دولھا
کھانا کھاتے وقت اس کے خیالات جس سست رو اور پر تعب انداز میں چکر پہ چکر کھاتے رہے، زندگی میں پہلے کبھی اس طرح کی کیفیت سے اسے سابقہ نہ پڑا تھا۔ وہ پریشان ہورہا تھا۔ اس نے زبان سے ایک دانت کو سہلایا۔ پیٔٹ، ۔ پیٔٹ۔ اس کافر کی زبان سالی بہت چلتی ہے۔ پیٔٹ جتنی دفعہ بھی پاس آئے گا، بولنے سے، بولتے چلے جانے سے باز کیسے رہے گا؟ اگر اس نے لڑکی سے باتیں کیں۔ بھئی۔ یہ تو طے ہے کہ وہ لڑکی سے باتیں کرے گا۔ اس نے واقعی لفظ بہ لفظ یہ سوچا کہ اس بارے میں وہ پیٔٹ سے کیا کہے گا۔ یہ لفظ ان ناگفتنی باتوں کی طرح تھے جو لوگوں کی زبان پر تو کبھی نہیں آتیں لیکن خلوت کے لمحوں میں دیواروں پر اس خیال سے لکھ دی جاتی ہیں کہ ان پر دوسروں کی نظر پڑجائے۔
پیٔٹ کافی اور کوئک سوسٹر لے کے آیا اور نوجوان نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔
لیکن کوئک سوسٹر لذیذ، خستہ، چپ چپے اور میٹھے تھے اور جب اس نے زبان پر ان کا جانا پہچانا مال مسالہ اور ذائقہ محسوس کیا اور بیچ میں باری باری کافی کی گرم چرچراہٹ کا لطف لیتا رہا تو فی الفور اس خالص مسرت میں محو ہوگیا جو کھانے سے تعلق رکھتی ہے، جیسے بچہ مٹھائیوں سے بھری تھیلی میں پوری طرح منہمک ہوجاتا ہے۔ کوئک سوسٹر اسے یہ معصوم اور مکمل لذت بہم پہچانے میں کبھی ناکام نہ رہتے۔ جب وہ سڑک بنانے والے خلاصیوں کا نیا نیا اوورسیئر بنا تھا تو رات کے وقت اور اتوار کے دن اس پر گھنٹوں عجیب، بے قرار سی کیفیت طاری رہتی تھی۔
اسے یوں لگتا جیسے وہ بھوکا ہو۔ وہ کھانا کھاتا مگر کبھی سیر نہ ہوتا۔ وہ تمام وقت، کسی بھوکے ذی روح کی طرح ادھر سے ادھر ٹہلتا رہتا۔ ایک دفعہ اتوار کو تو سچ مچ ایسا ہوا کہ اوہ اس چوکی کی طرف، جہاں مویشیوں کو کِرم کش ادویہ ملے پانی سے نہلانے کا انتظام تھا، پیدل ہی چل دیا۔ (دس ٹن والے ٹرک کو نجی مقاصد کے استعمال کرنے کے بارے میں روڈ ڈپارٹمنٹ کا ضابطہ کچھ زیادہ ہی سخت تھا۔ ) اس چوکی پر مویشیوں کی دیکھ بھال پر مامور سرکاری افسر اور اس کی بیوی کا مکان تھا، نلی دار لوہے کی چادروں کا بنا ہوا۔
وہ میاں بیوی بھی اس کی طرح افیقانر کورے تھے اور سڑک بنانے والوں کے پڑاؤ اور فرانسس ٹاؤن کے درمیان ان کے سوا گوری نسل کا کوئی اور آدمی موجود نہ تھا۔ چوکی وہاں سے چودہ میل دور تھی۔ راستہ ریتلا تھا۔ اتفاق سے اسی دن ان میاں بیوی نے بھی طے کیا کہ وہ گاڑی میں اس سے ملنے آئیں گے اور آدھے راستے سے ذرا کم پر انھوں نے اسے آلیا۔ اس وقت تک اس کی چال سست پڑچکی تھی اور وہ گرمی سے تیورا چلا تھا۔ لیکن اس واقعے کے تھوڑے ہی عرصے بعد کھانا تیار کرنے اور اس کی ذات سے متعلق چھوٹے موٹے کام کاج کی ذمہ داری پیٔٹ نے سنبھال لی۔
اور ان ہدایات کی روشنی میں جو مویشیوں کے افسر کی بیوی نے نوجوان کو دی تھیں، پیٔٹ نے کوئک سوسٹر بنانے بھی سیکھ لیے۔ کوئک سوسٹر جو اس کے لیے بچپن کی ایک یادگار نعمت تھے جس سے اب وہ جب چاہے لطف اندوز ہوسکتا تھا اور یہ بات اس کے وہاں سکونت اختیار کرلینے پر راضی ہوجانے کی ابتدا تھی۔ اس کا وہ الگ تھلگ ڈیرا جینے کا ایک نجی قرینہ بن گیا جس میں اس کے اپنے مخصوص انتظامات اور نازبرداریوں کے سلسلے تھے۔
”بٔیٹ بابا! یارا! یہ تم نے کوئک سوسٹروں کے ساتھ کیا ہاتھ کیا ہے، ہیں؟ “ اس نے مسرت سے مغلوب ہوکر آواز دی۔
ایک پکار سنائی دی جس کا مطلب تھا۔ ”ابھی آیا“ اور کالا آدمی، صافی سے ہاتھ خشک کرتا ہوا، ایسے شخص کا تذبذب آمیز، تمسخر بھرا انداز اپنائے ہوئے آپہنچا جسے پتا ہو کہ اس نے اپنی بچھلی تمام کار گزاری کو مات دے دی ہے۔
”ان کوئک سوسٹروں کو کیا ہوگیا ہے، میاں؟ “
پیٔٹ نے کندھے اچکائے۔ ”آپ ہی مھے بتا ڈالو۔ مجھے نہیں پتا کیا بات ہوئی۔ “
”یہ لو تھوڑے سے اور لے کے آؤ، بھئی۔ “ نوجوان نے مسکراتے ہوئے خالی پلیٹ اس کی طرف دھکیلی۔ اور جب پیٔٹ ہنستا ہوا وہاں سے چل دیا تو نوجوان نے آواز دے کر کہا، ۔ کوئک سوسٹر ہمیشہ اسی طرح کے بنانا چاہیئں تمھیں سمجھے؟ ”
اسے جشن تہوار کے موقعے پر، شادیوں میں یا کرسمس کے زمانے میں مے نوشی اچھی لگتی تھی لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو بلاناغہ برانڈی پیتے ہیں۔ سنیچر کی سہہ پہر کو، جب ہفتے بھر کا کام نمٹ جاتا، وہ دو گلاس برانڈی کے پیتا اور باقی تمام وقت شراب کی بوتل جو وہ فرنسس ٹاؤن سے اس وقت لایا تھا جب وہ وہاں اسٹور کا سامان اٹھانے گیا تھا، خیمے میں اس کے صندوق میں پڑی رہتی۔ لیکن اس آخری رات کو وہ موج میں آکر الاؤ کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا اور خیمے کا رُخ کیا تاکہ بُوتَل لے آئے۔
(ایک کام اس نے کبھی نہیں کیا، یعنی یہ توقع ہی نہیں رکھی کہ ساقی کی خدمت کسی کالے کافر کو سونپی جاسکتی ہے۔ یہ تو ان کی للچاہٹ کو ضرورت سے زیادہ بھڑکانے کے مترادف ہوتا۔ ) ساتھ ہی وہ ایک گلاس بھی اٹھا تا لایا۔ اس کے پاس چھ گلاسوں کا سیٹ تھا جس سب بھینے رنگ کے نقلی منقش شیشے کے بنے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے لیے گھونٹ بھر برانڈی انڈیلی اور پاؤں وہاں تک پھیلا دیے جہاں وہ بوٹوں کے تلوں میں سے آگ کی گرماہٹ محسوس کرسکتا تھا۔
راتیں ٹھنڈی نہیں تھیں۔ پچھلے پہر دو تین بجے ہوا چلنے لگتی تو تب جاکے ٹھنڈ کا احساس ہوتا، لیکن ایک نتھار دینے والی خنکی فضا میں موجود تھی۔ وقتاً فوقتاً کالے لوگوں کے پڑاؤ کی طرف سے کوئی صورت آگ میں، جس کے شعلے ڈھے چلے تھے اور نیلے پڑگئے تھے، لکڑی کا ایک اور کندا جھونکنے ادھر آنکلتی تھی۔ نوجوان کو اپنے اندر بھی اس طرح کی دھیمی پڑتی تابانی محسوس ہوئی۔ اس نے اپنے لیے تھوڑی سی برانڈی اور انڈیلی۔ گیدڑوں کی لمبی ہُو ہُو باہر آسمان کے گرد بھٹکتی پھر رہی تھی۔
جیسے ہوا کسی مکان کا طواف کرتی ہے۔ مکان تو وہاں کوئی نہیں تھا لیکن اس کا الاؤ لرز لرز کر اندھیرے میں جس روشنی کو بڑھاوا دے رہا تھا اس سے پرے سے آنے والی صداؤں نے۔ بے معنی آوازوں، بچوں کے رونے دھونے کھانسنے اور کھنکھارنے کے اس ملغوبے نے۔ چاروں طرف دیواریں کھڑی کردی تھیں، سر چھپانے کے لیے چھت ڈال دی تھی۔ وہ پناہ کے بغیر تھا، کھلا پڑا تھا، دنیا کے کرے پر خلائے بسیط کی طرف منھ کیے ننگا دھڑنگا، مگر اسے اپنی اس حالت کا شعور نہیں تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

