سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ
قرآن کے تصور کے مطابق انسان اس دنیا میں محض مرنے کے لیے نہیں پھینکا گیا۔ بلکہ یہ زندگی اس کے لیے آزمائش ہے۔ اورایک دارالمکافات اس کا منتظر ہے۔ حیات بعد الموت کا تصور انسان کے وجود کی گہرائیوں میں پیوست ہے۔ انسان ایک کامل وجود لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اندر موجود امکانات لامتناہی ہیں مگر ان موجود امکانات کو متحقق کرنے کے لیے جو زندگی اسے ملتی ہے وہ بڑی محدود اور مختصر ہے۔ اور اس کا انجام بھی غیر معین ہے۔
دوسری طرف انسان اس کائنات کی فنا پذیری کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں موجود امکانات اور زندگی کے محدود ہونے کا شعور اور کائنات کی فنا پذیری کا مشاہدہ اس کے اندر حیات بعد الموت کا تصور پیدا کرتا ہے۔ انسان کے وجود کا یہ تقاضا ہے کہ اسے ایک ایسی زندگی نصیب ہو جس میں وہ اپنے تمام امکانات کو بروئے کار لا سکے۔ حیات بعد الموت کے تصور کے ذریعے سے موت کی منفیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور وہ ایک دائمی زندگی کے شہرستان کا دروازہ بن جاتی ہے۔ اور یہ تصور اس حیات چند روزہ کو ذمہ دارانہ طور پر بسر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اقبال نے اسی تصور کے سہارے موت کی منفیت پر فتح حاصل کی ہے۔ مگر فاضل مصنف کی ستم ظریفی یہ ہے کہ انہوں نے وجودی فلسفے کی عینک لگا کر اقبال کا مطالعہ کیا ہے اور اس طرح ساری تصویر دھندلا گئی ہے۔
اس مفصل بحث کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت نہیں رہتی کہ فاضل مصنف نے موت کے مسئلے کو اقبال کے بطون ذات سے جو متعلق کیا ہے تو اس کی اساس کیا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اقبال کی موت سے وابستگی کسی خارجی محرک کا نتیجہ نہیں یعنی کسی دوست یا عزیز کی موت کے صدمے کا۔
اب ہم مصنف کے اس قضیے کو لیتے ہیں کہ اقبال کے اندر خواہشِ مرگ موجود تھی۔
خواہش مرگ انسان کے اندر دو وجوہ سے پیدا ہوتی ہے :
ایک یہ کہ زندگی انسان کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے اور وہ اس نعمت کو سراسر زحمت سمجھنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی حالت میں انسان موت کی آرزو کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک زندگی کے عذاب سے نجات کا واحد راستہ یہی ہوتا ہے۔ وہ یا تو مایوس ہو کر موت کی عظمت کے گیت گائے گا اور زندگی کی بے معنویت کو بیان کرے گا، یا مایوسی کے حد سے بڑھ جانے کی صورت میں خود کشی کر لے گا۔ فانی کی طرح، جو موت کی عظمت کا قائل تھا، اقبال کی پوری شاعری میں موت سے متعلق عظمت کا خیال کہیں نہیں ملتا۔ اقبال کے نزدیک زندگی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس کی فکر کا بیشتر حصہ ان ذرائع کے سوچنے کے لیے وقف ہے جن کو اختیار کرکے انسان موت سے نیست و نابود نہ ہو بلکہ موت پر غلبہ پا کر مرگ بدن کے باوجود کسی نہ کسی کیفیت میں زندہ رہے۔ جن لوگوں کے اندر خواہش مرگ موجود ہو وہ زندگی کے بارے میں کبھی مثبت رویہ نہیں اپنا سکتے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ وہ اگر خود کشی کا ارتکاب نہیں کرتے تو دوسروں کو زندہ در گور کرکے لطف حاصل کرتے ہیں۔
خواہش مرگ کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے فرض کی ادائیگی سے مطمئن ہو۔ اسے اس بات کا یقین ہو کہ زندگی جس مقصد کے لیے ملی تھی اس نے اسے بطریق احسن پورا کیا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے بعد وہ جلد از جلد اپنے خالق حقیقی کے روبرو پہنچنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس خواہش مرگ کو منفی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جرمن شاعر ہیلڈرلِن (Hölderlin) نے اپنی ایک نظم میں اس بات کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے :
But once what I am bent on، what is
Holy، my poetry، is accomplished
Be welcome then، stillness of the shadows ’world!
I shall be satified though my lyre will not
Accompany me down there۔ Once I
Lived like the gods، and more is not needed۔
خواہش مرگ کے ساتھ سلیم احمد صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اقبال کی شاعری خواہش مرگ سے لڑائی کا نتیجہ ہے۔ خواہش مرگ پر ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر انسان کے اندر خواہش مرگ (کسی بھی مفہوم میں ) موجود ہو تو وہ اس سے لڑائی نہیں لڑ سکتا۔ وہ دونوں صورتوں میں موت کو بڑی خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔ لڑائی خواہش سے نہیں، خوف سے ہوتی ہے۔ انسان خواہش کی تکمیل چاہتا ہے اور خوف سے نجات۔ اب یہ کہنا کہ اقبال کی شاعری خواہش مرگ سے لڑائی کا نتیجہ ہے، صرف پریشاں خیالی کا مظہر ہے۔ پھر طرفہ معاملہ یہ ہے کہ وہ دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اقبال موت سے گریز اور فرار چاہتا ہے۔ وہ فرد اور اجتماع دونوں کو موت سے بچانا چاہتا ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو شخص فرد اور اجتماع کو موت سے بچانے کی آرزو رکھتا ہے وہ خواہشِ مرگ کے نتیجے میں ایسا نہیں کر سکتا۔ صفحہ 80 پر انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اگر اس کو ذہن میں رکھا جائے تو موت اقبال ہی کا مرکزی مسئلہ نہیں رہ جاتی بلکہ ہر انسان کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
صفحہ 31 پر فاضل نقاد لکھتے ہیں ”موت اقبال کی نفسیات کا سب سے گہرا مسئلہ ہے جسے اقبال کبھی پوری طرح حل نہیں کر سکے“۔ مجھے اپنے فہم کی نارسائی کا اعتراف ہے کہ میں اس جملے کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔ موت کے مسئلے کا حل کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا حل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت کر لیا جائے جس کے ذریعے سے انسان کو موت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ ظاہر ہے اقبال تو کیا یہ کسی بھی انسان کے لیے ناممکن ہے۔ موت کے بارے میں انسان کا اولین تاثر استعجاب و استفہام کا ہوتا ہے اور یہ تاثر بھی درحقیقت موت کے بارے میں نہیں ہوتا بلکہ اس بارے میں ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان پر کیا بیتتی ہے۔ کیا وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے یا کسی دوسری صورت میں باقی رہتا ہے اور اگر باقی رہتا ہے تو اس کی نوعیت و کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اقبال نے اپنے ابتدائی دور کی نظم ”خفتگانِ خاک سے استفسار“ میں اس استعجاب کو بڑے عمدہ اسلوب میں بیان کیا ہے :
اے مئے غفلت کے سرمستو! کہاں رہتے ہو تم؟
کچھ کہو اس دیس کی جہاں رہتے ہو تم؟
آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا؟
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں ہے!
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

