رتی گلی کی لڑکی


”نہیں خیر ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میرا مطلب تھا کہ تم اکیلی ایسے گھومتی رہتی ہو؟ “

”یہ آپ نے کیا کہہ دیا۔ پتا نہیں لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں۔ اکیلی لڑکی باہر نہیں جا سکتی، گھوم پھر نہیں سکتی، کیا یہ آزادیاں آپ مردوں کے لئے ہی ہیں، ہمارا دل چاہے تو ہم کیا کریں؟ “ اس نے آنکھیں کھول کر ذرا تیز لہجے میں کہا۔

”اچھا چھوڑو کچھ اپنے بارے میں بتاؤ ناں، تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے؟ “ میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرا اٹھی۔ ”کیوں؟ “ اس نے آنکھیں اچکائیں۔ ”آپ میرے بارے میں کیوں جاننا چاہتے ہیں؟ “

”بس یونہی، میں یہاں آیا ہوں تو یہاں کے لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ “ میں نے وضاحت کی۔

”اچھا تو یہ بات ہے، میرا نام زینی ہے اور میں یہیں رتی گلی میں رہتی ہوں۔ “ اس نے خوشدلی سے کہا۔

کچھ اور بتاؤ ناں اپنے بارے میں۔

”جی نہیں پہلے آپ بتائیں ناں اپنے بارے میں۔ “ اس نے جلدی سے کہا۔

”ہوں، بات تو ٹھیک ہے“ میں نے سر ہلایا۔ ”میں لاہور میں بزنس کرتا ہوں، جب کام سے تھک جاؤں تو کہیں سیر کرنے نکل جاتا ہوں۔ یہ بنگلہ میرے دوست خاور کا ہے۔ میں نے اس سے ذکر کیا تو اس نے فوراً آفر کر دی کہ میں یہاں آ کر رہوں۔ سو میں آ گیا۔ اب ارادہ تو یہی ہے کہ سات آٹھ دن حسن فطرت کا نظارہ کروں اور ریلیکس کروں۔ “ میں نے اپنے بارے میں بتایا۔

”تو پھر کیسی لگی یہ جگہ؟ “ اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔

”خاور ٹھیک ہی کہتا تھا، یہ جگہ واقعی بے حد حسین ہے۔ “ میں نے اس کے دلکش چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

”اچھا تو آپ اس جگہ کے حسن سے لطف اندوز ہوں، میں چلتی ہوں۔ “ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”کیا مطلب؟ تم کہاں جا رہی ہو؟ “ میں نے بھی فوراً اٹھتے ہوئے کہا۔

”کمال ہے آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے بڑی دوستی ہو مجھ سے۔ ایک بار آپ سے لفٹ لی تھی اور تو کوئی واسطہ نہیں۔ میں اپنے گھر جاؤں یا کہیں بھی جاؤں آپ کو اس سے کیا؟ “ بظاہر لاتعلقی تھی مگر اس کا انداز متضاد کیفیت کا حامل دکھائی دیتا تھا۔

”زینی کیا تم مجھ سے دوستی کرو گی؟ “

”میں کیا جواب دوں، اتنا آسان نہیں ہے۔ میں سوچوں گی، کل پرسوں جواب دوں گی۔ “ زینی نے شوخی سے کہا۔ ”اتنی دیر لگاؤ گی، ابھی سوچ لو نا، میں تمہیں دو منٹ کا وقت دیتا ہوں۔ “ میں نے کہا۔

”آپ کو پتا بھی ہے دوستی نبھانا کتنا مشکل ہے، اچھا شام کو آؤں گی۔ “ اس نے اس بار سنجیدگی سے کہا۔

”اچھا آنا ضرور؛ شام کی چائے اکٹھے پئیں گے۔ “ میں نے تاکید کی۔ وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے چلی گئی۔

شام کو میں لان میں بیٹھا تھا جب وہ آ گئی۔ ”میں ظفر کو بلاتا ہوں، وہ ہمارے لئے چائے بنا دے گا۔ “ میں نے کہا۔

”نہیں نہیں اس کو بلانے کی کیا ضرورت ہے، ویسے بھی چائے تو ملنے کا ایک بہانہ ہی تھا۔ میں آ تو گئی ہوں۔ “ اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”بات تو ٹھیک ہے لیکن چائے کے بغیر ملاقات کچھ پھیکی رہے گی۔ “ میں نے اعتراض کیا۔ ”اگر ایسی بات ہے تو چائے میں بنا لوں گی۔ آپ بھی بنا سکتے ہیں کوئی پابندی تو نہیں ہے۔ “ زینی مسکرائی۔

پھر کچھ دیر ہم لان میں بیٹھے رہے۔ شام گہری ہو رہی تھی اور سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ ”اندر چلیں“ میں نے کہا۔ ”چلیں“ اس نے جواب دیا۔ ہم اند آ گئے۔ لاؤنج میں آئے تو وہ دیوار پر لگی تصویریں دیکھنے لگی۔ چند تصویریں قدرتی مناظر کی تھیں لیکن ایک بڑی سی تصویر خاور کی تھی۔

میں بھی اس کے قریب آ گیا۔ ”یہ تصویر۔ “ میری بات ابھی ادھوری تھی کہ اس نے جملہ مکمل کر دیا۔ ”خاور کی ہے۔ “ میں حیران رہ گیا۔ ”تمہیں کیسے پتا ہے کہ یہ تصویر خاور کی ہے۔ “

”کتنی بار بتاؤں کہ میں یہیں رہتی ہوں، خاور کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ “ وہ بولی۔

”اوہ تو کیا تم اس بنگلے میں پہلے بھی آ چکی ہو۔ “ میں نے پوچھا۔ ”ہاں آ چکی ہوں، اچھا یہ باتیں چھوڑو کچھ اپنے بارے میں بتاؤ ویسے بھی اب تو ہماری دوستی ہو چکی ہے۔ “ زینی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”ہیں ہماری دوستی کب ہوئی؟ “ میں نے کہا۔ ”ابھی جب میں آئی تھی اسی وقت ہو گئی ناں، دوستی نہ کرنی ہوتی تو آتی بھی نہیں۔ “ وہ بولی۔

” اچھا اب یہیں کھڑی رہو گی، بیٹھ تو جاؤ۔ “ ہم صوفے پر آ بیٹھے۔ ”ہاں ایک بات یاد رکھنا یہ دوستی کہیں پیار میں نہ بدل جائے، اکثر لڑکے پہلے دوستی کرتے ہیں پھر محبت کا ناٹک شروع کر دیتے ہیں۔ “ زینی نے بالوں کو جھٹکتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ متناسب جسم، لمبے سیاہ بال، بھرے بھرے ہونٹ اور گورے گورے گال کسی میک اپ کے بغیر بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

”کاش میں نے تم سے دوستی نہ کی ہوتی۔ “ میں نے آہ بھر کر کہا۔ ”کیا مطلب؟ “ اس نے چونک کر کہا۔ ”مطلب یہ کہ تمہیں دیکھنے کے بعد کون کافر ہے جسے تم سے عشق نہ ہو لیکن اب دوستی کی ہے تو عشق کی گنجائش کہاں؟ “

”دیکھا تم نے ابتدا تو کر دی ہے ایسے ہی لڑکے لڑکیوں کا دل موہ لیتے ہیں اور وہ بے چاری بھولی بھالی لڑکیاں ان کے ناٹک کو سچا پیار سمجھ لیتی ہیں خیر میں ان باتوں میں نہیں آنے والی۔ “ زینی نے منہ بنا کر کہا۔

”کیوں کیا تمہیں بہت تجربہ ہے؟ “ میرے لہجے میں طنز تھا۔ ”ہاں ہے اسی لئے تو کہہ رہی ہوں۔ “ وہ بولی۔ ”فکر نہ کرو میں پیار کا ناٹک نہیں کروں گا، جب بھی کروں گا پیار ہی کروں گا، سچا پیار لیکن یہ تو بتاؤ کہ تمہارے ساتھ دھوکا کس نے کیا تھا؟ اب تو ہم دوست ہیں لہٰذا بتانے میں کوئی حرج نہیں۔ “

”دوست تو ہیں مگر پکے دوست نہیں ہیں، بتاؤں گی ایک دن لیکن ابھی مت پوچھو۔ “ اس نے ہنس کر بات ٹال دی۔ جس طرح وہ خاور کی تصویر دیکھ رہی تھی مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ شخص خاور ہی ہو گا جس کا ذکر اس نے دبے لفظوں میں کیا تھا لیکن ابھی اس کا نام لینا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ شاید وہ وقتی طور خاور سے ناراض ہوگی اور مجھ سے دوستی کر کے خاور تک پہنچنا اس کا مقصد ہو۔ میں ایسی باتیں سوچ رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5