امروہے کے ماموں اچھن


میں جیونیوز کی جانب سے دبئی اسٹیشن میں تعینات تھا کہ ایک سال چہلم پر چھٹی لے کر شام جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ 2008 کی بات ہے۔ میں نے امی بابا کو بتایا اور ان سے کہا کہ آپ بھی کراچی سے کسی قافلے کے ساتھ آجائیں۔ امی سفر کرنے سے گھبراتی تھیں۔ بابا کو دلچسپی نہیں تھی۔ دونوں نے انکار کردیا۔ لیکن ڈیڈی اور ممانی ایک قافلے کے ساتھ ان ہی تاریخوں میں دمشق پہنچ گئے۔ ملاقات ہوئی تو ڈیڈی نے کہا، ”مبشر! ہم نے تمھارے آنے کا سن کر ہمت کی ہے۔ “ میں بہت شکرگزار ہوا۔ اگلے آٹھ دس دن میں نے ماموں اور میری بیوی نے ممانی کا ہاتھ تھام کر زیارات کیں۔ ممانی میری بیوی کی خالا بھی تھیں۔

کراچی آنے کے بعد ڈیڈی کے مقابلے میں چھوٹے ماموں کے ساتھ میری زیادہ قربت رہی جو بہت ذہین اور دلچسپ شخص تھے۔ لیکن 1996 میں ان کے انتقال کے بعد مجھے پھر کسی بزرگ کی ضرورت تھی جو میری باتیں سن سکے، مجھے مشورے دے سکے۔ ڈیڈی کے ساتھ ملاقاتیں بڑھ گئیں۔ شام کے سفر کے بعد کچھ بے تکلفی بھی ہوگئی۔ ایک دن میں نے مذہب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو ڈیڈی نے کہا، مبشر! پیسہ دماغ خراب کردیتا ہے۔ تم اچھا کمانے لگے ہو اس لیے بدل گئے ہو۔ میں نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے اپنے بچپن میں خون آلود لباس میں نماز کے بارے میں سوال اٹھایا تھا۔ وہ پہلا سوال تھا۔ میں اس کے بعد بھی سوالات کرتا رہا تھا۔ ڈیڈی تھوڑی دیر سوچتے رہے اور کہا، ہاں مجھے یاد ہے۔

خانیوال میں ڈیڈی کی خاص دوستی ڈاکٹر امین سے تھی۔ وہ دور طالب علمی کے ساتھی تھے۔ گھر میں آنا جانا تھا۔ اماں ان سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ امی ڈاکٹر امین کو ویسا ہی بھائی سمجھتی تھیں جیسے ڈیڈی کو۔ بعد میں ڈاکٹر امین کا چھوٹا بیٹا وقار گورنمنٹ ہائی اسکول میں میرا کلاس فیلو رہا۔ ڈیڈی کراچی منتقل ہونے کے بعد کبھی خانیوال نہیں گئے لیکن ڈاکٹر امین سے فون پر رابطہ برقرار رکھا۔ ڈاکٹر امین البتہ ایک دو بار کراچی آئے اور ڈیڈی کے ہاں ٹھہرے۔ میں جب بھی خانیوال جاتا تھا، ڈاکٹر امین کو سلام کرنے ضرو رجاتا تھا۔

ایک بار میں نے ڈیڈی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی کسی کھیل میں حصہ لیا۔ انھوں نے مسکرا کے بتایا کہ وہ نوجوانی میں تن سازی کرتے تھے۔ پھر انھوں نے ایسی تفصیلات بتائیں جو کوئی باڈی بلڈر ہی بیان کرسکتا ہے۔

میں نے خاندان میں ہمیشہ ڈیڈی کو آئیڈیالائز کیا کیونکہ انھوں نے بہت سمجھ داری سے زندگی گزاری۔ خانیوال میں اپنا گھر بنایا۔ اسے فروخت کرکے کراچی آئے اور پھر گھر بنالیا۔ بابا ایسا نہیں کرسکے۔ ڈیڈی نے سب بچوں کو پڑھایا لکھایا اور ڈھنگ سے ان کی شادیاں کیں۔ اماں کا خیال رکھا۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی دو شادی شدہ بیٹیوں کا انتقال ان کے سامنے ہوا۔ ممانی بھی نصف صدی ساتھ نبھانے کے بعد چند سال پہلے انتقال کر گئیں۔ ان سے پہلے چھوٹے ماموں اور میری امی کے انتقال کی وجہ سے بھی وہ دُکھی تھے۔

دو ڈھائی سال پہلے ڈیڈی کی یادداشت متاثر ہونا شروع ہوئی۔ ان کی عمر پچاسی سال سے زیادہ ہوچکی تھی۔ وہ الزائمر کا شکار تھے۔ کبھی کبھی وہ اپنے بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے تھے۔ لیکن مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ جب میں جاتا تو وہ تفصیل سے باتیں کرتے اور یادداشت کی خرابی کے کوئی آثار نظر نہ آتے۔

امریکا آنے سے پہلے میں ڈیڈی سے ملنے گیا اور انھیں اپنی روانگی کے بارے میں بتایا تو وہ اداس ہوگئے۔ خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہے۔ جیسے کہہ رہے ہوں، تمھارے سوا اب میں کسی کو پہچان نہیں پاتا۔ اور تم بھی جارہے ہو؟

امریکا آنے کے بعد بہت بار سوچا کہ ڈیڈی سے فون پر بات کروں۔ لیکن جب وہ چوبیس گھنٹے ساتھ رہنے والے بچوں کو نہیں پہچان رہے تھے تو فون پر مجھ سے کیا باتیں کرتے؟ چند دن پہلے ان کی شوگر قابو سے باہر ہوگئی۔ انھیں اسپتال لے جانا پڑا۔ ایک ایک کرکے ان کے آرگن فیل ہوتے گئے۔ ان کی یادداشت انھیں ماضی قریب سے ماضی بعید میں لے گئی جہاں وہ ساٹھ ستر سال پہلے کے لوگوں کو یاد کررہے تھے۔ آئی سی یو میں چند راتیں گزارنے کے بعد آخرکار وہ خود بھی ماضی کا حصہ بن گئے۔

تقسیم سے پہلے کا امروہا کیسا تھاٍ! کچے پکے گھر جن کی چھتیں ٹپکتی تھیں۔ تیز بارش میں دیواریں گر جاتی تھی۔ قصبے میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔ شدید بیمار ہوجانے والوں کو مرادآباد یا دہلی لے جانا پڑتا تھا۔ آبادی اور دادا شاہ ولایت کے مزار کے بیچ میں جنگل تھا جس میں چیتے بھی تھے۔ اماں انھیں اکیلے جنگل سے گزرنے کو منع کرتی تھیں۔ میں نے سنا ہے کہ جنگل غائب ہوچکا اور مزار اب شہر کے اندر ہے۔

امروہے کا محرم کیسا ہوتا تھا، یہ مجھے ڈیڈی ہی نے بتایا۔ ہندوستان بھر کی طرح امروہے میں بھی محرم کے جلوس میں فساد کا خطرہ رہتا تھا۔ پولیس صورتحال سنبھالنے آتی تھی۔ ماموں علم اٹھاتے تھے۔ ایک سڑک پر آکر پیر من من کے ہوجاتے۔ تابوت بھاری ہوجاتا۔ ذوالجناح چلنے سے انکار کردیتا۔ مشہور تھا کہ وہاں کربلا سے لایا ہوا ایک خنجر دفن ہے۔

ڈیڈی ہجرت کی کہانی بھی سناتے تھے۔ گھر سے نکلے اور کسی ریلوے اسٹیشن پر جا پڑے۔ کئی رشتے دار خاندان تھے۔ سب غریب، سب بے حال۔ پاکستان جانے والی ٹرین کا کوئی دن یا وقت مقرر نہیں تھا۔ راستے میں ٹرین لوٹ لی جاتی اور بلوائی مسافروں کو قتل کردیتے۔ یہ لوگ کئی دن اسٹیشن پر رہے۔ وہیں خود ہانڈی چڑھائی اور جیسے تیسے پکایا کھایا۔

یہ بات ڈیڈی نے کبھی نہیں بتائی کہ ان کا ایک چند مہینے کا بھائی اس سفر میں بیمار ہوکر انتقال کرگیا تھا۔ وہ تلخ یاد کو بھلانے کے لیے یہ ذکر نہیں کرتے تھے۔ میں نے یہ بات کسی اور رشتے دار سے سنی۔ اگر مجھے ٹھیک یاد ہے تو اس بچے کا نام پیمبر نذر تھا۔

