بابو گوپی ناتھ کے پھول، منٹو کی حماقت اور عثمان بزدار کی سمجھ داری
بابو گوپی ناتھ کا شجرہ نسب تو میں نہیں جانتا لیکن اتنا معلوم ہوا کہ کہ وہ ایک بہت بڑے کنجوس بنیے کا بیٹا ہے باپ کے مرنے کے بعد اسے دس لاکھ کی جائداد ملی جو اس نے اپنی خواہش کے مطابق اڑانا شروع کر دی، بمبئے آتے وقت وہ اپنے ساتھ پچاس ہزار ساتھ لایا تھا، اس زمانے میں سب چیزیں سستی تھیں، لیکن پھر بھی ہر روز تقریباً سو سوا سو روپے خرچ ہو جاتے تھے۔
زینوں کے لئے اس نے فیسٹ موٹر خریدی، یاد نہیں رہا، لیکن شاید تین ہزار روپے میں آئی تھی، ایک ڈرائیور رکھا لیکن وہ بھی لفنگے ٹائپ کا، بابو گوپی ناتھ کو کچھ ایسے ہی آدمی پسند تھے۔
ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا، بابو گوپی ناتھ سے مجھے صرف دلچسپی تھی لیکن اسے مجھ سے کچھ یوں عقیدت ہو گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کی بہ نسبت میرا بہت زیادہ احترام کرتا تھا۔
ایک روز شام کے قریب جب میں فلیٹ پر گیا تو مجھے وہاں شفیق کو دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی، محمد شفیق طوسی کہوں تو شاید آپ سمجھ لیں کہ میری مراد کس آدمی سے ہے، یوں تو شفیق کافی مشہور آدمی تھے، کچھ اپنی جدت طراز گائیکی کے باعث اور کچھ اپنی بذلہ سنج طبعیت کی بدولت، لیکن اس کی زندگی کا ایک حصہ اکثریت سے پوشیدہ ہے، بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ تین سگی بہنوں کو یکے بعد دیگرے تین تین چار چار سال کے وقفے کے بعد داشتہ بنانے سے پہلے اس کا تعلق ان کی ماں سے بھی تھا، یہ بھی تھا، یہ بھی بہت کم مشہور ہے کہ اس کو اپنی پہلی بیوی اس لئے پسند نہ تھی کہ اس میں طوائفوں والے غمزے اور عشوے نہیں تھے، لیکن یہ تو خیر ہر آدمی جو شفیق طوسی سے تھوڑی بہت واقفیت بھی رکھتا ہے جانتا ہے کہ چالیس برس یہ اس زمانے کی عمر ہے کی عمر میں سیکنٹروں طوائفوں نے اسے رکھا، اچھے سے اچھا کپڑا پہنا، عمدہ سے عمدہ کھانا کھایا۔
نفیس سے نفیس موٹر رکھی مگر اس نے اپنی گرہ سے کسی طوائف پر ایک دمڑی بھی خرچ نہ کی۔
عورتوں کے لئے خاص طور پر جو کہ پیشہ ور ہوں، اس کے بذلہ سبخ طبعیت میں جس میں میراثنوں کے مزاج کی جھلک تھی، بہت جاذب نظر تھی، وہ کوششکیے بغیر ان کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔
میں نے جب اسے ہنس ہنس کر زینت سے باتیں کرتے دیکھا تو مجھے اس لئے حیرت نہ ہوئی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے، میں نے صرف اتنا سوچا کہ وہ دفعتہً یہاں پہنچا کیسے، سینڈو اسے جانتا تھا، مگر ان کی بول چال تو ایک عرصے سے بند تھی لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ سینڈو ہی اسے ساتھ لایا تھا، ان دونوں میں صلح صفائی ہو گئی تھی۔
بابو گوپی ناتھ ایک طرف بیٹھا حقہ پی رہا تھا، میں نے شاید اس سے پہلے ذکر نہیں کیا، وہ سگریٹ بالکل نہیں پیتا تھا، محمد شفیق طوسی میراثنوں کے لطیفے سنا رہا تھا، جس میں زینت کسی قدر کم اور سردار بہت زیادہ دلچسپی لے رہی تھی، شفیق نے مجھے دیکھا اور کہا بسم اللہ بسم اللہ کیا آپ کا گزر بھی اس وادی میں ہوتا ہے۔
سینڈو نے کہا تشریف لے آئیے عزرائیل صاحب یہاں دھڑن تختہ۔
میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔
تھوڑی دیر گپ بازی ہوتی رہی، میں نے نوٹ کیا کہ زینت اور محمد شفیق طوسی کی نگاہیں آپس میں ٹکرا کر کچھ اور بھی کہہ رہی ہیں زینت اس فن میں بالکل کوری تھی، لیکن شفیق کی مہارت زینت کی خامیوں کو چھپاتی رہی، سردار دونوں کی ناگاہ بازی کو کچھ اس انداز سے دیکھ رہی تھی جسیے خلیفے اکھاڑے کے باہر بیٹھ کر اپنے پھٹوں کے داؤں پیچ کو دیکھتے ہیں۔
اس دوران میں میں بھی زینت سے کافی بے حد تکلف ہو گیا تھا، وہ مجھے بھائی کہتے تھی، جس پر مجھے اعتراض نہیں تھا، اچھی ملنسار طبعیت کی عورت تھی، کم گو، سادھ لوح، صاف ستھری۔
شفیق سے مجھے اس کی ناگاہ بازی پسند نہیں آئی تھی، اول تو اس میں بھونڈا پن تھا اس کے علاوہ۔ کچھ یوں کہئیے کہ اس بات کا بھی اس میں دخل تھا کہ وہ میرے بھائی کہتی تھی، شفیق اور سینڈو اٹھ کر باہر چلے گئے تو میں نے شاید بڑی بے رحمی کے ساتھ اس سے نگاہ بازی کے متعلق استفار کیا کیونکہ فورا اس کی آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو آ گئے اور روتی روتی دوسرے کمرے میں چلی گئی، بابو گوپی ناتھ جو ایک کونے میں بیٹھا حقہ پی رہا تھا، اٹھ کر تیزی سے اس کے پیچھے چلا گیا سردار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کہا لیکن مطلب نہ سمجھا، تھوڑی دیر کے بعد بابو گوپی ناتھ کمرے سے باہر نکلا اور آئیے منٹو صاحب کہہ کر مجھے اپنے ساتھ اندر لے گیا۔
زینت پلنگ پر بیٹھی تھی، میں اندر داخل ہوا تو دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر لیٹ گئی، میں اور بابو گوپی ناتھ دونوں پلنگ کے پاس کرسیوں پر بیٹھ گئے، بابو گوپی ناتھ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہنا شروع کیا منٹو صاحب مجھے اس عورت سے بہت محبت ہے، دو برس سے یہ میرے ساتھ ہے میں حضرت غوث اعظم جیلانی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے مجھے کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں دیا، اس کی دوسری بہنیں، میرا مطلب ہے اس پیشے کی دوسری عورتیں دونوں ہاتھوں سے مجھے لوٹ کھاتی رہی مگر اس نے کبھی ایک زائد پیسہ مجھ سے نہیں لیا میں اگر کسی دوسری عورت کے پاس ہفتوں پڑا رہا تو اس غریب نے اپنا کوئی زیور گروی رکھ کر گزارہ کیا، میں جیسا کہ آپ سے ایک دفعہ کہہ چکا ہوں بہت جلد اس دنیا سے کنارہ کش ہونے والا ہوں، میری دولت اب کچھ دن کی مہمان ہے، میں نہیں چاہتا اس کی زندگی خراب ہو میں نے لاہور میں اس کو بہت سمجھایا کہ تم دوسری طوائفوں کی طرف دیکھوں جو کچھ وہ کرتی ہیں سیکھو، میں آج دولت مند ہوں کل مجھے بھکاری ہونا ہے، تم لوگوں کی زندگی میں صرف ایک امیر کافی نہیں ہے، میرے بعد تم کسی اور کو نہیں پھانسو گی تو کام نہیں چلے گا، لیکن منٹو صاحب اس نے میری ایک نہ سنی، سارادن شریف زادیوں کی طرح گھر میں بیٹھی رہتی ہے، میں نے غفار سائیں سے مشورہ کیا، اس نے کہا بمبئی لے جاؤ اسے معلوم تھا اس نے ایسا کیوں کہا بمبئی میں اس کی دو جاننے والی طوائفیں ایکڑیس بنی ہوئی ہیں لیکن میں نے سوچا بمبئی ٹھیک ہے دو پمینے ہو گئے ہیں اسے یہاں لائے ہوئے، سردار کو لاہور سے بلایا ہے کہ اس کو سب گر سکھائے، غفار سائیں سے بھی یہ بہت کچھ سیکھ سکتی ہے یہاں مجھے کوئی نہیں جانتا، اس کو یہ خیال تھا کہ بابو گوپی ناتھ کی بے عزتی ہو گی، میں نے کہا تم چھوڑ اس کو بمبئی بہت بڑا شہر ہے لاکھوں رئیس ہیں۔
میں نے تمہیں موٹر لے دی ہے کوئی اچھا آدمی تلاش کر اور۔ منٹو صاحب میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہو میری دلی خواہش ہے کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے، اچھی طرح ہوشیار ہو جائے، میں اس کے نام آج ہی بنک میں دس ہزار روپے جمع کرانے کو تیار ہو، مگر مجھے معلوم ہے دس دن کے اندر اندر یہ باہر بیٹھی ہوئی سردار اس کی ایک ایک پائی اپنی جیب میں ڈال لے گی۔ آپ بھی اسے سمجھائیے کہ چالاک بننے کی کوشش کرے جب سے موٹر خریدی ہے، سردار اسے ہر روز شام کو اپو لو بندر لے جاتے ہیں ابھی بھی کامیابی نہیں ہوئی ہے، سینڈو آج بڑی مشکل سے محد شفیق کو یہاں لایا ہے، آپ کا کیا خیال ہے اس کے متعلق۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

