پھول کی کوئی قیمت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمہارے بیس روپے بھی قصائی سے دلوا دوں گا ”۔

 ”جی بسا کون؟ “

 ”اوجھری بالے بازار کا کمیٹی ممبر ہے۔ اگر منظور ہے تو کل دس روپے ضمانت لے کر آجانا“۔

پھول فروش نے جی بسے سے کہلوا کر بیس روپے قصائی سے دلوا دیے۔ مراد نے دس روپے ضمانت کے پھول فروش کی ہتھیلی پر رکھے اور تین درجن موتئے کی کلیوں کے ہار لے کر مال روڈ پر آ کر گھومنے لگا۔ بڑی مشکل سے ڈیڑھ درجن ہار بکے۔

اگلے روز فیروز دین پھول فروش نے مراد کا حوصلہ بڑھایا اور کہا پہلے روز ڈیڑھ درجن ہار بیچ لینا گھاٹے کا سودا نہیں۔ تم کوئی ہوٹل ڈھونڈ لو۔ وہیں جمے رہو۔ عورتیں آئیں تو سامنے جا کر ڈٹ جاؤ۔ ہار نہ لیں تو گجرے دو۔ گجرے نہ لیں تو ہار دو۔ نیا کام ہے پر شرماؤ نہیں ”۔

بابا مراد نے دیکھا کہ چوک کے ساتھ مال روڈ پرجو کیفے ہے، وہاں بہت لوگ آتے ہیں۔ ابھی دھوپ ہی تھی کہ وہ ہار اور گجرے لیے جا کھڑا ہوا۔ ایک موٹر کار آکررکی وہ آگے بڑھ کر بولا:

 ”موتیے کے ہار جی۔ گجرے بیگم ساب“۔

لڑکی صرف دو ہار اور دو گجرے لے کر بولی۔ واپسی پر اور لیں گے۔ کہیں جاؤگے تونہیں ”۔

یہ کہہ کر لڑکی فرش پر ٹپ ٹپ چلتی اپنے خاوند کے ساتھ کیفے میں داخل ہوگئی۔ اس کی تاکید کی اثر انگیزی نے مراد بابا کو ادھر ادھر نہ ہلنے دیا۔ بو ہنی اچھی ہوئی کہ اس کے اور ہار بھی بکنے لگے۔ اب صرف چار ہار تیلی پر لٹک رہے تھے کہ وہ لڑکی اور اس کا میاں باہر نکلے۔ لڑکی نے وہ دونوں ہار جو لیے تھے، اپنے جوڑے پر لپیٹ رکھے تھے۔ مراد ہار لے کر آگے بڑھا۔

لڑکی بولی ”صرف چار رہ گئے۔ گجرے سب کے سب بک گئے“۔

مراد چاروں ہار اس لڑکی کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا ”آپ بھاگوان کی بوہنی ہوئی تھی کیسے نہ بکتے جی“۔

جب اس کے ہاتھ میں ہاروں کی خالی تیلی رہ گئی تو اس کے کندھے کا بوجھ اترگیا۔ جیسے پھولوں کا بھی کوئی بوجھ ہو۔ لڑکی ٹپ ٹپ کرتی اپنے میاں کے ساتھ موٹر کار میں جا بیٹھی اور پھر موٹر کار نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

شام ڈھلے مراد نے تین روپے اپنی بیوی کے ہاتھ پر جا دھرے تو اس کے مردنی چہرے پر خوشی کی ایک کرن پھوٹ آئی۔ اور وہ فیروز دین پھول فروش کو دعائیں دینے لگی۔ معذور تاجا پیٹری پر جکڑا بیٹھا تھا۔ اس کا بھائی بالا سبزی فروش بھی آگیا۔ مراد کی بیٹی کھٹولی پر اپنے دو بچوں کو جو سو رہے تھے پنکھیا ہلا رہی تھی۔ سب کے چہروں پر خوشی کے پھول کھل رہے تھے کہ بابا کا اچھا روز گار لگ گیا۔ معذور تاجا جو گھر پر بوجھ بنا ہوا تھا اپنی جگہ خوش۔ بالا یوں خوش کہ سبزی کی ساری آمدن اونٹ کے منہ میں زیرہ بنی جارہی تھی۔ شاید اب اسے کچھ بچت ہونے لگے۔ دو بچوں والی بیٹی یوں خوش ہو رہی تھی کہ وہ خوامخواہ کا بوجھ بن کر گھر آبیٹھی تھی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے سبب محلے میں کسی کا بھانڈا برتن بھی نہ مانجھ سکتی تھی۔

ایک دم گھٹا امڈ کر آئی اور بادل گرجنے لگا۔ بدرو سے سخت سڑانڈ اٹھی۔ مراد نے انگنائی کے سامنے پڑاہوا گندا ٹاٹ اٹھا دیا۔ باہر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا کھٹ سے اندر چلا آیا۔ اسے فوراً بیوی کے اپلوں کا خیال آیا ”تاجے کی ماں بارش آرہی ہے تمہارے اپلے۔ “

 ”میں نے شام کو سنبھال لیے تھے۔ دو سینکڑے تو بیچ بھی دیے“۔

دراصل مراد بابا باہر پھر کے مال روڈ پرہار بیچنے کے واقعہ کو بار بار سنانا چاہتا تھا اور گھر کا ہر فرد بار بار سننا چاہتا تھا۔

سوائے بالے کے جو اپنی چارپائی ہر روز بدرو کے پار اپنے دوستوں کے پاس جا بچھاتا تھا۔ سب اپنی اپنی کھاٹ پر لیٹے پڑے تھے، نیند کسی کو نہ آئی تھی۔ بادل کی وجہ سے سڑک پر کھنبے کی روشنی کا دائرہ تنگ ہو گیا تھا۔ مراد کی بیوی نے لیٹے لیٹے کہا ”تم نے جس بیگم طاب کی آج بوہنی کی کل بھی اس کے پاس ہا ر بیچنا“۔

مراد لیٹے لیٹے کہنے لگا ”میں بھی یہی سوچ رہا تھا“۔

مراد کی بیٹی جو دو بچوں کو کھاٹ کے درمیان لٹائے خود پٹی پر لیٹ رہی تھی۔ کہنے لگی:

 ”ابا بے غم دیکھنے میں کیسی ہوگی؟ “ مراد بولا

 ”لمبے قد کی جوان لڑکی۔ کیا بتاؤں جیسی آپ ویسا میاں۔ “

 ”سورج چاند کی جوڑی ہوئی نا“۔ اندھیرے میں مراد کی بیوی کی آواز آئی۔

 ”میں نے غور سے دیکھا کب۔ سب بیگمیں ایک جیسی توہوتی ہیں“۔ مراد بے چارہ بیگم کا سراپا بیان نہ کر سکا اور اس کی بیٹی اپنے تصور میں کوئی حلیہ مرتب نہ کر سکی۔

اگلی شام یہ جوڑا دیر سے آیا۔ مراد پھرتی سے آگے بڑھا اور بولا ”ہار موتیے کے“۔

لڑکی نے چھ ہار اور بارہ گجرے خرید کر موٹر کار میں رکھ لیے۔ اس کے میاں نے کار کو بند کیا اور وہ ہوٹل میں جانے کے لیے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ مراد نے دیکھا مناسب نقوش اور عمدہ لباس نے ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا تھا جو بیک وقت پرکشش اور پرتمکنت تھی۔ چال میں ایک سبک رفتاری اور دھیما پن جیسے آہستہ آہستہ پھول کھلتا ہے، ہونٹ ایسے جیسے پھول برسانے والے مگر بند بستہ۔ کونوں میں مسکراہٹیں جیسے بچپن شوخی شرارتوں میں گزرا ہو۔ بابا مراد اس لڑکی کی طرف دیکھتا ہی رہا۔ اس نے غور کیا۔ ایک بچے نے اس کی انگلی پکڑ رکھی تھی۔ کتنی پراسراریت تھی اس لڑکی میں۔ اس نے سوچا آج وہ گھر جا کر پورا ناک نقشہ بیان کر سکے گا۔ ”ہار موتیے کے“۔ وہ صدا لگاتا دوسری موٹر گاڑیوں کی طرف چل دیا۔

رفتہ رفتہ ہوٹل میں آنے والے اس صدا سے مانوس ہو گئے اور اب بابا مراد بھی سب کو پہچاننے لگا۔ کون کون پھولوں کا شوقین ہے۔ کون بیگم کتنے پھول خریدتی ہے۔ گجرے ساتھ لے جائے گی یا پہنے گی۔ ہار جوڑے پر سجائے گی یا کلائی پر لپیٹے گی، اسے

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آغا بابر کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4 5 6 7