ناطق نامہ، فقیر کی بستی اور خوابوں کا نگر


اس جواب سے ہمیں بہت سے جواب مل گئے۔ اس کے اندر ہم نے ایک عاشق کی خاموشی بھی سنی اور نا آسودگی بھی دیکھی۔ اب اُس کے آزاد کے ساتھ اور ہمارے اُس کے ساتھ تعلق کا حسن کچھ لمحوں کے لیے اس داستانِ عقل و عشق کی شوخی کو موخر چاہتا تھا۔ ہم خاموش ہو لیے۔ وہ کچھ گنگنانے لگا۔

نیند جاتی رہی۔

خواب جاری رہا۔

فقیروں سا ایک فقیر جو کئی دن سے بستی میں پڑا تھا، اُٹھا اور ایک سمت کو چل دیا۔ چلتے چلتے وہ بستی سے باہر نکل کر ایک کھلے میدان میں آ گیا۔ میدان کے بیچ میں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ چاروں طرف مختلف دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ اُن دکانوں کی خاص بات یہ تھی کہ ہر طرف میدان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کم و بیش ایک ہی پراڈکٹ کی دکانیں تھیں۔ مشرق کی طرف دکانوں کی پوری قطار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے سپیئر پارٹس کی تھی ماسوائے نکڑ کی آخری دو دکانوں کے، جن میں سے ایک دیسی و بدیسی دوائیوں کا مرکز تھا جبکہ دوسری دکان پر لکھا تھا سائیکلوں کی مرمت کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔

فقیر نے اُس دکان کی طرف غور سے دیکھا۔ اُس کا مالک یا سائیکلوں کابوڑھا کاری گر ٹائر میں ہوا بھرنے والے سٹیل کے پمپ کوتیل دے رہا تھا۔ فقیر نے سوچا کہ سائیکل چونکہ اب بستی سے قریب قریب ختم ہو گئے تھے اور جو چار پانچ کبھی کبھار نظرا ٓتے تھے اُن کے بوڑھے سوار دراصل پرانے ساتھی بدلنے کے روادار نہ ہوں گے اور کبھی کبھار کچھ مرمت کرانے کے بہانے یا کسی ٹائر میں ہوا بھرنے کے لیے اس دکان پر آ جاتے ہوں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُن پرانے سائیکلوں کے ٹائربستی میں نئی پکی سڑکیں بننے سے اتنا گھِس گئے ہوں کہ بالآخر اندر کی ٹیوبوں کی حفاظت سے دستبردارہو چکے ہوں اور دوسرے چوتھے پنکچر ہو کر بوڑھے سواروں اور اس دکان کے مالک کی ملاقات کا وسیلہ بنتے ہوں۔

فقیر کے ذہن میں یہ سارا منظرخود بخود بنتا چلا گیا۔ اِسی منظر میں اُس نے دیکھا کہ دکان کے مالک اور سائیکلوں کے بوڑھے کاریگر کو اُس کے اپنے بچے کوسنے دے رہے تھے کیونکہ وہ اُن کے اصرار کے باوجود دکان بیچنے کو تیار نہ تھا۔ یہ منظر اتنا تکلیف دِہ تھا کہ فقیر نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا اور فوراًاس منظر سے باہر نکل آیا۔

مشرقی جانب کی دکانوں کی قطار میں آخری دکان پر دوائیاں لینے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ اُس دکان کے سامنے پارکنگ کم تھی اس لیے آنے والے اپنے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بوڑھے کاریگر کی دکان کے سامنے کھڑی کر رہے تھے جس پر وہ اُن سے کچھ بول بھی رہا تھاجو فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے فقیر کے کانوں تک نہ پہنچا۔ اُس نے دیکھا کہ شمال کی جانب کی دکانوں میں سے آدھی موبائل فون شاپس تھیں جبکہ بقیہ آدھی مختلف انگریزی سکولوں کی بکس اور گفٹس وغیرہ کی دکانیں تھیں۔

ان دونوں طرح کی دکانوں پر بھی لوگوں کا ہجوم تھا۔ جنوبی قطار کی دو دکانیں بند تھیں لیکن بقیہ سب کی سب اتنی زیادہ روشن تھیں کہ اُن کی روشنی میں بند دکانوں کی طرف دھیان کم جائے۔ یہ سب روشن دکانیں جیولرز کی تھیں۔ فقیر حیران ہوا کہ ان دکانوں کے باہر کھڑے سکیورٹی گارڈز بڑی بڑی مونچھوں اور باہر نکلے ہوئے پیٹوں والے پکی عمروں کے لوگ نہ تھے بلکہ نہایت سمارٹ اور کلین شیوڈ نوجوان تھے اور بڑے نفیس رنگوں کے یونیفارمز پہنے ہوئے تھے۔

