جینی – اردو کے شاہکار افسانے
جہاں وہ اس قدر ہر دل عزیز ثابت ہو رہا تھا وہاں اس کے حریف کو جو مقامی پہلوان تھا کوئی پوچھتا ہی نہ تھا۔ کشتی شروع ہوئی اور غل مچ گیا۔ کچھ دیر برابر کا مقابلہ رہا۔ پھر دفعتہََ مقامی پہلوان نے سانگ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سر سے اونچا اٹھا لیا اور زمین پر دے مارا۔ سانگ بے ہوش ہو گیا۔ اسی ہجوم نے جو اس کی تعریفیں کر رہا تھا اس پر آوازے کسنے شروع کر دیے۔ اس پر اشتہار اور کاغذوں کے ٹکڑے پھینک کر اکھاڑے میں تنہا چھوڑ دیا۔ سانگ ایک بنچ پر اکیلا بیٹھا تھا جینی مسکراتی ہوئی گئی اور اس سے باتیں کرنے لگی۔ اسے پسینا پونچھنے کے لیے اپنا چھوٹا سا معطر رومال دیا جسے اس نے شکریے کے ساتھ لے لیا۔ جینی کی پیاری مسکراہٹ اور دل کش باتوں نے اسے موہ لیا۔
ان باتوں میں ایسی حلاوت تھی کہ سانگ کو اپنی زبوں حالت کا احساس نہ رہا۔ ساری شام ہم نے اکٹھے گزاری۔ جب وہ رخصت ہوا تو اس کے ہونٹ لرز رہے تھے اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ ڈے کے والدین آ گئے اور وہ ہوسٹل سے چلا گیا۔ اس کی کی والدہ نے جینی کو دیکھا۔ جینی کو ان کے گھر بلایا گیا لیکن یہ آنا جانا بہت جلد ختم ہو گیا۔ ایک روز ڈے جینی سے ملا اور جی بی کے متعلق پوچھنے لگا۔ جینی نے شروع سے اخیر تک ساری کہانی سنا دی، سب کچھ بتا دیا۔ ڈے اس پر برس پڑا یہ باتیں اس سے پوشیدہ کیوں رکھی گئیں۔ اسے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا۔ جی بی کے علاوہ اور بھی نہ جانے کتنے عاشق ہوں گے اب اسے کیوں کر یقین آ سکتا ہے کہ جینی کی محبت صادق ہے۔ یہ تو محض ڈھونگ تھا۔ کھیل تھا۔ اب اس کھیل کو فوراً ختم ہو جانا چاہیے۔
میں نے سنا تو ڈے کو سمجھایا کہ جن دنوں وہ جی بی سے ملا کرتی تھی، ڈے بنگال سے آیا بھی نہ تھا۔ بھلا وہ ڈے پر اتنی دور کیوں کر عاشق ہو سکتی تھی اور وہ بھی بنا دیکھے اور سنے اور پھر وہ خود جینی کے علاوہ کئی لڑکیوں سے محبت جتا چکا تھا۔ جینی جانتی تھی پھر بھی اس نے باز پرس نہ کی لیکن ڈے نہیں مانا۔ اس کے خیال میں ہر مرد کا فطری حق ہے کہ خود دنیا بھرکی لڑکیوں سے چہلیں کرتا پھرے، لیکن محبوبہ سے یہ توقع رکھے کہ وہ زندگی بھر صرف اسی کو چاہے گی۔ اس کی منتظر رہے گی۔ بچپن ہی سے اسے الہام ہو جائے گا کہ فلاں مرد آج سے اتنے سال بعد اسے چاہنے آئے گا جو خود ہرجائی ہو گا اور چاہنے سے پہلے لڑکی کی گزشتہ زندگی کو اچھی طرح کرید کر اپنی تسلی کر لے گا۔
۔ ۔
جینی نے اسے وہ سارے وعدے یاد دلائے جو اس نے قسمیں کھا کھا کر کیے تھے۔ وہ محبت بھری باتیں یاد دلائیں جو ہزاروں بار دہرائی گئی تھیں۔ وہ خواب بتائے جو دونوں نے اکٹھے دیکھے تھے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ تو جیسے کسی بہانے کی تلاش میں تھا۔ دیکھتے دیکھتے جینی میں بے شمار نقص نکل آئے۔ نہ اس کا کوئی خاندان تھا نہ مذہب۔ سوسائٹی میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ اس کے خون میں آمیزش تھی۔ اس کی تربیت ایسے والدین کے زیرِ سایہ ہوئی جن کی زندگی ہمیشہ نا خوش گوار رہی۔
جن میں سب سے بڑا عیب یہ تھا کہ وہ غریب بھی تھے اور پھر جینی کچھ اتنی خوب صورت بھی نہیں تھی۔ اس سے کہیں حسین اور بہتر لڑکیاں ڈے کو مل سکتی تھیں۔ ایک حسین لڑکی تو ڈے کی والدہ نے ڈھونڈ بھی لی تھی۔ لڑکی کے والد رائے بہادر تھے اور لڑکی کے ساتھ لاکھوں کی جائیداد دے رہے تھے۔ انھوں نے ڈے کو انگلستان بھیجنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ میرے نام دعوتی رقعہ آیا۔ میں خاموش رہا۔ جب جینی کے نام رقعہ بھیجا گیا تو مجھے بہت غصہ آیا۔ طیش میں آ کر میں نے کئی منصوبے باندھے۔ سب سے پہلا منصوبہ ڈے کی ہڈی پسلی ایک کر دینے کا تھا لیکن جینی کے کہنے پر میں نے ارادہ ترک کر دیا۔
شادی پر ہم دونوں گئے۔ جینی شادی کا تحفہ لے کر گئی۔ سب کے سامنے یہ تحفہ کھولا گیا۔ ڈے کی بیوی کے لیے سنہرا ہار تھا، جس میں دل کی شکل کا لاکٹ پر ویا ہوا تھا۔ اگلے مہینے جینی نے کالج چھوڑ دیا اور گھر چلی گئی۔
ایک پارٹی میں میرا تعارف ڈے کی بیوی سے ہوا۔ معلوم ہوا کہ اسے دنیا میں اگر کسی چیز سے نفرت تھی تو وہ آرٹ سے۔ یہ سارے مصور، موسیقار، شاعر اسے زہر دکھائی دیتے تھے اور سب سے زیادہ چڑ اسے ان امیر لوگوں سے تھی جو اس قسم کی فضولیات میں پڑ کر اپنا وقت ضائع کرتے تھے۔ بھلا ستار یا وائلن سیکھنے کی کیا ضرورت ہے جب صبح سے شام تک ریڈیو پر ساز بجتے رہتے ہیں۔ مصوری سیکھنے میں کیا تک ہے، جب بازار میں ہر قسم کی تصویریں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اگر کسی نے الفاظ کو توڑ مروڑ کچھ شعر گھڑ لیے تو اس پر آنسو بہانے یا بے قابو ہو جانے کی کیا ضرورت ہے۔
آخری امتحان پاس کر کے میں کالج سے چلا آیا۔ مصروفیتوں نے آن دبوچا۔ ملک کے مختلف حصوں میں پھر تا رہا۔ مدتوں تک میں نے جینی کے متعلق نہیں سنا۔
پھر ایک دن ایک پرانا دوست ملا۔ میں نے جینی کا ذکر کیا تو اس نے باتیں سنائیں کہ وہ پہلے سے بالکل بدل چکی ہے۔ ہر جگہ یہی مشہور ہے کہ وہ محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ایک معاشقہ ختم ہوا ہے تو دوسرا عن قریب شروع ہو گا۔ کالج چھوڑ کر اس نے ملازمت کر لی اور اب بالکل آزادانہ طور پر رہتی ہے؛ ہر شام اس کے ہاں لوگوں کا جمگھٹا رہتا ہے۔ قسم قسم کے لوگ آتے ہیں۔ نہایت عجیب و غریب ہجوم ہوتا ہے۔ پھر خوب افواہیں اڑتی ہیں۔
لوگ شیخیاں مارتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا، میرے کوٹ کے کالر سے جو بال چسپاں ہے وہ جینی کا ہے۔ یہ تصویر جینی نے مجھے دی تھی۔ میرے رومال پر جو سرخی ہے وہ جینی کے ہونٹوں کی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے سال وہاں سیلاب آیا تھا۔ لوگ بے گھر ہو گئے، قحط پڑا۔ جینی نے کچھ لڑکوں، لڑکیوں کو ساتھ لیا۔ گاؤں گاؤں پھر کر مصیبت زدہ مخلوق کی مدد کی۔ امیروں سے فلرٹ کر کے چندہ اکٹھا کیا۔ اپنی صحت اور آرام کا خیال نہ رکھا۔
رات دن محنت کی۔ کئی مرتبہ بیمار ہوئی کچھ اوباش قسم کے لوگ محض جینی کی وجہ سے محتاجوں کی امداد پر تیار ہو گئے۔ اسے چھیڑا، تنگ کیا۔ ایک شام بہانے سے اپنے ساتھ لے گئے اور اسے شراب پلانی چاہی۔ جینی نے گروہ کے سرغنے کے بال نوچ لیے۔ اس کا منہ تمانچوں سے لال کر دیا۔ وہ ایسے گھبرائے کہ اسی وقت جینی کو واپس چھوڑ گئے۔
پھر کسی نے جینی کی تصویر اخباروں میں نکلوا دی۔ اس کی تعریف بھی شامل تھی۔ جس پر سب نے یہی سمجھا کہ محض سستی شہرت کی غرض سے جینی نے لوگوں کی مدد کی تھی۔
کچھ عرصے کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ ایک تبادلے نے مجھے جینی کے قریب پہنچا دیا۔ محض چند گھنٹوں کی مسافت تھی۔ ہر دوسرے تیسرے ہفتے میں اسے ملنے جاتا۔ سچ مچ اب وہ پرانی جینی نہیں تھی۔ پہلے سے کہیں تن درست اور چست معلوم ہوتی تھی۔ اس کے چہرے پر تازگی تھی، نیا نکھار تھا، ہونٹوں میں رسیلا پن اور رخساروں پر سرخی آچکی تھی۔ اب وہ اک شعلۂ فروزاں تھی۔ وہ طرح طرح سے میک اپ کرتی، شوخ و بھڑ کیلے لباس پہنتی۔ جگ مگ جگ مگ کرتے ہوئے زیور، قسم قسم کی خوشبوئیں۔
وہ ہر موضوع پر بلا دھڑک گفت گو کر سکتی تھی۔ کلبوں اور رقص گاہوں میں اسے باقاعدگی کے ساتھ دیکھا جاتا۔ ہفتے بھر کی شامیں پہلے ہی مختلف مصروفیتوں کے لیے وقف ہو جاتیں۔ پرانی سیدھی سادی جینی کی جگہ اس شوخ و شنگ لڑکی کو دیکھ کر میں کچھ چڑ سا گیا۔ یہ جذبہ محض حسد و رشک کا جذبہ تھا۔ میں شاید برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ گفت گو کرتے وقت مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ وہ مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔ ہر بحث میں وہ مجھے ہرا دے۔ تاش کھیلتے وقت میں بغلیں جھانکنے لگوں۔ رقص گاہ میں بعض دفعہ مجھے ایک لڑکی بھی نہ ملے اور اس کے لیے بیسیوں لڑکے بے قرار ہوں۔ وہ ایسی چیزوں کا ذکر کرتی رہے جن کا مجھے شوق تو ہے لیکن ان تک پہنچ ذرا مشکل ہے۔
شام کو اس کے ہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا۔ ان میں زیادہ تعداد عشاق کی ہوتی جو طرح طرح سے اپنی محبت کا اظہار کرتے۔ شادی شدہ حضرات اپنی غم گین ازدواجی زندگی کا رونا رویا کرتے کہ کس طرح قدرت نے ان کو دغا دی اور نہایت بد مذاق اور ٹھس طبیعت کی رفیقہ پلے باندھ دی۔ اب ان کے لیے دنیا جہنم سے کم نہیں۔ اب یہ عذاب برداشت نہیں ہو سکتا۔ خود کشی کے سوا اور کوئی چارہ نہیں لیکن اس سیاہ خانے میں امید کی ایک نورانی کرن نظر آتی ہے۔ وہ ہے جینی۔
پر مغز اور ذہین قسم کے لوگ اکثر سیاست اور ادب پر بحث کرتے۔ کارل مارکس فرائیڈ اور مولانا روم کے تذکرے چھیڑتے۔ سیاست دانوں کی غلطیاں گنواتے۔ مشاہیر پر تنقیدیں کرتے۔ بے لوث اور سچی دوستی کا دم بھرتے لیکن موقع پا کر عشق بھی جتا دیتے۔
ایک طبقہ نفاست پسند اور نازک اندام لوگوں کا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت اپنی کم زوریاں گنواتے رہتے۔ اپنی بیماریوں کا ذکر کرتے۔ اپنے آپ کو بے حد ادنیٰ اور کم تر سمجھتے۔ بار بار جینی سے پوچھتے: اگر تمھیں برا معلوم ہوتا ہو تو میں آیندہ نہ آیا کروں۔ اگر چہ ایسا کرنے سے مجھے قلبی، جگری اور روحانی صدمہ پہنچے گا۔ مگر ہر شام کو آ دھمکتے۔
کئی ایسے شرمیلے بھی تھے جو چھپ چھپ کر خطوط لکھتے۔ جینی پر نظمیں کہہ کر اسے بدنام کرتے۔ سامنے آتے تو شرما شرما کر برا حال ہو جاتا۔
سب سے گھٹیا وہ عاشق تھے جو اپنے آپ کو جینی کا بھائی کہتے۔ بھائیوں کی سی دل چسپی لیتے۔ اس کی حفاظت اور بہ بودگی کے خواہاں رہتے لیکن دل میں کچھ اور سوچتے رہتے۔
مجھے یہ تماشا دیکھ کر غصہ آتا۔ آخر یہ لڑکی چاہتی کیا ہے کہ سب کے سب تو اسے پسند آنے سے رہے۔ سارے ہجوم کو برخاست کر کے ان میں سے ایک دو سے ملتی رہا کرے۔ میرا ارادہ بھی ہوا کہ اسے ٹوکوں۔ پھر سوچا کہ بھلا میں اس کا کیا لگتا ہوں، دیکھا جائے تو میں بھی خود اسی ہجوم میں سے ایک ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں اسے ذرا پہلے سے جانتا ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

