مست، سمو اور شاہ محمد مری کی تثلیث
” موسلا دھار بارش نے خیمے کی طنابیں توڑ ڈالیں۔ خیمے کی کڑیاں اور پردے ہوا میں بکھر گئے، چادر تیز ہوا اڑا کر دور لے گئی۔ حسن و جوانی کی ملکہ کی گہری سیاہ ناگ جیسی کنڈل زلفیں، چہرہ کیا تھا ایک چراغ روشن، آنکھیں غزال جیسی سہمی ہوئی سیدھی دل کو چھید گئیں، تؤکلی پہ انجماد طاری ہو گیا، آنکھیں جھپکنے کا اپنا ازلی کام بھول گئیں دل نے برق کی رفتار سے دھڑکنا شروع کر دیا۔ محبت کا بگ بینگ تؤکلی کے دل کے کانوں پر بج چکا تھا“
یہ سمو تھی، انیسویں صدی کے اوائل کے بلوچستان کے مری قبیلے کی عورت جس نے بلوچ خانہ بدوش گھرانے کے تؤکلی کو جنون آشنا کیا اور اسے تؤکلی سے مست تؤکلی بنا دیا۔
مست تؤکلی کا ایک اور نام بھی ہے۔ سمو سے ٹوٹ کر محبت کرنے کے حوالے سے اسے ”سمو بیلی“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تو بس سمو کی محبت تھی اور مست کی شاعری۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری کی کتاب ”مستیں تؤکلی“ کے مطابق مست اور سمو کی زندگی کی پوری کہانی میں ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جسے محبت کے علاوہ کوئی اور صورت دی جا سکے۔ یہ محبت کے میگنیٹک فیلڈ میں ”مستالوجی“ ہے۔ محبت کے باہر کا عنصر کچھ بھی ہو سکتا ہو گا مگر فکر مست نہیں۔ اسی فکر مست یعنی مست کی شاعری کا تذکرہ اس کتاب میں انتہائی سہل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں بلوچستان کے دو مشہور شعرا کا بھی ذکر ہے جو مست سے پہلے کے شاعر ہیں۔ شہ مرید اور جام درک۔ مست کی شاعری پر دونوں ہی کا کچھ نہ کچھ اثر نظر آتا ہے۔ اگرچہ جام درک اور مست کی شاعری میں فکری مماثلت نظر آتی ہے تاہم مست کے کیف کا انداز ہی الگ ہے۔
” سمو تیرے فراق کے دکھ دم بہ دم تازہ ہوتے ہیں
قہر کی آگ کی مانند جسم و جاں کو خاکستر کرتے ہیں
آہوں نے جھلسا ڈالا ہے من کو میرے
سرتا پا جھلس کر ہو گیا ہوں کیلڑ کی طرح سیاہ۔ ”
مست تؤکلی کا قلم رنگوں اور خوشبووں کی محفل سجاتا ہے۔ لطیف و حسین احساسات کو بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کتاب میں جناب شاہ محمد مری نے مست کی شاعری کو بنظر غور دیکھا، پڑھا اور سمجھا ہے اور سمجھایا ہے کہ مست بلوچی زبان کا وہ منفرد شاعر ہے جس نے کسی دوسری زبان کا لفظ شاید ہی اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے اور کہیں ایسا کیا بھی ہے تو اس نے اس لفظ کے تلفظ کو مقامی زبان میں ڈھال لیا ہے۔ مست کی شاعری میں تشبیہات اور استعارے بھی الگ ہیں۔
وہ اس کی دھرتی ماں سے متعلق ہیں جہاں وہ پلا بڑھا اور جس فضا میں اس نے شاعری کی۔ اس نے روایتی شاعروں کی طرح سمو کے چہرے کو چاند جیسا نہیں کہا بلکہ وہ چراغ کہا ہے جو اس کے جھونپڑے کو روشن کرتا ہے۔ سمو کے دیدار کی پیاس بجھانے کے لیے وہ ندیوں کو صدا دیتا ہے، پانی کے مشکیزوں کا ذکر کرتا ہے کہ پیاس بجھانے کے لیے ان کی رسیوں کے آخری سرے بھی چوس جاؤں تو بھی یہ پیاس نہ بجھے۔ مست تؤکلی چونکہ خود پہاڑوں، وادیوں، چٹانوں اور سنگلاخ میدانوں میں جذبہ ءعشق کی تسکین کے لئے پھرتا رہا اور سمو بھی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لئے انہیں جگہوں پر موجود تھی اس لئے مست نے اظہار کرنے کے لئے تشبیہات بھی وہیں سے اخذ کی ہیں۔
”سمو ایک دیا ہے اندھیری راتوں میں
سمو ایک بوٹی ہے ڈھلوان چٹانوں کی
سمو انجیر کے بڑے بڑے پتوں والا پیڑ ہے
جو اونچے پہاڑوں اور ندیوں کے قریب اگتا ہے ”
شاہ محمد مری نے مست کی شاعری کو کچھ اس طریقے سے قارئین کے لیے سہل بنایا ہے کہ مست کی شاعری کی ساری منظر نگاری پڑھنے والے کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ یہ مست تؤکلی کے ساتھ شاہ محمد مری کے خصوصی روحانی تعلق کو بھی ظاہر کرتی ہے اور کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کو مست، سمو اور شاہ محمد مری کی ایک تثلیث نظر آتی ہے۔ صاحب کتاب نے صرف مست اور سمو کے تعلق ہی کو کتاب کا موضوع نہیں بنایا بلکہ ہمیں اس میں بلوچستان کی قدیم تاریخ سے بھی آگاہی دی ہے۔ شاہ محمد مری لکھتے ہیں، ”میری نظر میں مست کا پورا فلسفہ یہ ہے کہ ہزاروں برس تک فیوڈل نظام سے تربیت یافتہ ہمارے جینز میں تبدیلی لائی جائے۔ سوچ کا نیا انداز، زندگی گزارنے کی ایک نئی ترتیب وضع کی جائے۔“

” مست کی یونیورسٹیاں“ کے باب کے تحت انہوں نے مست کی جہاں گردی کے دوران اس کے سستانے اور پڑاؤ ڈالنے کا پر لطف ذکر کیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق مست کی وزڈم کے سر چشمے، خیر و خیرات گاہیں، جشن و تقریبات، سرداروں کی اوطاق اور دانشوروں اور فلاسفروں کی درسگاہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مست کی شاعری نے بلوچی شاعری اور سماجی زندگی کو ایک نیا رخ دیا، ایک متبادل سیاسی سماجی فکر، سمو کو ایک انسان سمجھنا، بطور انسان اس کی پذیرائی کرنا اور وہ سارا احترام دینا جس کی وہ حق دار ہے۔ یہ فکر تو آج کے دور میں بھی خال خال ہی ملتی ہے جہاں عورت کو انسان نہیں بلکہ کماڈٹی سمجھا جاتا ہے لیکن مست نے اس دور میں قبائلی روایات سے ہٹ کر انقلابی شاعری کی جس کی مثالیں قاری اس کتاب میں پڑھ سکتا ہے۔
” مست کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ محبوبہ کو ایک کماڈٹی، ایک شے نہ سمجھا جائے۔ محبوبہ سات دروازوں کے پیچھے سات پردوں میں بند کرنے کی چیز نہیں ہوتی۔ وہ بچپن کے زمانے کا خوبصورت کھلونا نہیں ہوتی کہ جس کے چھن جانے کا خوف ہمہ وقت دماغ پر مسلط رہے۔ “
” مست تؤکلی نے اپنی محبت کے تجربے کو اس فیوڈل سماجی ترتیب کے احکامات سے آزاد رکھا۔ اس نے اس مقدس کتاب جیسے ننھے پودے کو اسی آزادی کی فضا میں پرورش کی یہاں تک کہ وہ پودا رنگا رنگ خوشبودار پھولوں سے بھر گیا اور ہمیں شاندار محبت کے گیتوں سے سرشار کر گیا۔“
ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ہماری سماجی انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک بہت خوبصورت بات کی ہے جو بے حد اہم ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ”ایک سماجی کمزوری کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔ انسان اپنی فطرت میں بہت معصوم ہوتا ہے۔ کوئی ذرا سا پسند آیا تو جھٹ اسے دیوتا قرار دے دیا اور اس کے نام اور کلام پر نذر نیاز بانٹنے کا رواج پڑ گیا۔ اس کی پسند و نا پسند کو باقاعدہ حلال و حرام گردانا گیا اور اس کے نام پر رچوئلز اور پرستش کا باقاعدہ ڈھانچہ تیار ہو گیا۔ مست کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ اس کے شعروں کی جمالیات اور معنویت سے مستفید ہونا چاہیے۔ اس کی تعلیمات کی تفہیم کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اسے فلسفی شاعر ہی رہنے دینا چاہیے، درویش محض نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی فکر مست کو جامد بنانا چاہیے۔ “
میں نے محترم شاہ محمد مری کی کچھ اور تصنیفات بھی پڑھ رکھی ہیں اور میں ان کے مطالعے، مشاہدے اور اسلوب نگارش کا بے حد معترف ہوں۔ ”مستیں تؤکلی“ کے ذریعے ہمیں ایک انسان دوست، محکوموں سے محبت کرنے والے، تلوار پر حرف اور نفرت پر محبت کو ترجیح دینے والے انقلابی شاعر سے بہت عمدگی سے روشناس کرایا گیا ہے۔ کتاب کی ڈکشن، ترجمے کا حسن، ابواب کا قرینہ، اس پر کی جانے والی تحقیق اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شاہ محمد مری کا اپنا اسلوب نگارش بہت آسان، سادہ اور مکمل ترسیل لیے ہوتا ہے۔ ان کا خاصہ ہے کہ بات قاری تک بہت آسانی سے پہنچے، خواہ وہ کتاب کی صورت میں ہو یا زبانی بیان کی صورت میں۔ شاہ محمد مری کا ابلاغ ان ہر دو صورتوں میں کامیاب ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے تین ایڈیشن اس وقت تک شائع ہو چکے ہیں۔
کتاب کا سرورق اور پس ورق دونوں ہی ”مست“ ہیں۔
کتاب علم و ادب پبلشرز، اردو بازار کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ رابطہ 03357466580



