میں نے نواز شریف کو موت سے کیسے بچایا؟


کارگل کی جنگ کے حوالے سے بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس مسئلہ پر امریکی اعانت کے لیے 4 جولائی 1999 ء کو واشنگٹن پہنچے۔ اور انہیں اعلیٰ مہمانوں کے لیے بنائے گئے ”بلئیر ہاؤس“ میں ٹھہرایا گیا۔ بعدازاں نواز شریف کلنٹن تاریخی ملاقات ملاقات میں تیسرا واحد شخص میں تھا جو اس ملاقات کے نوٹس لینے کے لیے ”بطور نوٹ ٹیکر“ ساتھ بیٹھا تھا۔

امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کے مشیر سمؤیل سینڈی برجر نے دونوں سربراہوں کی اس ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس میں صدر کلنٹن کو بریفنگ دیتے ہوئے انہیں باور کرایا کہ دونوں ممالک پاکستان اور بھارت اس وقت ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اور دونوں ممالک سمیت پوری دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ آپ کا صرف ایک شاٹ دونوں ممالک کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ آخر میں برجر نے صدر کو مشورہ دیا تھا کہ نواز شریف کو سن لیا جائے تاہم کارگل سے پاکستان کی فوجوں کے مکمل اور غیر مشروط انخلاء کے مطالبے پر سختی سے سٹنڈ لیا جائے۔ سینڈی برجر کی اس ایک گھنٹے کی متاثر کن بریفنگ کے بعد ہی صدر کلنٹن نواز شریف سے ملاقات پر رضا مند ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے واشنگٹن میں سعودی سفیر پرنس بندر بن سلطان کا بھی خصوصی سفارتی کردار تھا۔

کتاب کے مطابق اس سے پہلے 4 جولائی 1999 ء کی صبح ہی سی آئی اے نے اپنی ”ڈیلی بریف“ میں صدر کو متنبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان جوہری جنگ کے لیے اپنے ہتھیاروں کی نقل و حرکت کر رہا ہے۔ اور ممکن ہے کہ اسے بھارت کے خلاف استعمال میں لے آئے۔

نواز شریف صدر کلنٹن سے ملاقات کے لئے امریکہ کے اس دورے پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ آئے تھے۔ جو ان حالات میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ اور وہ شاید یہ محسوس کر رہے تھے کہ اپنے اس اقدام کے نتیجے میں آنے والے حالات ان کے لیے کس قدر ناموافق ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں صدر کلنٹن نواز شریف سے ملاقات کے لئے اپنے رفقاء کے ساتھ بلئیر ہاوس پہنچے۔ ابتدائی تعارف اور خیر مقدمی کلمات کے بعد نواز شریف نے کہا کہ ملاقات ون آن ون ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی دونوں جانب کے عہدیدار ایک ایک کر کے مرکزی کمرے سے باہر نکل آئے۔ اب کمرے میں صدر کلنٹن، نواز شریف اور میں (بروس ریڈل) رہ گئے۔

صدر کلنٹن نے گفتگو کا آغاز کیا تو نواز شریف نے میری موجودگی پر اعتراض کیا تو صدر نے کہا کہ یہ ساتھ ہی بیٹھیں گے۔ نواز شریف نے اپنی پوزیشن واضح کی۔ اور صدر کلنٹن پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے سمیت پاکستان بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کریں۔ صدر کلنٹن کا زور دے کر کہنا شروع کیا کہ یہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ پہلے پاکستان کارگل سے اپنی افواج فوری طور پر واپس بلائے۔ اس موقع پر صدر نے نواز شریف کو پہلے سے تیار شدہ دو ڈرافٹ دکھائے۔ ایک پاکستان کی جانب سے اپنی افواج کا کارگل غیر مشروط انخلاء کا اعلان اور دوسرے ڈرافٹ میں افواج نہ ہٹانے جانے کی صورت میں امریکہ کی جانب سے گارگل جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالے جانے سمیت ایک دوسرے ملک بھارت کے خلاف مسلط کی گئی اس جنگ کو جارحیت قرار دیا گیا تھا۔

صدر کلنٹن کا لہجہ مسلسل تند سے تند ہوتا جارہا تھا۔ انہوں نے ایک موقع پر نواز شریف سے پوچھا کہ کیا وہ ایٹمی جنگ کے نتائج سے آگاہ ہیں۔ اور کیا انہوں ایٹمی میزائلوں کی نقل و حرکت کی اجازت دی ہے۔ اس سوال کے بعد نواز شریف نے ایک بار پھر مجھے براہ راست کمرے سے باہر جانے کے لیے کہا۔ جس پر صدر کلنٹن نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھے رہنے کے لیے اصرار کیا۔

نواز شریف نے جواب میں کہا کہ ایٹمی جنگ کا نتیجہ تباہی ہو گا۔ اور انہوں اپنے اداروں کو ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا۔ ملاقات شروع ہونے کے نوے منٹ کے بعد نواز شریف تھکے تھکے اورمضمل سے نظر آنے لگے جس پر صدر کلنٹن نے کہا کہ اب کچھ وقت کے لیے بریک لیتے ہیں اور اپنے مشیروں سے ملاقات کے بعد دوبارہ اگلا سیشن شروع ہو گیا۔ آدھے گھنٹے کے بعد دوبارہ جب ملاقات شروع تو نواز شریف کی جانب سے کارگل سے فوجوں کے مکمل انخلاء اور غیر مشروط واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی۔

پہلے سے تیار کردہ ایک ڈرافٹ یعنی مشترکہ اعلامیہ میں نواز شریف کی جانب سے سے کچھ رد و بدل کرنے کا کہا گیا جس کو تسلیم کر لیا گیا۔ نواز شریف کارگل سے اپنی افواج کی غیر مشروط واپسی پر راضی ہو گیا تاہم ا سے بعد ازاں اس کی قیمت اپنی حکومت کے خاتمے کے عوض چکانی پڑی۔ اور یوں جنرل پرویز مشرف اور اس کے حمایت یافتہ جرنیلوں نے فوجی بغاوت کے ذریعے نواز شریف کی حکومت 12 اکتوبر 1999 ء ختم کر کے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ تاہم اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ممالک ایک خوف ناک ایٹمی جنگ سے بچ گئے۔

بروس لکھتے ہیں کہ نواز شریف کے چھوٹے شہباز شریف سے میری پہلی ملاقات 1999 ء کے اوائل میں واشنگٹن میں ہوئی تھی۔ جب وہ صدر کلنٹن اور وہائٹ ہاؤس کو خبردار کرنے کے لیے آئے تھے۔ کہ جنرل پرویز مشرف اس کے بھائی نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ مجھ سمیت ملاقات میں موجود دیگر عہدیداروں نے شہباز شریف کو بڑے ہمدردانہ روئیے اور سکون کے ساتھ سنا۔ مگر ایک ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک پاکستان میں میں فوجی مداخلت کو نہ روک سکے۔

12 اکتوبر 1999 ء کو فوجی بغاوت کے بعد نواز شریف پر طیارہ سازش کیس بنایا گیا۔ جس پر اسے سزائے موت کا سامنا تھا۔

بروس ریڈل لکھتے ہیں کہ مارچ 20 تا 25، 2000 ء، صدر کلنٹن نے ساؤتھ ایشیائی ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کا دورہ کیا۔ وہ تقریباً پانچ دن بھارت کے دورے پر رہے۔ اور صرف چند گھنٹوں کے لیے پاکستان کے دورے پر گئے اس موقع پر کلنٹن مشرف ملاقات سخت تناؤ کا شکار رہی۔ اس ملاقات کے دوران بھی میں بطور ”نوٹس ٹیکر“ میں موجود تھا۔

صدر کلنٹن کی جانب سے اٹھائے گئے سارے نکات کے ساتھ جنرل مشرف نے اختلاف کیا۔ ماسوائے ایک نقطے کے جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کی کہ وہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دیں گے۔

بروس ریڈل کے مطابق صدر کلنٹن نے انہیں یہ مشن سونپا کہ وہ کسی قیمت پر بھی نواز شریف کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح موت کے منہ میں جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے لیے مکمل تباہی کا باعث ہو گا۔ اس کے لیے انہیں جہاں تک بھی جانا پڑے وہ جائیں۔ اور نواز شریف کو موت کے منہ سے بچائیں۔

بروس ریڈل کے مطابق، میں ان دنوں وہائٹ ہاؤس میں صدر کی نیشنل سیکورٹی کونسل میں صدر کلنٹن کا بطور پرسنل اسسٹنٹ تعینات تھا۔ اس مشن یا ڈیل کو نتیجہ خیز بنانے کے سب سے پہلے میرا دھیان واشنگٹن میں متعین سعودی عرب کے سفیر شہزادہ بندر بن سلطان کی طرف گیا۔ ( پرنس بندر بن سلطان سب سے لمبے عرصے تک یعنی 1983 ء تا 2005 ء سعودی عرب کے امریکہ میں سفیر رہے۔ ان پر لکھی جانے والی کتاب ”دی پرنس“ کے مطابق 1980 ء کی دہائی میں افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء میں معاونت سمیت اہم سفارتی محاذوں پر انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ اور انہوں نے کئی مواقع پر ماسکو جا کر اس وقت کے روسی صدر گورباچوف سے بھی نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں اور انہیں افغانستان سے نکلنے پر آمادہ کیا)

نواز شریف کو بچانے کے مشن کی تکمیل کے لیے ان کی پرنس بندر بن سلطان سے طویل ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس وقت واشنگٹن میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی سے بھی اس حوالے سے کئی ملاقاتیں رہیں۔ اور اس مسئلے پر انہیں بھی اپنا ہم خیال پایا۔

سعودی عرب بھی اس حق میں نہیں تھا کہ اب پاکستان میں ”ضیاء زلفی“ سیاہ باب دوبارہ دہرایا جائے۔

اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے نواز شریف کو بچانے کے لیے آخری حد تک جا کر اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جو پاکستان کو سب سے زیادہ معاشی امداد مہیا کرتا ہے۔ شاہ عبداللہ نے جنرل مشرف سے کہا کہ نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا جائے۔ بعدازاں مشرف نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ ”کنگ عبداللہ کی اس آفر کے آگے وہ بے بس ہو گئے اور انکار نہ کر سکے“۔

اس طرح ہماری کوششوں سے نواز شریف دسمبر 2000 ء میں اپنے خاندان سمیت بحفاظت سعودی عرب جلاوطن ہو گئے۔ اور مجھے صدر کلنٹن کی جانب سے سونپا گیا مشن پایہ تکمیل تک پہنچا۔ **
Published on: Feb 23, 2019

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2