دو نمبر لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ اب یہ مجھے کہاں لے جائے گی۔ اس نے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا۔ سیڑھیاں چڑھ کر ہم چھت پر آ گئے۔ یہاں ایسے گھر تھے جن کی چھتیں اکثر ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ ”تم میرا نام جاننا چاہتے تھے ناں، میرا نام نمرا ہے، میری ماں پیار سے مجھے نمو کہتی ہے۔ مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں لیکن اگر تم میرا ایک کام کر دو تو میں تمہیں ایک ہزار روپے دوں گی۔ “ اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

میں بے حد حیران تھا۔ یہ لڑکی کیا کہہ رہی ہے۔ ایسی لڑکیوں کے بارے میں بہت سنا تھا لیکن وہ کہانیاں تو کچھ اور طرح کی ہوتی تھیں۔ یہ لڑکی سسپینس سے بھرپور تھی۔ اب مجھ سے کیا کام لینا چاہتی ہے۔ ”لیکن اس سودے کا کیا ہوا؟ “ میں نے کہا۔ ”سودے کینسل نہیں ہوتے کیا؟ بہرحال وہ بات ہم بعد میں کریں گے پہلے تم میرا ایک کام کر دو اور پھر میرا کام کرنے میں تمہارا کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ “ لڑکی نے مجھے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”تم میرے بارے میں نہیں پوچھو گی، میں کون ہوں، کیا کرتا ہوں۔ “ میں نے سوال کیا۔ ”کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تم ایک معقول آدمی ہو اس سے زیادہ جاننے کی کیا ضرورت ہے۔ آج کے بعد شاید ہم کبھی نہیں ملیں گے تو پھر نام جاننے کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری مدد سے میرا ایک مسئلہ حل ہو جائے۔ “ اس نے کہا۔

”پھر وہی اندازے۔ میرے دوست نے بھی ایک اندازہ لگایا تھا جس کی وجہ سے میں اس وقت یہاں ہوں۔ اچھا بتاؤ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ “ میں نے سوچا معلوم تو کروں کیا کام ہے، کرنا نہ کرنا تو بعد میں سوچا جائے گا۔

”میں نمو تمہاری محبوبہ ہوں تم ہر قیمت پر مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو اور تمہارے راستے میں جو بھی آیا تم اسے معاف نہیں کرو گے، اسے جان سے مار دو گے بلکہ تیز دھار خنجر سے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دو گے۔ “ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ”ہیں یہ کیا کہہ رہی ہو میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ “ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

نمو نے ایک گہری سانس لی پھر ذرا رک کر بولی شاید میں صحیح طور سے بتا نہیں پا رہی۔ اچھا سنو یہ ساتھ والا جو گھر ہے اس میں ایک نہایت گھٹیا قسم کا آوارہ اور لوفر نوجوان رہتا ہے۔ اس منحوس نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ آتے جاتے راستے میں تنگ کرتا ہے۔ میری تاک میں رہتا ہے، یہاں چھت پر کپڑے ڈالنے یا کسی کام سے آؤں تو وہ بھی اپنی چھت پر آ جاتا ہے، وہاں سے فحش اشارے کرتا ہے، گندے فقرے اچھالتا ہے۔ میں نے اپنے طور پر کئی بار اسے منہ توڑ جواب دیا ہے لیکن وہ باز نہیں آتا اور اب تو حد ہو گئی ہے اس نے ایسی گھٹیا حرکت کی ہے کہ میں تمہاری مدد لینے پر مجبور ہوں۔ مجھے اس سے چھٹکارہ چاہیے۔ ”

”اب کیا ہوا؟ “ میں نے اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ”اس نے کسی طرح میرا فون نمبر حاصل کر لیا ہے۔ مجھے کچھ تصویریں بھیجی ہیں اس نے۔ اب یہ مت پوچھنا کہ کون سی تصویریں۔ وہ کیا سمجھتا ہے کہ اس کے جسم کے کسی مخصوص حصے کی تصویر دیکھ کر میں اس پہ مر مٹوں گی۔ میں لعنت بھیجتی ہوں اس پر۔ “ ایسا لگتا تھا کہ اس کا ضبط جواب دے گیا ہے۔ اس کے لہجے سے شدید غصہ ٹپک رہا تھا۔ غم وغصے سے اس کا بدن کپکپا رہا تھا۔

اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ ساتھ والی چھت پر کوئی آیا ہے۔ ہم دونوں نے ایک ساتھ دیکھا۔ ایک عام سے حلیے کا ایک نوجوان حریصانہ نظروں سے نمو کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر جھجھکا پھر ڈھٹائی سے وہیں کھڑا رہا۔ شاید میرے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں کون ہوں۔ میں نے فوراً آگے بڑھتے ہوئے تیز لہجے میں کہا۔ ”کیا تاک جھانک کر رہے ہو، کوئی شرم و حیا نام کی چیز ہے تمہارے پاس۔ “

”میں تو تمہیں دیکھ رہا ہوں، کون ہوتم؟ میں نے تو تمہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ “ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ”سنو اے تہزیب و اخلاق سے بے بہرہ، انسانیت کی سطح سے گرے ہوئے انسان۔ میں نمو کا منگیتر ہوں اور بہت جلد ہم شادی کرنے والے ہیں۔ ایک بات کان کھول کر سن لو اگر آئندہ تم نے نمو کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو آنکھیں نکال کر ہاتھ پر رکھ دوں گا۔ “ میں نے دیکھی ہوئی فلموں کو یاد کرتے ہوئے گرج کر کہا۔ دل میں ڈر رہا تھا کہ بات کچھ زیادہ ہی نہ بڑھ جائے لیکن وہ نوجوان تو کچھ زیادہ ہی ڈرپوک ثابت ہوا۔ یہ بات سنتے ہی معافی مانگ کر یوں چھت سے نیچے بھاگا جیسے کسی بھوت کو دیکھ لیا ہو۔

نمو پہلی بار کھل کر مسکرا رہی تھی۔ ہم نیچے کمرے میں آ گئے۔ ”میرے والد ایک عام سی جاب کرتے تھے دو سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ میں ماسٹر ڈگری ہولڈر ہوں لیکن میں بھی ایک معمولی جاب کر رہی ہوں۔ میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میں امیر ہوتی، مہنگے کپڑے پہنتی، زیور خریدتی لیکن گزارا ہی مشکل سے ہوتا ہے۔ “ نمو نے مجھے بتایا۔

”تو کسی امیر آدمی سے شادی کر لو۔ “ میں نے کہا۔ ”نہیں یہ میری پرائرٹی نہیں ہے۔ پتا نہیں پھر میری ماں کا کیا ہوگا۔ ابھی تو میں اچھی جاب ڈھونڈ رہی ہوں، دکھ تو اس بات کا ہے کہ اکیلی لڑکی کا جینا یہاں اتنا مشکل کیوں ہے۔ تمہارے دوست نے بھی مجھے دو نمبر لڑکی سمجھا تھا ناں۔ میں تو وہاں حسرت سے ان چیزوں کو دیکھنے گئی تھی جنہیں میں خرید نہیں سکتی۔ میں نے نوٹ کیا تھا کہ تم دونوں میرا پیچھا کر رہے ہو پھر جب تمہارے دوست نے مجھ سے بات کی تو میں نے تمہیں دیکھا اور پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید تمہاری مدد سے میں اس لوفر سے چھٹکارا پاسکوں۔ اس لئے یہ رسک لیا۔ “ نمو نے کہا۔

”تمہاری بات سن کر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی۔ ابھی میں جا رہا ہوں کیوں کہ مجھے عامر سے دو ہزار روپے واپس لینے ہیں۔ لیکن فکر مت کرو مجھے اپنا دوست سمجھو، میں وقتاً فوقتاً آتا جاتا رہوں گا۔ شاید تمہارے پڑوسی کو مزید ڈوز کی ضرورت پڑے۔ “ میں نے خوش ہو کر کہا۔
”کھانا تو کھاتے جاؤ۔ “ نمو نے مسکرا کر کہا۔ ”اگلی بار آؤں گا تو ضرور کھاؤں گا۔ “ میں نے یہ کہا اور ماں جی کو سلام کر کے وہاں سے باہر نکل آیا۔

پہلی تاریخ اشاعت: Mar 19, 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2