لنگی: یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی پر شمویل احمد کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زر بہار اس دن اترا کر چل رہی تھی اور ساختیات پس ساختیات کی باتیں کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا جس میں اس کا مضمون شائع ہوا تھا۔ وہ سب کو دکھاتی پھر رہی تھی۔ ثاقب نے دیکھا تو۔۔۔

 ” ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ تو میرا مضمون ہے۔ “

 ” ما بعد جدیدیت کے اسرار۔ یہ میں نے لکھا ہے۔  تم نے اپنے نام سے کیسے شائع کرا دیا؟ “

 ” آپ کا مضمون کیسے ہو گیا جناب؟

 ” بالکل میرا ہے۔  تم نے چوری کی ہے۔ “

 ”آپ کے نام سے کہیں شائع ہوا ہے تو بتائیے۔ “

 ”میں نے کہیں شائع نہیں کرایا۔ میں اس سے مطمئن نہیں تھا تو پھاڑ کر پھینک دیا اور یہ تمہارے ہاتھ لگ گیا۔ “

 ” واہ!  کیا لاجک ہے؟ “

 ”میں تم پر مقدمہ دائر کروں گا۔ “

 ” آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں۔  میں سر سے کہوں گی۔ “

 ”سر نے ثاقب کو بلوایا۔ زر بہار بھی بیٹھی ہوئی تھی۔

 ”آپ ان کو دھمکی کیوں دے رہے ہیں؟ “

 ”میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں سر۔ لیکن انہوں نے میرا مضمون اپنے نام سے شائع کرا دیا ہے۔ “

 ” کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟ مضمون کی نقل دکھائیے۔ “

 ” نقل نہیں ہے۔ “

 ” کیوں؟ “

 ”میں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا لیکن مجھے معیاری نہیں لگا تو پھاڑ کر پھینک دیا کہ دوبارہ لکھوں گا۔ “

 ”اس بچّی نے بہت محنت کی ہے۔  میں گواہ ہوں۔  میری رہنمائی میں اس نے لکھا ہے اور آپ اس پر الزام لگا رہے ہیں؟ جائیے اپنی تھیسس مکمّل کیجیے۔ “

غصّے سے ثاقب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔  اس کے جی میں آیا کھری کھری سنا دے کہ ہم جب بھی کوئی مقالہ لے کر آئے آپ نے گھاس نہیں ڈالی۔ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی سے مضامین لکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس جاہل لڑکی پر اتنی عنایت۔۔۔ ؟

کمزور آنسو پیتا ہے۔

ثاقب آنسو پی گیا۔ اس نے خود کو ہی کوسا۔ غلطی اس کی ہے۔  مضمون پھاڑ کر پھینکنے کی کیا ضرورت تھی۔ رہنے دیتا ڈائری میں۔  اس حرّافہ کے ہاتھ تو نہیں لگتا؟

اساتذہ کے رویے سے ثاقب دل برگشتہ ہو گیا تھا۔ شعبہ میں اس کا آنا جانا کم ہو گیا۔ اس نے تھیسس میں کئی بارترمیم کی لیکن پروفیسر اعجاز کو ہر بار کمی محسوس ہوئی۔

قدرت بھی کبھی پے درپے زخم لگاتی ہے۔

اس بار ثاقب سنبھل نہیں سکا۔ وہ ایک دکان پر کچھ مسوّدے کی فوٹو کاپی کرانے گیا تھا۔ وہاں اسے زربہار کی تھیسس نظر آئی اور اس کے قدموں تلے زمین جیسے کھسک گئی۔ یہ اس کی اپنی تھیسس تھی جسے زر بہار نے اپنا نام دے دیا تھا۔ اس نے دکان سے تھیسس اٹھائی۔ دکان دار اسے روکتا ہی رہ گیا لیکن وہ سیدھا شعبے میں پہنچا۔ وہ پاگل کی طرح زر بہار کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ اسے کاری ڈور میں نظر آئی۔

 ” کیوں ری حرّافہ۔۔۔ ؟ یہ تیری تھیسس ہے؟ “

زر بہار کانپ گئی۔

ثاقب نے اسے دونوں ہاتھوں سے دبوچا۔

 ” میری تھیسس چوری کرتی ہے۔ “

 ” تمیز سے بات کیجیے۔ “

 ” تمیز سے بات کروں تجھ سے۔۔۔ ؟ ازاربند کی ڈھیلی دوسروں کو تمیز سکھاتی ہے۔۔۔ ؟ “

 ” چھوڑیے مجھے۔۔۔ “

ثاقب نے اسے دیوار سے اڑا دیا۔  ”لنگی میں ریسرچ کرتی ہے کمرے میں بند ہو کر۔۔۔ “

 ” مجھے جانے دیجیے۔ “

 ” ساختیات اور پس ساختیات۔۔۔ ؟ “

 ” میں کہتی ہوں چھوڑیے مجھے۔ “

  ”چھوڑوں تجھے۔۔۔ ؟ میرا مضمون چوری کرلیا، میری تھیسس چوری کر لی اور تجھے چھوڑ دوں۔۔۔ “ ثاقب نے اس کی چھاتیاں زور سے دبائیں۔

زر بہار سسک پڑی۔

ثاقب نے اس کی جانگھ اپنی جانگھ سے بھڑا دی۔

 ” میری جان۔۔۔  صرف لُنگی بردار کو دو گی۔۔۔ ؟ “

لڑکے اس کے ارد گرد جمع ہو گئے۔

 ”کیا کرتے ہو ثاقب۔۔۔ ؟ چھوڑو اِسے۔ “

 ” میری تھیسس چوری کی ہے۔ “

 ” اس کو ذلیل کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ اس پروفیسر سے کہو جو ریسرچ کے نام پر جنسی استحصال کرتا ہے، پیسے لیتا ہے اور تھیسس بیچتا ہے۔ “

لڑکوں نے کسی طرح اس کو زربہا ر سے چھڑایا۔

ثاقب سیدھا پروفیسر راشد اعجاز کے چیمبر میں گھسا۔ اس کی پشت پر لڑکے بھی تھے۔

 ” سن لے لنگی بردار۔۔۔ !  جس دن تیری داشتہ کو وائیوا کی ڈیٹ ملی اس دن ایف آئی آر درج کراؤں گا۔ “

شعبے نے چپّی سادھ لی۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔

ثاقب نے بھی ڈپارٹمنٹ چھوڑ دیا اور فوٹو کاپی کی دکان کر لی۔

اب وہ مسوّدے کی اسپائرل باینڈنگ کرتا ہے اور کمزور بچّوں کی تھیسس لکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شموئل احمد کی دیگر تحریریں
شموئل احمد کی دیگر تحریریں