رتی گلی کی لڑکی
”تم تو کسی گہری سوچ میں گم ہو، کیا سوچ رہے ہو؟ “ زینی نے چٹکی بجا کر مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ایں میں جو سوچ رہا ہوں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا، ایک دن بتاؤں گا۔ جب تم میری پکی والی دوست بنو گی۔ “ میں نے بھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”اچھا تو میری نقل کر رہے ہو؟ “ اس نے صوفے کا کشن مجھ پر اچھال دیا۔ بہرحال اسی طرح نوک جھونک اور گفتگو جاری رہی۔ کافی دیر ہو گئی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے اسے گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں۔ آخر میں نے ہی سوچا کہ اس کے گھر کے لوگ پریشان ہوں گے ”زینی سنو تمہارے گھر میں کون کون ہوتا ہے؟ “ میں نے اچانک پوچھ لیا۔
”فکر نہ کرو وہاں کوئی میرے لئے پریشان نہیں ہوگا۔ گھر میں ہوتا ہی کون ہے۔ ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ باپ کا سایہ تو بہت پہلے ہی سر سے اٹھ چکا تھا ایک بوڑھی ماں ہے وہ بھی سو چکی ہوگی۔ “ زینی نے اداس لہجے میں کہا۔
اسے اداس دیکھ میں بھی غمگین ہو گیا۔ ”اچھا میں کل تمہارے گھر آؤں گا۔ تمہاری ماں سے ملوں گا۔ “ میں نے کہا۔
”نہیں میرے گھر مت آنا۔ میرا مطلب ہے ابھی مت آنا۔ میں آ جاؤں گی تم سے ملنے۔ “ زینی نے فوراً کہا۔ ”ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہونا۔ “ میں نے فوراً کہا۔
”اچھا میں جا رہی ہوں۔ “ زینی اٹھ گئی۔ میں نے روکنا مناسب نہ سمجھا لیکن اس کے جانے کے بعد میں بیڈ پر کروٹیں بدلتے ہوئے اسی کے بارے میں سوچتا رہا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی زینی کا چہرہ تھا۔ اس کی بہت سی باتیں بڑی عجیب تھیں۔ وہ کیوں نہیں چاہتی تھی کہ میں اس کے گھر جاؤں؟ میں الجھ کر رہ گیا تھا۔
مری کے نواح میں رتی گلی میں رہنے کا بنیادی مقصد سیر و تفریح اور لاہور کے ہنگاموں سے دور ہو کر پر سکون رہنا تھا لیکن سکون شاید میسر نہیں آ سکتا تھا۔ کافی دیر بعد نیند آئی۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی کل کے واقعات ایک خواب کی طرح لگ رہے تھے۔ ناشتے کے بعد میں نے سوچا کہ یہاں سے نکلا جائے۔ چناں چہ کار میں بیٹھا اور نیلم پوائنٹ کوہالہ کی طرف نکل گیا۔ دوپہر وہاں گزاری۔ دریا کے کنارے بہت سے لوگ انجوائے کر رہے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھا رہا۔ مچھلی کھائی پھر واپسی کا سفر اختیار کیا۔
شام سے پہلے واپس آ گیا۔ نیلم پوائنٹ پر دھوپ تھی، آسمان صاف تھا مگر رتی گلی میں آسمان ابر آلود تھا۔ لگتا تھا بارش ہو گی۔ میں شام کا کھانا کھا کرلاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ باہر بارش شروع ہو گئی۔ اف یہاں کی بارش کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ میں نے سوچا۔ ٹی وی پر کچھ خاص نہیں چل رہا تھا میں بوریت محسوس کر رہا تھا۔ پھر میں برآمدے میں آ گیا۔ بارش کا نظارہ کرنا چاہتا تھا لیکن روشنی ناکافی تھی۔ بس تھوڑی دور تک دیکھ سکتا تھا جہاں تک بنگلے کی لائٹس دکھا سکتی تھیں۔
ایسے میں اچانک بجلی چمکی۔ میں بری طرح چونک اٹھا۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ کیا واقعی میں نے کسی کو دیکھا ہے یا وہ میرا وہم تھا۔ بجلی دوبارہ چمکی تو منظر دیکھ کر میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔ دور دیودار کے درخت سے ٹیک لگائے کوئی کھڑا تھا۔ میرا شک صحیح تھا۔
”زینی۔ زینی۔ کیا کر رہی ہو یہاں پر، تم ہوش میں تو ہو۔ “ میں نے قریب جا کر تقریباً چیختے ہوئے کہا۔
”کیا ہو گیا؟ شور کیوں کر رہے ہو؟ مجھے مزہ آ رہا ہے بارش میں بھیگتے ہوئے۔ “ زینی نے مصنوعی ناراضی سے کہا۔
”نمونیہ ہو گیا ناں تو اور بھی مزہ آئے گا۔ چلو اندر۔ اتنی ٹھنڈ ہے یہاں۔ “ میں نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
”تو کیا ہوا؟ زیادہ سے زیادہ میں مر جاؤں گی ناں۔ کیا فرق پڑتا ہے، پتا نہیں لوگ مرنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔ “ زینی نے بازو پھیلا کر گھومتے ہوئے کہا۔
اچھا یہ ساری باتیں ہم اندر جا کر کریں گے، چلو میرے ساتھ۔ میں نے کہا۔ اس بار زینی نے بڑے پیار سے مجھے دیکھا اور چپ چاپ میرے ساتھ ہو لی۔
کمرے میں پہنچے تو میں اسے آتش دان کے پاس لے گیا۔ اس کے کپڑے مکمل طور پر بھیگ چکے تھے لیکن وہ کانپ نہیں رہی تھی۔ شاید بہانہ کر رہی تھی کہ اسے ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔ ”بہتر ہے تم کپڑے بدل لو۔ “ میں نے مشورہ دیا۔
”اچھا میں بدل کر آتی ہوں۔ “ اس نے اس بار کوئی اعتراض نہ کیا اور چپ چاپ میرے بیڈ روم کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو میں بے اختیار ہنس پڑا۔ میری جینز اور شرٹ اس کے بدن پر بہت ڈھیلی ڈھالی تھی۔ ”اچھا اب ہنسو نہیں ورنہ میں یہ اتار دوں گی۔ “ اس نے مصنوعی غصے سے کہا۔
”یہ بات ہے تو میں ضرور ہنسوں گا۔ “ میں نے بھی شرارت سے کہا۔ اس نے دو تین لمحے میری طرف دیکھا پھر شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔ ”زینی کیا کر رہی ہو تم، میں تو مذاق کر رہا تھا۔ تم سیرئیس ہی ہو گئی۔ “ میں نے جلدی سے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
”دیکھو مجھے مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔ “ اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ہم آتش دان کے پاس بیٹھ گئے۔ زینی نے شرٹ کے بٹن بند کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ”اچھا اب تم بٹن بند کر سکتی ہو ٹھنڈ ہے اور ہاں شال بھی اوڑھ لو۔ “ ممجھے کہنا پڑا۔
”بڑا خیال ہے میرا۔ کہیں تمہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہو گئی۔ “ اس نے مسکرا کر میری گرم شال کو اپنے جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔ ”توبہ کرو تم جیسی پاگل لڑکی سے کون محبت کرے گا۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو ایک دوست کی طرح۔ “ میں نے منہ بنا کر کہا۔
” اچھا تو میں پاگل ہوں تو پھر مجھ سے دوستی کیوں کی؟ “ اس نے آنکھیں دکھائیں۔
”در اصل میرا بھی تھوڑا سا دماغ خراب ہے اس لئے۔ “ میں نے بے بسی کے انداز میں کہا۔ یونہی باتیں کرتے کرتے وقت کتنا گزر گیا پتا بھی نہ چلا۔ رات گہری ہو رہی تھی مگر بارش نہ رکی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

