فرعون کی بیٹی کی چیخ
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، سرکاری وکیل نے باآوازِ بلند کہا کہ جنابِ عالی ملزمہ عدالت کا وقت ضائع کررہی ہے۔ اس نے ایک گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا وہ خود بھی اقرار کرچکی ہے۔ اب وہ جس طرح کی باتیں کررہی ہے اس کا مقصد اگر یہ باور کرانا ہے کہ وہ مصری تہذیب و ثقافت کا احترام کرتی ہے تو وہ اس میں ناکام ہوجائے گی، کیوں کہ پوری مصری تاریخ میں آج تک کسی نے بھی فراعین کی ملکاؤں کی اس طرح سے بے حرمتی نہیں کی ہے۔ میں معزز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ مجرمہ کے اقبالِ جرم کو بنیاد بنا کر مجرمہ کو سزا دی جائے۔
عدالت میں پھر بھنبھناہٹ سی ہوئی۔
معزز جج نے ہتھوڑی بجا کر عدالت کی تعظیم بحال کی اور سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ بغیر اجازت بولنے کی کوشش نہ کرے، خاص طور پر اس وقت جب ملزمہ اپنا بیان دے رہی ہے۔ جج نے ملزمہ سے کہا کہ وہ اپنا بیان جاری رکھے۔
”جناب عالی! مجھے عدالت کے قیمتی وقت کا احساس ہے اس لئے میں اپنے خاندانی مسائل کی تفصیلات میں جائے بغیر صرف اتنا عرض کرنا چاہتی ہوں کہ میری بچی کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے میرے گھر میں رنجشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ میری ساس، میری نندیں، میرے سسر اور گھر کے دوسرے بزرگوں نے میری شدید مخالفت شروع کردی۔ اتنی مخالفت کی کہ ہمارے خاندان کا ماحول یکایک بہت خراب ہوگیا۔ مگر میں بھی چٹان کی طرح اپنے صحیح خیالات پہ جمی رہی اور بار بار انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ مجھے افسوس ہے کہ اس غیر ضروری کشمکش میں میرے شوہر نے بھی میراساتھ چھوڑدیا۔ میرے لئے حالات اس قدرخراب ہوگئے کہ مجھے یہ سنگین قدم اٹھانا پڑگیا۔
جیسا کہ آپ کو پتا ہی ہے کہ میں اپنی چھ سالہ بچی آمنہ کو لے کر لندن جارہی تھی کہ اسے ایک باوقار زندگی مہیا کرسکوں، اسے تعلیم دے سکوں، اسے اس قابل بناؤں کہ وہ اس دنیا میں سر اٹھا کر چل سکے۔ اپنے حسن و ذہانت کے ساتھ اپنے مکمل جسم کی حفاظت بھی کرسکے۔ میں اسے وہ سب کچھ مہیا کرنا چاہتی تھی جو مجھے میسر تھا۔ آزادی، عزت اور اپناآپ۔ مجھے ایئرپورٹ پر روک لیا گیا، مجھ سے کہا گیا کہ آمنہ کے پاس مصر کا پاسپورٹ ہے وہ لندن نہیں جاسکتی ہے جب کہ میں اپنے برطانوی پاسپورٹ پر فوراً ہی مصر چھوڑسکتی ہوں۔
وہ لوگ میری جان سے پیاری بیٹی آمنہ کو چھین کر لے گئے آج تیسرا دن ہے جناب والا وہ مجھ سے چھین لی گئی ہے۔ ”اس کی آنکھوں سے آنسو بابرش کی طرح سے برسنا شروع ہوگئے۔ عدالت سے گھن گھن ہی سی آواز آہستہ آہستہ آنا شروع ہوگئی تھی۔
”مگر تمہاری بیٹی کے اس واقعے سے اس الزام کا کیا تعلق ہے جس کی بنیاد پر تمہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے؟ “ معزز جج صاحب نے بلند آواز میں سوال کیا تھا۔
”جناب عالی! آپ تمام لوگ فراعینِ مصر کے وارث ہیں۔ فراعینِ مصر کے بیٹے فراعینِ کی بیٹیاں، فراعین مصر کے بچے۔ ان اونچے اہراموں میں رہنے والے فراعینِ مصر کی تہذیبوں کے رکھوالے، ان کی ثقافت کے علمبردار، ان کی شہزادیوں اور ان کی ہی ملکاؤں کی تصویریں بنائی تھیں میں نے۔ “ یہ کہہ کر وہ تھوڑے سے لمحے کے لئے رُکی۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر زور سے کہا:
”جنابِ عالی! آپ حکم دیں ان پولیس والوں کو کہ وہ فراعین کی ملکاؤں کی، شہزادیوں کی، ان کی بہنوں کی ان کی بیٹیوں کی برہنہ تصویریں پیش کریں جو میں نے کھینچی ہیں۔ دیکھیں میری تامن کو، نیفرتیتی کو، تاآبش کو، اکھنشن کو، نیشامن کو۔
غورسے دیکھیں ان ننگی عورتوں کو۔ ساری دنیا کو دکھائیں کہ ان برہنہ تصویروں میں کسی بھی ملکہ، کسی بھی شہزادی، کسی بھی فرعون کی بیٹی کوختنہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے نسوانی اعضا کا قیمہ نہیں بنایا گیا ہے، ان کے جسم کے ذاتی حصوں کو اس لئے نہیں کاٹا گیا ہے کہ انہیں فاحشہ ہونے سے بچایا جائے۔ کسی مفروضے کی بنیاد پر ان کے جسم کو چاقو، چھری، بلیڈ، استرے یا کسی تیزدھار آلے سے چھیلا نہیں گیا ہے، خونم خون نہیں کیا گیا ہے۔ دیکھیں، غور سے دیکھیں۔ یہ ملکائیں، یہ شہزادیاں موجود ہیں ابھی بھی ہزاروں سالوں کے بعد اپنے مکمل جسم کے ساتھ۔ پانچ ہزار سال قبل بھی یہ ظلم نہیں ہوتا تھا جنابِ عالی! ۔ پانچ ہزار سال پہلے بھی لوگ اتنے وحشی نہیں تھے حضورِ والا!
عدالت میں یکایک ایک شور سا اُٹھا۔ لوگوں کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ کئی عورتیں بے تحاشا رونے لگ گئی تھیں۔ لیپ ٹاپ پر جلدی جلدی ہاتھ چل رہے تھے۔ پیچھے کی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے غیر ملکی ٹیلی ویژن کے نمائندے بھاگ بھاگ کر باہر کی طرف جارہے تھے تاکہ ساری دنیا میں اس خبر کو فوراً ہی پہنچاسکیں۔
”خاموش، خاموش! “ معزز جج نے زور زور سے ہتھوڑا ٹیبل پر مارا تھا۔ یکایک ہونے والی خاموشی میں سے ملزمہ کی آواز تیرتی ہوئی آئی تھی:
”جناب عالیٰ! آج میری چھ سالہ بچی کا بھی ختنہ ہوگیا ہوگا۔ اس کا جسم بھی وحشیوں نے کاٹ دیا ہوگا۔ وہ اپنی ماں کے بغیر خون میں لت پت تڑپ رہی ہوگی۔ اس کا ننھا سا جسم ان عورتوں نے اپنے ہاتھوں کے درمیان کس لیا ہوگا۔ وہ چاقو اس کے جسم کو چھیلتا ہوا میرے دل میں شگاف ڈال رہا ہے۔ کیا فراعین کی ملکاؤں کے رکھوالوں نے کبھی دخترِ فرعون کی یہ چیخ بھی سنی ہے۔ “
خاموش عدالت میں صرف این میری خلیل سانس لے رہی تھی، شاید چھ سالہ بچی کی دورسے آنے والی چیخ نے ساری عدالت کو ساکت کردیا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ O۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

