آتش۔ جوانی اور اللہ کی کہانی


اکیلا پن بہت ظالم ہوتاہے۔ تنہائی انسان کو پاگل پن کی طرف دھکیلتی ہے۔ Communication Gap، Wifi، سوشل میڈیا، Modrenاور بیرونی Cultureکی یلغار نے ہمیں ایک خاندان میں رہتے ہوئے بھی اکیلاکردیاہے۔ اور اس Emotional Dirthاور Dissatisfactionکے خلاVacumeکو پورا کرنے کے لئے ہم گھر سے باہر دیکھتے ہیں۔ باپ کے پاس بیوی کے لئے وقت نہیں اور وہ اس کے رویے اور عادات سے نالاں گھر سے باہر اپنی جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پوشیدہ بے نام تعلقات قائم کرتاہے۔

ماں اپنی خواہشات، میاں کی بے اعتنائی اور عدم توجہی کا بدلہ کسی جوان سہارے کی صورت میں لیتی ہے۔ ماں اور باپ کی شفقت سے محروم اولاد اپنے اپنے طریقے سے اپنی جسمانی اور جذباتی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے کلاس، فنگشن، Combined Study کے نام پر وقت گزارتے ہیں۔ ان بڑے گھروں، چھوٹی دیواروں اور اعلیٰ کمروں اور کاروں نے ہمیں اپنوں سے دورکرکے اس کلچراور روایت کا ستیاناس کردیاہے۔ جس پر ہم کبھی فخر کرتے تھے جو ہمارے مسائل کا حل ہے اور رہے گا۔

ایک کمرے میں پوری فیملی، پیدل تانگوں پر سفر کرتے ہوئے شایدہم اتنے Modernنہ ہوتے مگرہم ایک خاندان ضرورہوتے۔ ایک کی خوشی اور غم سب کی خوشی اور غم ہوتا۔ جب گاؤں میں ایک شخص مرتاتھا تو پوراگاؤں مر جاتاتھا۔ مگراب پورے کے پورے شہراُجڑ جاتے ہیں مگر شراب اور کباب کی پارٹی اسی طرح جاری رہتی ہے۔ جیسے کوئی بھی نہیں مرا۔

ڈوربیل (Door Bell) بجانے کے ساتھ ہی مجھے قدموں کی آواز دروازے کے قریب ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تصویر اور حقیقت میں مماثلت یا فرق ابھی سامنے کھلنے والا تھا اور اچانک دروازہ کھلا۔

درمیانے قد کی لڑکی۔ ہلکے نیلے رنگ کی شلوارقمیص میں ملبوس ننگے پاؤں۔ کھلے گھنگریالے بال۔ کھلا کشادہ گلا۔ دروازہ پکڑکر وہ دائیں جانب کھڑی ہوگئی اور مسکرا کربولی۔ آجائیے۔ اندرآجائیے۔ اپنا ہی گھر ہے آپ کا۔ میں نے دودھیا پاؤں کی سرخ نیل پالش کو آگے ناخنوں سے لے کر صراحی دار کمراور کپڑوں کے اندر سے باہر کو جھانگتے ہوئے جسم کے اوپری حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس انتہائی خوبصورت دانتوں کی ترتیب اور ڈمپل کو دیکھا اوراس کے پیچھے پیچھے ریموٹ کنٹرول کھلونے کی طرح چلتا گیا۔ دو دوازے مزید گزرنے کے بعد ہم سیدھے ایک بہت بڑے لاؤنج میں چلے گئے۔

پڑے ہوئے صوفے اور ان کی ترتیب، ٹیبل اور بہت بڑے ٹی وی کی سکرین کے دائیں کونے پر اس کے چہرے کے دائیں رخسار پہ چپکی ہوئی میری آنکھوں کی طرح ایک Sticker چپکا ہواتھا۔ جو اس بات کی غمازی کرتاتھا کہ گھر پرانا مگر مکین نئے ہیں۔ میں ایک بار پھر اپنے گردونواح سے بے خبر اپنے خواب کو دیکھ اور جانچ رہاتھا۔ مگر خواب تو خواب ہوتے ہیں۔ کچھ شرمندگی اور کچھ ڈھٹائی کے ساتھ میں اس کی اوریک ٹک دیکھ رہا تھا۔

جی کیا لیں گے آپ۔ اس نے شرارت بھری آنکھوں سے میرے اندرتک کو کھوجتے ہوئے پوچھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اور نامعلوم کیا کہتا

”چائے لاؤں آپ کے لئے“ اس نے کہا۔

میں نے کہا ضرورت نہیں بس آپ بیٹھی رہیں۔ (میں دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ بس آپ ہی کافی ہیں آپ کے ہوتے ہوئے کچھ اور کی ضرورت کس کافر کوہے ) اتنی دیر میں ملحقہ کچن سے ایک جوان نسوانی آواز آئی ”باجی چائے لے لیں“ وہ اٹھی اور ایک بہت خوبصورت سجی ٹرالی میں مختلف مشروبات اور چائے کے لوازمات لے کر آموجود ہوئی۔

اس نے چائے اور پلیٹ میرے سامنے رکھی اور خود صوفے پر دونوں پاؤں رکھ کر بیٹھ گئی۔ میں اس کے نشست و برخاست سے زیادہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ میرے میں ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ میں بات کہاں سے شروع کروں۔ خیر میرے پوچھنے پر وہ بولی ”یہاں میں اور میری بھابھی اور بھائی رہتے ہیں۔ ماں اور باپ دونوں فوت ہوچکے ہیں۔

میں نے سوچا تمام طوائفوں کے ماں باپ ضرورمرے ہوتے ہیں یا شاید ان کے کاروبارکے اصول کے تحت ان کو مردہ ڈکلیئر (Declare) کرنا ضروری ہوتاہے یا شاید وہ خود ہی مر جاتے ہیں موت سے پہلے۔ !

ایسے موقعوں پر انسان کی زبان اور سوچ دونوں اٹک جاتے ہیں یا لڑکھڑا جاتے ہیں۔ مدعا بیان کرنے کے لئے مناسب الفاظ کا انتخاب اور اس کے Reactionکے خوف کی بدولت، اگرچہ خیالات اور الفاظ ہماری ضرورت کے عین مطابق قطار در قطار ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں مگر ان کو استعمال کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ کم وبیش کوئی یہی حالت میری تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ طوائف اور خاندانی طوائف زادی ہے جس کا پیشہ جسم بیچنا ہے کیونکہ بلال مجھے بتا چکا تھا کہ

”یار بڑی خاندانی کڑی ہے۔ نسل در نسل طوائف۔ ! اس لئے ترقی کرکے اندرون شہرکے ایک مشہور علاقہ سے اس کی ماں باہر نکلی تھی اور بیٹی نے مزید ترقی کی او ر وہ موجودہ علاقہ میں رہائش پذیرہوگئی۔ “

اس نے مجھے مکمل طور پر بریف کرکے بھیجا تھا کہ جھجکنے اور ہچکچانے کی بالکل ضرورت نہیں اور وہ بہت اچھی ہے جو مانگوگے سب ملے گا۔ ”

مگر پھر بھی مجھ میں قطعاً ہمت نہ تھی۔ اس لئے اُس نے اپنے خاندانی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالآخر خود ہی پوچھ لیا

”کیا بات ہے۔ ؟ آپ کچھ پریشان ہیں۔ یہاں تو لوگ ہر پریشانی ختم کرنے کے لئے آتے ہیں چاہے ذہنی ہو یا جسمانی۔ ! “

میں نے ّتحیرسے اس کے الفاظ سنے اور ان کے مطالب کو Processکیا اور اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں! “

وہ ہنستے ہوئے اپنا دایاں گال اور اس کا ڈمپل دکھاتے ہوئے بولی ”میں نے بلال سے کہا تھاکہ مجھے ایک بوائے فرینڈکی ضرورت ہے مگر۔ اس فقرے سے میرا دل اچھل کر جیسے حلق سے باہر آگیا۔ وہ تو بلاتکلف براہِ راست میری مرضی کے موضوع پر گفتگو کررہی تھی۔ میری پریشانی اور جھجک بالکل دورہوگئی۔ لیکن اس نے“ مگر ”کے بعد جو Pauseدیا تو میں ذہنی طور پر اس کی شرائط جو شاید معاشی ہوسکتی تھیں کا سوچنے لگا۔

وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی بس میری کچھ شرائط ہیں۔ اگرآپ کو منظورہوں تو یہ Relationبہت خوب چلے گا۔ میں چائے اوربسکٹ چھوڑکر تھوڑا سا مزید آگے جھکا تاکہ اُس کی شرائط کاکوئی نقطہ مجھ سے مس نہ ہوجائے۔

آپ میری نجی اور پرائیویٹ لائف میں کوئی دخل نہیں دیں گے۔

میرے کچھ دوست ہیں آپ مجھے ان سے ملنے سے نہیں روکیں گے۔

میں کوک اور آئس لیتی ہوں ڈرنک لیتی ہوں، پارٹی کرتی ہوں آپ اس سے نہیں روکیں گے۔

آپ میرے بلانے کے بغیر کبھی بھی میرے گھر نہیں آئیں گے اور نہ میری جاسوسی کروائیں گے۔

میں نے اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی اس خوف سے کہ وہ ارادہ نہ بدل دے، زورسے کہا کہ ”منظور ہے۔ منظور ہے۔ منظورہے۔ “

وہ میری اس حرکت پر کھلکھلا کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر زور سے ہنسی۔ جس سے اس کے دانتوں کی ہموار سطح مزیدواضح ہوگئی۔ اور ا س کے گالوں پر پڑنے والے خوبصورت گڑھے ایسے لگ رہے تھے جیسے شفاف تالاب میں پتھر مارنے سے خوبصورت گول دائرے بیرونی جانب کو بڑھتے ہوئے معدوم ہو جاتے ہیں۔

میں نے کہا کہ یہ سب تو منظور ہے مگر مجھے اس کے بدلے کیا کرنا ہوگا۔ !

”Love، live، relax and enjoy“ اوریہ کہہ کر اس نے میر اہاتھ پکڑا۔ اور مجھے ایک بہت بڑے سے بیڈ روم میں تقریباً کھینچتی ہوئی لے گئی۔

میں ابھی تک اپنے خوابوں میں تھا۔ جبکہ وہ حقیقت سے بھی کئی قدم آگے تھی۔ میرے کان سرخ ہوگئے تھے اور ان سے آگ نکل رہی تھی۔ مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میرا چہرہ بہت سرخ اور رگیں پھٹنے والی ہیں جن سے نکلنے والا خون شاید میری موت کے بعد ہی رکے گا۔ مجھے اپنی شریانوں اور وریدوں میں خون لاکھوں میٹرفی سکینڈ کے بجائے ہزاروں گنا زیادہ سپیڈ سے دوڑتاہوا محسوس ہورہاتھا۔ دل کی دھڑکن کا تواتر کب کا ختم ہوچکا تھا۔ بلکہ شاید یہ خون پمپ کرنے کے علاوہ بہت سارے دوسرے Functions Performکررہاتھا۔ دماغ کو جانے والے Signalsکی رفتار اورInterperetationبھی دماغ اور باڈی کوConfuseکررہی تھیں۔ جب کے جسم کے نچلے حصے کو Transferہونے والے احکامات بھی عجیب وغریب اور Controlسے باہر تھے۔ دل تو دل، باقی اعضائے رئیسہ بھی اپنی اوقات بھول کرکپڑوں اور اوقات سے باہر نکل نکل جارہے تھے۔

میں اپنی اس جسمانی اور دماغی بے بسی کے ہاتھوں مجبورہوکر دور ایک کونے میں کھڑا اپنی اس بے بسی کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ باپ کا خوف، امی کی شفقت اور دعا، دین اسلام اور پیغمبری احکامات، معاشرے کے طعنے اورڈر، سارے میرے ساتھ کھڑے میرے جسم اور اس کی حرکات بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ میرے اندرکا ابلیس خوشی سے ناچ رہاتھا۔ اپنے خواب حقیقت میں بدلتے اور اس کی تعبیر ہوتی دیکھ کر جشن منا رہاتھا اور میرے ساتھ کھڑے اللہ میاں کو دیکھ کر مسکرا رہاتھا۔ مگر خالق ہمیشہ کی طرح مطمئن، اپنی تخلیق پر نازاں سوچ رہاتھا کہ ”فکر نہ کرو یہ تھوڑی دیر تک اس حالت میں رہے گا۔ جب تیرے چنگل سے باہر آئے گا سیدھا میرے پاس آئے گا۔ روئے گا پیٹے گا، سیاپا کرے گا اور معافی مانگے گاکیونکہ میراہے اس لئے میرا ہی رہے گا۔ ہمیشہ سے ہمیشہ تک۔

اس سب باہر کی جنگ سے بے پروا، میر ا جسم دروازے کے ساتھ لگا ہوا، اس کی بانہوں میں تھا۔ وہ میرے جسم کے اندرگھسی چلی جارہی تھی۔ اس کے نازک ہاتھ، بہت زیادہ Etherial Beautyوالے گال، سیا ہ آنکھیں اور جسم کے خوبصورت جنگلی سیب اور اُبھار جو میری چھاتی پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے۔

اس کی خوشبو، اس کے کردار سے بالکل میل نہیں کھاتی تھی۔ ”خوش“ اور ”بو“ دونوں کو چھپایا نہیں جاسکتا اور انسان کے جسم سے نکلنے والی یا جاری ہونے والی یہ بو ”بد بو“ بھی ہوسکتی ہے اور ”خوشبو“ بھی۔ جس کا اندر جیسا ہوگا ویسی اس کی بوہوگی۔ یہ ہماری اندرونی کیفیت، حالات اور ہیئت کی آئینہ دار True Reflectionہوتی ہے۔ اس کو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا۔ بدکردار آدمی کی بدبو فرانس کی مہنگی ترین پرفیوم اور مہنگے ترین ڈاکٹروں کی سرجری اور علاج سے بھی نہ ختم ہوتی ہے اورنہ چھپتی ہے۔ جبکہ اعلیٰ ظرف اور کردار کے حامل شخص کا پسینہ مشک نافہ سے زیادہ مسحور کن ہوتاہے۔

اندرکے گند کو چھپانے اور پسینے کو معطر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو عشق کی بھٹی میں ”اللہ“ کے نام کی حرارت سے کندن بناکرفاضل مادوں سے ہمیشہ کے لئے جدا کردیا جائے۔ تاکہ انسان فطرت سلیم پر پیدا ہونے والے نوزائیدہ معصوم بچے کی مانند خالق کی عطا کی ہوئی ”احسن تقویم“ کی سرشت جو ”چنی ہوئی مٹی سے پیداکیا گیا“ جیسی ہوجائے۔ خوشبو تو خوشبو ہوتی ہے، معصوم بچے کی ہو، کنوارے پنڈے کی ہو، زانی اور شرابی کی ہو یا فاسق یا فاجر کی۔ اس کی لہروں پر سفرکرکے بہت سارے پیغامات ہم تک لاکھوں Filterہونے کے باجود پہنچتے ہیں۔

صدف کی ”بو“ بھی خوش ”بو“ تھی۔ اس کے پیشے سے قطعاً میل نہ کھاتی تھی۔ اس میں ایک تعطر تھا۔ ایک ٹھنڈک کا احساس اور سحر تھا جو آپ کو سکون دیتی تھی۔ اور میں اس سکون میں مسمراز (Masmirise) ہوکر مدہوش ہوچکا تھا۔ جذب ہوچکا تھا۔ حواس کھو چکا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس زور سے جس سے اُس نے مجھے جپھا ماراتھا، میں بلندفشارخون کے علاوہ نظامِ تنفس کے بند ہوجانے کا بھی شکار ہوجاؤں گا۔ اس نے کب دروازہ بند کیا۔

کب وہ میری چھاتی سے لپٹی، مجھے کچھ احساس نہیں۔ میں نے اس کے گالوں سے بال پرے کرنے کے بعد، اس کے ماتھے اور آنکھوں اور گالوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس نے ایک زور کا دھکا مارکرمجھے بیڈ پر گرا دیا اور میری چھاتی پر سوارہوگئی۔ اور وہ میرے جسم پر ہی نہیں، میرے دماغ پر بھی سوارہوگئی۔ میرے تمام حواس میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے اور میں جسمانی ضرورتو ں اور اس کے لمس کے آگے مکمل طورپر خودکو Surrender کرچکا تھا۔ !

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

لیاقت علی ملک

لیاقت علی ملک ۔۔۔ داروغہ ہے۔ خود ہی عدالت لگاتا ہے، خود ہی فیصلہ سناتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔۔۔ بس ایک دبدھا ہے۔۔۔وہ سزا بھی خود ہی کاٹتا ہے ۔۔ ۔۔کیونکہ یہ عدالت۔۔۔ اس کے اپنے اندر ہر وقت لگی رہتی ہے۔۔۔۔

liaqat-ali-malik has 12 posts and counting.See all posts by liaqat-ali-malik