اس ذہین نوجوان کو لڑکیوں سے نفرت تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس وقت ایڈنبرا میں تھا جب یہ خبر پہنچی کہ سلیم نے ایک نرس کو تھپڑ مار دیا جس کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ایڈنبرا بھی ایک شہر ہے اسکاٹش تاریخ، ادب اور ثقافت کا ایک عجیب و غریب ترجمان۔ شاہی قلعے، میوزیم، ہرے بھرے میدان اور شہر کی پتلی پتلی گلیوں میں اُگا ہوا شہر جہاں اگر کوئی ایک دفعہ رہ لے تو وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور جس نے ایڈنبرا نہیں دیکھا اس نے شاید یورپ میں سب سے اچھی جگہ نہیں دیکھی۔ ایڈنبرا آکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کسی کی خبر نہیں رہی کہ کون کیا کررہا ہے۔ جب سال بھر ایڈنبرا میں رہتے رہتے ایک دن ایک دوست کو فون کیا تو اس نے یہ خبر دی تھی۔

سلیم کالج میں مجھ سے دو سال سینئر تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بدتمیز ہے، سرچڑھا ہے، مغرور ہے اور ہر کسی کی ہر وقت بے عزتی کرنے پر تیار رہتا ہے۔ مگر وہ بلا کا ذہین تھا اور ہر وقت کسی کی بھی مدد کرنے کوتیار رہتا۔ میری اُس سے دوستی اسی وجہ سے ہوئی تھی۔

میڈیکل کالج میں پہلا سال تو ایسے ہی گزرگیا کہ کچھ پتا ہی نہیں چلا۔ دوسرے سال کے پہلے چھ مہینے سیریس ہونے میں لگ گئے۔ بات یہ ہے کہ پڑھنے کے سوا ہر کام میں دل لگتا تھا اور جب امتحان میں صرف چار مہینے رہ گئے تو پتا لگا کہ پہلے پروفیشنل کے امتحان میں اناٹومی، فزیالوجی اوربائیوکیمسٹری کی موٹی موٹی کتابیں پڑھنی ہیں۔ ساتھ میں جرنل بنانے ہیں۔ ہمارے پورے گروپ کو ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔

ایسے حالات میں سلیم بھائی نجانے کہاں سے رحمت کا فرشتہ بن کر آئے۔ وہ ہمیں کالج کینٹین میں ملے۔ ہم آٹھوں لڑکے ایک ہی میز کے چاروں طرف کرسی لگا کر بیٹھے تھے کہ ہمیں ان کے چلّانے کی آواز آئی، وہ کینٹین والے پر سخت غصہ کررہے تھے کہ انہیں کوک میں برف ڈال کر کیوں نہیں دیا ہے اور وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ شام کا وقت ہوچکا ہے اور برف ختم ہوگیا ہے۔ ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ نجانے میرے دل میں کیا سمائی کہ میں کالج کینٹین سے دوڑتا ہوا نیچے گیا اور سڑک کے دوسری طرف گنے کے ٹھیلے والے سے ایک روپے کا برف لے کر واپس آیا۔ وہ بر کینٹین والے کو دے کر ایسا ہی لگا جیسے جنگی شعلوں پرٹھنڈک پڑگئی ہو۔

سلیم بھائی کو ہر شخص جانتا تھا۔ پہلے پروفیشن کے تینوں مضامین میں ان کو گولڈ میڈل ملا پھر دوسرے پروفیشن کے دونوں مضامین میں بھی انہیں گولڈ میڈل ہی ملا تھا۔ لوگ اکثر بات کرتے تھے کہ اتنا ذہین اور پڑھنے والا آدمی اتنا بدتمیز کیوں ہے اور بات اسی پر ختم ہوتی تھی کہ آدمی میں سب کچھ تو اچھا نہیں ہوسکتا ہے۔ اتنی اچھائیوں کے ساتھ اس قسم کی برائی تو لازم ہے۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آئی ہی جاتی ہے۔

وہ ہمارے ساتھ ہی بیٹھ گئے اورہماری باتوں سے فوراً ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ ہم سب لوگوں کی پریشانی کیا ہے۔ وہ دن بڑا اچھا ثابت ہوا۔ انہوں نے خود ہی کہا کہ وہ روز ایک سے دو گھنٹے ہمیں پڑھادیں گے توامتحان آسانی سے پاس ہوجائے گا۔

پھر یہی ہوا، دوسرے دن سے ہی اناٹومی کے ہال میں شام کے چار بجے کے بعد جب سب لوگ چلے جاتے تو ہال کا انچارج ہمارے لیے ایک لاش نکال دیتا اور ہمیں انہوں نے سر سے ایڑی تک ایک ایک مسلسل ایک ایک ریشہ ایک ایک رگ جسم کے حصوں اور اعضا کو پڑھانے کا جیسے ٹھیکہ لے لیا ہو۔ اس طرح سے سلیم بھائی نے دو سال کا کام ہمیں چار ہفتے میں کرا دیا۔ میوزیم اور انسانی جسم کی ہڈیوں کے بارے میں جو ضروری معلومات امتحان کے پاس کرنے کے یے آنی چاہئیں انہوں نے ہمیں اس میں ماہر کردیا سوال پوچھ پوچھ کر بار بار، بالکل امتحان کے طریقے سے۔

ہم سب لوگوں کوجلد ہی احساس ہوا کہ ہم بھی تھوڑے سے پڑھے لکھے ہوگئے ہیں۔ ایک ہلکی سی خود اعتمادی آگئی اور یہ امید ہوچلی کہ شاید امتحان پاس ہوجائے گا۔

اگلے مرحلے پر سلیم بھائی نے کتابوں پر نشان لگا کر دیے کہ فوری طور پر کیا پڑھنا ہے، کیا یاد رکھنا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی تھیں کہ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی مت پڑھنا، نہ یہ امتحان میں پوچھیں گے نہ ہی تم لوگوں کی سمجھ میں کچھ آئے گا اور اگر امتحان میں آبھی گیا تو چھوڑ دینا کہ زیادہ تر لوگ ان سوالوں کا جواب ہی نہیں دے سکیں گے۔

ہمارا معمول بدل کر رہ گیا۔ صبح سے شام تک ہم لوگ لائبریری میں بیٹھے نشان زدہ صفحات پڑھتے رہتے۔ شام کو کبھی اناٹومی ہال اورکبھی میوزیم میں سلیم بھائی کے ساتھ انسانی جسم، ہڈیوں اورکٹے ہوئے اعضا پرہماری تعلیم ہوتی۔ پھر واپس لائبریری اور رات کو کھانا کھانے کے بعدجب سب لوگ چائے پینے بیٹھے تو سلیم بھائی سوال جواب کا سلسلہ شروع کرتے تاکہ ہم لوگ زبانی امتحان کے لیے بھی تیار ہوجائیں۔

وہ ہاسٹل نمبر چار میں رہتے تھے۔ میں تو گھر پر ہی رہتا تھا مگر امتحان کی تیاری کے لیے اپنے دوست حامد اور ذوالفقار کے ساتھ ہی ہاسٹل نمبر دو میں آگیا تھا۔ وہ چار مہینے اس طرح سے گزرے کہ کچھ پتا ہی نہیں چلا پھر امتحان کے دن بھی آگئے۔

تحریری امتحان اور زبانی امتحان بہت آسان تو نہیں لگے لیکن کوئی زیادہ مشکل بھی نہیں ہوئی اور بہت سے لوگوں اور دوستوں کی توقعات کے خلاف ہم سب کے سب امتحان پاس کرگئے۔ ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ امتحان صرف اور صرف سلیم بھائی کی وجہ سے پاس ہوئے ہیں۔

ان چار مہینوں میں مجھے سلیم کے بارے میں کچھ اور باتوں کا بھی اندازہ ہوا۔ دو دفعہ تو وہ ہم لوگوں پر بھی اتنے ناراض ہوئے کہ لگا شاید ہماری مدد کرنا بند کردیں گے۔ باتیں بھی معمولی تھیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بات بھی نہیں تھی مگر ان کے ساتھ رہ کر یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی بات بے بات پر بھی اچانک ناراض ہوسکتے ہیں۔ ان کا چہرہ لال ہوجاتا اور وہ اس طرح سے چیختے کہ دور دور تک آواز جاتی۔

ہماری تو غرض تھی، ہم نے ڈانٹیں سنی اور بدتمیزی برداشت کی، ان کے کمرے میں جا کر اپنے اس قصور کی بھی معافی مانگی جو ہم سے سرزد ہی نہیں ہوا کیوں کہ ہم لوگوں نے ان سے پڑھنا تھا، ان کی مدد درکار تھی۔ اس لیے کہ اس کے بغیر ہمارا پاس ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔

یہ بھی ایک خاص بات تھی کہ وہ ناراض ہونے کے بعد راضی بھی ہوجاتے تھے، اکثر و بیشتر خود ہی نادم اور خود پریشان۔ بات کرنا چاہتے ہیں کرتے بھی ہیں، ہاتھ ملانا ہے مگر ملا نہیں سکتے۔ اورہمیں اندازہ ہوجاتا کہ انہیں احساس ہوگیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ ناراض ہوگئے تھے، کوئی بات تو تھی نہیں ناراضگی کی۔

”یار مجھے معاف کردینا بڑی غلطی ہوگئی۔ مجھے ذرا غصہ آگیا تھا۔ نجانے کیا ہوجاتا ہے مجھے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ دیکھو آج میں نے ایک مریض کے رشتے دار کو بھی کتنا ڈانٹا وہ تو خود ہی پریشان تھا اس کا کیا قصور۔ “ پھر بات ختم ہوجاتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •