اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے



شکیل نے اپنا سَر پکڑ لِیا۔ ”کیوں اپنی دُشمن ہوئی ہے۔ نواز کو بھَنک بھی پڑ گئی، تو تو اُس سے جائے گی۔“
کون بتائے گا، نواز کو؟ تو؟“ مایا نے شکی نظروں سے دیکھا۔
”مَیں کیوں بتانے لگا؟ تیری آنکھیں خود بول پڑیں گی۔ یہ کچھ چھُپا نہیں سکتیں۔“ شکیل اب وہاں سے اُٹھنا چاہتا تھا۔
”رہنے دے ناں۔ جب تک نواز ٹریننگ سے واپس آئے گا، تب تک میں سعید کو چھوڑ چکی ہوں گی۔ ختم کر لوں گی، رابطہ اُس سے۔۔۔ سعید اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے۔ مَیں اُس سے تعلق رکھ کے، اُس کا ہنستا بستا گھر تھوڑی برباد کروں گی۔“
”تو تمھارا یہ آخری فیصلہ ہے، کِہ تم شادی سے پہلے سعید سے مِل کے رہو گی؟“
”اگر تو اجازت دے تو۔“ مایا نے لجَاجَت سے کہا۔
”ٹھیک ہے۔ تو بلا لو اُسے۔ مَیں نے تو بہت پہلے کہا دیا تھا، تم اُس کے ساتھ سونا چاہتی ہو۔ مَچمچا رہی ہو۔ تب مجھ سے ناراض ہو رہی تھیں، تم۔“
”ہاں مَیں ناراض ہوئی تھی، لیکن اب سوچتی ہوں، تُو ٹھیک کہتا تھا۔ تو مجھے خوب پہچانتا ہے۔ مَیں ہوں ہی خراب عورت۔“ مایا نے مَسکین صورت بنا لی۔
”تم نیک رُوح ہو۔“ شکیل کو گوارا نہیں تھا، کِہ مایا احساسِ جرم کا شکار ہو۔
”جھوٹ بولتا ہے، تو۔“
”سچی۔ تو بہت اچھی ہے۔ اِس لیے تو پریشان ہوں، کِہ تو اپنے آپ کو برباد کر رہی ہے۔“
”شکیل، پتا ہے کیا؟۔۔ مَیں واقعی مَچمچا رہی ہوں۔“ مایا نے اپنی شہادت کی اُنگلی کو اپنے ہونٹوں پر رکھا۔ ”مَیں اُسے یہاں پیار کرنا چاہتی ہوں۔“ پھِر اُنگلی کو اُٹھا کر اپنی دائیں آنکھ پر رکھ لِیا۔ ”اور یہاں۔“ شکیل دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی مسلنے لگا۔ ”میں اُس کے ساتھ بھَر پور سیکس کرنا چاہتی ہوں، شکیل۔“ مایا کی آواز میں پیاس کی شدت محسوس کی جا سکتی تھی۔
”تو کر لے۔“ شکیل اِس کے جواب میں اور کیا کہتا۔
”کبھی تو کہتا ہے، اچھی بات نہیں۔ کبھی تو کہتا ہے، کر لے!“
شکیل نے ایک سرد آہ بھری۔ ”مَیں تجھے کیسے سمجھاوں۔ تو میری بات ہی کب سُنتی ہے۔“
مایا نے بڑے رَسان سے کہا، ”تیری ہی تو سنتی ہوں۔ پھِر بھی کہتا ہے، نہیں سنتی؟“
”اچھا! ایسا کر، بلا لے اُسے۔ لیکن کہاں مِلے گی، اُس سے؟“
”اُس کا گھر ہے یہاں، اِس شہر میں۔“ مایا کی آواز میں شَوخی در آئی۔
”ظاہر ہے، وہ تجھے گھر تو نہیں بلائے گا۔“
”وہ کہیں نہ کہیں بند و بست کر لے گا۔ یہ اُس کا کام ہے۔“
”بلا لے! یا چلی جا، اُس کے پاس۔۔۔ نواز آ گیا، تو تیرا اُس سے مِلنا مُشکل ہو جائے گا۔ یہ تو ماننے والی بات ہے، کِہ جب تک تو سعید سے سیکس نہیں کر لیتی، تو باز نہیں آنے والی۔“
”تو اجازت دے رہا ہے ناں، مجھے؟“ مایا خوش ہو گئی۔
”تجھے میری اجازت کی ضرورت ہے؟“ شکیل نے اُکتاہٹ سے کہا۔
”کبھی تجھ سے پوچھے بغیر کوئی کام کیا ہے؟“ مایا نے منہ بِسورتے اُس پر جِتلایا۔

”تجھے جو کرنا ہوتا ہے، تو وہی کرتی ہے۔ ملبا مجھ پر ڈالنا ہوتا ہے، کِہ یہ قدم میں نے تیری مرضی سے اُٹھایا۔“
