اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے
”بہت اچھے! یہ ہے تیرا اصلی رُوپ۔ آگ لگا کے خُوش ہے، میرے تَن بَدن میں۔ دے طعنے۔۔۔ مار دے مُجھے۔۔ بُرا کیا، جو تُجھے راز دار بنایا۔ سچ کہتے ہیں، کِہ کسی پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔“
جانے مایا کیا کیا کہتی چلی گئی۔ آگے سے شکیل بھی دُو بدُو جواب دیتا رہا۔ ایک دوسرے کے لیے سخت جُملے کہے گئے۔ مایا نے کال مُنقطع کر کے شکیل کو وٹس ایپ پہ میسیج بھیجا: ”اتنی ہی بُری ہوں، تو چھوڑ دے مُجھے۔ آیندہ کسی شکیل کو کبھی اپنا راز دار نہ بناوں گی۔ آج کے بعد، مُجھ سے رابطہ مَت کرنا۔“
شکیل کا پارہ چڑھ چُکا تھا۔ اُسے جو سُوجھا لکھنے لگا۔ شاعری میں نفیس الفاظ مُنتخِب کرنے والا، وٹس ایپ پر غلیظ گالیاں لکھ کے بھیجتا گیا۔ اس پر بھی غُبار نہ چھَٹا، تو کانٹوں کے بستر پہ لیٹ گیا۔ دُپہر کو اُٹھا تو عادت کے مُطابِق، سب سے پہلے سیل فون اُٹھایا۔ مایا کی طرف سے کوئی پیغام نہ تھا۔ اپنے لکھے الفاظ پڑھ کے افسوس ہوا، کِہ کاش نہ لکھے ہوتے۔ دِن جیسے تیسے کٹا۔ شام گئی، رات ہوئی۔ نہ شکیل نے کال کر کے پَتا کیا، نہ مایا نے اپنی خبر دی۔ شکیل بار بار وَٹس ایپ اسٹیٹس دیکھتا رہا، کِہ مایا آن لائن ہوئی یا نہیں۔ رات اڑھائی بجے مایا آن لائن دکھائی دی، تو شکیل نے معذرتی پیغام لکھ بھیجا۔ اِس بار مایا نے بے نُقَط سُنائیں۔ شکیل نے تُوبہ کی، مُعافی مانگی کِہ وہ آیندہ کبھی غُصہ نہیں کرے گا۔
”مَیں کہیں نہیں گئی۔ سارا دِن گھر پہ تھی۔ بیٹے کی طبیعت خراب تھی۔“
”جھُوٹ مت بول۔“ شکیل کو اعتبار نہ آیا۔
”پُوچھ لینا باجی سے۔ مَیں کہیں نہیں گئی۔“
”تیرا میرا جھُوٹ کا ناتا نہیں ہے۔ مَت بول جھُوٹ۔“ شکیل نے اِلتجائیہ لہجے میں کہا۔
”ہاں! گئی تھی۔ ابھی گھر چھوڑ کے گیا ہے۔“ مایا فوراََ مان گئی۔
”پھِر؟“ شکیل کا دِل مُٹھی میں آ گیا۔
”مُجھے وہ مِل گیا ہے، جس کی مُجھے تلاش تھی۔ یہ وہی ہے، شکیل۔ اِس نے مُجھے سَر شار کر دیا۔“
”واقعی؟“
”اُسے پَتا ہے، عورت کو کیسے چھُوتے ہیں۔ کیسے پیار کرتے ہیں۔ نواز تو بالکل جنگلی ہے۔ اِس نے مُجھے ایسے چھُوا ہے، جیسے پھُولوں کو چھُوتے ہیں۔ مَیں بہت سکُون میں ہوں۔ بہت اندر تک سکُون ہے۔“
شکیل کو لگا، جیسے مُسافِر صحرا کے بیچوں بیچ ہے، اور پانی ختم ہو گیا ہے۔ خُشک حلق سے نکلا، ”پھِر مِلے گی، اُس سے؟“
”کیا فرق پڑتا ہے، مَیں نے اُسے پا لیا ہے۔ مِلوں یا نہ مِلوں۔“
شکیل اِتنا تو جانتا تھا، مایا کسی بات کا سیدھا جواب نہ دے، تو اُس میں بھید ہوتا ہے۔
”پھر سکیس کرے گی، اُس کے ساتھ؟“
”مَیں نواز کی ہوں۔ مَیں نواز سے شادی کروں گی۔“ مایا کا دِل اُس کی زُبان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔
ابھی تک شکیل کی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ ”اِس کو چھوڑ دے گی؟“
”اِسے تو مَیں نے پا لیا ہے۔ یہ میرے اندر بَس گیا ہے۔“
شکیل جو پُوچھ رہا تھا، اُس کا جواب نہیں دیا جا رہا تھا۔
”تُو نواز کی ہو گی، تو اِسے چھوڑ دے گی، ناں؟“
”کیوں تنگ کر رہا ہے، مُجھے۔ مَیں نواز سے شادی کروں گی۔“
مایا کے لہجے میں جھُنجلاہٹ نُمایاں تھی۔ شکیل یہ سمجھا، کِہ مایا اُسے صحیح صُورت احوال نہیں بتا رہی۔ اِس کی وجہ رات کی بات کا غُصہ ہو سکتا ہے، کیوں کِہ شکیل نے اُسے بُرا بھلا کہا تھا، تو بدلے میں وہ نہیں چاہتی ہو گی، کِہ اُس سے اپنا غَم بانٹے۔

”مُجھے لگتا ہے، تُجھے اِس سے راحت نہیں ملی۔ تُو مُجھے بِہلا رہی ہے۔ تُجھے برباد کرنے والا مَیں ہوں۔ نہ مَیں تُجھے سعید سے مُلاقات کی اجازت دیتا، نہ تُو اِس وقت اذیت میں ہوتی۔“
”سچ کَہ رہی ہوں؛ تیری قسم! اُس نے مُجھے رَجا دیا ہے۔ مَیں کبھی اِتنی پیٹ بھری نہیں تھی۔“
شکیل کے تَن میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ اُسے خطرے کی گھنٹیوں کی آواز، کہیں دُور سے آتی سُنائی دے رہی تھی۔
”کل تُو آئے گی، میری طرف؟“
”شاید مشکل ہو۔“
”کیوں؟“
”دیکھ نا، رات کتنی ہو رہی ہے۔ مُجھے صُبح دفتر بھی جانا ہے۔ سووں گی کب، اُٹھوں گی، کب؟!“
”دفتر سے چھُٹی کر کے آ جانا۔“ شکیل چاہتا تھا، وہ اُس کو سامنے بِٹھا کے سب باتیں پُوچھے۔
”روز روز تھوڑی ہوتا ہے۔ باجی محسُوس کر رہی ہیں، باتوں باتوں میں جِتلا رہی تھیں، کِہ مَیں سب جانتی ہوں، بَس خاموش ہوں۔“
”مَیں کل اِنتِظار کروں گا۔ تُو اَب سو جا۔“ شکیل کب ہار ماننے والا تھا۔
وہ مُسلسل ایک ہی بات سوچ رہا تھا، کِہ مایا نے سعید کا پیچھا نہ چھوڑا، تو نواز سے شادی کا مُعاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ اور سعید کے بارے میں وہ با خبر تھا، کِہ پہلی بیوی کے ہوتے، وہ کسی صُورت دوسری شادی نہیں کرے گا۔ ایسے میں مایا، کہیں نواز کو نہ گنوا دے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

