دولھا


طرح طرح کی ننھی مُنی موسیقی کی گتیں اندھیرے میں چھڑیں اور دم توڑ گئیں، منھ سے پھونکے گئے یا ہاتھ سے تار ہلا کر چھڑے ہوئے سروں کے لچھے جو آدمیوں کے بولنے چالنے کے شور میں دب کر معدوم ہوگئے۔ اتنے میں ایک لحیم شحیم آدمی جس کے چوڑے چکلے کالے جٹے سے اس کی گھسی پسی پتلون اور قمیص کی ہر سیون کھینچ کر مسک گئی تھی قدم مار کے چلتا ہوا روشنی میں آیا۔ وہ آگ کے زیادہ نزدیک نہیں ہوا۔ بس آکے روشنی کے دائرے میں بیٹھ گیا۔

بے تکلفی کے انداز میں آلتی پالتی مارے، پاؤں سمندر میں بہہ کر آنے والی لکڑیوں کی طرح پھٹے ہوئے اور موسم زدہ۔ اس نے منھ سے ایک اکتارا لگا رکھا تھا جس کی شکل عود جیسی تھی۔ یہ باجا خمیدہ لکڑی کے ہلال کی مدد سے بنایا گیا تھا اور اس کے دونون سروں کے درمیان تاڑکے سوکھے پتے کی دھجی پر ملائمت سے دھرے تھے۔ پھونکنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ہاتھ سے تاڑ کے پتے کے ارتعاش کو قابو میں رکھ کر اپنے سانس کو ایک ننھی منی، مدھم اور کامل موسیقی کا روپ دے رہا تھا۔

انسان میں سماعت کی جو استعداد ہے اس کی کہیں بالکل اور چھور پر ہی موسیقی سنائی دیتی تھی۔ وہ قوت سامعہ کی حدود سے قریب قریب ماورا تھی۔ شاید وہ اولیں موسیقی اس آواز سے مشابہت رکھتی ہوگی جو انسانوں نے اُس وقت کبھی سنی ہوگی جب انھوں نے دریا کنارے سینٹھوں کے درمیان سیدھے کھڑے ہونے کا آغاز کیا ہوگا۔ جب وہ تھم گئی تو یہ جاننا دشوار تھا کہ وہ درحقیقت کس نقطے پر آکر معدوم ہوئی تھی۔

”وہ دوسری والی دھن بجاؤ“ نوجوان نے تسوانا بُولی میں کہا۔ صرف اس کے پائپ سے اٹھنے والے دھویں میں حرکت پیدا ہوئی۔

گلابی ہتھیلیوں والے ہاتھ باجے کے گرد جم گئے۔ موٹے ملائم ہونٹ پھر سے تر ہوئے۔ مدھم اجاڑ آوازپھر آنے لگی، اس درجہ سنسان موسیقی کہ وہ سازندے اور سامع تک یوں پہنچتی تھی جیسے وہ اسے اپنے اندر کہیں سن رہے ہوں۔ اس بار سازندے نے دوسرے ہاتھ میں چھوٹی سی ڈنڈی تھام لی اور پھونکنے کے ساتھ ساتھ اسے عود کے خم کی اندرونی طرف رگڑنے لگا جہاں کٹے ہوئے دندانوں سے ایک روکھا، تھرکتا ہوا اور پنواں شور پیدا ہوا جیسے دور کہیں سے ناچنے والوں کے قدموں کی آواز آرہی ہو۔

جہاں آگ کا اجالا اندھیرے میں مدغم ہورہا تھا۔ وہاں دو تین وجود اور تھے جو پرچھائیوں کے مقابلے میں زیادہ بھرے بھرے نظر آرہے تھے۔ وہ آگے آئے اور اکڑوں بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک کے پاس پیرا فین کا ادھ کٹا ٹین تھا جس کی گردن لکڑی کی تھی۔ ٹین تانت اور تار کے دیگر لوازم سے آراستہ تھا۔ جب عُود نواز رُکا اور اس نے اُتار کے عالم میں چوبی مظراب اور پتے کو منھ سے الگ کیا اور ہاتھ پشت سے ہونٹ پونچھنے لگا تو دوسرے آدمی نے اپنا باجا چھیڑا۔

وہ بینجو پر بجائی جانے والی دُھن تھی، تکرار سے پُر، تتنائی ہوئی۔ نوجوان تال دینے کے لیے بوٹ سے ریت کو دھپ دھپاتا رہا اور ایک دوبار اس نے تالی بجا کر بھی دھن کا ساتھ دیا۔ ایک دبلا پتلا آدمی، رنگت پیلی پیلی، پرانا سا ہیٹ اوڑھے، پھتیورں اور طعنوں کا سامنا کرتا، دوسروں کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا آگے آیا اور دوزانو بیٹھ کے قدموں کے بیچ میں مٹی کا چھوٹا سا پیلہ رکھ لیا جس کے مجھ پر چلزاتی پردوں پر مشتمل ایک کی بوڑڈ بنا ہوا تھا۔

قدرے نوک چھونک کے بعد اس نے باجا بجانا شروع کیا اور دوسرے مدھم سروں میں گنگنانے لگے۔ ان کے گانے کی آواز سن کر چند اور آدمی جو چہل قدمی کرہے تھے، آگ کی طرف کھنچ آئے۔ موسیقی خوشگوار انداز میں تمام ہوئی اور پھر، گویا سانس لے کر دوبارہ شروع ہوگئی۔ انھی وقفوں میں سے ایک کے دوران میں نوجوان نے کہا، ”لاؤ، اس تمھارے گورکھ دھندے کو ذرا دیکھیں تو سہی۔ یہ نئی چیز بنائی ہے نا؟ “ اور جس آدمی کی طرف اس نے اشارہ کیا وہ سمجھ تو نہ سکا کہ اس سے کیا کہا جارہا ہے لیکن اس نے پیرا فین کے ٹین سے بنے ہوئے مینڈولن کو جس انداز سے نوجوان کے حوالے کیا وہ ظاہر کرتا تھا کہ اسے اپنی دستکاری پر ناز بھی ہے اور ہنسی بھی آرہی ہے۔

نوجوان نے سرہلاتے ہوئے، مسکراتے ہوئے، اسے الٹ پلٹ کر دیکھا، ایک بار تاروں کو چھیڑا۔ تانت کے ذرا سے ٹکڑے اور جام کا کوئی پرانا ٹین ملنے کی دیر ہے، یار، یہ پورا بینڈ باجا تیار کرلیں گے۔ اس نے انھیں بعض اُول جَلول چیزیں بجاتے سنا تھا۔ چہروں کا دائرہ محظوظ ہوکر اسے تکتا رہا۔ وہ ہنستے گئے اور آلکس بھرے انداز میں آپس میں کہتے رہے بے شک، یہ باجا ہے تو الل ٹپ، مگر کام دے جاتا ہے۔ باجے والے نے باجا واپس لیا اور تھوڑے سے مسخرے پن کے بعد اسے بجانے لگا۔

سامعین ہنس دیے اور اس طرح کا ہنسی مذاق کرنے لگے جس سے تحسین کا پہلو نکلتا تھا۔ اب وہ آگ کے بالکل نزدیک سرک آئے تھے جس نے انھیں اپنے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ ”اگلے ہفتے۔ “ نوجوان نے مگن ہوکرزور سے کہا، ”اگلے ہفتے جب میں واپس آؤں گا تو ساتھ میں ریڈیو لاؤں گا۔ ڈھیر ساری سچ مچ کی موسیقی، تمام نامی گرامی گورے بینڈ اس پر سنے جاسکتے ہیں۔ “ کسی نے جو کبھی جوہانسبرگ میں ملازمت کرچکا تھا، ”ساچمو“ (مشہور امریکی سیاہ فام موسیقار لوئی آرم سٹرونگ کا لقب) کہا اور دوسروں نے اس کی بات آگے بڑھائی۔

وہ سمجھ گئے کہ گورا شہر سے جو چیز لے کر آئے گا اس کے لفظ یہی تھا۔ ساچمو۔ ساچ مو۔ انھوں نے شائستگی کے ساتھ لفظ ادا کرکے دیکھا۔ ”موسیقی، بالکل ویسی ہی جیسے شہر میں بڑے گورے ناچ کے موقع پر ہوتی ہے۔ اگلے ہفتے۔ ایک دوستانہ، تحسین آمیز خاموشی چھاگئی اور وہ سب آگ کی گرماہٹ میں آرام سے بیٹھے اسے مروت آمیز نظر سے دیکھتے رہے۔ اس پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ اسے جلن محسوس ہوئی۔ پہلے اس کی گردن جل اٹھی، پھر اس کے کان اور چہرہ تپنے لگا۔ ظاہر ہے، اس وعدے سے فرق تو کوئی پڑتا نہیں تھا۔ اگلے ہفتے تک وہ یہ بات بھول چکے ہوں گے۔ انھیں اس کی توقع بھی نہ رہے گی۔ اس نے ذہن میں اس منظر پر پردہ گرادیا کہ وہ ریڈیو سننے کے لیے ڈبے نما گھر کے اردگرد جمع ہیں اور وہ باہر آکے سیڑھیوں پر کھڑا ہوجاتا ہے انھیں بتانے کے لیے کہ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5