بابو گوپی ناتھ کے پھول، منٹو کی حماقت اور عثمان بزدار کی سمجھ داری


میں نے اپنا خیال ظاہر نہیں کیا، لیکن بابو گوپی ناتھ نے خود ہی کہا اچھا کھاتا پیتا آدمی معلوم ہوتا ہے اور خوبصورت بھی ہے۔ کیوں زینو جانی۔ پسند ہے تمہیں؟

زینو خاموش رہی۔

بابو گوپی ناتھ سے جب مجھے زینت کو بمبئی لانے کی غرض و غایت معلوم ہوئی تو میرا دماغ چکرا گیا، مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن بعد میں مشاہدے نے میری حیرت دور کر دی، بابو گوپی ناتھ کی دلی آرزو تھی کہ زینت بمبئی میں کسی اچھے مالدار آدمی کی داشتہ بن جائے یا ایسے طریقے سیکھ لے، جس سے وہ مختلف آدمیوں سے روپیہ وصول کر تے رہنے میں کامیاب ہو سکے۔

زینت سے صرف چھٹکارا ہی حاصل کرنا ہو تو یہ کوئی اتنی مشکل چیز نہیں تھی، بابو گوپی ناتھ ایک ہی دن میں یہ کام کر سکتا تھا چونکہ اس کی نیت صاف تھی اس لئے اس نے زینت کے مستقبل کے لئے ہر ممکن کوشش کی، اس کو ایکٹریس بنانے کے لئے اس نے کئی جعلی ڈائریکٹروں کی دعوتیں کیں، گھر میں ٹیلیفون لگوا دیا اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھا۔

محمد شفیق طوسی تقریباً ڈیڑھ ماہ آتا رہا کئی راتیں بھی اس نے زینت کے ساتھ بستر کیں لیکن وہ ایسا آدمی نہ تھا جو کسی عورت کا سہارا بن سکے، بابو گوپی ناتھ نے ایک روز افسوس اور رنج کے ساتھ کہا شفیق صاحب تو خالی خولی جنٹل مین ہی نکلے۔

ھسہ دیکھئیے، لیکن بے چاری زینت سے چار چادریں چھ تکئیے کے غلاف اور دو سو روپے نقد ہتیا کر لے گئے، سنا ہے آج کل ایک لڑکی الماس سے عشق لڑا رہے ہیں۔

یہ درست ہے الماس نذیر جان پٹیالے والی کی سب سے چھوٹی اور آخری لڑکی تھی، اس سے پہلے تین بہنیں شفیق کی داشتہ رہ چکی ہیں، دو سو روپے جو اس نے زینت سے لئے تھے مجھے معلوم ہے الماس پر خرچ ہوئے تھے، بہنوں کے ساتھ لڑ جھگڑ کر الماس نے زہر کھا لیا تھا۔

محمد شفیق نے جب آنا جانا بند کر دیا تو زینت نے مجھے کئی ٹیلی فونکیے اور کہا اسے ڈھونڈ کر میرے پاس لائیے، میں نے اسے تلاش کیا لیکن کسی کو اس کا پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں رہتا ہے، ایک روز اتفاقیہ ریڈیو اسٹیشن پر ملاقات ہوئی، میں نے اس سے کہا کہ تمہیں زینت بلاتی ہے تو اس نے جواب دیا، مجھے یہ پیغام اور ذریعوں سے بھی مل چکا ہے افسوس ہے آج کل مجھے بالکل فرصت نہیں ہے، زینت بہت اچھی عورت ہے لیکن افسوس ہے کہ بے حد شریف ہے۔ ایسی عورتوں سے جو بیویوں جسی لگیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔

شفیق سے جب مایوسی ہوئی تو زینت نے سردار کے ساتھ پھر اپولو بندر جانا شروع کیا، پندرہ دنوں میں بڑی مشکلوں سے کئی گیلن پیٹرول پھونکنے کے بعد سردار نے دو آدمی پھانسے، ان سے زینت کو چار سو روپے ملے، بابو گوپی ناتھ نے سمجھا کہ حالات امید افزا ہیں، کیونکہ ان میں سے ایک نے جو ریشمی کپڑوں کی مل کا مالک تھا زینت سے کہا تھا میں تم سے شادی کروں گا، ایک مہینہ گزر گیا لیکن یہ آدمی پھر زینت کے پاس نہ آیا۔

ایک روز میں جانے کس کام سے ہار بنی روڈ پر جا رہا تھا کہ مجھے فٹ پاتھ کے پاس زینت کی موٹر نظر آئی پچھلی نشست پر یاسین بیٹھا تھا، نگینہ ہوٹل کا مالک، میں نے اس سے پوچھا، یہ موٹر تم نے کہاں سے لی؟

یاسین مسکرایا تم جانتے ہو موٹر والی کو۔

میں نے کہا جانتا ہوں۔

تو بس سمجھ لو میری پاس کیسے آئی۔ ۔ اچھی لڑکی ہے یار۔

یاسین نے مجھے آنکھ ماری۔ میں مسکرایا۔

اس کے عین چوتھے روز بابو گوپی ناتھ ٹیکسی پر میرے دفتر میں آیا اس سے مجھے معلوم ہوا کہ زینت سے یاسین کی ملاقات کیسے ہوئی، ایک شام اپولو بندر سے ایک آدمی لے کر سردار اور زینت نگینہ ہوٹل میں گئیں، وہ آدمی کسی بات پر جھگڑا کر کے چلا گیا، لیکن ہوٹل کے مالک سے زینت کی دوستی ہو گی۔

بابو گوپی ناتھ مطمئن تھا کیونکہ دس پندرہ روز کی دوستی کے دوران میں یاسین نے زینت کو چھ بہت ہی عمدہ اور قیمتی ساڑیاں لے دی تھیں، بابو گوپی ناتھ اب یہ سوچ رہا تھا کہ کچھ دن اور گزر جائیں زینت اور یاسین کی دوستی اور مضبوط ہو جائے تو لاہور واپس چلا جائے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

نگینہ ہوٹل میں ایک کرسچن عورت نے کمرہ کرائے پر لیا، اس کی جوان لڑکی میوریل سے یاسین کی آنکھ لڑ گئی، چنانچہ زینت بے چاری ہوٹل میں بیٹھی رہتی اور یاسین اس کی موٹر میں صبح شام اس لڑکی کو گھماتا رہتا، بابو گوپی ناتھ کو اس کا علم ہونے پر بہت دکھ ہوا، اس نے مجھ سے کہا منٹو صاحب یہ کیسے لوگ ہیں، بھئی دل اچاٹ ہو گیا ہے تو صاف کہہ دو، لیکن زینت بھی عجیب ہے، اچھی طرح معلوم ہے کیا ہو رہا ہے، مگر منہ سے اتنا بھی نہیں کہتی میاں اگر تم اس کرسٹان چھوکری سے عشق لڑانا ہے تو اپنی موٹر کا بندوبست کرو، میری موٹر کیوں استعمال کرتے ہو۔ میں کیا کروں منٹو صاحب شریف اور نیک بخت عورت ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے، تھوڑی سی چالاک تو بننا چاہیے۔

یاسین سے تعلق قطع ہونے پر زینت نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا۔

بہت دنوں تک کوئی نئی بات وقوع پذیر نہ ہوئی، ایک دن ٹیلی فون کیا تو معلوم ہوا بابو گوپی ناتھ غلام علی اور سائیں غفار کے ساتھ لاہور چلا گیا ہے، روپے کا بندوبست کرنے کیونکہ پچاس ہزار ختم ہو چکے ہیں، جاتے وقت وہ زینت سے کہہ گیا تھا کہ اگر لاہور میں زیادہ دن لگیں گے کیونکہ اسے چند مکان فروخت کرنے پڑیں گے۔

سردار کو موفیا کے ٹیکو کی ضرورت تھی، سینڈو کو پولس مکھن کی، چنانچہ دونوں نے متحدہ کوشش کی اور روز دو تین آدمی پھانس کر لے آتے، زینت سے کہا گیا، کہ بابو گوپی ناتھ واپس نہیں آتے اس لئے اپنی فکر کرنی چاہیے، سو سوا سو روپے روز کے ہو جاتے ہیں جس میں سے آدھے زینت کو ملتے ہیں باقی سینڈو اور سردار دبا لیتے ہیں۔

میں نے ایک دن زینت سے کہا یہ تم کیا کر رہی ہو۔

اس نے بڑے الہڑ پن سے کہا مجھے معلوم نہیں بھائی جان، یہ لوگ جو کچھ کرنے کے لئے کہتے ہیں مان لیتی ہوں۔

جی چاہتا تھا کہ دیر تک پاس بیٹھ کر سمجھاؤں کہ جو کچھ تم کر رہی ہو ٹھیک نہیں ہے۔

سینڈو اور سردار پنا الو سیدھا کرنے کے لئے تمہیں بیچ بھی ڈال لیں گے، مگر میں نے کچھ نہ کہا، زینت اکتا دینے والی حد تک بے سمجھ، بے امنگ اور جان عورت تھی، اس کم بخت کو اپنی زندگی کی کچھ قدر و قیمت معلوم نہیں تھی، جسم بیچتی مگر اس میں بیچنے والوں کا کوئی انداز تو ہوتا، واللہ مجھے بہت کوفت ہوئی اسے دیکھ کر، سگریٹ سے، شراب سے کھانے سے، گھر میں ٹیلیفون سے، حتی کہ اس صوفے سے بھی جس پر وہ اکثر لیٹی رہتی تھی، اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

بابو گوپی ناتھ پورے ایک مہینے بعد لوٹا، تاہم گیا تو وہاں فلیٹ میں کوئی اور ہی تھا، سینڈو اور سردار کے مشورے سے زینت نے باندرہ میں ایک بنگلے کا بالائی حصہ کرائے پر لے لیا تھا، بابو گوپی ناتھ میرے پاس آئے تو میں نے پورا پتہ بتا دیا، اس نے مجھ سے زینت کے متعلق پوچھا، جو کچھ مجھے معلوم تھا میں نے کہہ دیا لیکن یہ نہ کہا کہ سینڈو اور سردار اس سے پیشہ کرا رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


صفحات: 1 2 3 4 5