دیپ جلتے رہے قسط 21

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو تین دن ہی ہوئے تھے، میں رشی کے اسکول کے وزٹنگ ایریا میں میں بیٹھی تھی کہ میری نظر ثوبیہ کی امی پر پڑی، وہ لیونگ سرٹیفکیٹ بنوانے آئی تھیں۔ میں بھی اسی کام سے آئی تھی۔ ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی میں ان کے قریب پڑی خالی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔

آپ لوگ کہاں چلے گئے تھے۔ کچھ بتا یا ہی نہیں۔
آپ نے کہاتھا کہ آپ لوگ شیعہ ہیں۔
ہاں تو۔
آپ کا بیٹا محرم کی دس تاریخ کو پیلی شرٹ پہنے تھا۔

میں خیال کر تی ہوں اس بات کا مگراس بچے نے شاید خود ہی نکال کر پہن لیے ہوں گے، مجھے یاد نہیں۔

ہمارے ہاں تو بچے بچے کو معلوم ہوتا ہے، لال پیلے رنگ، سوگ کے دنوں میں نہیں پہنتے، میں نے آپ کے بچے سے کلمہ سنا وہ بھی اس نے آدھا سنایا۔ آپ سچ بتائیں آپ شیعہ نہیں ہیں نہ؟

ہم نے انکار میں سر ہلا دیا۔
مجھے شک ہو گیا تھا، لیکن آپ نے کہا تو میں نے یقین کر لیا تھا۔

انہوں نے بڑے پیار سے پوچھا۔ خدا انخواستہ آپ کا کوئی پیارا مر جائے تو کیا آپ لال، پیلے کپڑے پہنیں گی۔

ہمیں یاد آیا ہمارے ابا کا انتقال ہوا تھا تو ہم نارنجی رنگ کا لباس پہنے تھے، لباس تبدیل کرنے کا ہوش کسے تھا، رات کو کسی کے کہنے پر کپڑے بدلے تو بھی گلابی رنگ کا جو لباس سامنے نظر آیا بغیر استری کیے پہن لیا۔

ان کا کہنا ٹھیک تھا ان کی دل آزاری ہوئی۔ ہمیں اپنی غلطی کا حساس توہوا، لیکن ان کے اتنی عظیم ہستیوں کے عظیم غم کو اپنے پیاروں کے غم سے جوڑنے پر افسوس ضرور ہوا۔ ہم اپنے پیاروں کے مر جانے کے بعد نہ ان کے غم اور نہ پیدائش کی خوشی اس طرح مناتے ہیں یہ تو ان محترم ہستیوں کے بلند کردار اور حوصلوں کی یاد اور غم ہے جو چو دہ سو سال گزرنے کے با وجود تا زہ ہے، ورنہ ہمارے پیارے اور ان کے پیاروں کے راج دلاروں کے غم منا نے والوں کے غم منانے والے بھی کب کے، مٹی ہو چکے۔

گھمسان کا رن ہے۔ ہر طرف آہ بکا ہے، ظالم نے بھوکے پیاسے بچوں پر بھی رحم نہ کھا یا زخمیوں کو سسک سسک کر جان دینی پڑی، طاقتور گھوڑے کی سموں کے نیچے بدن چٹختے رہے، سوچو تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جو بچ رہے ان کے کہ اوسان خطاہیں، بچوں کا ہوش ہے نہ ان کے پہناووں کا۔ خزاں بہار ایک سی ہو گئی، پھول اور ان کے رنگ نظر آتے ہیں نہ کو ئی مہک محسوس ہوتی ہے۔

پر ٹھہرو بی بی، آل رسول پر جو بیتی سو بیتی۔ غم کے اظہار کے لئے حواس قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ کودماغ میں رکھ کراس غمِ عظیم کو تازہ کرنا ہے۔

اتنی معلومات تو ہم نے رکھی نہیں، نہ کبھی نوٹس کرنے کی فرصت ملی۔ احمد نوید اور ان کے گھروالوں نے بھی اس خوب صورت فرقے کو اپنانے کی شرط رکھی نہ اصول و ضوابط باور کرائے۔ رسم ورواج کے پابندی کرنے نہ کرنے پر ان کا ایک ہی فقرے ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا“ نے ہمارے شب وروز کو آسان کیے رکھا۔

ان باتوں کو چھوڑیں یہ بتائیں کہ ثوبیہ نے اسکول بھی چھوڑ دیا، رشی کو بھی اس نے کچھ نہیں بتا یا۔
تب انہوں نے حیرت انگیز بات بتائی۔

ان کی نند کی اپنی ایک کلاس فیلو لڑکے سے بہت دوستی تھی۔ ان کی دوستی پیار میں بدل گئی۔ پتہ تب چلا جب اس لڑکے کا رشتہ آیا۔ وہ لڑکا سنی گھر سے تھا۔ بہت اچھا خاندان تھا، لڑکا بھی بہت اچھا تھا۔

تب پھر کیا مسئلہ تھا؟ وہ سانس لینے کو رکیں تو ہم نے حیرت سے پوچھا
ہم سید ہیں، اپنی بیٹی غیر سید میں نہیں دیتے۔ نسل کو بٹہ لگ جا تا ہے۔

میرے سسر نے اس کا رشتہ طے کر دیا۔ میری نند نے بہت احتجاج کیا، لیکن کسی نے اس کی نہ سنی، اور ایک دن وہ گھر سے بھا گ گئی۔میرے سسر نے خاندان بھر میں کہہ دیا تھا کہ کوئی اس سے ناتا نہ رکھے۔ ایک سال بعد میری ساس کا aنتقال ہو گیا۔ وہ جنازے پرآئی لیکن میرے سسر اصولوں کے پکے نکلے انہوں نے اسے الٹے قدموں واپس کر دیا۔ تب سے ہمارے ذہنوں میں خوف ہے۔

میں انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ لیکن اس طرح تو دو ”بٹّے“ آپ کے خاندان کی عزت پر لگ گئے۔ اوربیٹی سے عمر بھر کی جدائی کا صدمہ الگ۔

بالکل نہیں، یہ ہمارے سسر کی اپنی عزت ِ سادات اور دین بچانے کے لیے ایک قربانی تھی، اور آئندہ لڑکیوں کے لیے عبرت کا سامان۔

واہ! محبت کو عبرت بنانے کے لیے باپ نے اپنا ہاتھ بیٹی کے سر اس کے قدم اپنی دہلیز پر نا رکھنے کی قسم کھا لی تھی۔

ثوبیہ کا باپ، اپنے باپ کے اس عمل کو دہرانا نہیں چاہتا تھا، اب سمجھ آیا، اس کے اندر کا یہ ہی خوف تھا جس نے بچپن کی دوستی کوپروان چڑھنے، اور پھراس سے آگے کے تحفظات نے ننھے دوستوں کو جد اکر دیا تھا۔

عیاشِ فکر دانشِ حاضر کے ساہو کار
وعدے میں سود کے یہ زیاں لے کے آئے ہیں

محبت، مروت، اخلاص، رحم، آگہی کے لکھے، یا سنے الفاظ کوفطرت کا حصہ بنا نے کے بجائے، دیکھا دیکھی، سنی سنائی روایت کو پروان چڑھانے میں ہم اپنی نسلیں اوراپنی خوشیاں کھا گئے۔ اسٹین لیس اسٹیل کی جھوٹی پلیٹوں کا انبار ہے کہ نہ گھستا ہے نہ ٹوٹتا ہے، کھاناکھائیے۔ بنا دھوئے سنک میں رکھیے، پڑوس سے آنے والی مقدس مکھیوں کو بھنکنے دیجیے۔ پڑوسیوں نے بھی دربار سجا رکھا ہے۔ اس کی رونق بڑھانے کو کہیں نوکری کیجیے، کہیں نوکری کا پیسہ خرچ کیجیے۔ دلی سکون بھا ڑ میں ڈالیے۔ روح سکون سے ہے لوگوں کو یقین دلایئے۔ عزت محفوظ ہے اعتماد رکھیے۔

جس گھر نیاز دے کے نکالا ملا ہمیں
یہ بت وہیں سے نازِ بتاں لے کے آئے ہیں

آغا خان اسکول میں آکورڈ ٹائمنگز کی وجہ سے ہم کسی نئی نوکری کی تلاش میں تھے، جلد ہی ہمیں نجی کالج میں انٹرویو کے لیے بلالیا گیا۔ کالج کے پرنسپل، جومالک بھی تھے، انہوں نے انٹر ویو میں ہماری قابلیت جانچنے اور صلاحیت پرکھنے کے بجائے ہم سے صرف یہ پو چھا گیا کہ ہم پاکستان اسٹڈی، اسلامیات اور اردو پڑھا لیں گے۔ ہم قومی مزاج کے حامل ایک شدید ضرورت مند تھے، بنا سوچے سمجھے اثبات میں گردن ہلا دی۔ وہ قومی مزاج کے ساتھ ملی اور اسلامی جذبہ بھی رکھتے تھے، جس کا اظہار ان کے ماتھے کے نشان اور لباس سے پھوٹا پڑ رہا تھا، انہوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ہماری سیلری دس ہزار طے کرتے ہوئے ایک اور احسانِ عظیم کیا۔ جب ہم ان کا شکریہ ادا کر کے اٹھنے ہی والے تھے تب ا نہوں نے انکشاف کیا کہ ہمیں صبح، دوپہر، شام یعنی تین شفٹوں میں پڑھانا ہوگا۔

ہم دس ہزار کا سن کر اتنے خوش تھے کہ نتائج پر غور ہی نہ کیا۔ کالج میں تین شفٹوں کے آغاز کے ساتھ ہی ہماری شفٹنگ ہو گئی۔

ایک کمرے والے مکان میں کیا کیا سماتا، احمد کے شوق سے لائے ہوئے فر نیچر کو اونے پونے بیچنا پڑا۔ اور اس مکان میں ہمارے اعمال کے ساتھ ضرورت کا سامان ہی جا سکا۔

قرآن پڑھتے ہوئے چند جگہوں پر سجدہ فرض ہے۔ ہماری اب تک کی زندگی میں سکون نے بھی اتنا ہی توقف کیا۔ تسبیح کے چند موٹے دانوں کی طرح ہمارے بھاری دن دو بارہ پلٹ آئے۔ وہ علاقہ کچھ اچھا نہ تھا۔ اس لیے گلی کے اسکول میں بچوں کو بھی داخل نہ کروایا کہ کسی ڈھنگ کے علاقے میں جا نے کے بعد کسی بہتر اسکول میں داخلہ کروا دیں گے۔

یہ درد پہلو بدلنے کی بھی جو مہلت دے
تو دیکھیں نیّتِ چارہ گراں بدلتے ہوئے

رشی، رامش گھر میں ہو تے اور ہم کالج کے لیے نکل جا تے۔ ہم نے اسکول کی نوکری اس کے آکورڈ ٹائمنگ کی وجہ سے چھوڑی تھی لیکن یہاں تو صورتِ حال دگر گوں تھی۔ نو بجے پہلی کلاس، تین گھنٹے کالج سے نکل کر پیدل چلتے ہوئے واٹر پمپ آتے، بس کا انتظار کرتے، بس آتی، ڈرائیور کے موڈ کے مطابق کبھی پندرہ منٹ تو کبھی آدھے گھنٹے میں اپنے اسٹاپ پر اتر کر تیز قدموں اپنے گھر کی گلی دس منٹ میں عبور کرتے۔ کھانا بناتے، بچوں کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد، دوسری شفٹ کے لیے گھر سے نکل جا تے۔ دو سے چار بجے تک دو پیریڈ لینے کے بعد پھر گھر جا کر شام کی کلاس لینے سات بجے آموجود ہو تے۔ شام کو پرنسپل کی برقعہ پوش اہلیہ ٓافس میں برا جمان ہو تیں۔ ان کا پردہ کڑا تھا۔ ہم نے بھی ان کی صورت کبھی نہ دیکھی۔

ایک ہزار کرائے میں خرچ ہو نے کے بعد پہلی آئی تو اطمینان تھا کہ دس ہزار روپے تنخواہ ملے گی تو آہستہ آہستہ اتنی سیونگ ہو جا ئے گی کہ ایڈوانس کی رقم کے ساتھ کو ئی بہتر مکان دیکھ لیں گے۔

شکر ہے ہفتہ اتوار چھٹی ہو تی تھی۔ دونوں دن بچوں کے ساتھ خوب مستی کی جا تی اور انہیں پڑھانے اور ان کے ساتھ مستی کرنے میں چھٹی کے دوو دنوں میں بیتے ہوئے پانچ دنوں کی ساری کوفت ہوا ہو جا تی۔ بچے بھی قدرت کا کیسا ا نعام ہیں۔ زندگی کی ساری رونقیں اور کامیابی کی طرف بڑھتے قدم، ان کے بڑھتے قد کے مرہونِ منت ہیں۔ کیسی ہی آزمائش ہو ان کے ساتھ زندگی بے حد حسین ہے۔

کالج میں پڑھاتے ڈیڑھ ماہ گزر چکا تھا لیکن سیلری نہ ملی تھی روزانہ تقاضا کرنے کے بعد چار ہزار ہمارے ہاتھ پر رکھ دیے گئے۔ اور کہا گیا اگلے ماہ کی سیلری میں سب جمع کر کے دے دیے جا ئیں گے۔ لیکن ہر اگلے ماہ تین، کبھی چار ہزار روپے ہاتھ پر رکھ دیے جا تے۔ چھ ماہ گزرنے تک تک ان کے پاس ہمارے تیس ہزار روپے جمع ہوچکے تھے لیکن اب ہمت جواب دے چکی تھی۔

کسی نے بتا یاکہ ان کے خلاف تھا نے میں ایف آئی آر لکھوا ئی جائے۔ تھانے پہنچے، تو تھانیدار خواتین نے سر سے پاؤں تک ہمیں دیکھا۔ گیٹ پر بیٹھنے، صفائی کرنے اور چائے بنانے والے سب ہی دبی دبی زبان سے ہنس دیے۔

ایک عورت ہمیں اندر ایک کمرے میں لے گئی، یہاں پر ایک صاحب میز پر پیر رکھے ٹیلی فون پر گفتگو فرما رہے تھے۔ یوں تو سارے تھا نے میں دن کے وقت اندھیر تھا لیکن اس کمرے کی ساری کھڑکیاں کھلی ہو نے کی وجہ سے د ہوپ چنگھاڑتی ہوئی اندر آرہی تھی۔ تھانے دار نے ہمیں دیکھا اور پھر ہمارے ساتھ والی عورت کو اشارہ کیا، اس نے منہ بنا کر معلوم نہیں کا اشارہ کیا۔ ان کے ان اشاروں کنایوں پر غصہ تو بہت آیا لیکن مصلحتا ً خاموشی اختیار کی۔

کیوں بی بی کس کے خلاف شکایت لکھوانی ہے۔
جی کالج کے مالک کے خلاف۔
کون سے کالج کاما لک۔
ہم نے اسے کالج کا ایڈریس سمجھا یا اور مالک کا نام بتا یا۔

کہنے لگا۔ اس نے وہ تو بڑا شریف آدمی ہے، اتنی بڑی دا ڑھی ہے، پانچ وقت کی نما ز ادا کرتا ہے، میں مان ہی نہیں سکتا، اتنا پڑھا لکھا وہ تمہیں کیوں چھیڑے گا۔

ہم سمجھ گئے کہ یہاں پر زیادہ تر خواتین ہراسانی کی شکایات لاتی ہیں اور وہ ہمیں بھی وہی سمجھ رہا تھا۔ اس کے ناخنوں اور آنکھوں میں گندگی بھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں ہمارے اور انگلیاں اپنے جسم میں گڑی تھیں۔

اس کے شیطانی لہجے اور حرکات پر ہمیں شدید غصہ آگیا۔ بلند آواز میں اپنا غبار نکالا اور لعنت بھیج کر گھر چلے آئے۔

اگر چند با ہمت خواتین ایسی کوئی شکایت لا تی بھی ہیں، تو ان کا رویہ ان کے ساتھ کس قدر ہتک آمیز ہو تاہے۔ ایسی شکایات لا نے والی صرف ان کے لیے تفریح کا سامان ہو تی ہیں۔ اور ان تھا نوں میں انہیں جس طرح پریشان کیا جا تا ہے اس کے لیے ہراسانی بہت چھوٹا لفظ ہے۔

حلیے، اور شکل سے وہ غریب گھر کا لگ رہا تھا، صاف محسوس ہو تا تھا کہ چھوٹی موٹی بد عنوانی اس کے گھر کی عسرت کو کم نہ کر سکی تھی۔

میر تقی میر دلی کے امیر زادوں کو غربت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں لیکن میں نے خود پر بیتی سے اس کا الٹ اخذ کیا ہے۔ غریب، غریب کی وجہ سے غریب ہے۔ غریب نے اپنی جہالت اور تنگ دلی کے باعث اپنے ہی طبقے کے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ امیر کو کرسی پیش کرتا ہے اور غریب کے پیروں سے زمین کھینچ لیتا ہے۔
جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •