رتی گلی کی لڑکی


زینی تم گھر کیسے جاؤ گی؟ میں نے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”میں اتنی بھی پاگل نہیں کہ اس بارش میں چل پڑوں۔ آج یہیں سو جاؤں گی۔ “ اس نے بڑے آرام سے کہا۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ کیسی لڑکی ہے۔

کیا مطلب؟ میں تمہیں چھوڑ آتا ہوں۔ میں نے آفر کی۔

”جانے دو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ بلکہ اب سونا چاہیے۔ “ اس نے یہ کہا اور میرے بیڈ روم کی طرف بڑھنے لگی۔ میں چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔ بیڈ پر نیم دراز ہوکر مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”آؤ ناں کیا تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟ “

میں نے یہ طعنہ سنا تو چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گیا۔ میں نے سائیڈ پر سوئچ آف کیا اب کمرے میں مدھم سی نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہم دونوں خاموش تھے۔ کھڑکیوں سے بارش کی آواز آ رہی تھی اور زینی کی سانسوں کی آواز میں محسوس کر رہا تھا۔ مجھے پارسائی کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے دل میں جذبات کا جوار بھاٹا ہلچل مچا رہا تھا لیکن میں اتنا کم ظرف بھی نہیں تھا کہ اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکتا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک لڑکی کے احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچے اس لئے منہ دوسری طرفکیے سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

شاید ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت گزر گیا۔ پھر زینی نے مجھے آواز دی۔ ”سو گئے کیا؟ “

”ہاں میں اس وقت بہت گہری نیند میں ہوں۔ “ میں نے فوراً جواب دیا۔ ”مجھے پتا تھا اتنی دیر سے دیوار کو تک رہے ہو۔ یہ تو ایک خوبصورت لڑکی کی توہین ہے۔ میری طرف دیکھو نا۔ “ اس نے کہا۔ میں نے کروٹ بدلی۔ نیلی روشنی میں اس کا دلکش چہرہ کچھ زیادہ ہی حسین لگ رہا تھا۔

”سنو میں تمہیں کیسی لگتی ہوں؟ “ اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ ”سچ میں بہت اچھی لگتی ہو۔ “ میں نے دل کی بات کہہ دی۔ ”لیکن میں دوستی سے آگے نہیں بڑھوں گی۔ “ اس نے فوراً جیسے متنبہ کیا۔ ”اطلاع دینے کا شکریہ اور کوئی بات؟ “ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ وہ ہنسنے لگی پھر یکدم سنجیدہ ہوگئی۔ کیا ہوا؟

میں نے چونک کر کہا۔ ”کچھ نہیں یونہی کچھ یاد آ گیا تھا۔ “ اس کی آواز بھرا گئی۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ رو پڑے گی۔ ”زینی کیا بات ہے مجھے بتاؤ۔ “ میں نے بے چین ہو کر کہا۔

”تم میرا یقین کرو گے؟ “ اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔ ”کیوں نہیں، بتاؤ نا کیا بات ہے؟ “

”اچھا بتاتی ہوں، سنو مجھے دھوکا دینے والا کوئی اور نہیں تمہارا دوست خاور ہے۔ اس نے میرے ساتھ جو کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی۔ لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ کسی کو نہیں پتا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ خاور تمہارے سماج کا ایک معزز آدمی ہے۔ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ میں جب یہ دیکھتی ہوں تو میرا خون کھولتا ہے لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی، کچھ بھی نہیں۔ “ وہ بتا رہی تھی اور اس کا جسم جذبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ مرا دل چاہ رہا تھا کہ اسے گلے لگا لوں اس کے آنسو پونچھ دوں لیکن خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

”کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟ “ کچھ تفصیل بتا سکتی ہو؟ ”میں نے پوچھا۔

”کیوں نہیں میں چھ مہینوں سے کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھی جسے میں یہ سب بتا سکوں، تمہی وہ آدمی جسے میں سب کچھ بتا سکتی ہوں کیونکہ تم دوسروں جیسے نہیں ہو۔ خاور جیسے ہوتے تو اب تک کیا کچھ کر چکے ہوتے۔ خیر چھوڑو یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے۔ یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ خاور بے حد امیر آدمی ہے لاہور میں ہی رہتا ہے، چھٹیاں گزارنے اپنے اس بنگلے میں آتا ہے۔ میں تو رتی گلی کی عام سی لڑکی ہوں شاید غلطی میری ہی تھی کہ میں نے خاور سے محبت کی لیکن وہ صرف مجھے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ وہ مجھے جال میں پھانس کر یہاں تک اس کمرے میں لے آیا۔

میں نے جب اس کی آنکھوں میں محبت کے بجائے ہوس دیکھی تو میں نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن میں اس چڑیا کی طرح تھی جو ایک بند کمرے میں ہو اور باز اس پر جھپٹنے لے لئے تیار ہو۔ میری مزاحمت کسی کام نہ آئی۔ ایسی بے بسی، ایسی توہین، ایسی بے عزتی اور ایسی اذیت میں نے کبھی نہیں سہی تھی۔ میں رونا چاہتی تھی مگر آنسو بھی خشک ہو گئے تھے۔ میں نے چیخ چیخ کر اس درندے سے کہا تھا کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔ تمہارا اصل چہرہ سب کو دکھاؤں گی، تمہارے خلاف ایف آئی آر درج کراؤں گی لیکن میں کچھ بھی نہ کر سکی کچھ بھی نہیں۔ ”اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا۔ وہ رو رہی تھی اور اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔

”ریلیکس زینی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ “ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو گئی۔ میں اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا تاکہ اس کا دھیان بٹ جائے۔

”اچھا یہ آج تم نے کیا حرکت کی اتنی بارش میں اس درخت کے نیچے کھڑی تھیں؟ میں نے پیار بھرے غصے سے کہا۔ وہ مسکرا اٹھی۔ “ در اصل مجھے بارش بھی بہت اچھی لگتی ہے اور وہ درخت بھی۔ میں تو اکثر وہاں آ کر بیٹھی رہتی ہوں۔ تمہیں کئی بار وہیں تو ملی ہوں۔ ”

”جب تک میں یہاں ہوں، سیدھی بنگلے میں آ جایا کرو۔ بلکہ میں کل خود تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے بھی جاؤں گا۔ مجھے ذرا لوکیشن سمجھاؤ۔ “ میں نے کہا۔

اس نے راستا سمجھایا۔ اسی طرح باتیں کرتے کرتے نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو میں بستر پر اکیلا تھا۔ ”زینی۔ زینی۔ میں نے اسے آواز دی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ میں نے اسے پورے بنگلے میں ڈھونڈ لیا لیکن وہ نہیں تھی۔ صوفے پر میری جینز اور شرٹ پڑی تھی جو رات اس نے پہنی تھی۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ جا چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ مجھے اپنے گھر نہیں لے جانا چاہتی تھی۔ پہلے بھی ایک بار اس نے منع کر دیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5