تیل سے آسودہ مقدس زمین پر ایک اور طرح کی بھوک


پھر ذکیہ سعودی عرب پہنچ گئی۔ اسے گھر میں کام کرنا تھا، گھر کے ضروری کام۔ شیخ کے تین گھر تھے جہاں اس کی تین بیویاں رہتی تھیں، وہ دوسری بیوی کے بچے کولے کر اس کا گردہ بدلوانے انڈیا گیا تھا۔ پہلی بیوی نے فرمائش کی تھی کہ ہندوستان سے گھر کے لیے بھی ایک لڑکی لے آنا تو شیخ تینوں گھروں کے لیے اور اپنی بڑی لڑکی کے گھر کے لیے بھی ہندوستان سے سستے ملازم لے آیا تھا۔ شیخ کی بیوی اچھی عورت تھی، کم از کم ہنس کر ملی تھی۔ گھر میں پہلے سے دو فلپینی آیائیں بھی کام کررہی تھیں جوشیخ کے دو بڑے بیٹوں کے بچوں کود یکھتی تھیں۔

گھر کیا محل تھا۔ کیا نہیں تھا اس گھر میں۔ ذکیہ کی آنکھیں خیرہ ہوگئی تھیں۔ اس قسم کے گھر اور اس قسم کی چیزیں تو اس نے خوابوں میں بھی نہیں دیکھی تھیں، صرف سنا تھا ان کے بارے میں۔ کہانیوں میں، داستانوں میں، نوابوں کے قصے میں۔ کس طرح رہتے تھے نظام، ان کے محل، اُن کے باغ۔ وہ سب کچھ نظر آیا اسے سعودی شیخ کے اس گھر میں۔

ذکیہ محنتی لڑکی تھی، اسے کام کرنا تھا، دن رات پیسے کمانے تھے اورکماکر ہندوستان بھیجنے تھے۔ جہاں ماں تھی، بہنیں تھیں، بھائی تھے اور دادی تھی جس کا بیٹا ٹی بی سے گھٹ گھٹ کر مرگیا تھا۔ وہ سوچتی تھی اگر وہ کچھ کام کرکے اپنے بھائی بہنوں کو پڑھا سکی، کسی مقام پر پہنچا سکی تو پورا خاندان کھنچ جائے گا۔ کھنچ کر آگے پہنچے گا، غربت سے نجات ملے گی۔ خدا نہ کرے کبھی ایسا وقت آئے کہ وقار، شہاب اور جمیل کے گردے بیچنے پڑجائیں۔ اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر زور سے دبایا تھا۔

اپنے لیے اس نے کبھی بھی کچھ نہیں سوچا۔ وقت کہاں ملا اسے۔ پیدا ہونے کے بعد ہی وہ بڑی ہوگئی تھی، اسکول جانا، چھوٹے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال، پھر ابو کی نوکری چلی گئی اور وقت سب کچھ کر گزرا۔ غربت، بیماری، علاج، دکھ، غم، پریشانیاں اسے صرف ماں اور دادی کی دھندلی دھندلی روتی ہوئی تصویریں یادرہ گئی تھیں۔

شیخ کے محل میں کام اسے برا نہیں لگا تھا، وہ کام سے نہیں گھبرائی تھی، گھبرائی تو وہ ان آنکھوں سے تھی جو اس کے جسم میں ہر طرف سوراخ کرنے کو بے تاب تھیں۔ وہ گوری تو نہیں تھی مگر کچھ تھا اس میں۔ ایک خاص قسم کا بادامی رنگ، چہرے پہ بلا کی کشش کہ دل بے قرار ہوکر چاہے کہ ہاتھوں کے کٹورے میں چہرے کو سجا کر دیکھتے رہیں، آنکھوں میں بھربھر چومتے رہیں۔

شیخ کا تیسرا بیٹا صرف دیکھنے کا عادی نہیں تھا، اس نے زندگی میں جو چاہا، اسے حاصل کرلیا تھا۔ بڑے دونوں بھائیوں کے بارے میں بھی محل کے ملازین نے بہت ساری کہایاں سنائی تھیں مگر شادی کے بعد سے ان کا رویہ بدل گیا۔ شیخ کے کاروبار میں وہ شامل اور اسی میں مصروف رہتے تھے۔ وہ گھر یا سعودی عریاست میں بنے ہوئے مختلف محلوں میں وقت گزارتے یا کبھی اسپین کے ولا میں تو کبھی لندن کے گھرمیں یا کبھی امریکا میں۔ اسے اوپر والے کی نا انصافی پہ غصہ بھی آتا، رونا بھی آتا۔

موسم گرما میں مالکہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ صحرا میں کہیں کسی نخلستان میں کچھ دنوں کے لیے گئی تھی۔ ذکیہ دونوں بیٹوں کے خاندان اور ملازموں کے ساتھ جدہ میں سمندر کے کنارے بنے ہوئے محل میں تھی۔ گھر کی مالکن نے صحرا سے یہاں ہی واپس آنا تھا۔ آنے کے تیسرے دن پہ بڑا بیٹا فرانس چلا گیا اور اس کے دوسرے دن دوسرا بیٹا لندن چلا گیا تھا۔ پورے گھر میں صرف ملازمین تھے۔ کام کچھ بھی نہیں تھا، صبح سے شام کرنا اور آپس میں دنیا جہان کی باتیں کرنا۔ ہر ایک کی کہانی تھی، ماریا اور مریا دونوں فلپائن سے آئی تھیں۔ دونوں کی کہانی ایک ہی تھی۔ گاؤں میں ماں باپ تھے، خاندان تھا اور غربت تھی۔ دونوں ہی اپنے گاؤں سے نکل کر شہر آئی تھیں۔ گھروں میں بچوں کو سنبھالنا شروع کیا، پھر ایک ایجنسی میں اپنا نام لکھوایا۔ پھر ایجنسی نے ہی دونوں کو سعودی عرب بھیجا تھا۔ دونوں کو آئے ہوئے سال بھی پورا نہیں ہوا تھا، دونوں اپنے کام سے خوش تھیں۔ ضرورت سے بہت زیادہ رقم انہیں مل رہی تھی۔

ذکیہ نے سوچا کہ زندگی عجیب ہی کہانی ہے۔ کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے باپ کی طرح گھٹ گھٹ کر مرنا ہے، کچھ لوگ ہیں جنہیں اس کی طرح مریا کی طرح، ماریا کی طرح اپنی زندگی کی قربانیاں دینی تھیں۔ اپنے بھائی بہنوں کے لیے دنیا بنانی ہے اور کچھ لوگ ہیں جن کی زندگی صرف شیخوں کی طرح ہے کبھی نہ بدلنے والی۔

ایک دوپہر کو وہ اپنے کمرے سے نکل کر دالان کے سامنے سے ہوتی ہوئی بڑے سے باورچی خانے کی طرف جارہی تھی کہ اس نے اسے آلیا۔ بڑی تیزی سے کمرے کا دروازہ کھلا اور اس بند ٹھنڈے کمرے میں شیخ کے تیسرے بیٹے کی ہوس کا وہ نشانہ بنی۔

نہ کچھ کہہ سکی نہ کرسکی۔ کئی دن اس طرح سے گزرگئے، اس کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا ہوگیا ہے، کیا کرنا ہے۔ وہ چھپ چھپ کر بھی نہ بچ سکی۔ وہ جہاں بھی ہوتی، وہ اسے آلیتا تھا۔ نجانے کیسے محل کے سارے دروازے اسی کمرے میں کھلتے تھے جہاں وہ سوتا تھا۔ پورا محل ایک جنگل تھا اور کچھ بھی نہیں۔ قالینوں پردوں سے آراستہ، خوب صورت فرنیچر اور قیمتی پینٹنگ سے سجا ہوا ایک جنگل جہاں کوئی قانون نہیں تھا۔ بھارت کے مسلمان بیٹی نجانے کتنے دنوں تک لٹتی رہی۔ بار بار۔

ایک رات جب ذکیہ اپنے کمرے میں خاموشی سے آنسوؤں کے سمندر میں اپنے آپ کو ڈبو رہی تھی تو مریا نے اسے دیکھ لیا، اسے سینے سے لگایا، اس کے گالوں کو چھوا، اس کی آنکھوں کو چوما اور اس کے ساتھ بلک بلک کر اسی طرح سے روئی۔

یہ سب کچھ تو ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے۔ میرے ساتھ بھی مریا کے ساتھ بھی اور یہی سب کچھ گریسی کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ پہلے دن ہی دیوانہ وار گھر کے دروازے سے نکل کر متاوا کے پاس پہنچ گئی تھی، اس امید کے ساتھ کہ اسے انصاف ملے گا، اس کی شنوائی ہوگی مگر کچھ نہیں ہوا، کچھ بھی نہیں۔ وہ روتی رہی، بلکتی رہی، چیختی رہی، اور تین دن کے اندر ہی اسے فلپائن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4