حامد صاحب کی پرانی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح صبح حامد صاحب کی آواز چڑیوں کی آپسی جنگ سے کھلی۔ نہ جانے یہ فتنیاں اتنا شور کیوں مچاتی ہیں۔ انہوں نے کڑھتے ہوئے سوچا بس آج ہی یہ درخت کٹوا دوں گا، نہ درخت ہو گا نہ ہی ان کے گھونسلے انہوں نے روز کی طرح سوچا اور وقت دیکھنے کے لئے پاس رکھا موبائل اٹھایا لیکن بجائے وقت دیکھنے کے انہوں نے واٹساپ پیغامات دیکھنے شروع کر دیے۔ ایک سو پچاس پیغام۔

انہوں نے آنکھیں پھاڑیں، جب سے یہ واٹساپ آیا ہے، قوم کو گڈ مورننگ اور گڈ نائٹ۔ جمعہ مبارک کہنے اور تبلیغ کرنے کا ہوکا ہو گیا ہے، پہلے تو قوم مولوی سے چڑتی تھی اب ہر کوئی واٹساپ پر مولوی بنا ہوا ہے، انہوں نے ایک ایک کر کے پیغامات ڈیلیٹ کرنے شروع کیے تاکہ اگلی صبح بخیر ہونے کے پیغام وصول کر سکیں، منہ دھونے کے بعد وہ ڈبل روٹی لینے اور چہل قدمی کرنے باہر نکلے، قریبی پارک میں پہنچے تو چند لوگ بجائے دوڑنے کے دائرہ بنا کر بیٹھے حالات حاضرہ پر گفتگو کر رہے تھے، جنگ ہو گئی تو کیا ہو گا، حامد صاحب کا دل دھک سے رہ گیا، اگر جنگ ہوئی تو وہ دوسری شادی کیسے کر سکیں گے، جو کہ ان کا دیرینہ ارمان تھا، حامد صاحب اس ظالم دنیا میں تنہا رہ گئے تھے۔

جب سے ناپسندیدہ بیوی مری تھی۔ وہ گھر کے کھانے سمیت ہر چیز سے ترس گئے تھے، حامد صاحب بچپن سے ہی اپنی ایک محلے دار سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن باپ نے اپنی بہن کی صاحبزادی کو ان کی بیگم بنا دیا، حامد صاحب ساری زندگی منصوبے بناتے رہے کہ اپنی محبوبہ سے دوسری شادی کر لیں، قسمت سے اولاد بھی نہ ہوئی تو انہوں نے خود کو حق بہ جانب سمجھتے ہوئے کئی بار دوسری شادی کرنے کا اعلان کیا جس کو ان کے والد رد کرتے رہے اور بیوی مظلوم بن کر آنسو بہانے لگتیں، ایک بار راضی ہو بھی گیئں، لیکن اسوقت تک ان کی محبوبہ کی شادی ہوچکی تھی، چار و ناچار صبر کر کے بیٹھ رہے

بیگم بھی ساری زندگی ان کے سینے پر مونگ دلنے کے بعد اپنے وقت پر ہی مریں، حامد صاحب نے سکون کا سانس لیا اور اپنی پسند کی خاتون تلاش کرنے میں جت گئے، وہ باسٹھ سال کے ہو چکے تھے اور ابھی تک اپنے آپ کو جوان و تازہ دم محسوس کرتے تھے، شومئی قسمت پرانے محلے میں جانا ہوا تو ان کو بچپن کی محبوبہ بارے معلوم ہوا، وہ شوہر کے انتقال کے بعد اپنے ابا کے مکان میں مقیم تھیں۔

حامد صاحب درانہ جا دھمکے، محبوبہ نے بھی ان کی پذیرائی کی لیکن شادی کو بیٹی کی شادی کر دینے سے مشروط کر دیا، حامد صاحب بس نشاط کے لئے کوئی اچھا صاحبزادہ ڈھونڈ دیجئے، اس کو رخصت کرتے ہی ہم آپ کے ساتھ چل پڑیں گے۔ حامد صاحب نے نشاط کو ایک نظر دیکھا، نئے دور کی لڑکیوں کی طرح چمرخ تھی، نشاط انگیزی کی کوئی جھلک اس میں نہ تھی، لیکن آج کل اسی کا فیشن ہے یہ سوچ کر ہمت مرداں مدد خدا کے تحت اس کے لئے بر ڈھونڈنے میں لگ گئے، محبوبہ نے ساتھ شرط بھی لگا دی، ان کے ابا خالص سید تھے، بھلے آدمی تھے، کوئی بھلا سید زادہ ہی دیکھئے، مشکل سے ایک سید خاندان ملا، لیکن نشاط نے منع کردیا، انکل یہ اتنا بڑا سید لے آئے، اب چھوٹا سید کہاں لاوں بیٹا، چھوٹا بھی نہیں چاہیے، کوئی ہم عمر سید تلاش کیجئے ورنہ یونیورسٹی کی سہیلیاں میرا مذاق بنائیں گی

حامد صاحب نے بے بسی سے محبوبہ کو دیکھا وہ بھی نشاط کی نشاط خیزیوں سے پریشان ہو گیئں، بیٹا ضد نہ کرو، یہی مناسب وقت ہے شادی کا جنگ ہو گئی تو کم از کم اپنے میاں کے ساتھ تو ہو گی نہ، کیامطلب جنگ ہو گئی، مرنا تو سب نے ہے تو اکیلے مروں یا میاں کے ساتھ، بس مر جائیں گے۔

ہائے ہائے بٹیا ہم کیوں مریں گے، ہمارے فوجی انڈیا کے چھکے چھڑا دیں گے تم دیکھنا بس، حامد صاحب نے دونوں کو خاموش کروایا۔ چپ ہو جایئے بس شادی اسی سید سے ہو گی، اور جنگ سے پہلے ہو گی تا کہ ہم اور آپ کی اماں بھی جنگ سے پہلے نکاح کر سکیں، اوہ تو یہ بات ہے نشاط چونکی، آپ لوگ نکاح کر لیں میری فکر نہ کریں، ہائے کیوں فکر نہ کریں، جس قوم کے مرد یہ سوچ رہے ہوں کہ جنگ ہو تو ہم دشمن کی عورتوں کا ریپ کریں، ان کے درمیان تم کو اکیلا کیسے چھوڑ دیں، محبوبہ تڑپ کر گویا ہوئیں، تو نکاح کے بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی رہوں گی، کیا آپ لوگ مجھے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے، نشاط نے آنکھیں پھیلائیں۔

حامد صاحب بولے نہیں ہم کو پرسکون رہنا پسند ہے اور یہ تب ہی ممکن ہو گا جب تمھاری شادی ہو جائے گی اور تمھاری اماں فراغت سے ہماری خدمت کر سکیں گی، بس تم کو اسی سید زادے سے شادی کرنی ہوگی، عمر زیادہ ہے تو کیا ہوا، ہینڈسم بھی تو ہے،

نشاط نے کہا اس سے بہتر ہے جنگ ہی ہو جائے تا کہ مر جائیں، بٹیا پہلے ہی اس ملک میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں اتنے لوگ مر چکے ہیں اور تم جنگ چاہتی ہو، یہ ہم ماؤں کے دل سے پوچھو کہ جب بچے کا جنازہ اٹھتا ہے تو دل پر کیا گزرتی ہے، وہ پھپک کر رونے لگیں تو حامد صاحب اور نشاط پریشان ہو کر ان کے اردگرد بیٹھ گئے، امی چپ ہو جائیں، میں شادی کر لیتی ہوں، واقعی جنگ ہو گئی تو سارے ارمان دھرے رہ جائیں گے، بم برسے تو پارلر بھی تباہ ہو جائیں گے پھر میں تیار کہاں ہوں گی، ڈیزائنر بھی ملک سے باہر چلے جائیں گے۔جوڑا بھی تو بنوانا ہو گا،

حامد صاحب نے سر پیٹ لیا، غم سے نہیں خوشی سے اور نشاط کے سر پر ہاتھ پھیر کے بولے، میں خود دونوں دلہنوں کو شاندار جوڑے دلواوں گا، ذرا لڑکے والوں کو رضامندی کا فون کر دوں پہلے، لڑکا نہیں ہے وہ نشاط چنچنائی، حامد صاحب مسکرائے ہاں لڑکا تو نہیں کہہ سکتے آدم زاد ہے بس اور اس دنیا کو اچھے آدم زادوں کی ہی ضرورت ہے۔ محبوبہ نے شرماتے ہوئے کہا۔ جی ہاں جیسے کہ آپ، حامد صاحب خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف لیفٹ رائٹ کرتے چل دیے تا کہ شادی کی تیاریاں شروع کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •