فلم انڈسٹری اور ملکہ ترنم نور جہاں: جب فنکار نے آمریت سے ٹکر لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلم انڈسٹری کی بربادی کے اثرات کثیر الجہات ہیں۔ بد قسمتی منہ کھولے کھڑی تھی۔ سلطان ایک اندھے قتل کے نتیجے میں راہی عدم ہوئے۔ پروڈیوسروں کے ہوش آڑ گئے۔ لا تعداد فلموں کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ کتنے ہی کنٹریکٹ ہو چکے تھے ایڈوانس دیے جا چکے تھے، درجنوں فلمیں ڈبوں میں دھری رہ گئیں۔ سناٹا مزید گہرا ہوا جو شان ریاض شاہد نے توڑا۔ امید بندھی کہ بڑے ڈائریکٹر ریاض شاہد مرحوم و نیلو بیگم کا بیٹا کچھ تخلیقی جوہر دکھائے گا لیکن وہ محض گورا چٹا سلطان راہی بن گیا۔

اس زمانے میں ایک اور تجربہ ہوا۔ دس نمبری ہسٹری شیٹر کرائے کے قاتل بد معاشوں کے نام پر فلمیں بنی، مثلا بھولا سنیارا، ہمایوں گجر، جگا تو معروف نام ہے لیکن جس جگے کی بولیاں گائی جاتی ہیں وہ مشرقی پنجاب کا سکھ تھا دوسرا لاہور اسلامیہ پارک کا جگا ہوا، جن کا انڈر ورلڈ میں ایک مقام تھا۔ لیکن فلم کے ذریعے ان کو ہیرو بنانے کے نتیجے میں یہ معاشرہ عدم برداشت کی حدیں پار کر گیا۔ اس درجہ تک کہ امرود توڑنے پر گارڈ بچے کو گولی مار دیتا ہے۔ ان فلموں سے پہلے یہ معاشرہ ایسا نہیں تھا۔ سماجی علوم کو تجرباتی لیبارٹری میں ٹسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف وقت کے کارخانے میں تکمیل پاتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے؟ صرف فلم انڈسٹری کے اجڑنے سے معاشرتی تاروپو یوں بکھرا کہ آج تک سنبھل نہیں سکا۔

اتنا ہی بڑا نقصان موسیقی کو پہنچا بلکہ سچ پوچھیں تو فلم سے زیادہ نقصان موسیقی کو پہنچا۔ فلم کی تکنیک کہانی کوریوگرافی ایکٹنگ یہ سب ارتقائی مراحل میں تھے لیکن موسیقی اپنی اعلی ترین منزل پانے والی تھی۔

خیام چالیس برس قبل اپنے انٹرویو میں کہہ چکے کہ موسیقی کا بگاڑ پورے معاشرتی انتشار کا باعث ہو گا۔ لیکن جس معاشرے مین گانے سے وابستہ افراد کو ”کنجر میراثی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہو، وہاں کون پروا کرتا ہے۔ برصغیر کا سرمایہ موسیقی یعنی بڑے غلام علی خاں ان کے چھوٹے بھائی برکت علی خان جو جدید غزل کے موجد ہوئے اور مہدی حسن جیسے عظیم گلوکار کا رستہ ہم وار کر گئے۔

یہ وہ دور ہے جب کلاسیکی موسیقی کی جگہ فلمی موسیقی لے رہی تھی۔ موسیقی کی نوک پلک کی درستی وہ با کمال موسیقار کر رہے تھے جو کلاسیکل گائیکوں سے با قاعدہ تربیت یافتہ تھے۔ کلاسیکل سنگیت میں بھائی لعل۔ ان کا بیٹا بھائی شگن، پٹیالیوں کے امانت علی خان اور فتح علی خان المعروف بڈے خاں، برصغیر کے سب سے بڑے کلاسیکل پرفارمر استاد سلامت علی خاں اور ان کے بھائی نزاکت علی خاں افق موسیقی پر چاند ستاروں سا جگمگا رہے تھے، یہ گیت اور غزل کو بھی مشفقانہ توجہ دیتے اور گلوکار ان کو ویسے ہی دیکھتے جیسے ارسطو اپنے استاد افلاطون کو دیکھتا ہو گا۔ لتا جی، آشا جی، نورجہاں، رفیع، کیا مہدی حسن، کیا کشور کمار، سب ان کے قدموں میں بیٹھنا سعادت سمجھتے۔ یہ سب سچے فن کار تھے۔ فلم نگری کیا اجڑی ہمارے خواب ہم سے چھن گئے۔

ابھی میں نے عرض کیا سچا فن کار، اب یہ بیان کیسے ہو کہ سچا فن کار ہوتا کیا ہے؟ یہاں غالب کی انشا پردازی اور عرفی کی قادر الکلامی بھی عاجز ہے، بس منظر نگاری ہی ممکن ہے۔ آئیے فن کار کی تعریف میں ایک واقعہ سنیے۔

یہی ضیا الحق دور تھا، سیاسی و سماجی منظر نامہ دھواں دھواں تھا۔ ہر دل عزیز عوامی رہنما کی پھانسی اور کوڑوں کی سزائیں اور احترام رمضان کی اختراعیں تھیں۔ اس منظر نامے میں فوجی حکومت کو 14 اگست منانے کی سوجھی۔ پنجاب میں زور و شور سے تیاریوں کا حکم دیا گیا۔ لاہور الحمرا 13 اگست کی سہ پہر چار بجے ضیا الحق مع گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی خاں ریہرسل دیکھنے بہ نفس نفیس تشریف لائے۔

دوسرا منظر بھی خاصہ دل چسپ ہے۔

12 اگست ہے، بے مثل ڈھولک نواز اقبال عرف بالے خاں اپنے کزن سے کہتا ہے، ”کل 14 اگست والے پروگرام کی ریہرسل کے لیے الحمرا جانا ہے، میڈم نے ٹائم پر پہنچنے کی تاکید کی ہے۔“ خیر اگلے دن ضروری سازندوں کی پوری ٹیم اسٹیج پر میڈم کے سامنے فرش پر اپنے سازوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔ میڈم نور جہاں اپنے دل کش انداز میں کرسی نشیں ٹانگ پر ٹانگ دھرے دیویوں جیسے سکون سے نیما نیما مسکرا رہی ہیں۔ سامنے جن کو میڈم استاد جی بلاتیں ہارمونیم نواز، منوں خاں، ڈھولک نواز بالے خاں لیجنڈری وائلنسٹ الطاف حسین اور شامل باجہ ہمارے دوست جو اس واقعے کے عینی شاہد ہیں وہ میڈم سے دھیمی گپ شپ میں مصروف ہیں۔

ہال میں چنیدہ مہمان، چوکس فوجی ویٹر ذمہ دار اہل کار، خاموش اپنے کام میں مصروف، اچانک اسٹیج کا دروازہ کھلا اور دو شخص داخل ہوئے۔ ایک صاحب گرے کلر کے ٹریک سوٹ ہاتھ میں سگریٹ درمیانے قد کے سرخ و سفید خوب صورت گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی ہیں، دوسرے پوری فوجی وردی میں ملبوس جنرل ضیا الحق ہیں۔ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک، پورے طمطراق اور کروفر سے چلتے میڈم نور جہاں سے زرا فاصلے پر آ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ کیا میڈم ٹس سے مس نہ ہوئی حتی کہ ٹانگ پر دھری ٹانگ بھی سیدھی نہ کی، جب کہ تمام سازندے جو آشنائے شہریاری تھے فورا احتراما کھڑے ہو گئے۔ جیلانی صاحب مسکراتے ہوئے بڑھے میڈم سے دعا سلام کی اور فرمایا، میڈم جنرل ضیا الحق۔ میڈم نے ایک اچٹتی سی نظر ڈالی، سلام کا جواب دیا، ”لیکن مرد مومن رعایا پرور غاصب حکمراں مسکراتے ہوئے قدم بڑھا کر سازندوں سے ہاتھ ملانے لگے۔

ایک اور سانحہ ہوا سارے سازندے کانپ گئے۔ جنرل ضیا الحق دو بندوں سے ہاتھ ملا کر تیسرے الطاف حسین سے ہاتھ ملانے لگے، تو وہ ان کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کر کے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اور زرا کانپتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ ( چشم تصور یہ کہتی ہے کہ وائلنسٹ نے کہا ہو گا ”بہت کوڑھ اے توں بیٹا ایسے ہتھ نال میں وائلن وجانا ایسے نال تینوں ملاں، ناں پائی) کیوں؟ ایک عام سا شخص جس کو بھٹو سے لگاؤ ہے اور اس نے سن رکھا تھا، کہ اسے ضیا الحق نے پھانسی چڑھایا اب اچانک وہ شخص سامنے کھڑا مشفقانہ سر پرستانہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے لیکن سامنے فن کار ہے، جو نہ ڈپلومیسی جانتا ہے نہ سیاست، اس کی ڈکشن میں یہ بات ہی نہیں کہ جس کو وہ غلط سمجھے، اس کو سراہے بھی، وہ بس اپنا کام جانتا ہے اور سیاست صرف اتنی کہ کسی سیاست دان کو پسند کرتا ہے۔

جنرل ضیا الحق جیسے ڈکٹیٹر سے ایسی گستاخی، اور وہ بھی ایک میراثی ایک ڈھاڈھی کے ہاتھوں، جلال شاہی عتاب میں آنے سے پہلے، میڈم نے صورت احوال کی سنگینی کو بھانپا اور نرمی سے، میڈم کی آواز گونجی ”ہاں منوں خاں چل واجہ چھیڑ افسراں نوں گاونا سنائیے۔“ (اب افسراں نوں گاونا سنائیے میں جو بے نیازی و جرات ہے، اس کی داد دیں)۔

جنرل ہم راہ گورنر پنجاب سامنے دھرے صوفوں پر فرو کش ہوئے۔

یہ کام صرف اور صرف نورجہاں و الطاف حسین جیسے آرٹسٹ ہی کر سکتے تھے۔ سچا آرٹسٹ اپنے ضمیر کے خلاف کیسے جائے۔ ایسا غیرت مند ایسی جرات کا مظاہرہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا اور کیسے ملے؟ اب وہ لوگ نہ رہے، اگر چہ ان دونوں عظیم جرنیلوں کے بعد ان سے بہتر قابل بہادر دو درجن جرنیل آ چکے ہیں لیکن ایک نور جہاں، ایک الطاف حسین ایک بالے خاں نہ آ سکا۔

بالے خاں و الطاف حسین کے والد ظفر حسن بقید حیات بد تر از مرگ کے با وجود آج بھی ریاض کرتے ہیں۔ 93 سال کی عمر 70 سال فن کی خدمت کی لیکن کسی بھی تمغہ حسن کارکردگی سے محروم۔ کس مپرسی و غربت کی زندگی۔

اگر چہ الطاف حسین کے متعلقین کہتے ہیں کہ ہم کئی مہینے خوف زدہ رہے کہ ضیا الحق کو یہ واقعہ یاد نہ آ جائے۔ بادشاہوں کے پیچھے دم ہلانے والے فن کار نہیں نقال ہوتے ہیں، جو آج کل ہمارے میڈیا پہ چھائے ہوئے ہیں۔ فن کار چیزے دیگر است۔

”خدا کی طرح، اپنے فن کے خدا سر بسر ہم“

ہماری فلم انڈسٹری جو انڈسٹری کا درجہ حاصل کیے بغیر ختم ہو گئی۔ اگر چہ ایکسائز ٹیکس کی مد میں اربوں روپے حکومت نے وصول کیے۔ آج بھی حکومت سنجیدگی سے اس شعبے پر توجہ دے، تو اسکولوں کالجوں سے بہتر تعلیم، فلم کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ ایران اس کی زندہ مثال ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •