دولھا
اس نے لمحے بھر کے لیے سوچا کہ برانڈی کی بوتل کی بچی کھچی شراب انھیں دے دی جائے۔ ارے توبہ، نہیں یار، یہ تو پاگل پن ہوگا۔ اگر انھیں اس شے کا جس کا پڑگیا تو پھر پورے وقت اسے چراتے ہی رہیں گے۔ وہ اسٹور میں سے پیٔٹ کو تھوڑی سی شکر اور خمیر اور دوسری چیزیں دے جائے گا تاکہ کل اس کے جانے کے بعد وہ برٔں بنالیں۔ اس نے ہاتھ جیبوں میں خوب اندر تک گھسا دیے اور سر سینے پر نہڑا کر آگ کے رخ پسر گیا۔ عود نواز نے لکڑی کی بنی ہوئی اپنی کا جو بھوجو بست پھر اٹھالی اور یوں لگا کہ نوجوان جو کچھ اپنے جی میں محسوس کررہا تھا اسے اپنے اظہار کے لیے آواز مل گئی ہو۔
اس کے سینے سے یوں باہر آتی ہوئی آواز جیسے بیچ در بیچ کھل رہی ہو، تسکین بخشتی ہوئی، الاؤ سے پرے رات میں اٹھتی پھیلتی ہوئی۔ عود کی سنسان آواز آتی رہی، آتی رہی، جیسے کہیں لامحدود میں سے سنائی دے رہی ہو اور کسی مقام پر پہنچ کر پھر لامحدود میں جذب ہو جائے گی۔ سب چپ تھے کہ زبانوں کی اڑچنوں کو خاموشی نے ڈھادیا تھا۔ پریشانی اور منصوبہ بندی کا سار اگدلا دھارا نوجوان میں سے چھن کر باہر بہہ گیا تھا۔ چھوٹا بلند چاند، جس کی چمک ٹھنڈے ستاروں کی نکیلی بکھیر کے آگے ماند پڑھ گئی تھی عود کی شکل کو دہرا رہا تھا۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کب تک اس عالم میں وہاں بیٹھا رہا کہ اس کے سر پر ستارے تھے اور قدموں میں آگ تھی۔ اییں کتنی ہی دوسری راتوں کو بھی وہ اسی طرح بیٹھا رہا تھا۔
لیکن آخرکار موسیقی تھم گئی اور وقت لوٹ آیا۔ یہ آج کی رات تھی۔ پھر کل کا دن تھا جب وہ فرنسس ٹاؤن جائے گا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ مجمع تتر بتر ہوگیا۔ عود بجانے والے نے انگلیوں کی مدد سے ناک سنکی۔ دھول میں اٹے پیروں نے اپنا جانا پہچانا بوجھ اٹھایا۔ انھوں نے اپنے خیموں کا رستہ لیا اور اس نے اپنے خیمے کا رخ کیا۔ مدھم سی سائیں سائیں ان کے پیچھے پیچھے تھی۔ نوجوان نے منھ پھاڑ کر بھونڈی سی جانوروں جیسی جمائی لی یہ اس قسم کا بے حجابانہ شور تھا جو مرد اُس وقت مچا سکتا ہے جب وہ اکیلا رہتا ہو۔
وہ ریت پر بہت آہستہ آہستہ چلتا گیا۔ اندھیرا چھایا ہوا تھا لیکن اسے راستے کی ایسی پہچان تھی کہ آنکھوں سے دیکھ نہ پانا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ خیمے پر پہنچ کر اس نے چلا کر کہا۔ ”پیٔٹ! ہوت! تم کل سویرے جلدی اٹھ جانا ہیں؟ اور میں یہ سننا نہیں چاہتا کہ لاری اسٹارٹ نہیں ہورہی۔ تم اسے اسٹارٹ کردینا اور پھر مجھے بلانا۔ سن لیا تم نے؟ “
وہ تیل والا لیمپ جلانے لگا جسے پیٔٹ ٹچن کرکے صندوق پر رکھ گیا تھا اور لیمپ جوں ہی سہج سے روشن ہوا تو ساتھ ہی خیمے کا سارا اندرون بھی سامنے آگیا۔ صندوق، پلنگ، گھڑی اور سترہ سال کی لڑکی کا شرمیلا متبسم چہرہ۔ وہ پلنگ پر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو کمبل کے ریشمی پوستین میں پھسل جانے دیا۔ اس نے سانس لیا، لمحے بھر کے لیے اسے روکے رکھا، چاروں طرف کچھ ٹھان لینے کے انداز میں دیکھا اور پھر اس نے فوٹوگراف کو اٹھایا، اس کے گتے کی ٹیک تہہ کرکے فریم سے ملا دی اور اپنی باقی دوسری چیزوں کے ساتھ اسے بھی صندوق میں رکھ دیا، سفر کے لیے تیار۔

