سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ
موت کی ہمہ گیری کے پیشِ نظر ایک دوسرا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب ایک روز مرنا ہی ہے تو اس چند روز کی زندگی سے جی بھر کر لطف اٹھانا چاہیے۔ ان لوگوں کے نزدیک زندگی ہی اصل مقصود بن جاتی ہے اور ان کا نعرہ ہوتا ہے کہ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“۔ یہ زندگی کے بارے میں لا ابالی پن، عیش کوشی اور اخلاقی بے راہ روی کا رویہ ہے۔ یہ رویہ بھی اقبال کی شاعری میں کہیں موجود نہیں۔
اقبال کہیں بھی موت کے سامنے سپر انداز نہیں ہوتا۔ اپنی والدہ کی موت کے غم میں، لمحاتی تاثر کے تحت، موت کی شقاوت اور بے رحمی کے روبرو انسان کی لاچاری اور بے بسی کا اظہار ضرور کرتا ہے۔ مگر اسی نظم میں وہ موت کی نفی کر کے اسے تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام دیتا ہے۔ اس کے نزدیک خاک و باد کے اس جہان میں موت زندگی کے تعاقب میں نہیں ہے بلکہ زندگی موت کا پیچھا کر تی اور اسے زیر کرنے کی کوشش میں منہمک نظر آتی ہے۔ موت اور حیات کے آہنگ ہی سے زندگی بے پایاں ہوتی، اور نت نئے شؤن و احوال میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس کائنات کے بطن میں تخلیق کی جتنی قوتیں پوشیدہ ہیں، وہ مختلف صورتوں میں رونمائی کرتی ہیں۔ موت ان پریشاں عناصر کی شیرازہ بندی کرکے انہیں امکانات کے نئے راستوں اور اظہار کے نئے پیرایوں میں ڈھال دیتی ہے۔ بنا بریں موت جو بظاہر ایک منفی تصورہے، غور کیجیے تو درحقیقت زندگی کے نئی سے نئی حالتوں رونما ہونے کا ہی نام ہے۔
سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات
ابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقشِ حیات
اب یہ کہنا کہ اقبال کا مرکزی مسئلہ موت ہے، ایک ذہنی اپج سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو زندگی پر غور کرے گا اسے پہلے موت کے بارے میں واضح تصور قائم کرنا پڑے گا۔ بنابریں ہم اس حقیقت کو یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ موت ہی ذوقِ عمل کی بنیاد ہے۔ بقولِ غالب
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
دوسرے اور تیسرے قضیے پر بحث کرنے سے پیشتر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ چوتھے قضیے کو پہلے لے لیا جائے۔ اس کے بعد میرا خیال ہے کہ ان دونوں قضیوں کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ اس قضیے کے مطابق اقبال موت کے ذریعے سے اپنے حقیقی وجود تک پہنچتے ہیں۔ مصنف کا یہ نظریہ بھی وجودی فلسفے کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ہائیڈیگر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انسان اپنے حقیقی وجود کو موت کے روبرو ہو کر ہی پا سکتا ہے۔
ہائیڈیگر کے نزدیک موت کوئی خارجی واقعہ نہیں جس کا ظہور آئندہ کسی وقت ہو گا بلکہ موت اس کے الفاظ میں ’میری داخلیت‘ کا جزو ہے۔ یہ میرا اپنا امکان ہے جسے میں اپنے اندر پروان چڑھا رہا ہوں۔ میری موت مرنے کی کوئی عام مثال نہیں بلکہ یہ ایک منفرد واقعہ ہو گا جس کا تعلق صرف اور صرف میرے وجود سے ہو گا۔
ہائیڈیگر کے نزدیک داخلی اعتبار سے انسان ”فکر“ (Care) کا دوسرا نام ہے۔ انسان کی داخلیت کی اساس ہی فکر ہے۔ انسانی داخلیت کا جزو ہونے کی بنا پر موت بھی فکر ہی کی ایک شکل ہے۔
فکر کا ایک رکن امکان ( Possibility) ہے۔ انسان امکانِ محض ہے۔ اور اسے اس امکان محض کو مستقبل میں بروئے کار لا کر حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔ یوں انسان کی حقیقت اس کے ماضی میں نہیں، بلکہ مستقبل میں پوشیدہ ہے۔ موت بھی اس کا ایک امکان ہے، خالصتاً اپنا اور سب سے بڑا امکان۔ یہ اس کے وجود کے ممکن نہ ہونے کا امکان ہے۔
فکر کا دوسرا رکن واقعیت (Factness ) ہے۔ اس سے مراد ہے انسان کا اس دنیا میں پھینکے جانے کو قبول کرنا۔ امکان اسی واقعیت سے وابستہ ہے۔ پس موت انسان کا کوئی اتفاقی امکان نہیں۔ اسے دنیا میں مرنے ہی کے لیے پھینکا گیا ہے۔ اس کا وجود ’وجود برائے مرگ‘ ہے۔ اس اعتبار سے موت کی حقیقت دہری ہے۔ امکان کی صورت میں یہ انسان کو آزادی عطا کرتی ہے۔ واقعیت کے اعتبار سے یہ اٹل صورتِ حال ہے جس سے انسان کی آزادی محصور ہو جاتی ہے۔ جب موت انسان کی داخلیت کا جزو ہے تو انسان اس کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرتا ہے۔ خود کشی کی صورت میں نہیں بلکہ موت کے پورے شعور کے ساتھ زندہ رہنے کی صورت میں۔ وہ اپنی ساری زندگی کو اسی شعور کے تحت منظم کرتا ہے اور اپنے تمام امکانات کو اس عظیم امکان سے مربوط کر دیتا ہے۔
اب ہائیڈیگر کے اس تصور کو بنیاد بنا کر فاضل مصنف نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اقبال بھی موت ہی کے ذریعے سے اپنے حقیقی وجود تک پہنچے ہیں۔ یہاں سلیم احمد صاحب کی حقیقی وجود اور غیرحقیقی وجود کی بحث بھی ہائیڈیگر ہی سے ماخوذ ہے۔ وہ اسے (authentic ) اور (inauthentic ) کا نام دیتا ہے۔ ہائیڈیگر کے فلسفے پر نقد کرنے کا یہ محل نہیں، مختصراً اتنا کہنا کافی ہو گا کہ خود سارتر نے اس نظریے کی لغویت کو پوری طرح نمایاں کر دیا ہے۔
قرآن کے مطابق موت ایک اٹل خارجی صورتِ حال ہے، اسے کسی ذہنی اور طبیعی قوت سے نہ روکا جا سکتا ہے نہ ٹالا جا سکتا ہے۔ اور ہر نفس کو جلد یا بدیر اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اب موت چونکہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، اس لیے خواہ یہ کتنا ہی یقینی کیوں نہ سہی، انسان حال کی غفلت میں پڑ کر اس کو اکثر فراموش کر دیتا ہے۔ اس لیے احادیث رسول ﷺ میں موت کو یاد رکھنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ”بہت یاد کرو لذتوں کو کھو دینے والی چیز، یعنی موت کو۔ “ موت کو یاد رکھنا اور اس کو اپنی داخلیت کا جزو بنانا اچھے اعمال کا محرک بنتا ہے۔ اس اعتبار سے موت کی حضوری کا تصور ایک کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ہائیڈیگر کے ہاں موت کی داخلیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے ہر چیز لا یعنی ہے۔ انسان نیستی میں گھرا ہوا ہے بلکہ نیستی ہی اصل حقیقت ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

