بابو گوپی ناتھ کے پھول، منٹو کی حماقت اور عثمان بزدار کی سمجھ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھول پیش کرنا ایک خوشگوار رسم ہے۔ پھول محبت کا نشان ہیں۔ پھول پیش کرنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔ منٹو کے شہرہ آفاق بابو آفاق افسانے بابو گوپی ناتھ کا متکلم کردار پھولوں کو مسخرہ پن کہہ کر نکو بن گیا۔ یہ افسانہ 1940 کے آس پاس کا ماحول بیان کرتا تھا۔ گویا قریب اسی برس گزر چکے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو آج بھی پھول پیش کرنے کے موقع محل کی سمجھ نہیں۔ لیجئے منٹو کا فسانہ پڑھیے۔

٭٭٭ ٭٭٭

بابوگوپی ناتھ سے میری ملاقات سن چالیس میں ہوئی، ان دنوں میں بمبئی کا ایک ہفتہ وار پرچہ ایڈٹ کیا کرتا تھا، دفتر میں عبدالرحیم سینڈو ایک ناٹے آدمی کے ساتھ داخل ہوا میں اس وقت لیڈ لکھ رہا تھا، سینڈو نے اپنے مخصوص انداز میں با آواز بلند مجھے آداب کیا اور اپنے ساتھی سے متعارف کرایا، منٹو صاحب بابو گوپی ناتھ سے ملئے۔

میں نے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا، سینڈو نے حسب عادت میری تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے، بابو گوپی ناتھ، تم ہندوستان کے نمبر ون رائٹر سے ہاتھ ملا رہے ہو، لکھتا ہے تو دھڑن تختہ ہو جاتا ہے لوگوں کا، ایسی ایسی کنٹی نیو ٹلی ملاتا ہے کہ طبعیت صاف ہو جاتی ہے، پچھلے دنوں کیا چٹکلہ لکھا تھا، آپ نے منٹو صاحب، مس خورشید نے کار خریدی، اللہ بڑا کار ساز ہے، کیوں بابو گوپی ناتھ ہے نہ اینٹی پینٹی پو؟

عبدالرحیم سینڈو کے باتیں کرنے کا انداز بالکل نرالا تھا، کنٹی نیو ٹلی، دھڑن تختہ اور اینٹی پینٹی پو ایسے الفاظ اس کی اپنی اختراع تھے، جن کو وہ گفتگو میں بے تلکف استعمال کرتا تھا، میرا تعارف کرانے کے بعد وہ بابو گوپی ناتھ کی طرف متوجہ ہوا، جو بہت مرعوب نظر آتا تھا، آپ ہیں بابو گوپی ناتھ، بڑے خانہ خراب لاہور سے جھک مارتے مارتے بمبئے تشریف لائے ہیں ساتھ کشمیر کی ایک کبوتری ہے، بابو گوپی ناتھ مسکرایا۔

عبد الرحیم سینڈو نے تعارف کو ناکافی سمجھ کر کہا کہ نمبر ون بے وقوف ہو سکتا ہے تو وہ آپ ہیں، لوگ ان کے مسکا لگا کر روپیہ بٹورتے ہیں، میں صرف باتیں کر کے ان سے ہر روز پولسن بٹر کے دو پیکٹ وصول کرتا ہوں، بس منٹو صاحب، یہ سمجھ لیجیے کہ بڑے انٹی فلو جیسٹس قسم کے آدمی ہیں، آپ آج شام کو ان کے فلیٹ پر ضرور تشریف لائیے۔

بابو گوپی ناتھ خدا معلوم کیا سوچ رہا تھا چونک کر کہا ہاں ہاں ضرور تشریف لائیے منٹو صاحب، پھر سینڈو سے پوچھا کیوں سینڈو کیا آپ کچھ اس کا شغل کرتے ہیں۔

تو عبدالرحیم نے زور سے قہقہہ لگایا، اجی ہر قسم کا شغل کرتے ہیں، تو منٹو صاحب آج شام کو ضرور آئیے گا، میں نے بھی پینی شروع کر دی ہے، اس لئے کہ مفت ملتی ہے۔

سینڈو نے مجھے فلیٹ کا پتہ لکھ کر دیا، جہاں میں حسب وعدہ شام کو چھ کے قریب پہنچ گیا، تین کمرے کا صاف ستھرا فلیٹ تھا، جس میں بالکل نیا فرنیچر سجا ہوا تھا، سینڈو اور بابو گوپی ناتھ کے علاوہ بیٹھنے والے کمرے میں دو مرد اور عورتیں موجود تھیں، جن سے سینڈو نے مجھے متعارف کرایا۔

ایک تھا غفار سائیں، تہمد پوش، پنجاب کا ٹھیٹ سائیں، گلے میں موٹے موٹے دانوں کی مالا، سینڈو نے اس کے بارے میں کہا کہ، آپ بابو گوپی ناتھ کے لیگل ایڈوائزر ہیں، میرا مطلب سمجھ جائیے آپ، ہر آدمی جس کی ناک بہتی ہو جس کے منہ سے لعاب نکلتا ہو، پنجاب میں خدا کو پہنچا ہوا درویش بن جاتا ہے، یہ بھی بس پہنچے ہوئے ہیں یا پہنچنے والے ہیں، لاہور سے بابو گوپی ناتھ کے ساتھ آئے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں کوئی اور وقوف ملنے کی امید نہیں تھی، یہاں آپ بابو گوپی ناتھ سے کریون اے کے سگریٹ اور سکاچ وسکی کے پیگ پی کر دعا کرتے رہتے ہیں، کہ انجام نیک ہو۔

دوسرے مرد کا نام تھا غلام علی، لمبا تڑنگا جوان، کسرتی بدن، منہ پر چیچک کے داغ، اس کے متعلق سینڈو نے کہا یہ میرا شاگرد ہے، اپنے استاد کے نقش قدم پر چل رہا ہے، لاہور کی ایک نامی طوائف کی کنواری بیٹی اس پر عاشق ہو گئی، بڑی کنٹی نیوٹیاں ملائی گئیں اس کو پھانسنے کے لئے مگر اس نے کہا، ڈو اور ڈائی، میں لنگوٹ کا پکا رہوں گا، ایک تکئیے میں بات چیت کرتے ہوئے بابو گوپی ناتھ سے ملاقات ہو گئی، بس اس دن سے ان کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، ہر روز کریون اے کا ڈبہ اور کھانا پینا مقرر ہے۔

گول چہرے والی ایک سرخ و سفید عورت تھی، کمرے میں داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا تھا، کہ یہ وہی کشمیری کبوتری ہے، جس کے متعلق سینڈو نے دفتر میں ذکر کیا تھا، بہت صاف ستھری عورت تھی، بال چھوٹے تھے، ایسا لگتا تھا کٹے ہوئے ہیں، مگر ایسا نہیں تھا، آنکھیں شفاف اور چمکیلی تھیں، چہرے کے خطوط سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بے حد الہڑ اور نا تجربہ کار ہے، سینڈو نے اس سے تعارف کراتے ہوئے کہا زینت بیگم بابو گوپی ناتھ پیار سے زینو کہتے ہیں، ایک بڑی خرانٹ نائکہ کشمیر سے یہ سیب توڑ کر لاہور لے آئی بابو گوپی ناتھ کو اپنی سی آئی ڈی سے پتہ چلا کہ اور ایک رات لے اڑے، مقدمے بازی ہوئی تقریباً دو مہینے تک پولیس عیش کرتی رہی، آخر بابو گوپی ناتھ نے مقدمہ جیت لیا اور اسے یہاں لے آئے۔ دھڑن تختہ۔

اب گہرے سانولے رنگ کی عورت باقی رہ گئی تھی جو خاموش بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی، آنکھیں سرخ تھیں جن سے کافی بے حیائی مترشح تھی، بابو گوپی ناتھ نے اس کی طرف اشارہ کیا، اس کے متعلق بھی کچھ ہو جائے۔

سینڈو نے اس عورت کی ران پر ہاتھ دے مارا اور کہا جناب یہ ہے، ٹین پٹونی فل فل فونی، مسز عبد الرحیم سینڈو عرف سردار بیگم۔ آپ بھی لاہور کی پیداوار ہیں، سن چھتیس میں مجھ سے عشق ہوا تھا، دو برسوں ہی میں میرا دھڑن تختہ کر کے رکھ دیا، میں لاہور چھوڑ کر بھاگا، بابو گوپی ناتھ نے اسے یہاں بلوا لیا ہے، تاکہ میرا دل لگا رہے، اس کو بھی ایک ڈبہ کریون اے کا راشن ملتا ہے، ہر روز شام کو ڈھائی روپے کا مورفیا کا انجکشن لیتی ہے، رنگ کالا ہے، مگر ویسے بڑی ٹیٹ فور ٹیٹ قسم کی عورت ہے۔

سردار نے ایک ادا سے صرف اتنا کہا، بکواس نہ کر، اس ادا میں پیشہ ور عورت کی بناوٹ تھی۔

سب سے متعارف کرانے کے بعد سینڈو نے حسب عادت میری تعریف کے پل باندھنے شروع کر دیے، میں نے کہا چھوڑو یار، آؤ کچھ باتیں کریں۔

سینڈو چلایا بوائے وسکی اینڈ سوڈا۔ بابو گوپی ناتھ لگاؤ ایک سبزے کو۔ نوٹ سینڈو کے حوالے کر دیا، سینڈو نوٹ لے کر اس کی طرف غور سے دیکھا اور کھڑا کھڑا کر کہا اور گوڈ۔ او میرے رب العالمین۔ وہ دن کب آئے گا جب میں بھئی لب لگا کر یوں نوٹ نکالا کروں گا۔ جاؤ بھی غلام علی وہ دو بوتلیں جانی وا کر سٹل گوتنگ سٹرانگ کی لئے آؤ۔

بوتلیں آئیں تو سب نے پینا شروع کیں، یہ شغل دو تین گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران میں سے زیادہ باتیں حسب معمول عبدالرحیم نے کیں، پہلا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر کے وہ چلایا، دھڑن تختہ منٹو صاحب وسکی ہو تو ایسی حلق سے اتر کر پیٹ میں انقلاب زندہ باد لکھتی چلی گئی ہے۔ ۔ بابو گوپی ناتھ جیو۔

بابو گوپی ناتھ بے چارہ خاموش رہا، کبھی کبھی البتہ وہ سینڈو کی ہاں ملا دیتا تھا، میں نے سوچا اس شخص کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے، دوسرا جو کہے مان لیتا ہے، ضعیف الاعتقادی کا ثبوت غفار سائیں جسے وہ بقول سینڈو اپنا لیگل ایڈوائزر بنا کر لایا تھا، سینڈو کا اس سے دراصل یہ مطلب تھا کہ بابو گوپی ناتھ کو اس سے عقیدت تھی، یوں بھی مجھے دوران گفتگو میں معلوم ہوا کہ لاہور میں اس کا اکثر وقت فقیروں اور درویشوں کی صحبت میں گزرتا تھا، یہ چیزیں میں خاص طور پر نوٹ کی کہ وہ کھویا کھویا سا تھا، جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہے، میں نے چنانچہ اس سے ایک بار کہا بابو گوپی ناتھ کیا سوچ رہے ہو آپ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •