میری قانونی بیوی میری شرعی بیوی کا راز کھل جانے پر ناراض ہے
میں نے اس غلطی کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ مقدر کا بھی ہاتھ ہے۔ دیکھو میں فلم دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کتنا اچھا تھا کہ عمر کے آخری سالوں کو ہم دونوں اس طرح بتاتے۔ بوڑھا بوڑھی، چین سکون کے ساتھ، جیسے گزاررہے ہیں، باہمی افہام و تفہیم سے مگردیکھو میں کس کھلواڑ میں پڑ گیا۔ وہ بھی کچھ شانت ہو گئی۔ آج گیزرکو کچھ ہو گیا، پانی ٹھنڈا ہے۔ وہ مجھے کہتی رہی کہ پانی چینک سے لو اور ٹھنڈا پانی ملا کروضو کرومگر میں نے ہوہوہوکرتے ہوئے ٹھنڈے پانی سے ہی وضوکیا اور عشاٗ کی نمازپڑھنا شروع کردی۔ وہ اس دوران صوفہ پرہی، موبائل ہاتھ میں پکڑے پکڑے سوگئی۔ میں نے نمازسے فارغ ہوکراسے جگایا تاکہ وہ اپنے بسترپرجا لیٹے۔
بلی موسیا کو بھی وہ کسی نہ کسی طرح اندرلے آئی تھی۔ میرا چارسال کا بیٹا عافین کسی صورت بھی رات بارہ بجے سے پہلے نہیں سوتا۔ کبھی مجھ سے ڈانٹ کھاتا ہے، کبھی میم پرزبر والی میم میم یعنی مام مام کرتا کچن میں کام کرتی ماں کے پاس جاتا ہے وہ وہاں سے کھدیڑتی ہے کہ جاؤ کمبل اوڑھ کر لیٹ رہو۔ وہ بنا کمبل کے لیٹا پے پرزبروالا پیپ پیپ یعنی پاپ پاپ کرتا مجھ سے مخاطب ہوتا ہے، میں ہوں ہاں کرتا ہوں اور پھر ڈانٹتا ہوں کہ بڑے بھائی بہن سو گئے، تومیرا دماغ چاٹ رہا ہے۔ آج بلی موسیا عافین بنی ہوئی تھی، باربارباہرجانے کی کوشش کرتی تھی اور نینا کہتی تھی کہ میں تمہیں باہرتونہیں جانے دوں گی۔ آخرکاروہ بھی مجھ سے عارضی صلح کرکے عافین کی طرح سوہی گئی ہے، دالان میں گدے پر۔ چلیں میں بھی سو جاتا ہوں۔
کل رات کی نسبت اس رات گرمی تھی۔ نینا نے مجھے کہا تھا کہ سونے سے پہلے لحاف پرکمبل ڈال لو بلکہ پھر خود ہی ڈال کے رکھ دیا تھا۔ میں بہت دیرتک میلان کندیرا کا ناول ”بقائے دوام“ پڑھتا رہا جسے ہمارے دوست ارشد وحید نے ترجمہ کیا ہے اور اس بارملنے پراس نے مجھے لکھ کے تحفہ دیا تھا۔ ترجمہ اچھا ہے۔ پھر سونے کی کوشش کی تودوہرے لحاف میں گرمی لگی اور لکڑی کی دیوار سے ہاتھ ٹکراتے رہنے کے سبب نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کمبل لپیٹ کردوررکھا اور سرپلنگ کے دوسری جانب کرلیا کیونکہ مجھے بائیں پہلو پرسونے کی عادت ہے، یوں ہاتھ توٹکرانے سے بچ گیا تھا مگرانتہائی سکوت کے سبب کانوں میں شورکا مرض ٹنائٹس تنگ کر رہا تھا۔
روئی میں نینا سے کل کا لے کراپنے بن درکے چھوٹے سے کمرے میں رکھ چکا تھا، وہ کانوں میں اڑسی جس سے تھوڑا سا افاقہ ہوا اور مجھے نیند آ گئی۔ اگرچہ کئی بارآنکھ کھلی لیکن میں اٹھا پونے دس بجے۔ نینا نے ایک دیگچے میں پانی بھر کے اسے میرے نہانے کی خاطر گرم کرنے کو الیکٹرک راڈ ڈالا ہوا تھا اور اوون میں کچھ تیارہونے کورکھا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کیا پھرکدو کے رول ہیں، اس نے کہا کہ نہیں یہ پنیر کا بتربرود ہے۔ میں چائے پینے لگا، اس نے اوون سے اپنے لیے بوتیربرود نکال لیا۔
میں چائے پی چکا تو مجھ سے پوچھا، کھاؤ گے۔ میں نے کہا مجھے ابھی باتھ روم جانا ہے، پھرنہانا ہے تواس نے کہا پھر توٹھنڈے ہو جائیں گے، ویسے ٹھنڈے بھی اچھے لگتے ہیں۔ میں نے کہا دے دو پھر۔ ڈبل روٹی کے ٹکڑوں پرپنیر اور ٹماٹر کے ٹکڑوں والا یہ گرم گرم بوتیربرود اتنا مزیدار لگا کہ میں نے ایک اور مانگ لیا، مجھے دے کے نینا نے بھی ایک اور لے لیا۔ وہ خود توشہد ملی کافی لے رہی تھی، مجھ سے بھی پوچھا چائے دوں یا کافی۔
میں نے دونوں سے انکار کیا۔ پھرایک جگہ سے فراغت کے بعد نہانے کا بندوبست کرنے کوکہا۔ اس نے ایک دس لٹر کی بالٹی میں آدھا دیگچہ ابلے پانی کا ڈالا۔ بالٹی غسل خانے میں رکھی اور دہلیز پربچ رہے گرم پانی والا دیگچہ۔ میں جب نہانے کے لیے بالٹی کے گرم پانی میں ٹھنڈا پانی ملانے لگا تو معلوم ہوا کہ گیزرتو کام کر رہا ہے۔ میں نے جی بھرکے شاور لیا اور نکل کے کہا کہ اپنا گرم پانی اٹھا لو، میں ٹھنڈے پانی سے نہا لیا۔ وہ کچھ کہنے کو ہی تھی کہ میں نے کہا، گیزر ٹھیک کام کر رہا ہے۔
میں فجر کی قضا نماز پڑھنے لگا وہ لان میں نکل گئی۔ فارغ ہوا توباہرنکلا۔ وہ سیب کے درخت کے تنے کے پیچھے کھڑی کسی سے بات کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ہونا کیا ہے، کچھ بھی نہیں ہوگا، وہ مہمان آیا ہے اور مہمان کی مانند لوٹ جائے گا۔ مجھے دیکھ کے مسکرائی۔ میں نے پوچھا کس سے میرے متعلق باتیں ہورہی ہیں۔ اس نے کہا گالیا سے اور گالیا کوبلا لیا۔ گالیا دو داچوں کے بیچ کھلتا دروازہ کھول کراندرآ گئی یعنی دونوں چند میٹروں کے فاصلے سے باتیں کر رہی تھیں۔
میں نے اس کا حال چال پوچھا تو نینا نے کہا ترنگلی لو اور پتے اکٹھے کرو۔ میں نے ہمسائی کو دکھانے کی خاطرایسا کرنا شروع کردیا۔ وہ تو سالی کوئی قوم پرست نکلی۔ بولی ہم نے بلغارویوں اور پاکستانیوں سب کو خوش آمدید کہا اور خود مصیبت میں پھنس گئے۔ میں نے کہا پاکستانی تونہ ہونے کے برابر ہیں۔ بولی بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے ریازان میں تہہ خانوں میں رہتے ہیں۔ پھربوسنیا کے مسلمانوں کو ظالم اور قاتل بتانے لگی۔ میں جہل اور تعصب سے ہٹ کے ترنگلی پھینک اندرآ گیا۔
ہمسائی چلی گئی تو میں نے پتے اکٹھے کرنے میں نینا کی کچھ مدد کردی۔ نینا پھرمیرے بچوں اور بچوں کی ماں کا ذکر لے کے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیرمیں پھرآنکھیں پونچھتی باہرچلی گئی۔ اس کے دل میں بھی محبت امڈتی ہے پھرلاتعلق ہونے کی سعی کرتی ہے۔ میں کمپیوٹرپرکام کرتا رہا وہ اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دیتی رہی۔ میں نے کام کرتے کرتے کہا کہ بھوک لگی ہے۔ بولی ابھی دیتی ہوں۔ ہم نے پھرکدو کا سوپ، مرغ کا مزیدارسالن اور کٹے ہوئے کھیرے اور ہری مرچوں کا ظہرانہ کیا۔ میں یہ الفاظ لکھ رہا تھا کہ اسے ٹی وی دیکھتے دیکھتے سردی لگ گئی۔ اس نے اپنا پل اوور پہنا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا لکھ رہے ہو۔ میں نے کہا میرے پاس آ جاؤ۔ وہ چند لمحے میرے ساتھ لگ کے لیٹی اور اب چائے بنانے چلی گئی ہے۔ باقی بعد کی بعد میں۔
میں نے کھانا کھانے کے بعد لان میں کپڑا بچھا کرظہرکی نمازپڑھی اور وہ ساتھ کے کمرے میں ٹی وی دیکھتی رہی۔ میں پھرسے کمرے میں آ کرکمپیوٹرپرمصروف ہوگیا۔ پھرلان میں ہی جا کر عصرپڑھی۔ نینا کہنے لگی، تمہارے آنے سے میں سست ہو گئی ہوں، میرے کتنے کام پڑے ہیں۔ میں نے اسے کافی کے لیے کہا۔ وہ الیکٹرک کیٹل کو آن کرکے، دودھ کا ڈبہ اور کافی کا جاررکھ کے گاؤں کی دکان سے کچھ لینے نکل گئی۔ میں نے دودوھ اور کافی پڑے دیکھے مگر سمجھا شاید دینا بھول گئی ہو۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

