اِک جاں پروری اور ’ڈئیوس، علی اور دیا‘


غالباً انھیں یقین تھا کہ جب تک وہ خود یہ نہیں بتائیں گے کہ ہماری صبح کی ابتدا مہکتے، بل کھاتے، مسکراتے لمحوں سے ہوتی ہے اور شام ہونے تک ہمارے دامن میں دکھوں کی پوٹلی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود دن بھر کی تھکاوٹ اور روح کے زخم بے تابی سے اگلی صبح کی تمنا رکھتے ہیں (ص 228۔ 229 ) اور یہ کہ علی کمال کو ہسپتال پہنچانے والا جیسمین اینڈ روز گارڈن کا سٹاف افسر کہتا ہے کہ علی ایک سینئر سول سرونٹ تھا اور اخبارات میں بھی لکھتا تھا اور حکومتی ظلم و جبر سے وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا( 235 )، تب تک اُن کے ناول کے قارئین کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔ متذکرہ آخری باب کے مکالموں سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ ناول نگار نے پہلے سولہ سترہ ابواب کی کہانی کا موضوع خود ہی ان مکالموں میں ایسے سمجھا دیا ہے کہ ہمیں اور آپ کو دماغ پر ذرا سا بھی زور دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی:

”کیا سماجی چلن اور رسم و رواج انسان کو اس قدر پابند کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر کے جذبات کے اظہار کے لیے کسی دوسرے سماج کی طرف دیکھے؟ کیا علی ہم میں سے نہیں تھا یا ہم علی سے الگ تھے؟ کیا یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ملک کورفتہ رفتہ کھو رہے ہیں۔ علی کے ابا کتنا سچ کہتے تھے۔ یہی آزادی تھی جس کا ارمان تھا؟ “ (ص 236 )

”اُس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ خبر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے خیالات میں شفاف ہے۔ اس کا کردار بے داغ ہے۔ غضب یہ ہوا کہ وہ تندرست ہو رہا تھا۔ وہ شیزو فرینیا سے نکل رہا تھا۔ اس کے پاس اتنا کچھ ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ بانٹ سکتا ہے۔ وہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ وہ عوامی رائے بدل سکتا ہے لیکن کون اسے ایسا کرنے دے گا؟ نظام کا ’سٹیٹس کو‘ بدلنے کے لیے اس ملک کی اشرافیہ کے وہ مقاصد خاک نہ ہو جائیں گے جن کی بنیاد پر انھوں نے عنانِ مملکت سنبھال رکھی ہے۔ “ (ص 238 )

”وہ اکیلا ناکام نہیں ہواہے، اس کے ساتھ پورا سماج جو توازن اور امن و سکون کا متلاشی تھا، سب ناکام ہو گئے ہیں۔ وہ آدرش ناکام ہوئے ہیں، جس کی آرزو ہماری روحوں میں آزادی کے نام پر اتری تھی۔ “ (ص 239 )

”یہ صرف جھوٹ، نفرت اور ذاتی مالی مفادات کی اٹھی ہوئی دیواریں، منافقت کے محل ہیں، جن کی تعمیر کبھی مکمل نہیں ہوا کرتی۔ قومیں ایسی نہیں بنتیں۔ اب یہ طے ہو رہا ہے کہ ہمارے سماج میں، ہمارے اندر میں سچائی اور عدل کا عنصر ناپید ہے، ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ کیا یہ ناکامی پورے نظام کی نہیں ہے۔ “ (ص 240 )

انہی سب باتوں کی بنیاد پر اس ناول کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔ علی کمال تقسیم ِ ہند کے بعد اُس دھرتی پر پیدا ہوا جس کے بارے میں اُس کے والد کا خیال تھا کہ آزادی کے سراب کے سوا یہاں کچھ نہیں۔ ناول کی پوری کہانی میں انسانی آزادی کے سلب ہونے کی جھلکیاں کڑی در کڑی موجود ہیں۔ ’ڈئیوس، علی اور دیا‘ انسانی وجود کی فطری آزادی کو ہمارے سماجی نظام، معاشرتی رویوں اور مذہبی عقیدے کی لاٹھی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو تے ہوئے دکھاتا ہے۔ یہاں زندگی کرنے کے لیے طاقت کی لاٹھی ضروری ہے جس کی عدم دستیابی کی صورت میں تسلسل کے ساتھ جھوٹ بولنے کی قوت، مذہبی شکل یا اعلیٰ سطحی منافقت میں سے کوئی ایک کوالیفکیشن بھی آپ رکھتے ہیں تو کام چل سکتا گا۔

زیرِ نظر کہانی میں علی کمال کا بچپن بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ ناول نگار اُس کے بچپن کے تمام واقعات کا آئندہ زندگی سے کوئی خاص ربط قائم کرنے میں ناکام ہیں ماسوائے اُس لڑکی امبر سے ایک ملاقات کے، جو بعد میں علی کمال کی بیوی بنتی ہے لیکن جیون ساتھی کبھی بھی نہیں بن پاتی کہ اُسے کسی اور سے محبت تھی۔ علی کمال سوشلسٹ خیالات کا مالک ہے۔ مذہبی معاملات اُس کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اُس کی زندگی کی پہلی بہار شانی تھی جو اُس کے ہمسایے میں رہتی تھی اور اُس میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھی۔

پہلی دفعہ جب جوانی کے دنوں کے ایک منظر میں علی شانی کی گرم سانسیں اپنے اندر سمو رہا ہوتا ہے تو شانی کی چھوٹی بہن آجاتی ہے اور یوں ناول نگار اپنے اس مرکزی کردار کی کنواریت بچا لیتے ہیں، علی کہتا ہے کہ ”اس کے بعد پھر کبھی میں نے دانستہ شانی کو تنہائی میسر نہیں ہونے دی، مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ اگر اُس وقت شانی کی چھوٹی بہن کمرے میں نہ آتی تو ہم دونوں پر کئی ایک طوفان گزر جاتے، جس کا ازالہ رہتی دنیا تک ہم میں سے کوئی بھی نہ دے پاتا۔

” (ص 56 )اس سیچویشن پر تبصرہ کچھ دیر کے لیے موقوف رکھتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ بھٹو کے پہلے دور میں علی اپنے ایک بہت قریبی دوست خان جمال کے مشورے پر یورپ جانے کا پروگرام بنا تا ہے اور وہ دونوں پاکستان سے براستہ افغانستان، ایران اور ترکی، یونان میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ سفر اس ناول کے چالیس پنتالیس صفحات ہڑپ کر جاتا ہے۔ ان صفحات کا مجموعی تاثر ایک سفرنامے کا ہے۔ کہانی اور اس کے موضوع سے براہِ راست متعلق کچھ بھی نہیں ماسوائے جینی کے۔

علی اور جینی کی ملاقات استنبول سے پیرس جانے والی اورینٹ ایکسپریس کے ایک کمپارٹمنٹ میں ہوئی، کچھ دیر کے بعدڈائنگ کار میں وہ کھانے کی میز پر اکٹھے ہوئے۔ اس منظر میں علی اور جینی کی دلچسپی ایک دوسرے میں بڑھ رہی ہے، بئیر اور سیگریٹ کی ڈور پر چلتے ہوئے وہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور چند لمحوں کے بعد ”ڈبل آن دی راکس“ کے ایک ایک پیگ کے ساتھ ہی علی کو جینی کی آنکھوں سے اپنے لیے اُمڈتا ہوا پیار نظر آنے لگتا ہے جس کا آخری پڑاؤ وہی منزل ہے جہاں سے علی اس سے پہلے شانی کے ساتھ ہو کر واپس بھاگ آیا تھا۔

جینی کے جانے کے بعد علی خود کلامی میں کہتا ہے ”پہلے میں نے منزل کے انتظار میں شانی کھو دی، اب زندگی کی ایک ہمسفر جینی کی صورت میں ملی تو میں نے خود ساختہ خوابوں کی تعبیر میں اسے بھی کھو دیا، کیا میں نے ایک بار پھر اپنی جنت گنوا دی؟ “ (ص 100 )اس سیچویشن پر بھی تبصرہ کچھ دیر کے لیے موقوف رکھتے ہوئے آگے چلتے ہیں کہ جب یونان میں علی کی ملاقات اپنی زندگی کی اُس تیسری لڑکی دِیاسے ہوتی ہے جو وہ اپنے دراز قد، بھرے بھرے جسم اور تیکھے نقوش کی وجہ سے اُسے پنجابی جٹی لگتی ہے۔

دِیا کے ساتھ علی کی دِلی قربت بڑھتی جاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہیں، قربت جب بڑھتے بڑھتے یہاں تک آ گئی کہ علی نے تیسری بار ایک لڑکی کی گرم سانسوں اور تپتے ہونٹوں کو محسوس کیا تو ایک دفعہ پھر اُس کے دماغ میں جھماکا ساہوا اور یہ محسوس کرکے وہ پیچھے ہٹ گیا کہ ”میں ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا، میں بہت کمزور ہوں، مجھے خوف لاحق ہونے لگا کہ اگر میں نے ایک بار اس بندھن کو جوڑ لیا تو میری واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ پرندوں کی اڑان میں ڈار سے بچھڑ جانے کا احتمال میرے لیے سوہانِ روح تھا۔ “ (ص 141 )

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[khawarnawazish@bzu.edu.pk]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish