سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ
نفسیاتی تجزیہ کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ زیر تجزیہ شخص کے معاملات کو ہمدردی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے، مگر اس کتاب میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ پوری کتاب کا لب و لہجہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سلیم احمد صاحب کو اقبال کے ساتھ اگر دلچسپی ہے تو صرف منفی قسم کی۔ اس پر اگر کوئی صاحب یہ کہیں کہ یہ ان کا عام اسلوب ہے تو اس بات کی تردید کے لیے ان کی حسن عسکری پر کتاب کا مطالعہ کافی ہو گا۔ اس کتاب میں اس اسلوب کا نشان تک نہیں ملتا۔ اور اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ کتاب دلی وابستگی اور ممدوح کے لیے پوری ہمدردی کے ساتھ لکھی گئی ہے۔
4۔ تحلیل نفسی کرنا اتنا آسان نہیں کہ دو چار کتابوں کا مطالعہ کر کے آدمی قلم سنبھال لے۔ اس کے لیے پیشہ وارانہ علم، تربیت اور برسوں کی مشق و مزاولت درکار ہے، اور ہمیں افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی خوبی ایسی نہیں، جو صاحب کتاب میں موجود ہو۔
5۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تجزیہ کرنے والے کا پہلے اپنا تجزیہ کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے کہ تجزیہ کرنے والا اپنے ذہنی اشکالات مریض کی طرف منتقل کر دے گا اور اس طرح مطالعہ نفس مطالعہ غیر میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ زیر بحث کتاب میں بھی، مجھے اندیشہ ہے، کہ بہت سے مقامات پر یہی صورت کارفرما ہے۔
سلیم احمد صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو دوسروں کو چونکانے کے لیے بڑی دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ انہوں نے ”ایک سچے شاعر کا المیہ“ میں کیا ہے۔ اس مضمون کے اندر تہ در تہ مغالطے ہیں۔ فاضل مصنف نے استدلال کی بنیاد تمام تر مارٹن ہائیڈیگر کے وجودی فلسفے پر اٹھائی ہے۔ جس بات کو انہوں نے سچے شاعر کا المیہ قرار دیا ہے، ہائیڈیگر کے نزدیک وہ ہر انسان کا المیہ ہے۔ اس کے بقول انسان اس کائنات میں افتادہ وجود ہے۔ انسان کا وجود اس کے اپنے ارادے اور خواہش کا مرہون منت نہیں بلکہ اس پر مسلط کیا گیا ہے۔ انسان اس کائنات میں یکہ و تنہا ہے۔ اسے نہ آغاز کی نہ خبر ہے نہ انجام کی۔ وہ فنا اور نیستی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر خوف اور دہشت پیدا کرتا ہے۔ یہ خوف اور دہشت ہی حقیقی وجود تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ عام آدمی اس خوف سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنے آپ کو انبوہ میں گم کر دیتا ہے اور ایک غیر شخصی اجتماع کے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط پر عمل پیرا ہو کر، اپنی بے مثل انفرادیت کو ختم کر کے، اس خوف اور دہشت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے مواد کے اعتبار سے یہ فلسفہ جذبات کی انتہا پسندی سے تالیف پاتا اور نتائج کے اعتبار سے یاس پر منتج ہوتا ہے۔ مصنف نے خلطِ مبحث یہ پیدا کیا ہے کہ اس انسانی المیے کو شاعر کا المیہ قرار دے دیا ہے۔ اس المیہ کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے جن استعاروں کا سہارا لیا ہے، وہ سب ہائیڈیگر سے ماخوذ ہیں، یہاں تک کہ شاعری کی تعریف بھی۔ ان کے نزدیک شاعری طوفانِ وجود سے لڑنے کا نام ہے۔ ہائیڈیگر نے یہ تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
Poetry is the establishment of Being by means of words۔
اب اسی فلسفے کے زیر اثر انہوں نے اقبال کا مرکزی مسئلہ ’موت‘ کو قرار دیا ہے۔ اس مضمون میں ان کے بنیادی قضایا یہ ہیں :
1۔ موت اقبال کا مرکزی مسئلہ ہے۔
2۔ اقبال کے وجود میں موت کا مسئلہ اس کے بطون ذات سے متعلق ہے، کسی خارجی واقعہ کا نتیجہ نہیں۔
3۔ اقبال کے اندر خواہش مرگ موجود تھی۔ اقبال کی شاعری اس خواہش کے ساتھ لڑائی سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔
4۔ اقبال موت کے ذریعے اپنے حقیقی وجود تک پہنچتے ہیں۔
5۔ اقبال حیات بعد الموت کے عقیدے کو روایتی طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
اب ہم پہلے قضیے کو لیتے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اقبال کا مرکزی مسئلہ موت ہے۔
فاضل نقاد لکھتے ہیں ”اقبال کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے نہ عشق، نہ عمل، نہ قوت و حرکت بلکہ ان سب کے برعکس موت ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود کو اس زلزلے سے دوچار کرتا ہے جس سے ان کا پورا وجود متحرک ہو جاتا ہے۔ یہی ان کے شعری تجربے کی بنیاد ہے جس سے اقبال کی مخصوص کائنات شعری پیدا ہوتی ہے“۔
اس بیان پر تبصرہ کرنے سے پہلے چند باتوں کاجائزہ لینا ضروری ہے۔ موت اس کائنات کی سب سے اٹل اور ناگزیر حقیقت ہے۔ زندگی میں اگر سب سے زیادہ یقینی کوئی چیز ہے تو وہ موت ہے۔ قرآنِ مجید میں موت کو یقین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ’وَاعبُد رَبَّکّ حَتیّٰ یَاتِیَکَ الیَقِین‘ ۔ سب مفسرین کے نزدیک یہاں ’یقین‘ سے مراد موت ہے۔ حضرت جنید کے الفاظ میں یقین شک کے اٹھ جانے کا نام ہے۔ اس اعتبار سے موت سے زیادہ یقینی اور کوئی چیز نہیں۔ بایں ہمہ جو انسان بھی زندگی پر غور کرے گا اسے پہلے موت کے بارے میں اپنا رویہ متعین کرنا ہوگا۔ موت کے بارے میں رویہ زندگی کے مفہوم اور اسے بسر کرنے کے طریقے کو متعین کرے گا۔
اب یہ بات صحیح ہے کہ ہر باشعور انسان کی طرح اقبال نے بھی موت کے بارے میں غور و تفکر کیا ہے اور اس پر لکھا بھی ہے۔ سلیم احمد صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ ”اقبال زندگی کے شاعر ہیں“۔ اقبال زندگی کے شاعر اس لیے ہیں کہ زندگی کے بارے میں ان کا رویہ مثبت ہے۔ زندگی کے بارے میں منفی رویہ یہ ہے کہ موت کی ہمہ گیری اور عمومیت کے پیش نظر بعض لوگ زندگی ہی کو بے معنی تصور کرنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب ہر چیز کا انجام موت ہے تو تمام سعی و کاوش بے معنی ہے۔ انسان کشاں کشاں موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ زندگی سے دست برداری کا رویہ ہے۔ ایسا رویہ نہ اقبال کی زندگی میں ہے نہ اس کی شاعری میں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