وہ ہتھیار پکڑنے کے انداز سے غیر تربیت یافتہ لگ رہے تھے۔ ممکن ہے کہ بستی کے جیولرز کا روایتی گارڈز پرسے اعتماد اُٹھ چکا ہے اور انھوں نے اپنی جان و مال کی حفاظت پر بالآخر اپنے ہی بچوں کو مامور کرنا شروع کر لیا ہو۔ مغرب کی سمت فقیر کی پیٹھ تھی، اُس نے پیچھے مڑ کر اُس جانب بھی نظر دوڑائی لیکن وہاں کوئی دکانیں نہ تھیں بلکہ دو تین پلازے زیرِ تعمیر تھے۔ ایک پلازہ اندر سے کچھ روشن تھا اور اُس کے سامنے کچھ گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، فقیر نے دیکھا کہ وہاں سے باہر نکلنے والے مردو خواتین کے ہاتھوں میں رنگین شاپنگ بیگزتھے اور بچے فرنچ فرائز کھاتے ہوئے باہر نکل رہے تھے۔

اس پلازے سے نکلنے والے تمام لوگوں کے چہروں پر فقیرکو مسکراہٹیں بکھری ہوئی نظر آئیں۔ اُس نے سر کوکھجایا، ہلکا سا مسکرایا اور واپس پلٹ کر اُس چھوٹی سی نظر آنے والی سائیکلوں کی دکان پر نظریں جما لیں۔ شام ہو چکی تھی۔ دکان کا مالک باہر پڑی چیزیں سمیٹنے لگا تھا گویا دکان بڑھانے کی تیاری میں تھا۔ فقیر اُس دکان کی طرف چلا پڑا۔ قریب پہنچ کر بوڑھے مالک کو اُس نے سلام کیا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اُس نے باہر پڑے بنچ پر بیٹھنے کی اجازت چاہی تو مالک نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی۔ فقیر کچھ دیر کو بیٹھا لیکن تھکن سے ایسا چُور تھا کہ اب بغیر اجازت مانگے بنچ پر لیٹ گیا۔ لیٹتے ہی اُسے نیند کی ایک گداز لہر نے آ لیا اور اپنے بازوؤں میں بھر کر اُس گہرے سمندر میں لے گئی جہاں جگمگ کرتی روشنیاں تھیں نہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا رش تھا، جہاں نیا موبائل سیٹ خرید کر نکلنے والے نوجوانوں کے جوان جذبے تھے نہ اپنے بچوں کو مہنگے سکولوں کی کتابیں خرید کر دینے والے والدین کے غیر مطمئن چہرے تھے، وہاں فرنچ فرائز کے شوقین معصوم بچے تھے نہ ہی برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں میں خوشیاں تلاشنے والی مضطرب روحیں تھیں، وہاں ایک بالکل گول حجرہ تھا، اس کے اندر ایک لیمپ تھا اور گہرا سکوت تھا۔

ایک چار پائی پر بواسیر کی بیماری سے لڑنے والے مولوی محمد حسین آزاد تکیے کا سہارا لیے ہلکی سی کروٹ میں بیٹھے تھے۔ سامنے والی چار پائی پر مولوی صاحب کے مرشد سید دھیان شاہ تکیے کو ٹیک لگائے براجمان تھے اور مولوی صاحب سے کہہ رہے تھے میاں آزاد مجھے تیرے واسطے حکم ملا ہے کہ فوراً دہلی چلا جا۔ آزاد نے اپنی زندگی میں پہلی بار مرشد کو نہ کی اور بولے، حضور! اب تو لاہور میں ہی پیوند ِ خاک ہوں گے کہ یہ شہر ہمیں زندہ رکھے، دہلی میں تو کئی آزاد ہوئے۔

آزاد نے خواب دیکھا۔ اُن کا خواب یہی تھا۔ انھوں نے لاہور نہ چھوڑا۔ لاہور نے بہت سوں کو چھوڑا۔ وہ وارفتگی کے بیس سال یہاں گزارا کیے لیکن شہرِلاہور نے وارفتگی سے اُنھیں نہ لیا۔ اُن پر تحقیق و تنقید کابہت سا کام ہوا، کئی کتابیں لکھی گئیں، عالمانہ تحریریں موجود ہیں، لیکن کسی نے آزاد کے لیے وہ دیوانگی نہ پائی جو اس شہر میں رہتے ہوئے آزاد کے حصے آئی۔ مولوی آزادکی غلطیاں اُن اُن نے تلاشیں اور ابھاریں جنھیں گلیوں کی تنگیوں میں رہتے ہوئے کھلے میدانوں کی خواہشوں نے مارا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[khawarnawazish@bzu.edu.pk]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish