لنگی: یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی پر شمویل احمد کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثاقب کی نظر سکینہ وہاب پر پڑتی اور وہ کڑھنے لگتا۔ ابھی ابھی وہ پروفیسر امجد کے چیمبر سے نکلی تھی۔

حسب معمول اس کے چہرے پر ٹوٹے پتّوں کا دکھ تھا لیکن کہیں سورج کی روپہلی کرنوں کا ہلکا سا رنگ بھی غالب تھا جو ثاقب کو نظر نہیں آیا۔

 ” کاٹتی رہو چکّر ڈپارٹمنٹ کے۔۔۔ “

 ” تاریخ مل گئی۔ “ وہ ہلکے سے مسکرائی۔ لیکن اس طرح مسکرائی جیسے رو رہی ہو۔

 ” ارے واہ۔ مبارک! “ ثاقب خوش ہو گیا۔

 ” لیکن ایک الجھن ہے۔ “ خزاں کا رنگ پھر غالب ہو گیا۔

 ” اب کیا ہو گیا؟

سکینہ نے ایک پرچہ ثاقب کی طرف بڑھا یا۔  اس نے ایک سرسری سی نظر ڈالی۔ یہ تیس ناموں کی فہرست تھی۔

یونیورسیٹیاں بھی صارفی کلچر کا حصّہ ہیں۔  رسر چ اسکالر پر واجب ہے کہ وائیوا کے لیے باہر سے استاد اعظم تشریف لائیں توپنچ ستارہ ہوٹل میں ضیافت کا اہتمام ہو ورنہ تھیسس ردّ ہو سکتی ہے۔

وائیوا لینے جامعہ سے استاد اعظم تشریف لا رہے تھے۔ وہ صرف لیگ کباب تناول فرماتے تھے۔  شعبہ سے فرمان جاری ہوا کہ حضرت کے لیے پر تکلف دعوت کا نظم کیا جائے۔  پروفیسر راشد نے مہمانوں کی فہرست بنائی ان میں رسر چ اسکالر اور شعبے کے دیگر اراکین کے نام بھی شامل تھے۔

تیس آدمیوں کی ہوٹل الکریم میں ضیافت۔۔۔ ۔ ؟ بٹر نان۔۔۔ بریانی۔۔۔ لیگ کباب۔۔۔ چکن ٹکّہ۔۔۔ چکن بون لیس۔۔۔ فش فرائی۔۔۔ !

غریب ہو تو الجھن میں مبتلا رہو گے۔

اور ثاقب غصّے سے کھول رہا تھا۔۔۔

 ” تمہیں پتا ہے اخراجات کیا ہوں گے۔۔۔ ؟ “

سکینہ خاموش رہی۔

 ” پچاس ہزار خرچ ہوں گے۔۔۔  پچاس ہزار۔ “

 ” سر کہہ رہے تھے اس سے شعبے کا وقار بڑھے گا۔ “

 ” تم شعبے کا وقار بڑھاؤ گی؟ اساتذہ اپنا وقار بڑھا رہے ہیں اور تم استعمال کی جا رہی ہواحمق اسکالر۔

 ” تو کیا کروں؟ “

 ” مرو! “ ثاقب جھنجھلا گیا۔

سکینہ آبدیدہ ہو گئی۔

تم نے وظیفہ کی رقم سے پیسے کاٹ کاٹ کر اپنی شادی کے لیے جمع کیے ہیں لیکن صارفی کلچر تمہارا پیسا اپنے تصرف میں لائے گا اور تم وہیں کھڑی رہوگی۔ کیا ضرورت تھی تمہیں پی ایچ ڈی کرنے کی دختر موذن۔۔۔ ؟ اپنے سسٹم سے باہر جینا چاہ رہی ہو تو مرو۔۔۔ ۔  طبقہ اشرافیہ کو تم قبول نہیں ہو۔ تم موذن کی لڑکی ہو۔ معاشرہ موذن کو موذن کہتا ہے۔  موذن صاحب نہیں کہتا۔ صاحب کا لفظ امام کے لیے ہے۔۔۔  ”

 ” ثاقب تم بھی۔۔۔ ! “ موذن کی لڑکی سسک پڑی۔

ثاقب خاموش رہا۔ اسے ندامت ہو رہی تھی۔ وہ اپنا غصّہ اس معصوم پر کیوں اتار رہا ہے؟ خود اس کی تھیسس تو لنگی دار بکس میں بند ہے۔

ثاقب نے معافی مانگی۔

 ” ساری سکینہ۔۔۔ معاف کر دو۔ “

 ” کیریئر کا سوال ہے ثاقب۔ “

 ” ہم احتجاج بھی درج نہیں کر سکتے۔۔۔ “ ثاقب ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

سکینہ نے آنچل کے کونے سے اپنے آنسو خشک کیے۔

ابو پٹّی نے دوسرے دن سیاہ لنگی خریدی، بیگ میں رکھا اور دس بجے اپنے چیمبر میں داخل ہوا۔ وہ اپنی کرسی کے بازو میں الگ سے ایک کرسی رکھتا تھا۔ زر بہار سلام کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ ابو پٹی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”فارم کی خانہ پری کر لی؟ “

 ” جی سر! “ زر بہار نے فارم اس کی طرف بڑھایا۔

ادھر آؤ۔ اس کرسی پر۔  ”ابو پٹّی نے بازو والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

زربہار کرسی پر اس طرح بیٹھی کہ دونوں کے بازو آپس میں مس ہو گئے۔  ابو پٹّی نے فارم پر سرسری سی نظر ڈالی۔  ”

 ” یہ کیا۔۔۔ ؟ صرف نام اور پتا درج کیا ہے۔ “

 ” سوچا آپ سے پوچھ کر بھروں گی۔ “

 ” بچّی ہو تم۔۔۔ ! “ ابو پٹّی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال تھپتھپائے۔  زربہار ہنسنے لگی۔ زلفوں کی لٹ رخسار پر جھول گئی ابو پٹّی خوش ہوا کہ رخسار سہلانے کا برا نہیں مانا۔۔۔ اب آگے بڑھا جا سکتا ہے۔  ابو پٹّی نے ایک قدم آگے۔۔۔

اصل میں اس کے ہاتھ جسم کی دیواروں پر چھپکلی کی طرح رینگتے تھے۔  چھپکلی کی نظر جس طرح پتنگے پر ہوتی ہے اس طرح ابو پٹّی کی نظر بچی کے چہرے پر ہوتی کہ تاثرات کیا ہیں۔۔۔ ؟ کس طرح شرما رہی ہے۔۔۔  برا تو نہیں۔۔۔ جھنجھلاہٹ کے آثار تو نہیں ہیں؟  ’نہیں‘ تو رہی۔۔۔ ؟ بھنویں تو نہیں تن رہی۔ ۔  کسی سے کچھ کہے گی گی؟ اگر سپردگی کے آثار نظر آتے تو دوسرا قدم بڑھاتا۔۔۔  چہرے کا دونوں ہاتھوں سے کٹورہ سا بناتا اور پیشانی چومتا۔۔۔ کچھ دیر کرسی پر بیٹھ کر موضوع سمجھانے کی کوشش کرتا اور پیاری بچّی کہہ کر آنکھیں چومتا۔۔۔ پھر رخسار۔۔۔  اور رینگتے رینگتے چٹ سے تتلی پکڑ لیتا۔ اگر ذرا بھی شبہہ ہوتا کہ بدک رہی ہے اور کسی سے شکایت کر سکتی ہے تو پیش قدمی روک دیتا اور ڈکٹیشن دینے لگتا۔

 ” دیکھو یہ ایک مشکل موضوع ہے۔  میں لکھا دیتا ہوں۔ “

اسے یقین دلاتا کہ وہ ایک بچّی ہے اور وہ اس کا بہت بڑا بہی خواہ ہے۔  ایک دو ابواب خود لکھ دیتا اور پھر دیوار پر رینگنے لگتا۔ چھپکلی اگر مستقل رینگتی رہے تو ایک دو پتنگے پکڑ ہی لیتی ہے۔

لیکن زربہار تو خود مکڑی کے جال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ابو پٹّی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ اس کے جی میں آیا فوراً دروازہ بند کرے اور لنگی پہن لے۔  اس نیت سے وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا لیکن اسی پل سکندر طوفانی دھڑدھڑاتا ہوا چیمبر میں داخل ہوا۔ زر بہار فوراً اٹھ کر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔

 ” السلام وعلیکم۔ “

 ” وعلیکم السلام“

 ” خاکسار کو سکندر طوفانی کہتے ہیں۔ “ طوفانی نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

ابو پٹّی کچھ گھبرا سا گیا تھا۔ ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ بغیر اجازت اندر آنے پر طوفانی سے باز پُرس کرتا۔

 ” یہ میری چھوٹی بہن ہے۔ “ طوفانی نے زر بہار کی طرف اشارہ کیا۔

 ” ماشا اللہ بہت ذہین بچّی ہے۔ “

 ” اک ذرا خیال رکھیے گا حضور۔۔۔ !  اور آپ مجھے تو جانتے ہی ہیں۔ “ طوفانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

وہ طوفانی کو جانتا تھا۔ اس نے ایک بار شعبہ انگریزی کے ایک پروفیسر کی اس کے چیمبر میں پٹائی کر دی تھی۔ وجہ تھی پروفیسر نے ایک طالبہ کے گال سہلائے تھے جو طوفانی کی گرل فرینڈ تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شموئل احمد کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4 5