”تو پھر نہ بلاوں؟“
اُس نے ایسے نو میدَانہ پوچھا، کِہ شکیل چاہتے ہوئے بھی منع نہ کر سکا۔ سینے سے اِک سرد آہ نِکلی۔ مایا شکیل سے اپنی منوا چکی تھی، اب بات بدلنا ضروری ٹھیرا تھا۔
”کل میں آوں گی، تیری طرف۔ آفس سے چھُٹی ہے۔ تُجھ سے اور بھی بہت سی باتیں کرنی ہیں۔“
شکیل اُسی شہر میں ایک سستے سے فلیٹ میں رہتا تھا۔ کچھ تو وہ پبلشرز کے لیے مُسَودوں کی پروف رِیڈنگ سے کماتا تھا، کبھی کبھار اُس سے کوئی کتاب ترجمہ کروا لی جاتی، زندگی ایسی بے ڈھب سی گزر رہی تھی۔ اُسی رات مایا نے شکیل کو فون کال پر بتایا، ”اچھا سن! سعید آ رہا ہے، کل۔ مَیں نے اُسے بلایا ہے۔ وہ تو پہلے سے تیار بیٹھا تھا، کِہ مَیں بلاوں اور وہ دوڑا چلا آئے۔ کل دُپہر تک پہنچے گا۔“
شکیل نے حَسرت سے پوچھا، ”کل تو نے میری طرف نہیں آنا تھا؟“
”آوں گی ناں۔ پہلے تجھ سے ملوں گی۔ وہیں سے سعید کو مِلنے جاوں گی۔“
”مگر اُس کو نہ پتا چلے، کِہ مَیں اِس مُلاقات کے بارے میں جانتا ہوں، ورنہ شرمِندہ ہو گا۔“ شکیل نے ہدایت کی۔
”پاگل ہوں مَیں، کیا؟“
شکیل پوری طرح مطمئن نہیں تھا۔ اُس کے لا شعور میں کُچھ تھا، جس کو لے کر اُسے بے اطمینانی تھی۔
”یار! سوچ لے۔“
”لے! اب سوچنے کا کَہ رہا ہے؟ تو نے ہی تو اِجازت دی تھی۔ تیری اِجازت سے بلایا ہے، اُسے۔“
شکیل جانتا تھا، تِیر کمان سے نکل چُکا ہے، پھِر بھی اپنی سی کوشش کی۔ ”کھو دے گی، نواز کو۔“
”ڈرا تو مت۔ پہلے تو نے اجازت دی ہے، اور اب ڈرا رہا ہے؟“
”ڈرا نہیں رہا۔ پَتا نہیں کیوں!۔۔ مَیں تُجھے سمجھا نہیں پا رہا۔“
”دیکھ! تو نے سچ کہا تھا۔ مجھے نواز کے آنے سے پہلے پہلے سعید سے مِل لینا چاہیے۔ دیکھی جائے گی، جو ہو گا۔“
شکیل بے بسی محسوس کر رہا تھا، تو مایا کے دِل میں بھی خدشات تھے۔
”سن! نواز مجھے چھوڑے گا تو نہیں؟“
”مَیں کیا کَہ سکتا ہوں۔“ شکیل نے تقریباََ چِڑ کے کہا۔
”تو سب جانتا ہے۔ ایسے ہی تو تجھے مرشد نہیں کہتی۔ تجھے خبر ہوتی ہے، سب۔“ شکیل خاموش رہا۔ ”سن! کیا میں ساری زندگی ایسے ہی گزاروں گی؟ کبھی اِس کے ساتھ، کبھی اُس کے ساتھ؟ کیا میری زندگی میں کبھی خوشی نہیں ہے؟“
”تیری زندگی بہت اچھی ہے۔ بہت اچھی ہو گی۔ بہت اچھی۔۔۔ تیری قِسمت میں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔“ شکیل نے دِل گیر لہجے میں یقین دِلایا۔
مایا کا جی اُداس ہو گیا تھا۔ ”چل ٹھیک ہے۔ اَب مَیں سوتی ہوں۔ صبح بہت سے کام ہیں۔ اُس کے آنے سے پہلے پہلے پارلر بھی جاوں گی۔“
یہ سوچ کے شکیل بے کل ہو گیا تھا، کِہ کل مایا اُس کے یہاں نہیں آئے گی۔ کہنے کو مایا نے کہا تھا، کِہ وہ آئے گی۔ لیکن شکیل، مایا کی نَس نَس سے واقِف تھا۔ رات گئے تک وہ سعید سے فون پر بات کرے گی، صبح دیر سے اُٹھے گی۔ حسبِ معمول ہر جگہ لیٹ پہنچے گی۔ شکیل کو اگلے روز کہیں نہیں جانا تھا، وہ کروٹیں بدلتے سو گیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran