لنگی: یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی پر شمویل احمد کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ”سر آپ لوگوں پر مہربان رہتے ہیں اور ہمیں تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ “

لڑکوں کو واقعی کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ لیکن لڑکیوں کو پریشانی نہیں تھی۔ ان پر خاص توجہ دی جاتی۔ اساتذہ آپس میں الجھ جاتے کہ کون سی طالبہ کس کی نگرانی میں تحقیق کرے گی۔ ان کے درمیان لڑکیاں مال مفت کی طرح بٹ جاتی تھیں لیکن کوئی طالبہ پروفیسر راشد اعجاز کو پسند آجاتی تو چیئرمین سے بھڑ جاتا اور اس کو اپنے حصّے میں لے کر ہی دم لیتا۔

اس کی لنگی کا رنگ زیادہ پختہ تھا۔ اس نے الگ سے ایک کمرے کا فلیٹ لے رکھا تھا اور دروازہ پر تختی لگا رکھی تھی، ”دارالمطالعہ“۔  وارڈروب میں لنگیاں سجی رہتیں۔  کچن بھی سجا رہتا۔۔۔  طالبات کو دارالمطالعہ میں بلاتا۔ چائے کا دور چلتا اور پروفیسر لنگی میں قیلولہ فرماتا۔

جو لڑکی فلیٹ کا رخ نہیں کرتی اُسے پی ایچ ڈی میں کئی سال لگ جاتے۔  لیکن وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا تھا۔ پہلے طالبہ کو یقین دلاتا کہ اُس کے بغیر وہ پی ایچ ڈی نہیں کر سکتی۔ وہ پہلا باب خود لکھ دیتا۔ بیچ بیچ میں ڈکٹیشن دیتا۔ ڈکٹیشن کے دوران لڑکی کے پیچھے کھڑا ہو جاتا اور جھک کر دیکھتا کہ اِملا کی غلطیاں کہاں کہاں ہیں؟ پھر اُس کے شانے کے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر غلط الفاظ پر شہادت کی انگلی رکھتا اور کہتا اسے صحیح کرو۔ اس طرح ہاتھ بڑھانے میں اُس کے بازو لڑکی کے رخسار کو چھونے لگتے۔  لڑکی ہٹ کر بیٹھنے کی کوشش کرتی تو اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا

تم میری مدد کے بغیر پی ایچ ڈی نہیں کر سکتبی۔ ۔  ’بچّی۔۔۔

تب کچھ دیر کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھ جاتا اورکہتا

۔  ”آگے لکھو۔۔۔ “

لیکن چند سطور لکھانے کے بعد پھر پیچھے کھڑا ہو جاتا اور رخسار سہلاتے ہوئے کہتا۔

 ”پیاری بچّی۔۔۔ اس طرح غلطیاں کرو گی تو تھیسس کا ستیا ناس ہو جائے گا۔ “

جب فضا سازگار ہو جاتی تو کمرہ اندر سے بند کرتا اور لنگی۔۔۔

راشد اعجاز اُسے ”پہلا ایپی سوڈ“ کہتا تھا۔ پہلا ایپی سوڈ ہمیشہ چیمبر میں ہوتا۔ باقی کے دارالمطالعہ میں۔۔۔

پروفیسر راشد اعجاز سے سبھی خائف رہتے۔  اس کی پہنچ وی سی تک تھی۔ منسٹرسے بھی اس کے روابط تھے۔  بلکہ افواہ تھی کہ بہت جلد کسی اردو ی نیورسٹی کا وائس چانسلر ہونے جا رہا ہے۔

لڑکوں کے لیے کوئی جھک جھک نہیں تھی۔ وہ آزاد تھے۔  جسے چاہتے اپنا سپروائزر بنا سکتے تھے۔  پھر بھی پروفیسر منظر حسنین کے پلّے کوئی پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ چہرے پر سفید داغ تھے اور مقطع داڑھی تھی۔ تکونی ٹوپی پہنتے تھے جو پیشانی کو ڈھک لیتی لیکن داغ چھپ نہیں پاتے۔  کسی نے کوئی سوال پوچھ لیا تو حسنین اُسے ٹارگیٹ کر لیتے اور اس کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ لیکن پنچ گانہ نماز پڑھتے اور اخلاقیات کا درس دیتے۔  ایک دو لنگی ان کے پاس بھی تھی۔ جہاں لنگی میسرنہیں ہوتی تو سوٹ کا اشارہ کرتے۔

 ” ریمنڈ کا سوٹ بہت اچھا ہوتا ہے۔ “

 ” سوچتا ہوں ایک سوٹ سِلوا لوں۔ “

 ” لیکن سلائی بہت مہنگی ہے۔ “

 ” آپ لوگوں کو کمی کیا ہے۔ ؟ جے آر ایف سے وظیفہ ملتا ہے۔ “

عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے اور پریشانی کون مول لے؟ ہر سیزن میں دو چار سوٹ وہ سلوا ہی لیتے۔

اور پروفیسر ہاشمی۔۔۔ ؟

آنحضرت نے حرم سجا رکھا تھا۔ بیوی چھوڑ کر جا چکی تھی۔ آزاد تھے۔  لڑکیاں کچن سنبھالتی تھیں۔  کوئی چوکا برتن کرتی، کوئی سبزیاں کاٹتی۔ گل بانو کپڑے دھوتی اور ڈکٹیشن لیتی۔ علی گڑھ سے فکشن کا ایک بڈّھا بادشاہ آیا توحرم سے دو ریسرچ اسکالر بھیجی گئیں۔  پرانا عہد نامہ میں آیا ہے۔۔۔

 ”اور داود بادشاہ بڈّھا اور کہن سال ہوا اور وہ اسے کپڑے اُڑھاتے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا۔ سو اُس کے خادموں نے اس سے کہا کہ ہمارے مالک بادشاہ کے لیے ایک جوان کنواری ڈھونڈی جائے جو بادشاہ کے حضور کھڑی رہے اور اس کی خبر گیری کیا کرے اور تیرے پہلو میں لیٹ رہا کرے تاکہ ہمارے مالک بادشاہ کو گرمی پہنچے۔ “

مالک بادشاہ نے آنحضرت کی سمیناروں میں پیروی کی اور انعام و اکرام سے نوازا۔

ثاقب نے قرۃالعین حیدر کی ناول نگاری پر کام کیا تھا۔ اس کی تھیسس مکمل ہو چکی تھی۔ وہ چاہتا تھا انٹرویو کی تاریخ مل جائے لیکن چیئرمین کا دستخط باقی تھا۔ وہ جب بھی تھیسس کی بات کرتا ابوپٹّی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔ اسے سینئر لڑکوں سے معلوم ہوا تھا کہ تاریخ یوں ہی نہیں مل جاتی۔ بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے لیکن ثاقب کسی امیر باپ کا بیٹا نہیں تھا۔ جے آر ایف کا جو وظیفہ ملتا اس سے اپنی پڑھائی اور ہاسٹل کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ اور اب تحقیق مکمل ہو گئی تھی تو وظیفہ بھی بند ہو چلا تھا۔

ثاقب انگریزی ادب کا بھی مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اس کی صلاحیتوں کے سبھی معترف تھے۔  پروفیسر راشد اعجاز اس کے سپر وائزر تھے۔  سب جانتے تھے کہ ثاقب کا مقالہ اس کی اپنی محنتوں کا ثمرہ ہے۔  کسی کو پیسے دے کر نہیں لکھوائے لیکن ثاقب غریب تھا۔

غریب ہو تو دکھ اٹھا نا پڑے گا۔

اور سکینہ وہاب۔۔۔ ؟ موذن کی لڑکی۔۔۔ ؟

گوبھی کے پھول میں بھی تازگی ہوتی ہے لیکن سکینہ کے چہرے پر تو خزاں کا رنگ مستقل وہم کی طرح چھایا رہتا۔ آنکھوں میں درد، کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتا تھا۔ ناک کی نوک اچانک بدھنے کی ٹوٹی کی طرح اوپر کو اٹھ گئی تھی۔ نظر پہلے ناک کے سراخوں پر پڑتی۔ پستہ قد تھی اور جسم تھٗل تھٗل تھا۔ اُسے کون پوچھتا۔ اساتذہ میں اس کے لیے کبھی تکرار نہیں ہوئی۔۔۔  اور ثاقب کڑھتا تھا۔ وہ سکینہ وہاب کے لیے عجیب سی ہمدردی محسوس کرتا جو اُلجھن بھری تھی۔ کیوں چلی آئی پی ایچ ڈی کرنے؟ کون پوچھے گا اس کو؟ لیکچرر تو زندگی بھر نہیں ہو سکتی۔ کوئی پیروی نہیں کرے گا؟ نہ تو اساتذہ کے پہلو گرم کر سکتی ہے نہ کمیٹی کے ممبران کی مٹھی۔ پھر یہاں آئی کیوں؟ غریب موذن کی لڑکی کو استانی ہونا چاہیے۔  گھر گھر میں اردو اور قران پڑھائے گی تو گذارا ہو جائے گا لیکن پی ایچ ڈی کر لے گی تو نکمّی ہو جائے گی۔ لیکن موذن کی لڑکی ذہین تھی۔ اس نے نفسیاتی کہانیوں پر تحقیق کی تھی۔ پروفیسرامجد اس کے نگراں تھے۔  وہ شاعری پڑھاتے تھے۔  فکشن سے زیادہ رغبت نہیں تھی۔ انہیں نفسیاتی ادب کی شد بد بھی نہیں تھی۔ افسانہ انوکھی مسکراہٹ ضرور پڑھ رکھا تھا اور اسی کا بار بار حوالہ دیتے تھے۔  وہ سکینہ کی رہنمائی کیا کرتے؟ لیکن سکینہ نے بہت محنت کی۔ دن بھر لائبریری میں بیٹھی پڑھتی رہتی۔ ثاقب نے اس کی مدد کی تھی۔ اس نے پچاس سے زائد نفسیاتی افسانوں کی ایک فہرست تیار کی تھی اور سکینہ کو سب کی فوٹو کاپی مہیا کرائی تھی۔ ثاقب کی مدد سے سکینہ وہاب نے اپنا مقالہ مکمل کیا تھا۔ اس کا مقالہ یونیورسٹی میں جمع بھی ہو گیا تھا لیکن وائیوا کی تاریخ طے نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شموئل احمد کی دیگر تحریریں
شموئل احمد کی دیگر تحریریں