پھول کی کوئی قیمت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز گزرے تھے کہ بابا مراد کو باری کا بخار آنے لگا۔

ایک روز پھولوں کی کچھ مرجھائی پتیاں چھابے میں بچی پڑی تھیں۔ تاجے نے فیروزاں سے کہا ”یہ لے جا کچھ نور کی قبر پر ڈال آکچھ اس بی بی کی قبر پر، جہاں بابا جایا کرتا ہے۔ اتنے دنوں سے وہاں جھاڑو بھی نہیں دیا ہوگا۔ وہ بھی دے آنا“۔

فیروزاں واپس آئی تو تھرتھر کانپ رہی تھی، جیسے بخار چڑھ رہا ہو، بولی ”میرے اوپر کوئی موٹا کپڑا ڈال دو“۔

 ”کیوں“۔  ”میں نور کی قبر پر پھول ڈال کر بی بی کی قبر پر پہنچی۔ ایک بابا قبر پر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ سبز چغہ ہاتھ میں تسبیح۔ میں نے اسے دیکھا اس نے مجھے، پھر وہ میرے قریب سے گزرتا ہوا چلا گیا۔ میں نے پھول قبر پر رکھے۔ پھر جھاڑو دیا۔ جب جھاڑوکونے میں رکھنے لگی تو دیکھتی ہوں وہی بزرگ ایک سرکنڈے کے پیچھے کھڑا مجھے دیکھ رہا ہے، پھر وہیں غائب ہو گیا۔ میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگی“۔

تاجا خبر گیری بھی کرتا رہا۔ بچوں کو بھی سنبھالتا رہا۔ روٹی ہانڈی بھی کرتا رہا۔ پھول بھی بیچتا رہا۔ رات پڑتی تو چھابے کو پیڑی کے نیچے رکھ دیتا۔ صبح ہوتی تو چھابا گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوتا پہلے دن اس نے سوچا بابا بیمارہے، اس کو خیال آیا ہوگا۔ اس نے پھول صبح صبح بالے کے ہاتھ بھجوا دیے ہوں گے۔ اگلے روز پھر ایسے ہی تیسرے روز پھر یہی۔ چوتھے روز فیروزاں کا بخار اتر گیا۔ بولی ”تمہارا بابا بیمارتھا، پھول کون لاتا رہا“۔

تاجے نے جواب دیا ”صبح صبح بالا دے جاتا تھا“۔

بڑے دنوں بعد بیماری سے اٹھ کر جب بابا مراد آیا تو بہت کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ فیروزاں نے لاکر اس کے آگے گرم گرم چائے رکھی۔ مراد نے اسے دعائیں دیں اور تاجے سے کہنے لگا ”میں تمہیں اچھی خبر سناؤں۔ تمہاری بہن کی اپنے خاوند سے صلح ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنے گھر چلی گئی۔ تمہاری ماں نے خوشی میں تمہارے لیے پنجیری بھیجی ہے“۔

اس نے پنجیری کی پوٹلی کو ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ سے کہا ”بابا اتنے دن تم نے تو مجھے پھول نہیں بھیجے؟ “

 ”نہیں تو“۔

 ”فیروزاں پوچھے تو بس یہی کہنا، بالا دے جاتا تھا“۔

 ”پراتنی راز داری کیوں؟ “

 ”میں رات کو خالی چھابا پیڑھی کے نیچے رکھ دیتا تھا۔ صبح گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوتا تھا۔ فیروزاں نے ایک دن پوچھا تو میں نے کہا صبح صبح بالا آ کر دے جاتا تھا“۔

بابا مراد آہستہ سے بولا۔ ”بس یہ بات ہم دونوں میں رہے۔ تیسرے تک نہ پہنچے“۔

تاجے نے مزید رازداری سے کہا ”اب تو اس ناکہ پر پراسرار بیری کے درخت کے نیچے جہاں گلاب کی پتیوں کا چھابا پڑا ہے اور پھول کسی نادرہ کاری کے زور پر آپ ہی آپ بکتے ہیں، ایک اکھاڑہ کھد چکا ہے، جہاں لڑکے کسرت کرتے ہیں، اور ٹانگوں سے ایک معذور شخص انہیں بڑی توجہ سے کسرت کے گر بتاتا دکھائی دیتاہے۔

کوٹھڑی کے آگے بندھی بھینس کا دودھ دوہتی ایک عورت نظر آتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا۔ ان دونوں کا رشتہ کس طاقت نے چکایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آغا بابر کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4 5 6 7