جنگ کے موسم میں تاریخ کا پہلا ڈرافٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرحدوں پر کشیدگی چل رہی ہو تو انتہاؤں کے ادب، معاندانہ تاریخ اور روایتی صحافت کے سانچوں پر ’بغرضِ خاص‘ ڈھالے گئے اذہان امن کی بات کرنے والوں کو یا تو غدار قرار دیتے ہیں پاپھر پوچھتے ہیں کہ اگر یہ صحافت ہے تو پھر کون سی صحافت ہے۔ جیسے پنجروں میں رہنے والے پرندوں کو پرواز بیماری لگتی ہے ایسے ہی معاندانہ ماحول میں پلے انسانوں کو امن کی بات کرنے والا کسی ذہنی عارضے کا شکار دکھائی دیتے رہیں گے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک قائم رہے گی جب ہمارا سماج مذہب اور تاریخ کی دشمنی پر مبنی تشریح کے علاوہ روایتی صحافت کو اس تنقیدی آنکھ سے دیکھنے کے قابل نہیں ہوجاتا جسے امن کار صحافت (peace journalism) کہتے ہیں۔

مذہب اور تاریخ کی معاندانہ تشریح پر پاکستان میں کام ہورہا ہے لیکن اگر ہم امن کار صحافت کی بات کریں تو ہمیں اپنی بات کا آغاز مطالعات امن کے باپ ڈاکٹر یوہان گلٹنگ ( 1930۔ ) سے کرنا پڑے گا جنہوں نے 1970 کی دہائی میں ایسی صحافت کی بنیاد رکھی۔ اس وقت تک وہ برسوں روایتی صحافت کا تنقیدی مطا لعہ کرچکے تھے اور ان پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی کہ روایتی صحافت کی مثال کھیلوں کی صحافت جیسی ہے جس میں ایک فریق کی فتح دوسرے کی شکست یا پھر ایک کی عزت دوسرے کی ذلت سے مشروط ہوتی ہے۔ کھیل کی طرح باہمی تنازعات کا شکار دو فریقین کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے کو شکست دے کر فاتح اور ذلیل کرکے عزت دار قرار پائیں۔

روایتی صحافت، جسے ڈاکٹر گلٹنگ جنگی یا تشدد کو ہوا دینے والی صحافت بھی کہتے تھے ایک ایسی ذہن ساز (mind۔ making) قوت ہے جو حکومتوں اور اداروں کے ساتھ لوگوں کی جنگی پیمانوں پر ذہن سازی کرکے جنونی شہری پیدا کرتی ہے۔ ایسی صحافت عام دنوں میں بھی جنگی ذخیرہ الفاظ مثال کے طور پر سازش، دشمن اور غدار جیسے الفاظ عام کردیتی ہے اور یوں اس کا نقصان اسے سنجیدہ لینے والے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لوگ روزمرہ تنازعات میں بھی جارحانہ رویہ اپناتے ہیں کیونکہ وہ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ان کی عزت دُوسرے کی ذلت سے مشروط ہے۔ یوں ایسے معاشروں کے لوگ زندگی گذارنے کی بنیادی مہارتیں نہیں سیکھ پاتے اور معاشرے سماجی جڑت (social cohesion) کی کمی کاشکار ہوکر تشدد اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے معاشروں کی رگوں میں خون کے ساتھ تشدد بھی دوڑنے لگتا ہے جس کا نتیجہ لوگوں کی اوسط عمر میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔

واضح رہے کہ سماجی جڑت کسی بھی معاشرے میں وہ کردار ادا کرتی ہے جو کردار ایک عمارت کی تعمیر میں سیمنٹ کا ہوتا ہے۔ روایتی و معاندانہ صحافت چونکہ سماجی جڑت کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے اس لئے اسے سنجیدہ لینے والے بھربھرے معاشروں میں رہنا اتنا ہی خطرناک ہوجاتا ہے جتنا کہ اس گھر میں رہنا جس میں سیمنٹ سے ہر اینٹ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی بجائے بس ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیا گیا ہو۔

یوہان گلٹنگ کے نزدیک جنگی صحافت کے برعکس امن کی صحافت تنازعات کو کھیل کے ریفری یا مبصر کے طور پر نہیں بلکہ معالج کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس لئے انہوں نے امن کی صحافت کو اس طرز کی صحافت بھی کہا جس کی مثال صحت عامہ کے بارے میں لکھنے والوں صحافیوں میں ملتی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جیسے صحت کے بارے میں لکھنے والے صحافی کا مقصد کسی بیماری کے پھیلاؤ کی طرف توجہ دلا کر اس کی روک تھام کے لئے سنجیدہ افراد اور اداروں کی توجہ مبذول کرانا ہوتا ہے، اسی طرح امن کا صحافی بھی ان تنازعات کو بیماری کی صورت میں دیکھتا ہے جو کسی بھی وقت تشدد یا جنگ کا باعث ہوسکتے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت کی صحافت سے وابستہ ایک اچھا نامہ نگار (Correspondent) ایک مریض کے سرطان زدہ خلیوں کے خلاف مدافعاتی جنگ کا احوال لکھے گا جو رفتہ رفتہ اسے موت کی وادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں، وہ سرطان کی وجوہات کے بارے میں بتائے گا اور بیماری کے خلیات کے لئے موذوں ماحول اور ان کے جینیاتی خال و خد سے بھی خبردار کرے گا۔

امن کار صحافت کے بنیادی خدوخال تو ڈاکٹر یوہان گلٹنگ نے ہی وضح کردیے مگر اسے باقاعدہ دبستان کی شکل لندن میں اندرا عدنان نے سینکڑوں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے ساتھ مل کر دی۔ امن کار صحافت کے موضوع پر ہر سال کانفرنسز منعقد کی گئیں جن کے دوران ماہرین کی گفتگو اور علمی مقالات کی سائنسی بنیاد پر امن کی صحافت کا جنم ہوا جو روایتی، جنگی یا تشدد کا پیش خیمہ بننے والی صحافت سے کچھ یوں مختلف ہے۔

جنگی صحافت کا نکتہ ماسکہ میدانِ جنگ اور دو فریقین ہوتے ہیں جن میں ایک کی فتح کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ دوسرا فریق ہر صورت میں شکست کا ذائقہ چکھے۔ ایسی صحافت کے دوران نظر جنگ کے بعد ہونے والے باہمی نقصان اور تباہی کی نسبت جنگ پر ہی مرکوز ہوتی ہے۔ بالفاظِ دیگر ایسی صحافت میں جنگ ہی ذریعہ اور جنگ ہی مقصد ہوتا ہے اور صحافی فریقین میں سے کسی ایک کا ساتھ دیتے، ایک کو کلیتاً حق اور دوسرے کو مطلق باطل قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ تنازعے کا شکار فریقین کے مابین تنازعے کی نوعیت سیاسی، شناختی یا پھر مفاد کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہوتی ہے مگر جنگی صحافت کے ہرکارے تنازعے کو اعلیٰ اقدار کے لئے لڑی جانے والی جنگ یا پھر خُداؤں کے ٹکراؤ سے تعبیر کرتے ہیں۔

اس کے برعکس امن کی صحافت میں خاص طور پر تنازعات کا تجزیہ کرنے کے دوران فریقین کی نام مذہب اور شناخت کی بجائے، الجبرا یا علامتی منطق کی طرح، عمومی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر عرب اسرائیل تنازعے میں عرب اسرائیل اور اسلام اور یہودیت کی بجائے فریق ”ا“ اور فریق ”ب“ تصور کیا جاتا ہے تاکہ معروضیت کی جگہ جذبات اور معاندانہ تاریخ نہ لے پائے اور مفادات پر بنیاد رکھنے والے تنازعات کو مذاہب، شناخت یا اقدار کی جنگ سمجھنے کی تباہ کن غلطی کا امکان بالکل کم ہوجائے۔ اسی طرح تجزیے کے دوران مسائل اور مفادات کو بھی عمومی علامتی شکل دی جاتی ہے اور کسی ایسے حل کی تلاش پر زور دیا جاتا ہے جس میں دونوں فریقین میں سے کوئی بھی شکست سے دوچار نہ ہو بلکہ دونوں فریقین اپنا جائز مفاد حاصل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر فتح کا جشن منائیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •