جینی – اردو کے شاہکار افسانے


پھر اس جذبے نے ایک اور شکل اختیار کی۔ جینی کو خود علم نہیں تھا کہ جسے وہ محض جذبۂ ترحّم سمجھ رہی ہے ایک دن محبت کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ جینی نے ایک آوارہ و بے خانماں کو پناہ دی۔ اپنی توجہ اور اپنا پیار ایسے انسان پر ضائع کیا جو ہر گز اس کا حق دار نہ تھا۔ وہ سدھرتا جا رہا تھا۔ اس کی حالت پہلے سے بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ کہا کرتا کہ کہ اسے جینی کی گزشتہ زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔ ا ب تو اسے اپنی گزشتہ زندگی سے بھی تعلق نہیں رہا تھا۔

اس کی زندگی تب سے شروع ہوئی جب اس نے جینی کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ پتا نہیں اس سے پہلے وہ کیوں کر جیتا رہا لیکن اب وہ جینی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس نے اپنی نظموں میں بار ہا جینی کو مخاطب کیا تھا۔ تمہارے دل میں خلوص کے چشمے ابلتے ہیں۔ محبت کا قلزم رواں ہے۔ تمھارے دل میں وہ جذبات ہیں جن پر رات دن کا تسلسل قائم ہے۔ زمین و آسمان کی گردش قائم ہے۔ وہ جذبات جب فنا ہو گئے انسانیت فنا ہو جائے گی۔ دنیا چاند ستاروں کی طرح اجاڑ اور سنسان ہو جائے گی۔ یہاں کچھ بھی نہ رہے گا۔

ایک روز اس نے جینی کو بتایا کہ وہ بیمار ہے، اسے دق ہے۔ کبھی کبھی یہ بیماری عود کر آتی ہے۔ کاش کہ وہ تن درست ہوتا، تب کسی روز وہ دونوں شادی کر لیتے۔ زندگی کتنی سہانی ہو سکتی تھی۔ کیسی کیسی راحتیں میسر ہوتیں۔ تب وہ سب اذیتیں بھول جاتیں جو دنیا کے جہنم میں اب تک برداشت کی تھیں۔

وہ یونھی آوارگی میں مرنا چاہتا تھا لیکن بڑی مشکلوں سے جینی نے اسے سینی ٹوریم میں بھجوایا۔ اس کا فالتو خرچ برداشت کرنے کے لیے وہ دن بھر دفتر میں کام کرتی۔ رات کو ٹیوشن پر لڑکیوں کو پڑھاتی۔ لگاتار مشقت نے اسے کم زور کر دیا۔ وہ بیمار رہنے لگی۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ شاعر صرف اسی کے لیے نظمیں نہیں کہتا۔ اس کے تخیل میں کوئی اور بھی شریک ہے۔ یہ سینی ٹوریم کی ایک نرس تھی، جسے وہ بعد میں ملا تھا۔

جینی نے اس افواہ پر توجہ نہ دی، یونھی کسی نے اڑا دی ہو گی۔ وہ وہاں رات دن ایک سے ماحول میں رہ رہ کر تھک گیا ہو گا۔ اسے تفریح بھی تو چاہیے۔ کسی سے ہنسنے بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ جب وہ اس سے ملنے جاتی، تو نرس کے لیے بھی تحائف لے جاتی۔ ان دونوں کی دوستی پر اس نے کبھی شبہ نہیں کیا لیکن یہ افواہ محض افواہ نہیں رہی۔ شاعر سینی ٹوریم سے تن درست ہو کر آیا تو اس نے شادی کر لی۔ نرس کے ساتھ۔ جینی پھر بھی اس سے ملتی رہی، اسے مالی مدد دیتی رہی۔ آخر نرس نے ان ملاقاتوں پر اعتراض کیا کہ جینی جیسی لڑکی سے ملنا بدنامی مول لینا ہے۔ شاعر نے اس اعتراض کو سر آنکھوں پر لیا ور جینی سے ملنا چھوڑ دیا۔ موقع ملنے پر وہ اسے بد نام بھی کرتا۔ غزلوں میں اپنے کارنامے بیان کرتا اور جینی کے پرانے عاشقوں کے قصے دُہراتا۔

جب وہ کہانی سنا چکی تو میں نے اسے بتایا کہ ہم پرانے دوست ہیں۔ دوستی عظیم ترین رشتہ ہے۔ خلوص پر میرا ایمان ہے۔ میں انسانی کم زوریوں سے ہرگز منکر نہیں۔ شاید مجھے اچھے برے کی تمیز نہ ہو لیکن ان جذبات کی قدر کرتا ہوں، جن میں خلوص کار فرما ہو خواہ ان جذبات کا انجام کیسا ہی ہو۔ زندگی میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ذہنی کیفیتیں بھی دیر پا نہیں ہوتیں لیکن وہ جذبات جو اپنے وقت پر صادق تھے، ہمیشہ صادق رہتے ہیں۔ اس لیے وہ مد و جذر جو تمھاری زندگی میں آئے ناگزیر تھے۔ تم سچی تھیں۔ تمہارے جذبات سچے تھے۔ میں نے تمھیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ تمھیں پسند کرنے کے علاوہ میں تمھاری عزت بھی کرتا ہوں۔

آہستہ آہستہ اس نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ باہر جانا بند کر دیا۔ وہ ہر وقت میری منتظر رہتی لیکن اب وہ مسرور نہیں تھی۔ اب اسے ماضی یا حال کا اتنا خیال نہیں رہا تھا جتنا کہ مستقبل کا، وہ تنہا اور اداس تھی۔ کئی مرتبہ میں نے اسے قبرستان میں بیٹھے دیکھا۔ ایک روز میں وہاں اس کے پاس چلا گیا۔ وہ عجیب سی باتیں کرنے لگی۔ ”کبھی ایسے پرسکون لمحات بھی آئیں گے جب میں بھی اسی طرح سو جاؤں گی۔ وہ خاموشی کتنی سہانی ہو گی؟ موت کے بعد اگرچہ محض خلا ہو گا، دل دوز تاریکی ہو گی لیکن وہ تاریکی اس کرب انگیز اجالے سے ہرگز بری نہیں ہو گی۔“

۔ ۔

پھر انگریزی میں لکھا ہوا یہ شعر دُہرایا ”میں ان بد نصیبوں میں سے ہوں جنھیں ہر صبح نہایت قلیل روشنی ملتی ہے۔ امید کی اتنی سی جِلا کہ صرف دن بھر زندہ رہ سکیں۔ جس روز یہ روشنی نہ مل سکی میں ظلمتوں میں کھو جاؤں گی۔“

میں نے رنگین اور خوش نما چیزوں کی باتیں کر کے موضوع بدلنا چاہا لیکن وہ بولی۔ ”کاش تم اندازہ لگا سکتے کہ میں کس قدر غم گین ہوں؟ کس قدر افسردہ ہوں؟ اگر اب مجھے سہارا نہ ملا تو میرے خواب تمام ہو جائیں گے۔ اصول ختم ہو جائیں گے۔ میں گم ہو جاؤں گی۔“

پھر ایک دن جب میں ان افواہوں کی تردید کرنا چاہتا تھا جو ہم دونوں نے با رہا اپنے متعلق سنی تھیں وہ کہنے لگی ”تم مجھے جانتے ہو، سمجھتے ہو۔ میں بھی تمھاری سیّاح روح سے آشنا ہوں۔ تمھارے ان گنت مشغلوں، طرح طرح کے خوابوں کا مجھے احساس ہے۔ میں تم سے صرف ذرا سی توجہ مانگتی ہوں۔ بالکل ذرا سا سہارا۔ اپنی زندگی کا قلیل سا حصہ مجھے دے دو، میں ہمیشہ قانع رہوں گی۔ میں کبھی تم پر بار نہیں ہوں گی۔ تم میرا ساتھ نہ دینا میں تمھارے ساتھ چلوں گی۔“

میں اس اشارے کو سمجھ گیا۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اس نے ایسی باتیں کی تھیں۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ عورت اور مرد کی دوستی نہایت محدود ہے اس پر کئی اخلاقی اور سماجی بندشیں عائد ہیں۔ یہ بندش ایک حد تک درست بھی ہیں۔ آخر ایک مقام آتا ہے جہاں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

میں اس مقام سے لوٹ آیا۔

فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو میں بزدل ثابت ہوا، میں خاموش ہو گیا۔ خاموش ہو کر میں اس گروہ میں شامل ہو گیا جو جینی کی زندگی میں مجھ سے پہلے آیا۔ گروہ جو بظاہر اپنے آپ کو باغی ظاہر کرتا، لیکن دراصل سماجی روایات کا غلام تھا۔ جینی سمجھ گئی۔ پھر اس نے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں۔ ہم دونوں میں ایک معاہدہ سا ہو گیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ زبان پر نہیں آیا، لیکن طے ہو گیا کہ جب تک ایک دوسرے کے قریب ہیں، محض پرانے دوستوں کی طرح رہیں گے۔

پھر میں نے تبادلے کے لیے کہا تو مجھے دوسری جگہ بھیج دیا گیا۔ چلتے وقت جینی مجھے چھوڑنے آئی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پہلی مرتبہ میں نے اسے سب کے سامنے روتے دیکھا۔ ان آنسوؤں کے باوجود وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ بار بار وہ آنکھیں خشک کرتی اور جب میں نے رومال مانگا تو اس نے بالکل پہلی سی شوخی سے پوچھا کہ رومال لے کر کیا کرو گے؟ میں نے کہا، اسے یادگار کے طور پر رکھوں گا۔

”اور میرے آنسو کیوں کر خشک ہوں گے؟“ اس نے گیلا رومال دیتے ہوئے پوچھا۔

چند مہینوں کے بعد میں نے سنا کہ اس نے کسی سے شادی کر لی۔

جو جواب میں نے اس کی مسکراہٹ سے مانگا تھا وہ نہیں ملا۔ پھر یک لخت معلوم ہوا کہ موسیقی ختم ہو چکی ہے۔ رقص ختم ہو چکا ہے اور لوگ کھانے کے لیے دوسرے کمرے میں جا رہے تھے۔ میں اور جی بی بھی چلے گئے۔ جب دیر کے بعد واپس آئے تو جینی جا چکی تھی۔ اس کا خاوند بھی وہاں نہیں تھا۔

مجھے یونھی خیال سا آیا کہ اس مرتبہ جینی سے بہت کم باتیں ہوئیں۔ میں اس سے دور دور رہا۔ نہ اس سے کچھ پوچھا نہ بتایا۔ اس سے رومال بھی تو نہیں مانگا۔

نہ جانے کیوں مَیں اس گوشے میں چلا گیا جہاں جینی اور اس کا خاوند بیٹھے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میز کے نیچے ایک مسلا ہوا رومال پڑا ہے جو رقص کرنے والے لوگوں کے قدموں تلے آ چکا تھا۔ میں نے اسے اٹھا لیا، جھاڑا، سلوٹیں دور کیں۔ جانی پہچانی خوش بو سے فضا معطر ہو گئی۔ یہ رومال یہاں کیسے آیا؟ جینی جان بوجھ کر میرے لیے چھوڑ گئی، یا یونھی اتفاق سے رہ گیا؟ دیر تک میں اس رومال کو لیے وہیں کھڑا رہا۔ اس روندے ہوئے، مسلے ہوئے سرخ دل کو دیکھتا رہا جو اب تک خمار آگیں خوش بو میں بسا ہوا تھا۔
جینی کا دل عورت کا دل۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7