اِک جاں پروری اور ’ڈئیوس، علی اور دیا‘
صاحبو! ان تینوں سیچویشنز کا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ ناول نگار بہت ظالم ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ہمیشہ کہانی کار کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ بھلا اپنے سب سے عزیز کردارکے ساتھ ایسا کون کرتا ہے کہ ’مقامِ اعترافِ شکست‘ تک پہنچا کر واپس بُلا لے ( آن اے لائیٹر نوٹ)۔
مصنف ان تینوں سیچویشنز کو فکشنائز کرنے میں بھی ذرا سا زیادہ آگے نکل گئے ہیں۔ علی کی زندگی میں آنے والی تینوں لڑکیوں کے نمودار ہونے کا وقفہ بہت کم ہے اوراُن سے محبت میں گرفتار ہونے کی رفتار مستنصر حسین تارڑ کے کرداروں کی طرح بہت تیز ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی وجود میں محبت کی بے پناہ شکتی موجود ہے لیکن اس شکتی کے سر پر جب وجود سوار ہو جائے تو زندگی صحرا نظر آتی ہے۔ علی کا وجود اُس کے ہر جذبے سے بڑا ہے۔
جب دِیا کہتی ہے کہ اپنے من میں کیوں نہیں جھانکتے تو وہ کہتا ہے : ”من میں تو تب جھانکوں جب منزل کا نشان نظرآئے۔ ابھی یہ سب کچھ بہت دُور ہے۔ دِیا۔ میری منزل میرے وہ آدرش ہیں، میری تعلیم، میرا کیرئیر اور پھر ایسے حالات کو جنم دینا جس میں میرا وجود دنیا کے لیے ایک رول ماڈل ہو۔ فی الحال تو میں اپنے مستقبل کو ملک کے ان بچوں کے ساتھ دیکھتا ہوں، جنھیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں۔ جنھیں صحت و تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ہم ابھی جدو جہد کے عہد سے گزر رہے ہیں۔ ایک انقلاب سوچ اور تبدیلی ہی ان سب کا مقدر سنوارے گی، ایسے حالات میں تم خود سوچو میں کسی امکانی بوجھ کو کیسے پال سکتا ہوں بھلا؟ “ (ص 140 )
علی کمال جس زمانے میں یہ سب بول رہا ہے وہ آج سے لگ بھگ چالیس پنتالیس برس پہلے کادور ہے۔ بھٹو دور میں علی کمال ایسے بہت سے نوجوانوں کو انقلابی سوچ مقدر سنوارنے کا زینہ لگتی تھی، اپنے وجود کودنیا کے لیے رول ماڈل بنانے کا خواب ہی اُن کے لیے سب کچھ تھا اوراُس سب کے بیچ کہیں ایک مضبوط خاندانی نظام نے بھی اُس نسل کو جکڑا ہوا تھا۔ گویا یہ دوطرفہ گرفت تھی، اپنے آدرشوں کی بھی اور اُس نظام کی بھی جس کا علی حصہ تھا۔
وہ دونوں سے ہی نہ بھاگ سکتا تھا۔ شانی، جینی اور دِیا تینوں کے قریب جاتے ہی اُسے لگتا ہے کہ اُس نے جو نہی اڑان بھری وہ اپنی ڈار سے بچھڑ جائے گا۔ تینوں سیچویشنز پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ستر سال گزرنے کے بعد بھی اپنے اجتماعی لاشعور میں موجود ’ڈار سے بچھڑنے کا خوف‘ مٹا نہیں سکے۔ ہمارے داخل کو ہمارے خارج کے لگائے ہوئے زخم اتنے گہرے ہیں کہ اُن کا درددو نسلوں کو ہڑپ کر چکا ہے اور تیسری اُسے بھگت رہی ہے۔ ہمارے بڑوں نے گذشتہ صدی کے وسط میں ایک اڑان بھری تھی اور اُس میں اپنی ڈار سے ایسے بچھڑے کہ اپنے آپ سے ہی بچھڑ گئے۔ منزل ملی نہ اپنی ڈار کا ساتھ واپس ملا۔ ہم سب کسی نہ کسی سطح پر اڑان بھرنے سے خوف زدہ رہتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنے جذبات کے کراس روڈز پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم حال سے زیادہ مستقبل میں جیتے ہیں۔ ہمیں دوڑنے سے پہلے گرنے کا خوف وراثت میں ملتا ہے۔ علی کمال کا بھی اس خوف نے زندگی بھر پیچھا کیا۔ وہ اپنے جذباتی معاملات میں ادھورے پن کی کسک ساری عمر کاندھوں پر اٹھائے چلتا رہا۔ دِیا کی محبت سے بھاگ کر واپس پاکستان آنے کے بعدعلی کمال نے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرزکیا، اخبارات میں کالم لکھے، سی ایس ایس کیا اور اُس نظام کے ساتھ جڑ گیا جس کا اصلاً وہ کبھی بھی حصہ نہ تھا نہ بن سکا۔
سی ایس پی آفیسر ہونے کے باوجود لوگوں کے ساتھ بڑے عوامی انداز میں میل جول رکھتا تھا اور اپنے آدرشوں کو بھُولنے کے لیے تیار نہ تھا حالانکہ ماسٹرز کے بعد وہ ایک دفعہ مارشل لائی جبر کا نشانہ بنتے ہوئے جیل بھی جا چکا تھاجب اپنی ایک اُستاد میڈم جہاں آرا کی یونیورسٹی سے برطرفی کے خلاف کالم لکھا تھا۔ ناول کے اس حصے میں علی کمال کے پاس وہ سب تھا جس کی کوئی بھی عام پاکستانی نوجوان خواہش کر سکتا ہے لیکن اس کا وجود خالی تھا۔
معاشرتی سطح پر وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔ دوسری تنہائی باطن کی تھی جو شاید مٹ جاتی کہ دِیا اچانک اُس کی زندگی میں واپس آگئی تھی۔ یہ وہ سیچویشن ہے جہاں ناول نگار نے اپنی دانست میں پلاٹ کو ٹوسٹ دینے والی ایک تکنیک کا استعمال کیا ہے جسے ’Deus ex machina‘ (ڈی یوس ایکس میکینا)کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ لاطینی اصطلاح ہے۔ نعیم بیگ صاحب نے اسے ’ڈئیوس ایکس مشینا‘ لکھا ہے (ص 147 )۔ غالباً اس لیے کہ انگریزی میں اس سے مراد مشین سے یکدم باہر نکلنے والے طاقتور دیوتا کی ہے۔
اس اصطلاح کے اشتقاق میں جائیں تو بہرکیف ’مشینا‘ ہی درست لگتا ہے کہ یونانی ٹریجڈیز کو سٹیج کرنے والے ایکٹرز میں سے جو دیوتا ؤں کے رُوپ میں اچانک نمودار ہوتے تھے ایک مشین کے ذریعے ہی کسی سین میں ٹپکتے تھے۔ درست تلفظ کے مسئلے میں پڑے بغیر ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ یہ تکنیک بہت پہلے یونانی ٹریجڈیز میں پلاٹ کو ٹوسٹ دیتے ہوئے آگے بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور آج کا سائنس فکشن تو اس کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
یوری پیڈیز یا ارسطو یا بہت بعد کے شیکسپئیر کی مثال دینا بھی دُور کی کوڑی لانے ایسا کام لگتا ہے، آج کی ’ہیری پوٹر‘ سیریز کی کوئی کہانی اٹھا کر دیکھ لیں یا ’انڈیا ناجونز‘ ، ’اولیور ٹوسٹ‘ اور ’لارڈ آف دی رنگز‘ ایسی بیسیوں مثالیں مل جاتی ہیں جہاں اس تکنیک کو برتتے ہوئے ایک سیچویشن کو یکدم اور یکسر تبدیل کیا جا تاہے۔ اِسے تخلیق کار کی تخلیقیت پر سوالیہ نشان بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی کہانی کو ایسے موڑ پر لے آتا ہے جہاں سے آگے کی طرف کوئی راستہ نہیں نکلتا سو وہ اس ’پلاٹ ڈیوائس‘ کو استعمال کرنے پر مجبور ہوتاہے۔
نعیم بیگ ’ڈئیوس، علی اور دیا‘ میں ایک جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ قدیم گریک مائتھالوجی میں یونانی خدا کا نام ہے جو طاقت کی علامت کے طور پر کسی بھی منظر میں غیر مرئی طور پر حاوی ہو جاتا ہے (ص 147 )۔ علی اور دِیا جب دوبارہ قریب آئے تو ڈئیوس دیوتا سے یقیناً برداشت نہ ہواکہ ایک دیوی ایک زمیں زاد کے اتنی قریب آرہی تھی جیسے اب اُسے زمین پر ہی اترآنا ہو۔ ڈئیوس نے پہلی دفعہ یونا ن میں اپنی دِیا کو علی سے بچایا لیکن آسمان سے کوئی خوفناک بجلیاں نہیں برسائیں، اب کی بار اس طاقتور دیوتا نے علی کو معاف نہ کیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


