جینی – اردو کے شاہکار افسانے
پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک شخص کی جانب ملتفت ہوتی جا رہی ہے۔ یہ انسان بالکل عجیب تھا۔ پہلے پہل تو میں اسے سمجھ ہی نہ سکا۔ یہی سوچتا کہ آخر اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اسے قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس کی زندگی کا واقعی کوئی مقصد نہیں۔ اسے کسی چیز پر یقین نہیں تھا۔ محبت، نفرت، زندگی، موت، انسان، خدا۔ سب سے منکر تھا۔ بات بات پر بحث کے لیے تیار ہو جاتا۔ سب اس سے کتراتے تھے۔ اسے کامریڈ کے نام سے پکارا جاتا۔
محض جینی کی وجہ سے میں اس سے ملتا ورنہ میرے دل میں اس کے لئے نفرت تھی۔ یہ نفرت شاید اس دن پیدا ہوئی، جب ہم نے پہلی اور آخری بحث کی۔ کامریڈ عورتوں کو ہمیشہ برا بھلا کہتا۔ ان پر نکتہ چینیاں کرتا۔ ایک روز میں نے اختلاف کیا۔ عورت کی زندگی کی ان گنت مجبوریاں جتلائیں۔ لڑکی کی پیدایش کو نا مبارک سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں اس کی پرورش میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ بھائی اسے ڈانٹتے دھمکاتے ہیں۔ اس کا حصہ چھین لیتے ہیں۔
اس کے دل میں احساس کم تری پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر بڑی ہونے پر کنبے اور پڑوسیوں کی تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ دُپٹے کا ذرا سر سے اتر جانا خاندان کی ناک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذرا سی بھول اسے زندگی بھر کے لیے مجرم بنا دیتی ہے۔ کالج میں اسے فلسفہ سکھایا جاتا ہے۔ مساوات اور آزادی کے سبق دیے جاتے ہیں لیکن جب شادی کا سوال آتا ہے تو اس سے کوئی نہیں پوچھتا۔ اسے وہی کرنا پڑتا ہے جو چند خشک مزاج بزرگ چاہتے ہیں لیکن لڑکوں کی زندگی بالکل مختلف ہے۔
وہ بڑی آسانی سے جھوٹی قسمیں کھا کر لڑکیوں کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ محبت کا واسطہ دلا کر سب کچھ منوا لیتے ہیں۔ پھر چند خاندانی مجبوریوں کا بہانہ کر کے انھیں بڑی آسانی سے دھتکار سکتے ہیں اور سلیٹ کی طرح بار بار سب کچھ دھل جاتا ہے۔ ان کا ماضی کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ ان کے لیے بیاہ شادی کھیل ہے لیکن لڑکیوں کے لیے شادی نئی مصیبتوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ بیوی بن کر بچوں کی پرورش، معاشی بے بسی، ذرا ذرا سی بات کے لیے خاوند کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ عمر رسیدہ ہو جانے پر اولا د بے مصرف سمجھتی ہے، مذاق اڑاتی ہے۔
کامریڈ کو میری باتیں فضول معلوم ہوئیں۔ وہ یہی کہتا رہا کہ ویسے عورت اور مرد برابر ہیں لیکن مرد کا رتبہ دماغی اور جسمانی لحاظ سے بلند ہے۔ اس نے دونوں کے دماغ کی بناوٹ اور وزن کا ذکر بھی کیا۔ مرد کے لیے لمبے قد اور مضبوط بازوؤں کا حوالہ دیا۔
اس کے بعد میری اور اس کی کبھی بحث نہیں ہوئی۔
پتا نہیں اس کا ذریعۂ معاش کیا تھا، وہ رہتا کہاں تھا۔ اس کی گزشتہ زندگی کہاں اور کیسے گزری۔ بس یہ مشہور تھا کہ وہ جینی کا مداح ہے۔
جینی ان دنوں بڑی ٹھوس قسم کی کتابیں پڑھتی۔ مشکل سے موضوع پر خشک اور سنجیدہ کتابیں۔ جب وہ دونوں باتیں کرتے تو بہت کم لوگ سمجھ سکتے کہ کس موضوع پر گفت گو ہو رہی ہے۔ ان دونوں کی دوستی کا یہ پہلو مجھے بہت اچھا معلوم ہوتا۔ جینی کی مدلل اور ذہین باتیں ظاہر کرتیں کہ وہ دماغی ارتقا کی منزلیں بڑی تیزی سے طے کر رہی ہے۔
ہم پکنک پر گئے۔ ایک تاریخی عمارت کو ہم نے بار بار دیکھا تھا، لیکن جب جینی نے ایک خاص زاویے سے ہمیں دیکھنے کو کہا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے اس باغ اور عمارت کو آج پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ کامریڈ اچھل پڑا۔ بولا صرف ایک آرٹسٹ کی آنکھ اس زاویے کو چن سکتی تھی۔ جب قصے کہانیاں ہو رہی تھیں تو ایک لڑکا اپنا رومان سنانے لگا۔ اسے ایک لڑکی دور دور سے دیکھا کرتی، اشارے ہوتے، پتھروں سے لپٹے ہوئے خطوط پھینکے جاتے، عہد و پیمان ہوتے، لیکن وہ فاصلہ اتنے کا اتنا تھا۔
نہ وہ خود قریب آتی نہ آنے دیتی۔ تنگ آ کر اس نے چھت پر جانا چھوڑ دیا۔ کئی دنوں کے بعد گیا تو لڑکی نے بڑی سخت سماجت کی۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ اگر اب بھی قریب نہ آنے دو گی تو آیندہ کبھی چھت پر نہیں آؤں گا۔ بڑی مشکلوں کے بعد وہ رضا مند ہو گئی۔ بار بار یہی کہتی آپ وعدہ کیجیے کہ مجھ سے نفرت تو نہیں کرنے لگیں گے۔ اس نے وعدہ کیا تو مانی۔ یہ اسے ملنے گیا؛ لڑکی نہایت حسین تھی لیکن اس کی آنکھوں میں نقص تھا۔ وہ بھینگی تھی۔ اس پر بڑے قہقہے پڑے۔ ہنستے ہنستے لوگ دُہرے ہو گئے لیکن جینی خاموش رہی، اس کی آنکھیں نم ناک ہو گئیں۔ دیر تک وہ چپ چاپ رہی مجھے بھی اس کہانی نے اداس کر دیا۔ یہ کہانی ہرگز مضحکہ انگیز نہیں تھی۔
باغ کے گوشے میں ایک کنواں تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس میں جھانک کر جو خواہش کی جائے پوری ہو جاتی ہے۔ ہر ایک نے کچھ مانگا۔ جب جینی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے، مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، کوئی ارضی یا سماوی طاقت مجھے کچھ نہیں دے سکتی۔ بس مجھے ایک زندگی ملی ہے اور مجھے زندہ رہنا ہے۔
کامریڈ اش اش کر اٹھا۔ کہنے لگا کہ جینی کا یہ نظریہ صحیح ترین نظریہ ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں لوگ اب تک بارش کے لیے دعا مانگتے ہیں، اس سے بہتر نظریہ نہیں ہو سکتا۔ کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، تقدیر اور قسمت وغیرہ فضول چیزیں ہیں۔ ہر شخص اپنے گرد بچھے ہوئے جال میں گرفتار ہے۔ اپنے حالات سے مجبور ہے۔ زندگی کے اٹل ارادے، شدید جذبے، سب حوادث کے غلام ہیں۔ ہم اس لیے ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اتفاق نے ہمیں ملا دیا۔ اسی طرح محض اتفاق سے ہم ان لوگوں کی رفاقت سے محروم ہیں۔ جنھیں اگر ملتے تو شاید گہرے دوست بن جاتے۔
پھر ایک روز وہی کامریڈ جو افلاطونی دوستی اور خلوص کے گن گایا کرتا تھا، جینی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ انہوں نے اکٹھے چائے پی، پکچر دیکھی، چھوٹے موٹے تحفے خریدے جب ٹیکسی میں دونوں واپس آ رہے تھے تو اس نے جینی کو چومنے کی کوشش کی۔ جینی نے ٹیکسی ٹھہرا لی؛ جتنے روپے کامریڈ نے اس شام صرف کیے تھے اس کے منہ پر مارے اور پیدل واپس چلی آئی۔
کامریڈ کئی روز تک غائب رہا پھر معافی مانگنے آیا۔ جینی نے کہا کہ مجھے طیش نہیں آیا، مایوسی ہوئی ہے۔ میں تمھیں ان سب سے مختلف سمجھتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ تم اس ہجوم میں سے نہیں ہو لیکن تم میں اور دوسروں میں فرق نہیں۔
کامریڈ نادم تھا، بولا ”میرے نظریے خواہ کیسے ہوں، میں انسان بھی ہوں۔ تم میں اتنی زبردست کشش ہے کہ میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ میں نے کبھی تمھارے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا۔ تمھاری بے چین روح کو دیکھا ہے اور یہی روح مجھے عزیز ہے۔ اگر تمھارے خد و خال بہتر ہوتے اور تم زیادہ خوب صورت ہوتیں تو تمھاری زندگی مختلف ہوتی۔ اگر تم کسی بہتر گھرانے میں پیدا ہوتیں تو تمھاری زندگی مقابلتاً آسان ہوتی لیکن تم اتنی صلاحیتوں کی مالک نہ ہوتیں۔ تمھاری روح اتنی حسین نہ ہوتی۔“
جینی عورت تھی، کامریڈ کے رنگیں فقروں نے اسے موہ لیا۔ اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ دل دھڑکنے لگا۔ رُخ سار سرخ ہو گئے۔ جب کامریڈ نے بازو پھیلائے تو جینی نے مزاحمت نہ کی۔ اس کے بعد کامریڈ کی گفت گو کا انداز بدل گیا۔ ’’محبت ایک دوسرے کی طرف دیکھنے رہنے کا نام نہیں بلکہ دونوں کا ایک سمت میں دیکھتے رہنے کا نام ہے؛ محبت میں اگر رفاقت کی آمیزش ہو تو وہ انتہائی بلندیوں تک جا پہنچتی ہے‘‘۔ اسی قسم کی باتیں بار بار دہراتا۔
کبھی کبھی وہ مجھے خاصا دل چسپ معلوم ہوتا۔ اس کی چند چیزیں مجھے پسند تھیں۔ اس کی صحرا نوردیاں، بے چین طبیعت، سیلانی پن لیکن اس کے شکست خوردہ نظریے، بلا وجہ کا حزن، تلخ خیالات برے معلوم ہوتے۔ وہ قنوطی تھا اور اذیت پسند۔ اس نے کبھی زندگی کا مقابلہ نہیں کیا۔ مصیبت کو آتے دیکھ کہ وہ ہمیشہ راستہ کترا جاتا۔ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا۔ دنیا بھر کا ستایا ہوا۔ اس کا ارادہ تھا کہ عمر بھر اسی طرح سرگرداں رہے گا۔ اس کی منزل کہیں نہیں۔
میرا تبادلہ ہوا تو جینی مجھے چھوڑنے اسٹیشن پر آئی، جدا ہوتے وقت میں نے رومال مانگا۔ پوچھنے لگی ”رومال لے کر کیا کرو گے؟“ کہا، ”رومال تمھاری شوخ مسکراہٹوں کی یاد دلاتا رہے گا“۔ بولی، ”تم ہر مرتبہ رومال ہی کیوں مانگتے ہو۔“ بتایا کہ اس کی مخمور کن خوش بو اور ننھے سے سرخ دل کی وجہ سے۔
اگلے سال مجھے کسی نے بتایا کہ کامریڈ جینی کو چھوڑ کر چلا گیا۔ وہ بالکل ویسے کا ویسا رہا۔ جینی کی تمام کوششیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لا سکیں۔ چلتے وقت اس نے جینی سے کہا کہ بے سر و سامانی اس کی تقدیر میں ہے۔ اس کی منزل مفقود ہے۔ وہ جینی سے محبت کرتا رہے گا۔ اس کی تصویر دل سے لگا کر رکھے گا۔ دوسرے شہروں سے اسے خط لکھا کرے گا۔ اسے ہمیشہ یاد رکھے گا اور بس!
جینی نے اس کا تعاقب کرنا چاہا۔ جو کچھ اس کے پاس تھا فروخت کر دیا۔ پتا نہیں وہ اسے ملا یا نہیں جب وہ واپس آئی تو طرح طرح کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جینی کے والد نے جو تنہا رہتا تھا اسے سخت سست کہا اور گھر سے نکال دیا۔ کچھ اوباش قسم کے لوگوں نے اس کی مدد کرنی چاہی لیکن جینی وہ شہر چھوڑ کر کہیں نکل گئی۔
کینریؔ سے میں سمندر پار ملا۔ وہ ہندوستانی تھا۔ لوگ اس کی حرکتوں کی وجہ سے اسے کیزا نووا کہتے، اسی سے یہ نام پر گیا۔ پہلی ملاقات پہاڑوں کے ایک کیمپ میں ہوئی۔ ہم نے قصبے سے کچھ شہریوں کو کھانے پر بلایا ہوا تھا۔ میس کے خیمے میں باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ ایک روسی افسر سے لڑ پڑا۔ لڑائی کی وجہ ایک روسی لڑکی تھی۔ کینری نے فوراً اسے ڈوئل کی دعوت دی۔ روسی نے اپنے ریوالور سے چار گولیاں نکال لیں اور کینری سے بولا ہم اسے باری باری اپنے کان سے چھوا کر چلائیں گے۔
اس میں صرف دو گولیاں ہیں، جس کی قسمت میں گولی لکھی ہو گی، اس کے دماغ میں سے نکل جائے گی۔ کینری پیے ہوئے تھا فوراً راضی ہو گیا۔ پہلا فائر کینری نے اپنے آپ پر کیا، وہ خانہ خالی نکلا۔ دوسرا فائر روسی نے کیا، کچھ نہ ہوا۔ کینری تیسرا فائر کر چکا تو ہم نے بڑی مشکلوں سے انھیں علاحدہ کیا۔ کنیری کو یقین نہیں تھا کہ ریوالور میں گولیاں ہیں۔ اس نے یونھی لبلبی دبا دی، دھماکا ہوا۔ گولی خیمے کی دیوار چیر گئی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

