ٹیٹوال کا کتا: کشمیری منٹو نے کشمیر کا دکھ کیسے لکھا؟


”بشیرے، لکھ اس پر گورمکھی میں۔ ان کیڑے مکوڑوں میں۔ “

بشیر نے سگرٹ کی ڈبیا کا گتا لیا اور پوچھا۔

”کیا لکھوں صوبیدار صاحب۔ “

صوبیدار ہمت خاں نے مونچھوں کو مروڑے دے کر سوچنا شروع کیا۔

”لکھ دے۔ بس لکھ دے! “

یہ کہہ اس نے جیب سے پنسل نکال کر بشیر کودی

”کیا لکھنا چاہیے؟ “

بشیر پنسل کے منہ کو لب لگا کر سوچنے لگا! پھرایک دم سوالیہ انداز میں بولا

”سپڑ سُن سُن؟ “

لیکن فوراً ہی مطمئن ہو کر اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

”ٹھیک ہے۔ چپڑ جُھن جُھن کا جواب سپڑ سُن سُن ہی ہو سکتا ہے۔ کیا یاد رکھیں گے اپنی ماں کے سکھڑے۔ “

بشیر نے پنسل سگرٹ کی ڈبیا پرجمائی۔

”سپر سن سن؟ “

”سولہ آنے۔ لکھ۔ سب۔ سپر۔ سن سن! “

یہ کہہ کرصوبیدار ہمت خاں نے زور کا قہقہہ لگایا۔

”اور آگے لکھ۔ یہ پاکستانی کتا ہے! “

صوبیدار ہمت خاں نے کتا بشیر کے ہاتھ سے لیا۔ پنسل سے اس میں ایک طرف چھید کیا اوررسی میں پرو کرکتے کی طرف بڑھا۔

”لے جا، یہ اپنی اولاد کے پاس! “

یہ سن کر سب خوب ہنسے۔ صوبیدار ہمت خاں نے کتے کے گلے میں رسی باندھ دی۔ وہ اس دوران میں اپنی دم ہلاتا رہا۔ اس کے بعد صوبیدار نے اسے کچھ کھانے کو دیا اور بڑے ناصحانہ انداز میں کہا۔

”دیکھو دوست غداری مت کرنا۔ یادرکھو غدار کی سزا موت ہوتی ہے! “

کتا دم ہلاتا رہا۔ جب وہ اچھی طرح کھا چکا تو صوبیدار ہمت خاں نے رسی سے پکڑ کر اس کا رخ پہاڑی کی اکلوتی پگڈنڈی کی طرف پھیرا اور کہا۔

”جاؤ۔ ہمارا خط دشمنوں تک پہنچا دو۔ مگر دیکھوواپس آجانا۔ یہ تمہارے افسر کا حکم ہے سمجھے؟ “

کتے نے اپنی دم ہلائی اور آہستہ آہستہ پگڈنڈی پر جو بل کھاتی ہوئے نیچے پہاڑی کے دامن میں جاتی تھی چلنے لگا۔ صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بندوق اٹھائی اور ہوا میں ایک فائر کیا۔ فائر اور اس کی باز گشت دوسری طرف ہندوستانیوں کے مورچے میں سنی گئی۔ اس کا مطلب اُن کی سمجھ میں نہ آیا۔ جمعدار ہرنام سنگھ معلوم نہیں کس بات پر چڑچڑا ہورہا تھا، یہ آواز سن کر اور بھی چڑچڑا ہو گیا۔ اس نے فائر کا حکم دے دیا۔ آدھے گھنٹے تک چنانچہ دونوں مورچوں سے گولیوں کی بیکار بارش ہوتی رہی۔ جب اس شغل سے اکتا گیا تو جمعدار ہرنام سنگھ نے فائر بند کرادیا اور داڑھی میں کنگھا کرنا شروع کردیا۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے جالی کے اندرسارے بال بڑے سلیقے سے جمائے اور بنتا سنگھ سے پوچھا۔

”اوئے بنتاں سیاں! چپڑ جُھن جُھن کہاں گیا؟ “

بنتا سنگھ نے چیڑ کی خشک لکڑی سے بروزہ اپنے ناخنوں سے جدا کرتے ہوئے کہا۔

”کتے کو گھی ہضم نہیں ہوا؟ “

بنتا سنگھ اس محاورے کا مطلب نہ سمجھا۔

”ہم نے تواسے گھی کی کوئی چیز نہیں کھلائی تھی۔ “

یہ سن کر جمعدار ہرنام سنگھ بڑے زور سے ہنسا۔

”اوئے ان پڑھ۔ تیرے ساتھ تو بات کرنا پچانویں کا گھاٹا ہے! “

اتنے میں وہ سپاہی جو پہرے پر تھا اور دور بین لگائے اِدھر سے اُدھر دیکھ رہا تھا۔ ایک دم چلایا۔

”وہ۔ وہ آرہا ہے! “

سب چونک پڑے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے پوچھا۔

”کون؟ “

پہرے کے سپاہی نے کہا۔

”کیا نام تھا اس کا؟ چپڑ جُھن جُھن! “

”چپڑ جُھن جُھن؟ “

یہ کہہ کر جمعدار ہرنام سنگھ اٹھا۔

”کیا کررہا ہے۔ “

پہرے کے سپاہی نے جواب دیا۔

”آرہا ہے۔ “

جمعدار ہرنام سنگھ نے دور بین اس کے ہاتھ میں لی اور دیکھنا شروع کیا۔

”ادھر ہی آرہا ہے۔ رسی بندھی ہوئی ہے گلے میں۔ لیکن۔ یہ تو اُدھرسے آ رہا ہے دشمن کے مورچے سے۔ “

یہ کہہ کر اس نے کتے کی ماں کو بہت بڑی گالی دی۔ اس کے بعد اس نے بندوق اٹھائی اور شست باندھ کر فائر کیا۔ نشانہ چُوک گیا۔ گولی کتے سے کچھ فاصلے پر پتھروں کی کرچیں اڑاتی زمین میں دفن ہو گئی۔ وہ سہم کر رُک گیا۔ دوسرے مورچے میں صوبیدار ہمت خاں نے دور بین میں سے دیکھا کہ کتا پگڈنڈی پر کھڑا ہے۔ ایک اور فائر ہوا تووہ دم دبا کر الٹی طرف بھاگا۔ صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف۔ وہ زور سے پکارا۔

”بہادر ڈرا نہیں کرتے۔ چل واپس“

اور اس نے ڈرانے کے لیے ایک فائر کیا۔ کتا رک گیا۔ ادھر سے جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق چلائی۔ گولی کتے کے کان سے سنساتی ہوئی گزر گئی۔ اس نے اچھل کر زور زور سے دونوں کان پھڑپھڑانے شروع کیے۔ ادھر سے صوبیدار ہمت خاں نے دوسرا فائر کیا جو اس کے اگلے پنجوں کے پاس پتھروں میں پیوست ہو گیا۔ بوکھلا کر کبھی وہ ادھر دوڑا، کبھی ادھر۔ اس کی اس بوکھلاہٹ سے ہمت خاں اور ہرنام دونوں مسرور ہوئے اور خوب قہقہے لگاتے رہے۔

کتے نے جمعدار ہرنام سنگھ کے مورچے کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ اس نے یہ دیکھا تو بڑے تاؤ میں آکر موٹی سی گالی دی اور اچھی طرح شِست باندھ کر فائر کیا۔ گولی کتے کی ٹانگ میں لگی۔ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ اس نے اپنا رخ بدلا۔ لنگڑا لنگڑا کر صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف دوڑنے لگا تو اُدھر سے بھی فائر ہوا، مگر وہ صرف ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہمت خاں فائر کرنے ہی چلایا۔

”بہادر پروا نہیں کیا کرتے زخموں کی۔ کھیل جاؤ اپنی جان پر۔ جاؤ۔ جاؤ! “

کتا فائر سے گھبرا کر مڑا۔ ایک ٹانگ اس کی بالکل بیکار ہو گئی تھی۔ باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ جمعدار ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کر گولی چلائی جس نے اسے وہیں ڈھیر کردیا۔ صوبیدار ہمت خاں نے افسوس کے ساتھ کہا۔

”چچ چچ۔ شہید ہو گیا بے چارہ! “

جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نالی اپنے ہاتھ میں لی اور کہا۔

”وہی موت مرا جو کتے کی ہوتی ہے! “

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3