میری قانونی بیوی میری شرعی بیوی کا راز کھل جانے پر ناراض ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ برس بعینہ ان ہی تاریخوں میں میں اسی داچا پرتھا جس میں آج بیٹھا حروف جوڑ کرالفاظ میں ڈھال رہا ہوں۔ لگتا ہے کہ تب اور اب میں کچھ فرق ہے اور کچھ فرق ہے بھی نہیں۔ داچا محض ایک مقام یا جائے استراحت نہیں جسے انگریزی میں کنٹری ہاؤس کہا جاتا ہے بلکہ یہ گھر ہے جس کی مکین میری قانونی اور شرعی بیوی ہے جو میری خالصتاً شرعی بیوی کا راز کھل جانے پرمجھ سے ناراض ہے۔

صرف شرعی بیوی کا اور میرا مزاج نہیں ملتا، یہی وجہ تھی کہ ہم ایک ہی شہرمیں رہتے ہوئے بارہ برسوں کے دوران میاں بیوی کی حیثیت سے بہت کم ملتے رہے البتہ اس کے بطن سے ہر تین برس بعد بچے برآمد کیے گئے، جی ہاں اس کے تینوں بچے بطن چیر کے نکالے گئے، اس نے انہیں جنم نہیں دیا، بچوں سے ملنے کی خاطر میں ہفتے میں تین بارضرورجاتا رہا تھا۔

بچے جب مجھ سے رات رہنے کی ضد کرتے تومیں کبھی کبھار، رات کو ساڑھے آٹھ نو بجے ان کے پاس پہنچ کران کے سونے تک یعنی ساڑھے دس گیارہ بجے تک بیٹھ کرکے ساڑھے گیارہ بجے واپس اسی گھر میں لوٹ آیا کرتا تھا جہاں یہی نیک خاتون رہتی ہے، جوگرمیوں میں داچا کی مکین ہوتی ہے، اور گرمیوں میں ہی مجھے رات کو رکے رہنے بارے بچوں کی آرزو پوری کرنا ہوتی تھی۔

مگربچے جب صبح اٹھتے تو مجھے نہ پاتے، یوں تب چھ برس کی بیٹی نے شب بخیر بولنے کے ساتھ ساتھ یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ آخر تو آپ کو بھاگ ہی جانا ہے۔ اب جب پاکستان میں فلیٹ کی چابی مجھ سے کھوگئی تھی، توخاتون فلیٹ کھولنے نہ پہنچی اور مجھے بچوں کے پاس جانا پڑا جہاں میں 30 جون سے مقیم ہوں۔ کل میں نے نینا یعنی اپنی قانونی اور شرعی بیوی کو فون کرکے کہا کہ میری ناک میں دم ہوچکا ہے، میں استراحت کے لیے دو ایک روز کے لیے داچا پہنچ رہا ہوں۔ اگرچہ اس نے کہا کہ یہاں آ کے کیا کروگے؟ مگر روکا نہیں۔ میں آج یعنی جمعرات کے روزیہاں پہنچ گیا۔

میترومطلب زیرزمین ریل گاڑی کے سفر کے بعد ایک مقام سے شہرسے باہر 35 ویں کلومیٹرپر پہنچ کرسڑک کے اس پار جانا ہوتا ہے جہاں سے ٹیکسی دستیاب ہوتی ہے، جو نہیں تھی۔ میں نے خاتون کو فون کیا اور اس نے ریڈیو ٹیکسی کال کی جوتین منٹ بعد پہنچ گئی۔ جب میں پہنچا تواس نے مجھے غیریت کا احساس نہ ہونے دیا لیکن مجھے کچھ لمحوں کے لیے، خاص طور پر جب وہ نظر سے اوجھل رہی یہ لگا جیسے میں کسی غیرکے ہاں ہوں مگر پھر یہ تاثر فوراً ہی زائل بھی ہوگیا۔ اس نے کوئی اختلافی بات شروع کی تو میں بولا خدارا مجھے استراحت کرنے دو۔ اس کا جواب تھا چلو نہ میں بولوں نہ تم بولو، استراحت کرو۔ میں ہنس پڑا اور کہا کہ میں تو بولوں گا۔

اس نے اپنے ہاتھ سے اگائے کھیرے اتارکے دیے جو میں چاروں کے چاروں ہڑپ کرگیا۔ دن میں بورش اور روٹی کے ٹکڑوں پرمکھن لگا کرکے دیا۔ رات کو خود اگائے گئے بینگنوں اور آلو کا سالن ساتھ میں گھرکے کھیروں، ٹماٹروں کا سلاد ساور کریم کے ساتھ اور چائے پیش کی۔ کام کی تو جنونی ہے ہی، سارے لان سے پتے جھاڑو کیے اور پھر بجلی کی مشین سے لان کا گھاس کاٹا۔ مجھے ساری سہولتیں دیں مگر کہا بیوی اب تمہاری وہی ہے۔

جو یورپ میں نہیں رہتے وہ یورپ والوں کی کشادہ دلی کا اندازاہ بھی نہیں کرسکتے۔ جب میں نے آتے ہوئے فیس بک پر داچا جانے کی خبردی تو کئی دوستوں نے پوچھا کہ کیا صلح ہوگئی؟ صلح تو وہاں ہوتی ہے جہاں جھگڑا ہو۔ ہمارا جھگڑا ہوا ہی نہیں۔ فہم کا اختلاف البتہ ہے وہ بھی اس لیے کہ میں پاکستانی اور مسلمان ہو کے سوچتا اور وضاحت کرتا ہوں جیسے میں نے تحریر کے شروع میں شرعی اور قانونی کا ذکر کیا مگروہ یورپی ہو کر کے سوچتی اور دلیل دیتی ہے جس میں شرع کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

اب دیکھیے، میرے پہنچنے کے بعد خیرخیریت پوچھ کے کہا، کیا بہانہ بنا کے آئے ہوکہ کس کے پاس جا رہے ہو؟ ظاہر ہے میں یہی کہہ کے آیا تھا کہ میں نینا کے پاس داچا جا رہا ہوں۔ مسلمان بیوی کے لیے پہلی بیوی کا ہونا کوئی مسئلہ اس لیے نہیں کہ شرع اجازت دیتی ہے۔ البتہ بچے تھوڑا گھبرا گئے تھے بالخصوص وہی بیٹی جو چھوٹے بھائی سے کہہ رہی تھی، شورمت کرو، پاپا ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس کی ماں جس نے اپنی ترش مزاجی سے میری ناک میں دم کیا، الٹا بچوں سے ہنس کے کہہ رہی تھی، تم نے پاپا کو اتنا تنگ کیا کہ وہ ہم سے بھاگ رہے ہیں۔ دس سال کا بیٹا بولا، کوئی بات نہیں وہاں سے بھی ہم کھینچ لیں گے۔

لیکن میں یہاں نینا کے پاس آ کے خود کو بالکل گھر پہ محسوس کر رہا ہوں کیونکہ وہ میری مزاج شناس ہے، کہہ رہی تھی، ”فرق محسوس کرلینا“ جیسے مجھے اس فرق کا احساس نہیں۔ نہ ہوتا تو اس کی موجودگی کے باعث اس داچا کو اپنا گھر کیوں سمجھ رہا ہوتا۔ اگرمجھے اس تقریباً ہم عمرخاتون سے شدید التفات ہوتا تومیں جوان بیوی اور تین پیارے بچوں کے ہوتے ہوئے اس سے تعلق استوار رکھنے پہ کیوں تلاہوتا۔ لوگ تواپنے حساب سے سوچتے ہیں۔ جو چاہے سوچیں، جائیں بھاڑ میں۔ مجھے اپنی جنت گنوانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ بس حالات ہوتے ہیں جن کے سبب انسان وہ کر لیتا ہے جووہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ بعض اوقات توویسا کرنے کا سوچا تک نہیں ہوتا۔

عادت کے مطابق، نئی جگہ ہونے کے سبب، اسباب تو اور بھی تھے، جیسے نینا نے پوچھا بھی کہ اس پتلی رضائی میں تمہیں ٹھنڈ تو نہیں لگے گی، میں نے کہا تھا نہیں، کوئی ڈیڑھ بجے رات سویا مگر صبح ساڑھے تین بجے ٹھنڈ سے آنکھ کھل گئی، رضائی پرکمبل جوڑا، اس چکرمیں نیند اڑگئی، صبح کہیں پونے سات بجے سوپایا وہ بھی اس کے بستر میں گھس کر، وہ تو سات بجے بستر سے بلند ہو گئی تھی مگرمیں اڑھائی گھنٹے بعد پھربیدارہو گیا۔ نینا کا سلوک مجھ سے ایسا رہا جیسے مہمان آئے دوست کے ساتھ۔

دس بجے کے قریب وہ اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ ساتھ کے قصبے میں خریداری کرنے چلی گئی۔ اب تک نہیں لوٹی۔ ناشتہ بنا کے رکھ گئی تھی اور کہتی گئی تھی کہ مائیکرو ویو میں گرم کرکے کھا لینا مگرمیں نے کدو کے ملغوبے کا سوپ لینا مناسب جانا کیونکہ وہ ابھی نیم گرم تھا، سست ہوں نا، ساتھ میں جارجیائی روٹی کو ساور کریم لگا کے لیا۔ ریفریجریٹرکھولا تو نینا کے دستورکے مطابق بھرا ہوا تھا مگر تاحال میں نے گھرمیں اترے آلو بخاروں پرہی ہاتھ صاف کیا ہے۔ بازارسے خریدے پھل نہیں چھیڑے۔ میرا کیا ہے میں کل نہیں تو پرسوں اڑنچھو ہوجاؤں گا مگرنینا کو پانچ ستمبرتک رہنا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •