بارش کی ایک رات اور بے خواب ممتا کے سترہ برس


 ”مگر تم اس طرح سے نہیں جا سکتی ہو۔ ابھی تو تمہارا بچہ ہوا ہے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خون بہہ سکتا ہے، تم مرسکتی ہو۔ “ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

 ”نہیں مجھے جانا ہو گا۔ میں اپنی ذمہ داری پہ جا رہی ہوں۔ میں نے ذمہ داری کے فارم پر بھی دستخط کردیے ہیں۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ کیا ہو سکتا ہے؟ “ اس نے پھر سختی سے مگر آنسوؤں کے ساتھ کہا تھا۔

میں نے کہا، ’

قانونی طورپر اسپتال تمہیں روک نہیں سکتا ہے لیکن مجھے اپنے باس سے پوچھنا ہوگا۔ بس تھوڑی دیر انتظار کرو۔ ”

میں نے رات کے آخری پہر میں اپنے باس کو فون کرکے صورتِ حال بتائی تھی۔ انہوں نے یہی کہا کہ اسے جانے دیا جائے اور ساتھ ہی جو ضروری ہدایات ہیں وہ دی جائیں اور جو خطرات ہیں ان کے بارے میں اسے بتادیا جائے اورایک دفعہ پھر اچھے طریقے سے دیکھ لو خون وغیرہ تو نہیں بہہ رہا ہے اور سب کچھ ٹھیک ہے۔ اسے بولنا اگر تھوڑا بھی بخار ہو تو کسی ڈاکٹر سے ضرور ملے یا تم سے ہی بات کرے۔ اپنا فون نمبر دے دو اس کو۔

میں واپس کمرے میں آیا تو وہ اسی طرح سے اپنی بچی کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی اور مڈوائف نے بتایا کہ بچی کو بوتل کا دودھ پلایا جا چکا ہے۔

 ”روز میری تم جا سکتی ہو، میں نے پوچھ لیا ہے اورمیں یہ بھی کروں گا کہ بچی کو آڈوپٹ کرنے والے لوگوں کے بارے میں اطمینان بھی کرلوں گا لیکن شاید تم کو قانون کا پتا ہوگا کہ تم کو کبھی بھی معلوم نہیں ہوسکے گا کہ بچی کس کے پاس ہے اور نہ ہی بچی کو بتایا جائے گا کہ اس کی ماں کون ہے؟ “

 ”مجھے پتا ہے ڈاکٹر۔ ’جیسے کسی کنویں سے آواز آئی تھی۔

صبح چار بجے روز میری نے ٹیکسی منگوائی۔ بچی کو آخری دفعہ زور سے گلے لگا کر بھینچا۔ اس نے اس کے گال، اس کی آنکھیں، اس کی بھنویں، اس کی پیشانی، اس کے ننھے ننھے ہاتھوں پیروں کو بار بار چوما اور بچی کو نرسری میں چھوڑ کر چلی گئی۔

میں روز میری کو ٹیکسی تک چھوڑ کر آیا تھا۔ ایک سادہ کاغذ پہ اپنا فون نمبر لکھ کر دیا کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے خبر کرنا اور فون پہ مشورہ لے لینا۔ میں کسی بھی وقت جواب دینے کو تیار ہوں۔ میں نے تاکید کی تھی۔

اس کا کوئی فون نہیں آیا، نہ اس نے کوئی مشورہ کیا، نہ میں نے کبھی پتا کرنے کی کوشش کی کہ یہ اکیس بیس سالہ لڑکی کہاں سے آئی تھی؟ پیدا ہونے والی بچی کا باپ کون تھا اور وہ اس طرح سے رات کے اندھیرے میں ہی کیوں کھو گئی، کہاں چلی گئی؟

دوسرے دن لاولد جوڑوں کی لسٹ میں جن کا نام پہلے نمبر پہ تھا، بچی ان کے حوالے کردی گئی۔ یہ دونوں میاں بیوی ٹیچر تھے اور ایک عجیب اتفاق تھا کہ دونوں میں ہی خرابی تھی۔ شوہر میں جرثومے نہیں تھے اور کم عمر بیوی کو انڈومیٹرویوسس (endometriosis) تھا جس کی وجہ سے اس کی بچہ دانی اور اووری کو نکال دینا پڑا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ میری کی خواہش کے مطابق بچی کو ایسے والدین ملے جو پڑھے لکھے روشن خیال لوگ تھے۔ جنہیں بچے کی شدید ضرورت تھی جو بچی کو ہر طرح کا پیاردینے کو تیار تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ روز میری کی خواہش پوری ہوگی۔

نجانے کیسے ان دونوں میاں بیوی سے میری دوستی ہوگئی، جو بڑھتی ہی چلی گئی تھی۔ اس بچی کا نام انہوں نے فیونا رکھا۔ وہ ماں کی مکمل تصویر تھی۔

چار سال کے بعد میں نے وہ شہر چھوڑدیا۔ تین سال ایک جگہ اور کام کرنے کے بعد پاکستان چلا گیا۔ دو سال پاکستان میں رہ کر بھی پاکستانی طریقوں سے کام کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ سکا۔ میری آئرش بیوی اورمیرے دو بچے خوش تو تھے اور خوش کیوں نہ ہوتے ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ میرے والدین دولت مند تھے۔ لاہور کے بہترین علاقے میں ہم لوگ رہتے تھے مگر ہسپتال اور مریض میرا دل توڑ توڑ دیتے تھے۔ امیر مریضوں کا تو کوئی مسئلہ نہیں مگر غریب مریض اور اس قدر غریب کہ ان کے لیے کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ میرے لیے کوئی راستہ نہیں تھا سوائے فرار کے راستے کے۔ روز روز کے مرنے سے اچھا تھا کہ میں فرار ہوجاؤں۔ ایک دن ایسا آیا کہ میں ایک بار پھر ہمیشہ کے لیے پاکستان چھوڑ کر واپس آئرلینڈ آ گیا۔

آئرلینڈ کے چھوٹے سے شہر راس کامن کے چھوٹے سے ہسپتال میں مجھے فوراً کنسلٹنٹ کی نوکری مل گئی جہاں گزشتہ آٹھ سال سے میں ہنسی خوشی کام کررہا تھا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زندگی کے بہترین دن گزاررہا تھا۔

اس دن روز میری اچانک میرے کلینک میں آگئی تھی۔ روز میری نے مجھے بارشوں کی وہ رات یاد دلائی جو مجھے یاد تو تھی مگر میں نے آہستہ آہستہ قبولا تھا کہ میں اسے پہچان گیا ہوں۔

 ”ڈاکٹر مجھے پتا ہے کہ تم مجھے کچھ نہیں بتاؤ گے اور میں کوئی خاص بات پوچھنا بھی نہیں چاہتی ہوں لیکن می تمہیں کچھ بتاؤں گی ضرور۔ “ اس نے مجھ سے اسی سترہ سالہ پرانے اعتماد سے کہا۔ ”کیا میں تمہارا تھوڑا سا وقت لے سکتی ہوں؟ “

میں نے لسٹ پہ نگاہ ڈالی پھر روز میری سے کہا، ”دو مریض باقی ہیں، انہیں دیکھ لوں تو تم سے تفصیل سے بات کرلوں گا۔ مجھے تمہاری بات سننے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے، میں ضرور سنوں گا۔ “

دونوں مریض جلد ہی فارغ ہوگئے۔ میں نے کافی لانے کے لیے کہا اور مڈوائف کو چھٹی دے دی تھی۔

 ”وہ رات میری زندگی کی صرف ایک رات ہے جو کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکے گی۔ وہ رات میں ہمیشہ جاگتی رہوں گی۔ ڈاکٹر! میں تمہاری بڑی شکر گزار ہوں، تم نے اس وقت مدد کی جب میرا کوئی نہیں تھا۔ میں نے نہیں سوچا تھا کہ میں اس طرح سے بچی کو چھوڑجاؤں گی۔ یہ مجھے صرف اس لیے کرنا پڑا کہ حاملہ ہونے کے بعد کیون نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اس حمل کو ضائع کردوں۔ زندگی کے اس مرحلے میں وہ ان بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4