اینتھریکس اور بایو دہشت گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریڈ لابسٹر میرا پسندیدہ ریسٹورانٹ! ویٹر نے کریڈٹ کارڈ کی شکل کا گفٹ کارڈ چارج کرنے کے بعد کہا کہ اس میں‌ پیسے ختم ہوگئے ہیں، اس کو ٹاس کردوں یعنی کہ پھینک دوں۔ نہیں نہیں، یہ ری چارج ایبل کارڈ ہے اس کو مت پھینکو! میں‌ نے ہاتھ بڑھا کر واپس لے لیا۔ یہ کارڈ مجھے لن انسٹیٹیوٹ سے ایک کلینکل ٹرائل میں‌ مریض کی طرح حصہ لینے کی وجہ سے ملا ہے۔ یہ ٹرائل اینتھریکس کی نئی اور بہتر ویکسین کا ہے جس کے تین کی جگہ دو ٹیکے ہوں‌ گے۔ اس میں‌ مریضوں کے دو گروپ ہیں۔ ایک گروپ کو پرانی اینتھریکس ویکسین دی جائے گی اور دوسرے گروپ کو نئی ویکسین۔ نئی ویکسین والے گروپ کو تیسرا انجکشن پلاسیبو کا دیا جائے گا تاکہ ان کو معلوم نہ ہو کہ ان کو کون سی ویکسین لگی ہے۔

جب یہ ثابت ہوجائے گا کہ نئی ویکسین پرانی ویکسین کی طرح‌ فائدہ مند ہے اور محفوظ بھی تو یہ ڈیٹا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ جمع کروا کر اس کو مارکیٹ میں‌ لایا جاسکے گا۔ چونکہ میں‌ اس اسٹڈی میں‌ انویسٹی گیٹر نہیں ہوں‌ اس لیے میں‌ نے ان سے کہا کہ مجھ پر بھی تجربہ کر لیں۔ کلینکل ٹرائل میں‌ حصہ لینے سے ویکسین بھی ملی اور پیسے بھی۔ اس کو ون ون سچؤئیشن کہتے ہیں۔ اب مجھے تینوں ٹیکے لگ چکے ہیں۔ اس نئی ویکسین کے کلینکل ٹرائل کے بارے میں‌ مزید انفارمیشن کے لیے مندرجہ ذیل ویب سائٹ دیکھیں۔ امریکہ، یورپ، کینیڈا، انڈیا، چین اور جاپان تقریباً ہر ملک کے بڑے شہروں میں‌ یہ ادارے موجود ہیں جہاں عام افراد ان اسٹڈیز میں‌ حصہ لے سکتے ہیں۔ فیز تھری کلینکل ٹرائل تک پہنچنے سے پہلے یہ دوائیاں پہلے جانوروں اور پھر انسانوں میں ٹیسٹ کرکے محفوظ ثابت کی جا چکی ہوتی ہیں۔

https://clinicaltrials.gov/ct2/show/NCT03877926

آپ کو کیسے معلوم کہ یہ ویکسین آپ کو اینتھریکس سے بچائے گی؟ ایک دو لوگوں‌ نے پوچھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانوں‌ میں‌ ٹیسٹ کرنے سے پہلے یہ ویکسینیں‌ چوہوں اور خرگوشوں میں‌ آزمائی جاتی ہیں۔ ان جانوروں کو ویکسین دینے کے بعد ان کو بیماری کے جراثیم دیئے جاتے ہیں جن سے وہ بیمار نہیں ہوتے۔ اس طرح‌ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویکسین کام کرتی ہے۔ انسانوں‌ میں‌ جراثیم نہیں دیئے جاتے ان میں‌ تاریخی طور پر مریضوں‌ کے دو گروپ بنائے جاتے ہیں۔ ایک گروپ کو ویکسین دیتے ہیں اور دوسرے کو دیکھنے اور محسوس کرنے میں ملتا جلتا پلاسیبو۔

اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ کس گروپ میں‌ اس ویکسین سے بچائے جانے والی بیماری زیادہ پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر جن لوگوں‌ کو فلو ویکسین لگتی ہے ان کے گروپ میں‌ فلو کی شرح گر جاتی ہے اس طرح‌ پتا چلتا ہے کہ ویکسین سے فائدہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم قریبی تاریخ سے دیکھ سکتے ہیں، دنیا سے چیچک کا خاتمہ ہوچکا ہے اور پولیو کی ویکسین کی وجہ سے یہ بیماری مغربی ممالک میں‌ ختم ہوچکی ہے۔ چونکہ ہم جانتے ہیں کہ ویکسین سے انسانوں‌ کی جان بچتی ہے اس لیے آج کے زمانے میں‌ ایسا تجربہ کرنا اخلاقی طور پر ممکن نہیں‌ ہے جس میں‌ کسی گروپ کو پلاسیبو دے کر ان کو بیماری کے خطرے میں رہنے دیا جائے۔ آج کل جو بھی کلینکل ٹرائل چل رہے ہیں ان میں‌ پہلے سے موجود کسی بھی اسٹینڈرڈ آف کیئر کی خلاف ورزی کی اجازت ملنا بہت مشکل ہے۔ اسی وجہ سے یہ تجربے مزید پیچیدہ ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہ نقطہ سجھ لیں‌ تو یہ بھی سمجھ میں‌ آئے گا کہ اینتھریکس کی نئی ویکسین کی تحقیق کا پروٹوکول اس طرح‌ کیوں‌ بنایا گیا ہے۔

اینتھریکس کی پرانی ویکسین 1972 سے مارکیٹ میں‌ موجود ہے لیکن ابھی تک امریکہ میں‌ یہ صرف ان لوگوں‌ کو لگائی جاتی ہے جن کو اینتھریکس ہونے کا خطرہ ہو جیسے کہ دوسرے ملکوں‌ میں سفر کرنے والے عام افراد یا فوجی وغیرہ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں گیارہ ستمبر کے حملوں‌ کے کچھ دن کے بعد کسی نے مختلف اداروں‌ کو اینتھریکس کے خطرناک اسپورز لفافوں‌ میں‌ ڈال کر ڈاک میں‌ بھیجنے شروع کردیے تھے جس سے کئی اموات ہوئی تھیں اور خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ یہ کہانی مختلف ٹی وی چینلز پر 24 گھنٹے چلتی رہتی تھی۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میل باکس کھولتے ہوئے ڈر لگتا تھا کہ کہیں اس میں‌ اینتھریکس نہ ہو۔

ان حملوں کا شک بروس آئونس پر عائد کیا گیا تھا جو کہ حکومت کے لیے سائنسدان کا کام کرتے تھے۔ ایک سائنسدانوں‌ کے گروپ نے ایف بی آئی کی تفتیش میں‌ حصہ لیا اور یہ بیان جاری کیا کہ ممکن ہے کہ بروس آئونس نے یہ حملہ کیا ہو جس سے 2001 میں‌ پانچ افراد کی موت واقع ہوئی لیکن سائنس سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ بروس آئونس مجرم تھے یا نہیں۔ یہ ثابت کرنا قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی ذمہ داری ہے۔ بروس آئونس نے 2008 میں‌ خود کشی کرلی تھی۔ اس قصے کے بعد اینتھریکس بائو ٹیرررزم کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اس کی نئی اور بہتر اقسام بنانے اور عوام میں‌ بڑے پیمانے پر اس کی ویکسین لگانے کے پراجیکٹ پر کام شروع ہوا جو اس وقت جاری ہے۔

اینتھریکس کی بیماری کیا ہے؟

اینتھریکس چھوت سے لگنے والی ایک نہایت سنجیدہ بیماری ہے جس کے بارے میں‌ مندرجہ ذیل معلومات سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کی ویب سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں‌ نے آج تک اپنے کیریر میں اینتھریکس کا کوئی کیس نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی میں‌ اس کو دیکھنا چاہتی ہوں۔

https://www.cdc.gov/anthrax/basics/index.html

اینتھریکس ایک بیکٹیریا سے ہونے والی بیماری ہے جس کو بیسیلس اینتھریسس کہتے ہیں۔ اینتھریکس کا بیکٹیریم مٹی میں شامل ہوتا ہے اور جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد میں‌ منتقل ہوسکتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں‌ سے یہ انفکشن پھیل سکتی ہے جن میں‌ ہرن، بکریاں، گائے بھینسیں‌ شامل ہیں۔ اینتھریکس کی انفکشن سانس کے ذریعے، جلد کے ذریعے اور کھانے پینے سے جسم میں‌ داخل ہوسکتی ہے۔ سانس کے ذریعے جسم میں‌ داخل ہونے سے سب سے زیادہ سنجیدہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اینتھریکس کے زیادہ تر کیسز افریقہ اور ایشیا کے ان ممالک میں‌ کھیتی باڑی کرنے والے علاقوں میں‌ ہوتے ہیں جہاں‌ جانوروں‌ کے ڈاکٹرز کی کمی ہے اور جانوروں‌ کو ضروری ویکسینیں نہیں لگی ہوئی ہیں۔

جلد کی اینتھریکس انفکشن میں‌ چھالے بن جاتے ہیں جن میں‌ کھجلی ہوتی ہے۔ ان کے گرد سوجن بھی ہوجاتی ہے اور ان میں‌ السر بھی ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر یہ چھالے چہرے، گردن، بازؤوں اور ہاتھوں‌ پر ہوتے ہیں۔ سانس کے راستے ہونے والی اینتھریکس میں‌ بخار، سردی لگنا، سینے میں‌ درد، سانس لینے میں‌ مشکل ہونا، کھانسی، چکر آنا،پسینے چھوٹنا، شدید تھکن، جسم میں‌ درد، سر میں‌ درد اور ذہن کا ٹھیک سے کام نہ کرنا شامل ہیں۔ منہ کے راستے ہونے والی اینتھریکس کی انفکشن میں‌ بخار اور ٹھنڈ لگنا، گلا خراب ہونا، گلے کے غدود میں‌ سوجن، نگلنے میں‌ تکلیف، پیٹ میں‌ درد، متلی، الٹیاں اور دست کی علامات شامل ہیں۔

اینتھریکس کی ویکسین کے بارے میں‌ مزید معلومات کے لیے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں جس کا لنک مندرجہ ذیل ہے۔

https://www.cdc.gov/vaccines/vpd/anthrax/public/index.html

ویکسین کا میرا ذاتی تجربہ

کلینکل ٹرائل میں‌ حصہ لینے والے تمام افراد کو ایک تھرمامیٹر فراہم کیا گیا اور ایک فیتہ جس سے ممکنہ سوجن کو ناپا جاسکے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ فون میں‌ ایک ڈائری کی ایپ ڈاؤن لوڈ کی جس میں‌ ہر انجکشن کے بعد سات دن تک اپنی علامات کا اندراج کرنا تھا۔ پہلے اور دوسرے ٹیکے کے بعد علامات بالکل ایک جیسی تھیں‌ لیکن تیسرا ان سے مختلف محسوس ہوا اس سے مجھے اندازہ ہے کہ شائد مجھے نئی ویکسین لگی ہے۔ اینتھریکس کی ویکسین کے عام سائڈ افیکٹ انجکشن کی جگہ پر سوجن، سرخی، چھونے سے تکلیف، ممکنہ بخار اور سر میں‌ درد کی طرح کی علامات شامل ہیں۔ ان معمولی اور عارضی علامات کے مقابلے میں‌ ویکسین کا فائدہ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے تمام افراد کو یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ خود کو اور اپنے خاندان کو تمام مہیا ویکسینیں‌ ضرور لگوائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •