جینی – اردو کے شاہکار افسانے


اس کا تبادلہ ہوا اور وہ ہمارے کیمپ میں آ گیا۔ ہم دونوں بہت جلد دوست بن گئے۔

شہر کے حاکم نے ہمیں دعوت دی۔ ہم دونوں گئے۔ نہایت دل چسپ پروگرام تھا۔ آغا نے کینری کا تعارف ایک نہایت خوب صورت لڑکی سے کرایا۔

کینری اس سے گھل مل کر باتیں کر رہا تھا۔ محفل گرم ہوتی جا رہی تھی، کہ یکایک گھڑی دیکھ کر کینری اٹھ کھڑا ہوا۔ اسن مجھے بتایا کہ دوسرے کیمپ کی قریب کسی لڑکی سے رات کو ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ سردیوں کی اندھیری رات تھی۔ کیمپ وہاں سے سو میل کے لگ بھگ تھا۔ ہمیں سب نے منع کیا، لیکن کینری کا وعدہ تھا کیوں کر پورا نہ ہوتا۔ ہم جیپ میں روانہ ہوئے تو ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔ پہاڑوں کی پے چیدہ دشوار گزار سڑک برف سے سفید ہو چکی تھی۔

ہم اتنی تیزی سے جار رہے تھے کہ موڑوں پر جیپ ہوا میں اٹھ جاتی۔ راستے بھر وہ اپنی محبوبہ کے لافانی حسن کی تعریفیں کرتا رہا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دعوت ختم ہو چکی تھی۔ لڑکی منتظر ملی۔ کینری نے میرا تعارف کرایا۔ ان دنوں میں بے حد اداس تھا۔ مہینوں سے کسی دوست یا عزیز کا خط نہیں ملا تھا۔ میں نے بڑی جذباتی قسم کی گفت گو شروع کر دی۔ اسے یہ باتیں اچھی معلوم ہوئیں۔ ہم ایک گوشے میں جا بیٹھے۔ کینری ایک دو بار ہمارے پاس آیا لیکن جلد اٹھ کر چلا گیا۔ جب لوگ جانے لگے تو اس نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا۔ ”میں جا رہا ہوں۔ بعد میں تمھارے لیے جیپ بھجوا دوں گا۔“

”اور یہ لڑکی“؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

”یہ اب تمھاری ہے۔ میں یاروں کا یار ہوں۔ میں تمھارے چہروں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ میں نے تم دونوں کی آنکھوں میں اس روشنی کی چمک بھی دیکھی ہے جو پہلی ملاقات پر بلا وجہ پیدا نہیں ہوتی۔ میں اسے چاہتا ضرور ہوں، لیکن تم بھی میرے دوست ہو۔“

اس کی شخصیت عجیب تھی۔ نہ اسے کسی خطرے کا احساس تھا نہ کسی مصیبت کا ڈر۔ وہ ہمیشہ کام کر چکنے کے بعد یہ سوچتا کہ یہ کام اسے کس طرح کرنا چاہیے تھا۔ اس کے مزاج میں بلا کی تندی اور گرمی تھی۔ کیسی ہی آفت آن پڑے وہ کبھی نہ گھبراتا۔ ذرا ذرا سی باتوں پر بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے کو تیار ہو جاتا۔ اسے سکون سے نفرت تھی۔ اس سے لڑ، اس سے جھگڑ۔ محاذ سے واپس آیا ہے تو ڈوئل لڑ رہا ہے، جوئے میں آج ہزاروں جیتے تو کل سب ہار دیے۔

سب اس کے کام یاب معاشقوں پر رشک کرتے، اس کام یابی کا راز پوچھتے۔ وہ سر ہلا کر کہتا یہ تو کچھ بھی نہیں، ہزاروں محبتیں ایسی بھی تھیں جو ادھوری رہ گئیں۔ جو کبھی بھی نہ پنپ سکیں۔ جنھوں نے بار بار میرا دل توڑا۔

ہمارے قریب ایک چھوٹا سا خوش نما قصبہ تھا گلشن، آس پاس کے باشندوں میں کینری شہنشاہِ گلشن کے نام سے مشہور تھا۔

پہلے کبھی اس پر قتل کا مقدمہ بن گیا تھا، موت کی سزا تھی، پھر عجیب سے حالات میں وہ بری ہو گیا۔ آزاد ہو کر اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ ہمیشہ زندگی کو ایک نئی زندگی سمجھے گا جو اسے تحفۃً ملی ہے۔ اس زندگی کا گزشتہ زندگی سے واسطہ نہیں۔ وہ ہمیشہ مسرور رہے گا، آزاد رہے گا۔ جو چیز نا پسند ہوئی اسے فنا کر دے گا، جو بھا گئی اس پر چھا جائے گا۔

محض اتفاق تھا کہ ایسا شخص زندگی کی شاہ راہ پر جینی سے ملا۔

اس کا پیار آندھی کی طرح امڈا، آناً فاناً میں چھا گیا اور طوفان کی طرح اتر گیا۔

وہ چھٹی پر ہندوستان آیا۔ شام کو کسی شناسا لڑکی سے ملاقات کا پروگرام بنا۔ اسے ملنے گیا، وہ نہیں ملی مگر وہاں ایک اور لڑکی سے ملاقات ہو گئی۔ یہ لڑکی جینی تھی جو اپنی سہیلی سے ملنے آئی تھی۔ کینری نے جینی کو اپنی محبوبہ کا نعم البدل سمجھا اور جتنے دن وہ وہاں رہا اسے نعم البدل سمجھتا رہا۔ اس نے قیمتی تحفوں کی بارش کر دی۔ اپنی دل چسپ باتوں اور رنگین کہانیوں سے جینی پر جادو کر دیا۔ بھڑکیلی کاروں میں اسے لیے لیے پھرا۔ ایک چاندنی رات کو جب وہ سمندر میں تیرنے گئے تو ریت پر بیٹھ کر اس نے محبت کا واسطہ دے کر جینی کو شیمپین پلائی۔ عمر بھر با وفا اور صادق رہنے کا حلف اٹھایا۔ ہمیشہ اکٹھے رہنے کے عہد و پیمان کیے ۔ یہ سب کچھ اس قدر پر خلوص تھا کہ جینی نے سچ مان لیا۔

اس آغاز کے بعد انجام وہی ہوا جس کی توقع کی جا سکتی تھی، جو نا گزیر تھا۔ جینی کی زندگی میں وہ جس طرح آیا تھا اسی طرح چلا گیا۔

لیکن جینی کی یاد اس کے دل سے مکمل طور پر نہ گئی۔ جب کبھی اسے کوئی ٹھکرا دیتا، جب دیر تک تنہا رہنا پڑتا، کوئی بری خبر سننے میں آتی، اداسیاں عود کر آتیں۔ ۔ ۔ تو اسے جینی کی معصومیت، اس کا خلوص اور پیار یاد آتا۔ رات کی تنہائی میں ہم دونوں دیر تک خیمے میں بیٹھے رہتے۔ باہر سرد ہواؤں کے جھکڑ چلتے تو وہ جینی کو یاد کرتا۔ اپنے جھوٹے وعدوں کو یاد کر کے شرمندہ ہوتا، اپنے آپ کو گنہ گار سمجھتا۔ بار بار کہتا کہ جینی ان سب لڑکیوں سے مختلف تھی جو اس کی زندگی میں آئیں۔

اگر اس کی زندگی میں شادی کی کوئی گنجایش ہوتی تو وہ جینی سے ضرور شادی کرتا۔ وہ نہایت غیر معمولی لڑکی تھی۔ اسے کسی نے سمجھا نہیں۔ کسی کی نگاہیں اس کے خد و خال سے آگے نہیں پہنچیں۔ اس کی روح کی عظمت کو کسی نے نہیں پہچانا۔ اس میں کسی مصور کی روح تھی، کسی عظیم شاعر اور بت تراش کی روح۔ اس میں اتنی صلاحیتیں تھیں کہ ان کی رفاقت کسی کی بھی زندگی چمکا سکتی تھی۔ اس میں بلا کی معصومیت تھی؛ اس میں سیتا کا تقدس تھا۔

مریم کی پاکیزگی تھی۔ اس نے کئی مردوں سے محبت نہیں کی بلکہ صرف ایک ایک مرد سے محبت کی، ایک مرد جسے اس نے کلبلاتے رینگتے ہجوم سے چنا اور دوسروں سے مختلف سمجھا لیکن اس مرد نے اسے ہمیشہ دھوکا دیا۔ اس کی مسکراہٹ کیسی تھی، بالکل مونا لِزا کی مسکراہٹ، معصوم، اتھاہ اور پراسرار، اس کی مسکراہٹ کے سامنے کینری جیسا انسان بھی کانپ اٹھا تھا۔

لیکن ایسی باتیں وہ کبھی کبھی کیا کرتا اور اگلی صبح اکثر بھول جاتا۔

اس کے بعد ایک طویل وقفہ آیا۔ یہ وقفہ ایسا تھا کہ اس نے سب کچھ بھلا دیا۔ جینی بھی یاد نہ رہی۔ میں ہزاروں میل کے فاصلے سے واپس ملک میں آیا تو دوبارہ دور بھیج دیا گیا۔ اس عرصے میں کبھی کوئی پرانی یاد تازہ ہو جاتی اور خیالات کے تسلسل میں جینی آ جاتی تو یہی سوچتا کہ غالباً اب اس سے کبھی ملاقات نہیں ہو گی۔

لگاتار تنہائی اور بہت سے کٹھن لمحوں کے بعد مختصر سی چھٹی ملی۔ میں قریب کی پہاڑیوں پر چلا گیا۔ وہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب تھا۔ دور دور تک چائے کے باغات تھے اور مال دار سوداگروں کی آبادیاں۔ جہاں میں گیا وہاں خوب رونق تھی۔ میری طرح بہت سے اجنبی چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔ چند ہی دنوں کے بعد محسوس ہونے لگا کہ باوجود اتنی چہل پہل اور شور شغب کے وہ احساسِ تنہائی کم نہیں ہوا جو مجھے وہاں کھینچ کر لایا تھا۔

ایک روز میں یونھی کھویا کھویا سا پھر رہا تھا کہ جینی مل گئی۔ ایسے دور دراز خطے میں اسے پا کر مجھے از حد مسرت ہوئی۔ اس مرتبہ تو وہ پہلے سے بالکل مختلف معلوم ہوئی۔ اس کی باتوں میں حزن کی آمیزش تھی۔ اس کے چہرے پژمردگی تھی لیکن ایسی پژمردگی جس میں عجیب جاذبیت تھی، جو حسن و شباب کی تازگی سے کہیں دل فریب معلوم ہو رہی تھی، اس مسکراہٹ میں افسردگی کی رمق نے ایک عجیب وقار پیدا کر دیا تھا۔

وہ وہاں اپنے کسی عزیز کے ہاں رہتی تھی جو چائے کا سودا گر تھا۔ وہ بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔ کلب، رقص، پارٹیاں، پکنک۔ سب بے حد اکتا دینے والے تھے۔ وہاں اس کا صرف ایک واقف تھا، اسی کمپنی کا ایک بوڑھا ملازم جو تنہا رہتا۔ جس کی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ کتابیں تھیں۔ کام سے لوٹ کر وہ بڑے اہتمام سے کتابیں نکالتا۔ دونوں پڑھتے، بحث کرتے، جھگڑتے۔ ۔ ۔ اب ہم تین ساتھی ہو گئے۔ چھٹی کے بقیہ دن یوں گزرے کہ پتا بھی نہ چلا۔

واپس آ کر میں نے تبادلہ کرا لیا اور جینی کے پاس چلا گیا۔ ہم جنگلوں میں نکل جاتے، سیریں کرتے، کتابیں پڑھتے، بچوں کی طرح ہنستے کھیلتے۔ میں اسے جتنا قریب سے دیکھتا اتنی ہی نئی خوبیاں پاتا۔ وہ بہترین رفیق تھی۔ اکثر یوں محسوس ہوتا جیسے میں اسے پہلے کبھی ملا ہی نہیں، اس کی بے پناہ جاذبیت سے آشنا نہیں ہوا۔ ہم رقص پر جاتے تو وہ لگاتار میری جانب متوجہ رہتی۔ اس کی نگاہیں میرے چہرے پر جمی رہتیں۔ مجھے اس پر فخر ہونے لگتا۔

۔ ۔

ہم ایک دوسرے کے قریب خاموش بیٹھے پڑھتے رہتے۔ کئی کئی گھنٹوں تک ایک بات بھی نہ ہوتی، لیکن ہمارے خیالات ہم آہنگ ہوتے، دلوں میں طمانیت ہوتی۔ خاموشی اور گویائی کا فرق یوں مٹ جاتا جیسے ہم باتیں کر رہے ہوں۔ پتا نہیں وہ کون سا رشتہ تھا جس نے اب تک ہم دونوں کو قریب رکھا۔ غالباً دوستی کا جذبہ۔ یہ قرب اس قدر اہم ہو گیا کہ ذرا سی جدائی بھی شاق گزرنے لگی۔

ایک روز میں نے اس کی کتابوں میں نظموں کی کاپی دیکھی۔ یہ نظمیں جینی نے لکھی تھی۔ یہ نظمیں کس قدر حزنیہ تھیں، کتنی کرب انگیز اور درد ناک۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ اس نے کب اور کن حالات میں لکھیں؟ یہ اس کی لکھی ہوئی ہرگز نہیں معلوم ہوتیں، کیوں کہ جس جینی کو میں جانتا ہوں وہ تو دلیر اور نڈر ہے۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہی۔

ایک سہ پہر کو ہم سیر سے واپس آ رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ پہلے تو درختوں کے نیچے چھپتے رہے۔ جب موسلادھار مینہ برسنے لگا تو بھاگ کر ایک شکستہ جھونپڑی میں پناہ لی۔ میں نے اپنا کوٹ سوکھی ہوئی گھاس پر بچھا دیا۔ ہم دونوں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ میں نظموں کی باتیں کرنے لگا۔ یونھی تنگ کرنے کو کہا کہ پہلے تو کبھی بھولے سے بھی کوئی شعر اس کی زبان پر نہ آتا تھا، اب ہزاروں اشعار زبانی یاد ہیں۔ کہیں اسے کوئی شاعر تو پسند نہیں آگیا تھا؟

اس کا چہرہ اتر گیا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے معافی مانگی۔ شاید کوئی دُکھتی ہوئی رگ چھیڑ دی تھی یا تلخ یادیں تازہ کرا دی تھیں۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ دوبارہ معافی مانگی۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔ جب وہ میرے شانے سے سر لگائے بیٹھی تھی، تو ایسی ننھی منی بچی معلوم ہو رہی تھی جو راستہ بھول گئی ہو۔ بالکل بے یار و مددگار ہو اور سہارے کی طالب ہو۔ میں نے اس کے آنسو خشک کیے۔

دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھام کر اسے پیار کیا۔ ان با رہا چومے ہوئے ہونٹوں پر اب تک تازگی تھی۔ ان آنکھوں میں اب تک معصومیت تھی۔ ان رخساروں پر وہی جلا تھی۔ یہ لڑکی اب تک وہی لڑکی تھی جسے میں نے برسوں پہلے، جی بی کے ساتھ مباحثے میں دیکھا تھا۔ اس کی زندگی کی ایک کہانی ایسی بھی رہ گئی تھی جو میں نے نہیں سنی تھی۔ یہ کہانی اس نے خود سنائی۔ یہ ایک شاعر کے متعلق تھی جو شرابی تھا، جواری تھا، غیر ذمہ دار تھا، جھوٹا تھا۔

اپنی خود داری اور انفرادیت کو خیر باد کہہ چکا تھا۔ جس کی حرکتیں دیکھ کر افسوس کی بجائے غصہ آتا۔ جینی ہمیشہ اس پر ترس کھاتی۔ ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کرتی سفارشیں کر کے اس کا کلام چھپوایا۔ اسے ادھر ادھر متعارف کرایا۔ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ شاید یہ اسی طرح سدھر جائے۔ اس کی زندگی بہتر بن سکے اور وہ بیش بہا خزانہ جو اس کے دماغ میں محفوظ ہے کہیں ضائع نہ ہو جائے۔ ترس کا یہ جذبہ دن بدن بڑھتا گیا۔ جینی غیر شعوری طور پر اس کے قریب ہوتی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7