برس کر چلے گئے۔ جھیلوں کے کنارے قوسِ قزح سے رنگیں ہو گئے لیکن وہ پھر بھی نہ آیا۔
بہت دنوں تک لیلیٰ کھوئی کھوئی سی رہی۔ خاصی دیر کے بعد وہ سب کچھ سمجھ سکی۔ جب جی بی لوٹا تو وہ سنبھل چکی تھی۔ جی بی اکیلا نہیں آیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ گوری چٹی فربہ عورت جو کسی لکھ پتی کی بیٹی تھی۔ جس کا گول مول چہرہ کسی قسم کے اظہار سے مبرّا تھا۔ جس کے دل میں جذبات کے لیے جگہ نہ تھی۔ جو اس ٹھوس اور مادی دنیا میں پیدا ہوئی اور اسی دنیا سے تعلق رکھتی تھی۔ ایسے اونچے اور امیر گھرانے میں شادی ہو جانے پر سب نے جی بی کو مبارک باد دی۔ اس کی قسمت پر رشک کیا۔ میں لیلیٰ کو بھی جانتا تھا اور جی بی کو بھی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ وہ دونوں اس وقت رقص گاہ میں تھے۔ جی بی وہ میرا پرانا دوست تھا جو میرے ساتھ بیٹھا تھا اور لگا تار پی رہا تھا اور لیلیٰ وہ جینی تھی جو میرے سامنے اپنے خاوند کے ساتھ رقص کر رہی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

