سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ


موت کے مسئلے کو حل کرنے کے دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت کر لیا جائے جس پر عمل کرنے کے بعد موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہ بن سکے۔ صفحہ 34 پر انہوں نے خود ہی اس کا جواب فراہم کر دیا ہے کہ انسان کو ثبات کی طلب ہے۔ اقبال کے نزدیک اقوام کو یہ ثبات ایک دستور حیات کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اور وہ دستور حیات اسلام ہے۔ اور فرد تحفظ خودی کے ذریعے سے ثبات حاصل کر سکتا ہے اور اس کا ذریعہ بھی اتباع نبوی ہے، جیسا کہ اسرار و رموز میں انہوں نے خود صراحت کی ہے۔ کیا سلیم احمد صاحب کے نزدیک یہ موت کے مسئلے کا حل نہیں؟

فاضل مصنف کا پانچواں قضیہ یہ ہے کہ اقبال حیات ما بعد الموت کو روایتی معنوں میں تسلیم نہیں کرتے۔ فاضل مصنف کے خیال میں قرآن کی رو سے حیات ما بعد الموت کافر و مومن سب کا یکساں حق ہے مگر اقبال حیات ما بعد الموت کو انہی کا حق سمجھتے ہیں جن کی خودی مستحکم ہو۔

اقبال کے نظریے کی یہ تعبیر صحیح نہیں۔ اقبال نے حیات ما بعد الموت اور ابدیت میں فرق کیا ہے۔ اس کے نزدیک حیات ما بعد الموت تو سب کے لیے ہی ہو گی، مگر ابدیت سے اس کی مراد یہ ہے کہ جس فرد کی خودی مستحکم ہو، موت کا زلزلہ اس کی خودی کو انتشار کا شکار نہیں بنا سکے گا۔ اور اس کی روح کو مرگ بدن کے بعد برزخ میں قیامت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ روح فوراً ہی نئی زندگی کا آغاز کر دے گی۔ یوں ابدیت کے معنی موت کے وارد نہ ہونے کے ہیں۔ اقبال نے اس شعر میں یہی بات کہی ہے

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا

ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

اور اس شعر میں بھی

یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن سے

کہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سے

مجھے اس بات سے تو بحث نہیں کہ اقبال کا یہ تصور قرآن کے مطابق ہے یا نہیں مگر اقبال پر یہ اعتراض غلط ہے کہ وہ حیات ما بعد الموت کے عقیدے کو روایتی معنوں میں تسلیم نہیں کرتے۔

صفحہ 32 پر انہوں نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ ’موت سے پہلے مر جاؤ‘ ۔ یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ حدیث کے کسی مستند مجموعے میں موجود نہیں۔ اصلاً یہ ایک صوفیانہ قول ہے جو اسلام کی روح سے متصادم ہے۔ یہی نہیں فاضل مصنف نے اس کتاب میں ایک بھی صحیح حدیث نقل نہیں کی۔ جتنی احادیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے وہ سب صوفیانہ اقوال ہیں جو حدیث کے نام پر مشہور ہو چکے ہیں۔ سلیم احمد صاحب اور ان کے قبیلے کے دوسرے ارکان جو فلسفہ دین پیش کر رہے ہیں وہ تمام تر اسی قسم کی موضوع اور ضعیف احادیث پر مبنی ہے۔ مگر یہ بات بجائے خود ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے۔ اس لیے ہم اسے کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

(اس تبصرے میں ہائیڈیگر کے فلسفے کے بیان میں استاد محترم پروفیسر بختیار حسین صدیقی کے مقالہ ’موت وجودی انسان پرستوں کی نظر میں‘ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5