ڈیڈی کی پھوپھی یعنی میری دادی خانیوال میں آباد تھیں۔ ہمارے نانا بیوی اور تین بچوں سمیت کراچی جانے کے بجائے خانیوال پہنچ گئے۔ نانا یا شاید ہمارے دادا کے کوئی واقف محکمہ متروکہ املاک میں افسر تھے۔ ڈیڈی بتاتے تھے کہ ایک دن وہ صاحب انھیں لے کر چلے اور کئی مکان دیکھے جو ہندو یا سکھ چھوڑ کر ہجرت کرگئے تھے۔ بلاک 14 کے ایک مکان پر پہنچے تو پتا چلا کہ کوئی مقامی خاندان اس پر قابض ہوگیا ہے۔ افسر صاحب نے ڈانٹ ڈپٹ کرکے اس خاندان کو مکان سے نکالا اور ڈیڈی سے کہا، صاحبزادے! بھاگ کر جاؤ اور کوئی تالا لے آؤ۔ ڈیڈی تالا لے گئے اور وہ مکان نانا کو الاٹ ہوگیا۔

ہمارے نانا نے پاکستان آنے کے بعد کوئی ایسی ملازمت کی کہ ان کا زیادہ وقت سفر میں گزرتا تھا۔ ڈیڈی نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور چھوٹے بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھا۔ انٹر کے بعد انھوں نے ویٹرنری ڈاکٹر بننے کے لیے لاہور کے کالج میں داخلہ لیا لیکن نانا کی آمدنی زیادہ نہیں تھی۔ وہ خرچہ نہیں اٹھاسکے۔ ان کا انتقال بھی جلدی ہوگیا۔ ڈیڈی نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور ملازمت شروع کردی۔

میں نے ہوش سنبھالا تو ڈیڈی کی عمر وہ تھی جو اب میری ہے یعنی مڈ فورٹیز۔ وہ دفتر پینٹ شرٹ اور باٹا کا خاص بھاری براؤن بوٹ پہن کر جاتے تھے۔ گھر میں سفید کرتا اور چوڑے پائنچوں والا پاچامہ پہنتے تھے۔ میں نے کبھی انھیں رنگ دار لباس میں نہیں دیکھا۔ خانیوال میں ان کے سوا کسی مرد کو پان کھاتے بھی نہیں دیکھا۔

ڈیڈی ہمارے بابا کی طرح نیشنل بینک کے ملازم تھے۔ انھوں نے 1983 میں کراچی شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بیوی بچے پہلے منتقل ہوگئے اور وہ اپنے ٹرانسفر تک ہمارے ساتھ رہے۔ بابا نیشنل بینک کی میاں چنوں برانچ میں ہیڈ کیشیئر تھے اور صبح آٹھ بجے کی بس پکڑتے تھے۔ ڈیڈی دس بجے گھر سے نکلتے اور پسنجر ٹرین سے کبیروالا برانچ جاتے تھے۔ دیر سے جاتے اور دیر سے آتے۔

میں گرمیوں کی چھٹیوں میں صبح بہت شوق سے ڈیڈی کو دفتر کی تیاری کرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وہ اپنے کپڑے خود استری کرتے، روزانہ اپنے براؤن بوٹ پالش کرتے اور دن بھر کے لیے اپنے پان لگاتے۔ ان کے پاس اسٹیل کی ڈبیا تھی جس میں کتھا چونا لگاکر پان رکھتے جاتے۔ تمباکو اور چھالیہ کپڑے کے بٹوے میں ذخیرہ کرتے۔

میں پہلی جماعت میں اوّل آیا تو ڈیڈی میرے لیے تحفہ لائے۔ سکس ملین ڈالر مین کی تصویر والی نوٹ بک اور بلی کے سر والا قلم۔ میں وہ تحفہ کبھی نہیں بھولا۔ اس تحفے کی وجہ سے میں آئندہ ہر جماعت میں اوّل آتا رہا۔

خانیوال میں محرم کے جلوس میرے دادا کے قائم کردہ امام بارگاہ سے برآمد ہوتے ہیں۔ میں چھوٹا تھا اس لیے مجھے تنہا جلوس میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بابا خدا جانے کہاں ہوتے تھے۔ ڈیڈی کا ایک ہاتھ تصور بھائی تھام لیتے اور دوسرا میں۔ پھر ہم کبھی بس اڈے اور کبھی پرانا خانیوال تک جلوس کے ساتھ جاتے۔

میں یہ واقعہ کہیں لکھ چکا ہوں کہ بچپن میں خون کا ماتم کرنے کی ضد کی۔ اماں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اصل اہمیت نماز کی ہے۔ حضرت علی اور امام حسین کو نماز پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا تھا۔ اگر تم خون کا ماتم کرو گے تو نماز نہیں پڑھ سکو گے۔ شرعی مسئلہ ہے کہ جسم سے خون رس رہا ہو تو نماز نہیں ہوسکتی۔ میں نے، یعنی پانچ چھ سال کے بچے نے سوال کیا، کربلا میں عاشور کے دن عصر کے وقت امام حسین نے خونم خون ہونے کے باوجود نماز کیسے پڑھی؟

اماں حیران رہ گئیں۔ امی سٹپٹا گئیں۔ اتفاق سے اس وقت ڈیڈی گھر میں موجود تھے۔ انھوں نے سمجھایا کہ ہم گناہگاروں کا خون ناپاک ہوتا ہے۔ امام کا خون پاک ہوتا ہے۔ میں مطمئن نہیں ہوا لیکن خاموش ہوگیا۔ لیکن یہ بات مجھے یاد رہی اور ڈیڈی کو بھی۔ وہ امی سے کہتے تھے کہ مبشر بہت ذہین ہے اور اپنی عمر سے بڑے سوالات کرتا ہے۔

خانیوال میں کم از کم 1985 تک عاشور کے جلوس میں صرف چھ علم ہوتے تھے جن میں سے دو علم ڈیڈی سجاتے تھے۔ غالباً ان کی منت نانا نے مانی ہوگی۔ ایک علم ڈٰیڈی کا اور ایک ہمارے چھوٹے ماموں حسین نذر کا، جنھیں سب منن کہتے تھے۔ وہ ڈیڈی سے چار سال چھوٹے تھے اور میٹرک کرتے ہی کراچی چلے گئے تھے۔

محرم کے جلوسوں میں باقی چار علم ذکی صاحب اور ان کے بیٹے بھتیجے سجایا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ وہ بھی امروہے کے تھے۔ یہ تمام علم امروہے والوں جیسے ہوتے تھے۔ تین پھریرے کے علم اور تین کمانوں تلواروں والے۔ ڈیڈی تلواروں والا علم اٹھاتے تھے۔ پھریرے کا علم پہلے ان کے بڑے بیٹے تہور بھائی اور پھر چھوٹے بیٹے تصور بھائی اٹھاتے تھے۔ جب وہ لوگ کراچی شفٹ ہوگئے تو آخری سال وہ علم میں نے اٹھایا حالانکہ تب صرف بارہ سال کا تھا۔

کراچی آنے کے بعد ڈیڈی نے علم اٹھانا نہیں چھوڑا۔ وہ انچولی کے جلوس میں آتے اور کوئی بھی علم کچھ دیر کے لیے اٹھا لیتے۔ جب بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو علم کو دونوں ہاتھ لگاتے اور اوپر پنجے کی طرف دیکھ کر روتے، جیسے کہہ رہے ہوں، مولا! معاف کردیجیے۔ میرے بدن میں پہلی جیسی قوت نہیں رہی۔ لیکن دل میں آپ کی محبت اتنی ہی ہے۔

میں جیونیوز کی جانب سے دبئی اسٹیشن میں تعینات تھا کہ ایک سال چہلم پر چھٹی لے کر شام جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ 2008 کی بات ہے۔ میں نے امی بابا کو بتایا اور ان سے کہا کہ آپ بھی کراچی سے کسی قافلے کے ساتھ آجائیں۔ امی سفر کرنے سے گھبراتی تھیں۔ بابا کو دلچسپی نہیں تھی۔ دونوں نے انکار کردیا۔ لیکن ڈیڈی اور ممانی ایک قافلے کے ساتھ ان ہی تاریخوں میں دمشق پہنچ گئے۔ ملاقات ہوئی تو ڈیڈی نے کہا، ”مبشر! ہم نے تمھارے آنے کا سن کر ہمت کی ہے۔ “ میں بہت شکرگزار ہوا۔ اگلے آٹھ دس دن میں نے ماموں اور میری بیوی نے ممانی کا ہاتھ تھام کر زیارات کیں۔ ممانی میری بیوی کی خالا بھی تھیں۔

کراچی آنے کے بعد ڈیڈی کے مقابلے میں چھوٹے ماموں کے ساتھ میری زیادہ قربت رہی جو بہت ذہین اور دلچسپ شخص تھے۔ لیکن 1996 میں ان کے انتقال کے بعد مجھے پھر کسی بزرگ کی ضرورت تھی جو میری باتیں سن سکے، مجھے مشورے دے سکے۔ ڈیڈی کے ساتھ ملاقاتیں بڑھ گئیں۔ شام کے سفر کے بعد کچھ بے تکلفی بھی ہوگئی۔ ایک دن میں نے مذہب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو ڈیڈی نے کہا، مبشر! پیسہ دماغ خراب کردیتا ہے۔ تم اچھا کمانے لگے ہو اس لیے بدل گئے ہو۔ میں نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے اپنے بچپن میں خون آلود لباس میں نماز کے بارے میں سوال اٹھایا تھا۔ وہ پہلا سوال تھا۔ میں اس کے بعد بھی سوالات کرتا رہا تھا۔ ڈیڈی تھوڑی دیر سوچتے رہے اور کہا، ہاں مجھے یاد ہے۔

خانیوال میں ڈیڈی کی خاص دوستی ڈاکٹر امین سے تھی۔ وہ دور طالب علمی کے ساتھی تھے۔ گھر میں آنا جانا تھا۔ اماں ان سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ امی ڈاکٹر امین کو ویسا ہی بھائی سمجھتی تھیں جیسے ڈیڈی کو۔ بعد میں ڈاکٹر امین کا چھوٹا بیٹا وقار گورنمنٹ ہائی اسکول میں میرا کلاس فیلو رہا۔ ڈیڈی کراچی منتقل ہونے کے بعد کبھی خانیوال نہیں گئے لیکن ڈاکٹر امین سے فون پر رابطہ برقرار رکھا۔ ڈاکٹر امین البتہ ایک دو بار کراچی آئے اور ڈیڈی کے ہاں ٹھہرے۔ میں جب بھی خانیوال جاتا تھا، ڈاکٹر امین کو سلام کرنے ضرو رجاتا تھا۔

ایک بار میں نے ڈیڈی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی کسی کھیل میں حصہ لیا۔ انھوں نے مسکرا کے بتایا کہ وہ نوجوانی میں تن سازی کرتے تھے۔ پھر انھوں نے ایسی تفصیلات بتائیں جو کوئی باڈی بلڈر ہی بیان کرسکتا ہے۔

میں نے خاندان میں ہمیشہ ڈیڈی کو آئیڈیالائز کیا کیونکہ انھوں نے بہت سمجھ داری سے زندگی گزاری۔ خانیوال میں اپنا گھر بنایا۔ اسے فروخت کرکے کراچی آئے اور پھر گھر بنالیا۔ بابا ایسا نہیں کرسکے۔ ڈیڈی نے سب بچوں کو پڑھایا لکھایا اور ڈھنگ سے ان کی شادیاں کیں۔ اماں کا خیال رکھا۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی دو شادی شدہ بیٹیوں کا انتقال ان کے سامنے ہوا۔ ممانی بھی نصف صدی ساتھ نبھانے کے بعد چند سال پہلے انتقال کر گئیں۔ ان سے پہلے چھوٹے ماموں اور میری امی کے انتقال کی وجہ سے بھی وہ دُکھی تھے۔

دو ڈھائی سال پہلے ڈیڈی کی یادداشت متاثر ہونا شروع ہوئی۔ ان کی عمر پچاسی سال سے زیادہ ہوچکی تھی۔ وہ الزائمر کا شکار تھے۔ کبھی کبھی وہ اپنے بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے تھے۔ لیکن مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ جب میں جاتا تو وہ تفصیل سے باتیں کرتے اور یادداشت کی خرابی کے کوئی آثار نظر نہ آتے۔

امریکا آنے سے پہلے میں ڈیڈی سے ملنے گیا اور انھیں اپنی روانگی کے بارے میں بتایا تو وہ اداس ہوگئے۔ خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہے۔ جیسے کہہ رہے ہوں، تمھارے سوا اب میں کسی کو پہچان نہیں پاتا۔ اور تم بھی جارہے ہو؟

امریکا آنے کے بعد بہت بار سوچا کہ ڈیڈی سے فون پر بات کروں۔ لیکن جب وہ چوبیس گھنٹے ساتھ رہنے والے بچوں کو نہیں پہچان رہے تھے تو فون پر مجھ سے کیا باتیں کرتے؟ چند دن پہلے ان کی شوگر قابو سے باہر ہوگئی۔ انھیں اسپتال لے جانا پڑا۔ ایک ایک کرکے ان کے آرگن فیل ہوتے گئے۔ ان کی یادداشت انھیں ماضی قریب سے ماضی بعید میں لے گئی جہاں وہ ساٹھ ستر سال پہلے کے لوگوں کو یاد کررہے تھے۔ آئی سی یو میں چند راتیں گزارنے کے بعد آخرکار وہ خود بھی ماضی کا حصہ بن گئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 194 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi