جینی – اردو کے شاہکار افسانے
لیلیٰ کو بدستور چھیڑا جاتا۔ طعنے دیے جاتے۔ سب اس کا مذاق اڑاتے۔ ایک روز ہم نے سنا کہ وہ کالج چھوڑ کر گھر چلی گئی۔ کچھ دنوں تک اس کا انتظار کیا گیا لیکن وہ واپس نہ آئی۔ آہستہ آہستہ اس کی باتیں بھی بھولتی گئیں۔ کچھ عرصے کے بعد لیلیٰ کا ذکر ایک پرانی بات ہو گئی۔
ایک روز وہ کہیں سے آ کر کالج میں دوبارہ داخل ہوئی۔ اب وہ شرماتی، لجاتی، سہمی ہوئی لیلیٰ نہیں بلکہ شوخ و بے باک جینیؔ تھی۔ یہ نیا نام اس نے خود اپنے عیسائی نام سے چنا تھا۔ وہ کالج کے قریب ہی ایک عیسائی کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ صبح صبح جب گردن اونچی کیے ، نگاہیں اٹھائے سائیکل پر آتی تو لڑکے ٹھٹھک کر رہ جاتے۔ ہر وقت اس کے لبوں پر نہایت بے باک مسکراہٹ ہوتی۔
یونین کا جلسہ ہے تو جینی تقریر کر رہی ہے۔ ڈراما ہے تو وہ ضرور حصہ لے گی۔ مباحثہ ہے تو جینی اچھے اچھوں کی دھجیاں اڑا دے گی۔ اس کی دلیری اور صاف گوئی سے لوگ ڈرتے تھے۔ جینی کی بے باکی کو سراہا جانے لگا اور سب اسے عزت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔
ڈے ؔ یونین کا صدر تھا، وہ دبلا پتلا سا بنگالی لڑکا تھا۔ اس میں صرف یہ خوبی تھی کہ وہ کئی سال سے یونین کا صدر تھا۔ میری اس کی جان پہچان تب سے ہوئی جب وہ ہوسٹل میں میرا پڑوسی بنا۔ اس کی شاعرانہ باتیں، اس کے انوکھے نظریے، اس کا حساس پنا، وائلن پر غم ناک نغمے۔ یہ سب مجھے اچھے معلوم ہوئے لیکن مجموعی طور پر بطور انسان کے میں نے اسے کبھی پسند نہیں کیا۔ ویسے اس میں کوئی نمایاں عیب یا خامی نظر نہیں آئی۔ شاید یہ اس کا اجڑا سا حلیہ، اس کی آنکھوں کی مجرمانہ بناوٹ، اس کے چہرے کا فاقہ زدہ اظہار تھا جو مجھے ہمیشہ اس سے دور رکھتا۔
کبھی کبھی شام کو اسے بھی ہم راہ لے جاتا۔ اس طرح اس کی جینی سے ملاقات ہوئی۔
غالباً ڈے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انکسار تھا۔ اسے اپنی کم زوریوں کا ہمیشہ احساس رہتا۔ بعض اوقات تو وہ اس قدر کسر نفسی سے کام لیتا کہ ترس آنے لگتا۔ یوں معلوم ہوتا جیسے وہ رحم کا طالب ہے۔ شروع شروع میں شاید جینی کو اس کی یہی ادا بھا گئی۔ دیکھے ہی دیکھتے وہ جینی میں ضرورت سے زیادہ دل چسپی لینے لگا۔ پھر جیسے جینی بھی اس کی جانب ملتفت ہوتی گئی۔ جب وہ وائلن پر درد بھرے نغمے سناتا تو اس کی نگاہیں جینی کے چہرے پر جم جاتیں۔ نغمے کی پرواز نہایت مختصر ہوتی۔ ڈے کی انگلیوں سے لے کر جینی کے دل تک!
جب وہ دونوں فلسفے کی کتابیں ہاتھ میں لیے بحث میں مصروف ہوتے تو اکثر بہک بہک جاتے، آنکھوں آنکھوں میں کچھ اور گفت گو ہونے لگتی۔
ان دونوں کی دوستی اشاروں اورکنایوں کی حدود سے نکل کر کھلم کھلا ملاقاتوں تک پہنچ چکی تھی۔ جینی کو بنگالی موسیقی سے لگاؤ ہو چلا تھا۔ وہ بنگالی زبان سیکھ رہی تھی۔ جب وہ بالوں میں پھول لگا کر ساڑی کو ایک خاص وضع سے پہن کر نکلتی تو بالکل بنگالی لڑکی معلوم ہوتی۔ کالج کی کئی لڑکیاں اسے دیکھ کر بالوں میں پھول لگانے لگیں۔
ان دنوں ہم ڈراما کر رہے تھے، دُپہر سے ریہرسل شروع ہو جاتی۔ شام بھی اکٹھے گزرتی۔ اکثر میں اسے گھر چھوڑنے جاتا۔ اس کے کمرے کی زیبائش خوب ہوتی۔ کسی روز تو یوں معلوم ہوتا جیسے کمرا نہیں جنگل ہے۔ دیواروں پر گہرا سبز وال پیپر چسپاں ہے جس پر درخت اور گھنی جھاڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ گل دانوں میں لمبی لمبی گھاس اور بڑے بڑے پتے ہیں۔ سبز قمقمے روشن ہیں۔ فرش پر بچھے ہوئے قالینوں کے نقش و نگار، دیوار سے ٹنگی ہوئی تصویریں، سبزی مائل پردے، گملوں میں رکھے ہوئے پودے۔
یوں معلوم ہوتا جیسے درندوں کی یہ تصویریں ابھی متحرک ہو جائیں گی؛ پھر کسی روز سب کچھ زرد ہوتا۔ دیواریں، پردے غلاف، قالین، قمقموں کے شیڈ، گل دانوں میں صحرائی پھول اور خشک ٹہنیاں ہوتیں۔ انگیٹھی کے سامنے ریت کے چھوٹے چھوٹے ڈھیر۔ خیالات کہیں کے کہیں پہنچ جاتے۔ تصور میں لق و دق صحرا کا نظارہ پھرنے لگتا۔ تاروں کی چھت تلے حدی خوانوں کا نغمہ گونجنے لگتا۔
پھر کسی روز برف باری کے نظارے آنکھوں کے سامنے آ جاتے۔ اور کبھی کبھی یہی آرائش طوفان زدہ سمندر کی یاد دلا دیتی۔ جھاگ اڑاتی ہوئی چنگھاڑتی لہریں۔ ہوا کے تند و تیز تھپیڑے اور آندھیوں میں پتے کی طرح کانپتا ہوا سفینہ!
۔ ۔
اس کے کمرے میں کبھی ایک جیسا گل دستہ میں نے دو مرتبہ نہیں دیکھا۔ گل دان میں بڑے بڑے پھول بھی ہیں۔ شوخ پھول بھی ہیں لیکن سب سے نمایاں صرف ننھی منی کلیاں ہیں۔ باقی سب رنگ آپس میں گھل مل کے کھو گئے ہیں۔ کبھی غنچے، کلیاں، پھول سب کہیں جا چھپے ہیں، صرف خوش نما وضع کے پتے سامنے آ گئے ہیں۔ اس کے ترتیب دیے ہوئے گل دستوں کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی کہ ایسے حسین و جمیل پھول بھی آسمان تلے کھلتے ہیں جنہیں گلشن میں نگاہ پہچانتی تک نہیں۔
ایک پروفیسر کے تبادلے پر باغ میں پارٹی ہوئی۔ طے ہوا کہ وہیں شام کو بارہ دری میں چھوٹا سا ڈراما بھی کیا جائے۔ جینی کو المیہ پارٹ ملا۔ وہ دن اس نے اکیلے گزارا۔ کسی سے بات نہیں کی۔ دن بھر اداس رہی۔ لیمپوں کی روشنی میں ڈراما شروع ہوا۔ جینی نے اپنا گانا بالکل آخر میں رکھا۔ لیمپ بجھا دیے گئے۔ سب نے دیکھا کہ درختوں کے جھنڈ سے چاند طلوع ہو رہا تھا۔ وہ ایک بنگالی نظم گا رہی تھی جس میں چودھویں کے چاند کو مخاطب کیا گیا تھا۔
ڈے وائلن بجا رہا تھا۔ وہ سادہ سا گیت اور وائلن کا تھرتھراتا ہوا نغمہ چاند سے نئی نئی اتری ہوئی جلا کا جزو معلوم ہونے لگے۔ پھر جینی کا رقص شروع ہوا۔ اس کی انگلیوں کی جنبش جسم کے لوچ اور گھنگرو کی تال پر چاند تارے ناچنے لگے۔ پھر جیسے مندروں میں گھنٹیاں بجنے لگیں، دیوداسیاں سنگار کیے کیے ، کنول کے پھول تھامے آ گئیں۔ پجاریوں کے سر جھک گئے۔ فضاؤں میں تقدس برسنے لگا۔ پھر جیسے چراغوں سے دھواں اٹھا اور دھند بن کر چھا گیا۔ سب کچھ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ صرف جینی رہ گئی اور اس کا محبوب، پجاری اور دیوتا۔
یہ غنائیہ باغ کی اس چاندنی رات میں ختم نہیں ہوا۔ ساز اور لے دیر تک ہم آہنگ رہے۔ ڈے نے ان پیار بھرے جذبات کا اظہار کر دیا جنھیں وہ دیر سے چھپائے بیٹھا تھا۔ اس نے اپنے بے پایاں محبت کا یقین دلایا۔ یہ بھی کہاکہ مرتے دم تک وہ جینی سے اسی شدت کے ساتھ محبت کرتا رہے گا۔ اور یہ کہ اس نے اپنے والدین کو سب کچھ لکھ دیا ہے۔ عن قریب اس کی والدہ آئیں گی اور جینی سے ملیں گی۔ پھر وہ جینی کو رسم کے مطابق سنہرا ہار دے گا، جس میں دل کی شکل کا لاکٹ پرویا ہوا ہو گا۔ ان دونوں کو ایک بہت بڑی قوت نے آپس میں ملا دیا ہے۔ آرٹ نے۔ وہ دونوں آرٹسٹ ہیں۔ انسان فنا ہو جاتے ہیں۔ آرٹ جاوداں ہے۔
پھر میں نے جینی کے کمرے میں ساز دیکھے۔ معلوم ہوا کہ وہ ہندوستانی موسیقی سیکھ رہی ہے۔ مغربی موسیقی سے وہ شناسا تھی۔ میں نے اسے جانے پہچانے نغمے گنگناتے سنا تھا۔ پیانو پر اس کی انگلیاں خوب چلتی۔ کئی مرتبہ یوں ہوا کہ ریڈیو پر آرکسٹرا سمفنی بجا رہا ہے اور جینی مجھے سمجھا رہی ہے کہ سمفنی ایک نغمہ نہیں مختلف نغموں کا مرکب ہے۔ ایسے نغمے جو مختلف کیفیتوں کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کیفیتیں بغیر کسی تسلسل کے آتی ہیں۔
رنج و مسرت، انبساط و حسرت آشامیاں، شک، وسوسے، امید و بیم، اعترافِ غم۔ ہماری مسرتیں کبھی رنج کی آمیزش سے خالی نہیں ہوتی۔ اسی طرح غم کی گھٹائیں بھی اکثر محبت کی کرنوں سے جگمگا اٹھتی ہیں۔ انسان کے دل میں کوئی جذبہ مکمل اور دیرپا نہیں ہوتا۔ یہ کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ تبھی سمفنی میں اتنے اتار چڑھاؤ آتے ہیں اور کئی کئی گتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
میں نے اسے ہندوستانی راگ راگنیوں کے کچھ رِکارڈ دیے، جنھیں اس نے بڑے شوق سے سنا۔ اسے یہ نغمے نہایت دل کش معلوم ہوئے۔ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ سب راگ مختلف جذبوں اور کیفیتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
میں نے دربار ی کی تشریح کی کہ جیسے ایک بہت بڑا ہال ہے۔ سامنے تخت پر بادشاہ بیٹھا ہے۔ قندیلیں روشن ہیں، فانوس جگمگا رہے ہیں۔ دور دور تک امرا اور وزرا بیٹھے ہیں۔ پر ہول خاموشی طاری ہے۔ موسیقار کو بلایا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں شوخ موسیقی بے ادبی میں شمار ہو گی۔ غم گین موسیقی بھی موزوں نہیں۔ ہلکی پھلکی چیزوں سے موسیقار گریز کرے گا، کیوں کہ وہ اپنے جوہر دکھانا چاہتا ہے۔ ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر وہ جو چیز چنے گا، وہ درباری ہے۔ اسی طرح اور راگ راگنیوں کے متعلق بھی بتایا۔
جینی سنتی رہی۔ پھر ایک روز اس نے مجھے چند تصویریں دکھائیں جو اس نے خود بنائی تھیں۔ اسے مصوری کا شوق ضرور تھا لیکن معمولی سا۔ یہ اس کی پہلی کوشش تھی۔ ان تصویروں میں اس نے ذہنی تاثرات برش کے ذریعے کاغذ پر منتقل کیے تھے وہ تاثرات جو مختلف راگنیاں سن کر اس نے محسوس کیے ۔ یہ نغمے اس نے پہلے کبھی نہیں سنے تھے۔ ہندوستانی موسیقی اس کے لیے بالکل نئی چیز تھی۔ جوگیا کی تصویر میں تا حدِ افق ننھے منے خود رو پھول کھلے ہوئے تھے، چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پھول جن میں کلیاں بھی شامل تھیں اور ادھ کِھلے ہوئے غنچے بھی۔
پتیوں پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ پس منظر دور افق کے پرے برفانی چوٹیاں تھیں، اونچی اونچی برف سے لدی ہوئی چوٹیاں، جن سے نورانی شعاعیں منعکس تھیں۔ پودوں کے سائے، شبنم کے چمکیلے قطرے اور جگمگاتی چوٹیاں۔ سب اس امر کے شاہد تھے کہ سورج ابھی ابھی نکلا ہے اور سارے نظارے پر ایک اداس سی دھند پھیلی ہوئی تھی۔ ہلکی ہلکی نوزائیدہ دھند جس نے فضا میں رنگ و بو کے اس طوفان کے باوجود ایک غم گین تاثر پیدا کر دیا تھا۔
دوسری تصویر مالکوسؔ کی تھی، اس میں سمندر کی لہروں کو پیانو کے پردوں سے کھیلتے ہوئے دکھایا تھا سفیداور سیاہ پردوں کی لڑیاں نہروں پر تیر رہی تھیں۔ کبھی کبھی ایک اونچی سی لہر آتی تو سارے پردوں کو ایک سخت بلندیوں پر لے جاتی۔ راگ کی روانی اور زیر و بم کو لہروں کے کھیل سے ظاہر کیا گیا تھا۔
چھایا نٹؔ کی تصویر منظوم موسیقی کی تصویر تھی، جس میں مچلتے ہوئے شوخ نغمے مرتعش تھے۔ چنچل رقاصائیں گھنگھرو باندھے ناچ رہی تھیں۔ ہر جبنش میں بلا کا لوچ تھا، مخمور کر دینے والی مستی تھی۔
جینی انکار کرتی رہی لیکن میں نے ان تصویروں کو نمایش میں رکھوا دیا۔ ایک روز ہم نمایش میں تھے۔ کسی نے یونھی جینی کا نام لے لیا۔ چند لمحوں میں ہجوم اکٹھا ہو گیا یہ سب جینی کے مداح تھے، جو اس کی تعریفیں کرنے لگے۔ اس روز معلوم ہوا کہ جینی مشہور ہوتی جا رہی ہے۔ قریب ہی اکھاڑے کے گرد لوگ اکٹھے ہو رے تھے۔ ایک چینی پہلوان کی کشتی تھی۔ سانگؔ یا کچھ ایسا ہی نام تھا لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آئے تھے۔ اسے ہجوم نے گھیر رکھا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

