آنکھ ہمیشہ شہر لاھور میں کھلتی ھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر گزرتی جا رہی ہے اور بہت سی حقیقتیں واضح ہوتی چلی جاتی ہیں!

زندگی کی بے ثباتی، خواہشوں کا کھوکھلا پن، بے قراریوں کا حساب، رشتوں کا اصل اور سفر کے اختتام کو دوڑتے ماہ و سال!

ماضی کے کچھ دنوں کی یاد کو کھونے سے خوفزدہ اور کچھ دنوں کو قصداً بھول جانے کی خواہش!

اور پھر ایک خیال سر اٹھاتا ہے، گئے دنوں کا یادداشت کی سلیٹ سے مٹنا صحرا کی باد نسیم ہے یا انگارے اگلتا عذاب!

اب کیا کریں کہ دل ناداں کچھ یادیں تو سینے سے لگائے قبر تک میں ساتھ لے جانا چاہتا ہے اور کچھ نامہربان دنوں کو خواب میں بھی نہیں دیکھنا چاہتا!

ڈیمینشیا اور نوسٹیلجیا! ایک ہاتھ میں یادوں کی بھول بھلیاں اور دوسرے میں فراموشی کی کیفیت۔

وہ سب وقت جو پیارے ماں باپ کے سائے میں بہن بھائیوں کی سنگت میں گزرا۔ وہ بچپن کے دن جن کی یاد آج بھی دل کو گدگداتی ہے ۔ وہ بے نیازی، الہڑ پن اور بے خودی جنہوں نے اس زمانے میں بےقرار کیا کہ بعد کے زمانوں میں کبھی وہ کیفیت نہ ہوئی۔ وہ کامیابی کی سیڑھیاں جن پہ چڑھ کے دنیا میں کامران ہوئے۔ وہ دوست جو سایہ بن کے ساتھ چلے۔

وہ وقت جب اپنے بچوں کی آنگن میں قلقاریاں سنیں۔ انہیں وقت کی آغوش میں بڑھتے دیکھا۔ ان کی معصومیت سے لطف اندوز ہوتے ہوتے انہیں دنیا میں سر اٹھائے نئی منزلیں سر کرتے دیکھا۔

اور ان دنوں کا کیا کریں جب زندگی کی کڑی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بہت کچھ دیکھا، سنا، اور سہا !

وہ تمام لمحے جب منہ زور ہواؤں کا مقابلہ کرتے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور اشکوں کی برسات نے جل تھل کر دیا۔ اماں ابا کی جدائی دیکھی، کچھ مہربانوں کی بے التفاتی سہی، آسمان کی بےنیازی برتی، مادر وطن سے کوچ اور یادوں کی یلغار نے دکھی کیا۔

یاد اور فراموشی کی اس الجھن کو سلجھاتے سلجھاتے گزرا ہوا وقت، بچھڑے لوگ، ماضی میں گم ایام اور مقام، داستان حیات کے وہ اوراق بن جاتے ہیں جو ذہن کی کھڑکیوں میں دیمک بن جاتے ہیں، اوراندر ہی اندر نقب لگاتے ہوئے ذہن کو کھوکھلا کر جاتے ہیں۔ جس طرح دیمک زدہ لکڑی کسی معمولی ضرب پہ کبھی بھی تڑخ سکتی ہے، ذہن بھی یادوں کے گورکھ دھندے میں الجھ کے فراموشی کے جنگل میں گم ہوتے ہوئے یہ نہیں جانتا کہ وقت اسے کہاں لے آیا ہے۔

پردیس کو دیس بنانے والے مسافروں کا المیہ ہی کچھ اور ہے۔ مسافت کی کٹھنائیوں اور وقت کی ڈور میں الجھنے کے ساتھ ساتھ منزل بھی بدل جاتی ہے۔ماضی کی گلیوں کو پھر سے دیکھنے کی امید ایک ایسا خواب بن جاتا ہے جو ساری عمر عذاب راتوں میں پلکوں پہ چبھتا ہے اور زندگی کو کسک دیتا ہے۔

دھیرے دھیرے دیس کی گلیاں پردیس کے رستوں میں یوں گڈمڈ ہوتی ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آتا حقیقت کیا ہے؟

چلیے ایک نظم دیکھیے ! جسے طیب رضا کاظمی نے ڈیمینشیا اور نوسٹیلجیا کے ارد گرد بنا ہے۔

‎ایسا اکثر ھوتا ھے

‎ میں ٹورونٹو کے کسی کوچے میں مڑتا ھوں

‎ اور بحیرہ عرب کی گرم لہریں

‎ میرے پیروں سے ٹکرانے لگتی ھیں

‎ طبیب ضعفِ قلب کی دوا تجویز کرتا ھے !

‎ایک دفعہ راک فیلر سنٹر سے

‎ انچاسویں گلی کوفے میں جا نکلی

‎ پھرنجف ۔۔۔

‎ کربلا تک میں پیدل چلا

‎ لیکن ایسا ایک ھی مرتبہ ھوا

‎ راسخ العقیدہ اسے ایمان کی کمی گردانتے ھیں

‎یہ کم لوگ جانتے ھیں

‎ کہ ہارورڈ یارڈ کا ایک دروازہ ٹیکسلا میں کھلتا ھے

‎ جہاں خرادیے شاگردوں کے بچپن کو

‎ آہنی سریے سے پیٹتے ھیں

‎ جب ننھے ہاتھوں سے کوئی اوزار نیچے گر جاتا ھے

‎ نیلے آنسو میرے اندر گرنے لگتے ھیں !

‎آئیفل ٹاور سے لوور کے راستے پر

‎ مجھے تاج محل دکھائی دیتا ھے

‎ لیکن ٹکٹ نہیں ملتی

‎ سین میں چلنے والے سٹریمر

‎ سندھ کے راستے جمنا نہیں پہنچ پاتے

‎ بیچ میں ہمالیہ آ جاتا ھے

‎ میں لڑنے لگتا ھوں !

‎تھکن سے چور، نڈھال

‎ میں کہیں بھی سو جائوں

‎ میری آنکھ ، ہمیشہ

 شہر لاہور میں کھلتی ھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •