رتی گلی کی لڑکی


اب تو اس کے گھر جانا بہت ضروری تھا میں نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مجھے خاور پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا۔ لوگ ایک چہرے پر کس طرح اتنے چہرے سجا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی کیسے پہچان سکتا ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد میں زینی کے سمجھائے ہوئے پتے کے مطابق اس کا گھر ڈھونڈنے نکلا۔ آخر سبز چھت والے ایک چھوٹے سے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جو نشانیوں کے مطابق اس کا گھر ہو سکتا تھا۔

مجھے اپنے سامنے دیکھ کر پتا نہیں زینی کا کیا رد عمل ہوگا۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ دستک دی۔ تیسری دستک پر دروازہ کھلا۔ ایک بوڑھا چہرہ دکھائی دیا۔

”ماں جی میں زینی کا دوست ہوں۔ اس سے اور آپ سے ملنے آیا ہوں۔ “ میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ بوڑھی عورت چند لمحوں تک غور سے میری طرف دیکھتی رہی جیسے یقین نہ آ رہا ہو۔ پھر اندر آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے شکر ادا کیا کہ اس نے برا نہیں مانا وگرنہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ مجھے بے نقط سنانا شروع کر دیتی۔ بہ ہر حال اس نے مجھے بٹھانے کے بعد کہا۔ ”بیٹا ناشتہ کرو گے؟ “

”جی نہیں شکریہ، میں ناشتہ کر کے آیا ہوں، میں زینی سے بات کرنا چاہتا ہوں وہ کہاں ہے؟ “ میں نے فوراً کہا۔

”بیٹا پھر چائے تو پیو گے۔ میں چائے بناتی ہوں۔ “ بوڑھی عورت نے میرا سوال نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

”آپ تکلف نہ کریں، میں ٹھیک ہوں۔ “ میں نے پھر منع کیا۔

بوڑھی عورت کی آنکھیں بھر آئیں۔ ”تکلیف کیسی۔ تم زینی کے دوست ہو۔ ایک بات تو بتاؤ زینی کہاں ہے؟ میری بیٹی کہاں ہے؟ “

”اوہ! تو کیا وہ گھر نہیں آئی؟ حیرت ہے کیوں نہیں آئی؟ دیکھیں ماں جی ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کل بارش بہت زیادہ تھی اور شام گہری ہو گئی تھی تو میرے ساتھ بنگلے میں ٹھہر گئی تھی۔ لیکن اس نے کہا تھا صبح گھر چلی جائے گی۔ اب آپ بتا رہی ہیں کہ وہ نہیں آئی۔ یہ سن کر تو میں بھی پریشان ہو گیا ہوں۔ “ میں نے کہا۔

”بیٹا کیا وہ تمہارے ساتھ رہتی ہے؟ کچھ تو بتاؤ اس کے بارے میں؟ “ بوڑھی نے بے چین ہو کر کہا۔ ”نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ صرف کل رات وہاں ٹھہری تھی۔ “ میں نے جلدی سے کہا۔

”تو پھر وہ گھر کیوں نہیں آتی۔ چھ مہینے ہو گئے ہیں اسے گھر سے گئے ہوئے، میں تو اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ہوں۔ “ بوڑھی عورت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ زینی کی ماں کیا کہہ رہی ہے۔ میں تو زینی سے کئی بار ملا تھا اور یہ کہہ رہی ہے کہ وہ چھ مہینے سے گھر نہیں آئی تو وہ کہاں رہتی ہے؟

”میں نے تو اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی تھانے میں درج کروائی ہوئی ہے۔ بار بار جا کر پوچھتی ہوں مگر پولیس والے بھی اسے نہیں ڈھوں ڈ سکے۔ آج تم پہلے آدمی ہو جس نے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ بتاؤ نا وہ کہاں ہے؟ “ بوڑھی عورت نے روتے روتے ہاتھ جوڑ دیے۔

”آپ فکر نہ کریں ماں جی میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔ “ میں نے اسے تسلی دی اور وہاں سے نکل آیا۔ پھر رتی گلی کے چپے چپے میں اسے ڈھونڈتا رہا صبح سے شام ہو گئی لیکن وہ نہ ملی۔ دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ کئی بار دیو دار کے درخت کے پاس جا کر دیکھا وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ رات ہوئی تو تھک ہار کر اپنے کمرے میں آیا۔ تھکن سے چور تھا لیکن زینی کے بارے میں سوچتے سوچتے نیند نہیں آ رہی تھی۔ آخر کار میں ایک نتیجے پر پہنچا پھر سو گیا۔

صبح ایک بار پھر واک کے بہانے پورا علاقہ چھان مارا زینی نہ ملی۔ تب میں علاقے کے تھانے میں گیا اور تھانیدار سے ملا۔ اس نے بھی یہی بتایا کہ یہ لڑکی چھ مہینے سے لاپتا ہے۔ میں رات جس نتیجے پر پہنچا تھا اس کے مطابق تھانیدار کو تیار کیا۔ وہ بھلا آدمی تھا۔ مان گیا۔ پھر پولیس پارٹی میرے ساتھ روانہ ہوئی۔ ہماری منزل دیودار کا درخت تھا۔ زینی نے کہا تھا وہ اس کی فیورٹ جگہ ہے۔ مجھے لگتا تھا وہ وہیں ملے گی۔ اور پھر کھدائی کرنے پر وہ مل گئی مگر مردہ حالت میں۔

لاش پہچانی نہیں جا رہی تھی لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ زینی ہی ہے۔ اس کے بعد خاور کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے پہلے تو جرم سے انکار کیا پھر پولیس کی سختی پر سب کچھ اگل دیا۔ اسے ڈر تھا کہ زینی سب کچھ بتا دے گی اس لئے اس رات اس نے اسے قتل کر دیا تھا اور پھر دیودار کے درخت کے نیچے گڑھے میں دبا دیا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس جرم کا نہ کوئی گواہ تھا نہ کوئی ثبوت پھر پولیس کو اور مجھے کیسے پتا چلا۔ میں نے بھی نہیں بتایا۔ ساری باتیں تو سمجھ نہیں آتیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں رتی گلی کی اس لڑکی کو عمر بھر نہیں بھلا سکوں گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5