اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے


دُپہر میں مایا، شکیل کے فون کال کرنے پر اُٹھی۔ شکیل کا اندیشہ دُرست ثابت ہوا۔ مایا نے عذر پیش کیا، کِہ اِس کم وقت میں اُسے پارلر بھی جانا ہے، کئی روز سے اُس نے ٹھیک سے اپنا خیال نہیں رکھا، اِس لیے شکیل کے یہاں نہیں آ سکے گی۔ شکیل نے مِلنے پر اصرار نہیں کیا، کیوں کِہ وہ جانتا تھا، اصرار کرنے کا فائدہ بھی نہیں۔ اپنی عادت کے مطابِق، مایا نے سعید سے مِلنے میں شام سے رات کر دی۔ وہ بہن کو بتا کے نکلی تھی، کِہ شکیل کے ساتھ ایک مشاعرے میں مَدعو ہے، گھر لوٹنے میں دیر ہو جائے گی۔ مایا کا خیال تھا، سعید نے ہوٹل میں کمرا لِیا ہو گا، اور وہ اُسے سیدھا وہیں لے جائے گا۔ لیکن سعید کا ایسا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ وہ ایک ریستوران میں جا بیٹھے۔ مایا پہلی بار یہاں شکیل کے ساتھ آئی تھی۔ سعید واش رُوم گیا، تو مایا نے شکیل کو کال کر دی۔
”سنو! میں اُسے لے کے یہاں آئی ہوں۔“ شکیل کو دھچکا لگا، مگر مایا نے فورا جِتلا دیا۔ ”لیکن اُس جگہ نہیں بیٹھی، جہاں تمھارے ساتھ بیٹھی تھی۔ سچ کہوں، ہَم ابھی آئے ہیں، پر میرا یہاں رُکنے کو جِی نہیں کر رہا۔ تم یاد آ رہے ہو۔ کیا اُسے لے کے تمھاری طرف آ جاوں؟“
”نہیں! بالکل بھی نہیں۔ اور پھر یہاں میرے دوست بیٹھے ہیں۔ مَیں کہیں نہیں جا سکتا۔“ شکیل نے جھُوٹ بولا۔
”مِس کر رہی ہوں، تجھے۔ تو یاد آ رہا ہے۔“
”جس کام کے لیے اُسے بلایا ہے، ناں۔۔۔ وہ کر جا کے۔“ شکیل نے تاکید کی۔
”میرا جِی نہیں چاہ رہا۔ سیکس کو تو بالکل بھی نہیں۔ شاید نہ کر سکوں۔ مَن کرتا ہے، اُڑ کے تیرے پاس آ جاوں، اور گھُٹ کے تجھے جپھی ڈال لوں۔“


شکیل کا دِل بھر آیا۔ مایا کو فوری کال بند کرنا پڑی، کیوں کِہ سعید واش رُوم سے لوٹ آیا تھا۔ مایا نے اُس سے کہا، کِہ یہاں جِی نہیں بہل رہا، چلو کہیں اور چلتے ہیں۔ اُنھوں نے راستے میں فاسٹ فوڈ سے کچھ کھانے کو لِیا۔ سعید کار کو ایک ہی علاقے میں گول گول گھُماتا رہا۔ کُچھ فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا، کِہ کہاں جایا جائے۔ اس بیچ میں کار ہی میں بیٹھے، انھوں نے بوس و کنار بھی کِیا۔ پھِر دونوں سنیما ہال چلے گئے۔ رات کا آخری شو تھا۔ انٹروَل میں سعید ہال سے باہر گیا، تو مایا نے ایک بار پھر شکیل کو کال مِلا دی۔ ”دیکھ مَیں تُجھے کیسے پَل پَل کی خبریں دے رہی ہوں۔“
”اُس پر دھیان کر۔ چھوڑ مجھے۔ جا انجوائے کر۔“ شکیل نے جلے کٹے لہجے میں تنبیہہ کی۔
”فِلم دیکھ رہے ہیں، ہَم۔ جو تُو سمجھ رہا ہے، وہ بات نہیں ہے۔ فِلم دیکھ کے مَیں گھر چلی جاوں گی۔“
رات ڈیڑھ بجے سعید نے مایا کو گھر چھوڑا۔ مایا کار سے اُتر کے گلی میں داخل ہوئی، تو سعید وہیں ٹھیرے جاتی کو دیکھتا رہا۔ سعید کا خیال رہا ہو گا، کِہ وہ پیچھے مُڑ کے دیکھے گی۔ مایا نے پَلٹ کر نہ دیکھا۔ شکیل اُس کی کال لینے کے لیے بے تاب تھا۔
”مَیں نہا کے آتی ہوں، پھِر بات کرتی ہوں۔“
”نہانے کیوں لگی ہے؟“
”پاگل ہی ہے، تُو بھی۔ کہا ناں، کُچھ نہیں ہوا ہمارے بیچ میں۔ صُبح مُجھے جلدی اُٹھنا ہے، ابھی سے نہا دھو کے سو جاوں گی۔ کل پھر ہماری مُلاقات ہو گی۔“
”یہ رات تو ضاءِع کر دی، تُو نے۔“ شکیل کو شُبہہ تھا، کِہ مایا جھُوٹ بول رہی ہے، وہ اُگلوانا چاہ رہا تھا۔
”اُس کا تو کل بھی کوئی پروگرام نہیں لگ رہا۔“ مایا نے اگلے دِن کی صفائی بھی پیش کر دی۔
”تو کیا کرنے آیا ہے، پھِر وہ؟“
”مُجھ سے مِلنے آیا ہے، اور کیوں!“ مایا نے یُوں کہا، جیسے اُس سے مُلاقات ہی سعید کی زندگی کا مَقصد رہا ہو۔
شکیل کو مایا کے لہجے سے اَجنبیت کی بُو آ رہی تھی۔ ”لیکن تیرے اِرادے کا کیا؟ تُو تو اُس کے ساتھ؟۔۔۔“
”چھوڑ ناں! میرا مَن نہیں کِیا۔ ہو سکتا ہے، کل بھی کُچھ نہ ہو۔ چل فون بند کر، مَیں نہا کے آتی ہوں، پھِر بات کرتے ہیں۔“
شکیل ایک گھَنٹا اِنتِظار کرتا رہا۔ مایا، شکیل کو بھُلا کے سعید سے وٹس ایپ پہ چَیٹِنگ کرتی رہی۔ شکیل نے اِنتِظار سے تنگ آ کے مایا کا نمبر ملایا، تو اُس نے کال رِسیو نہ کی۔ یہ جانتے کِہ مایا اُسے نظر انداز کر رہی ہے، شکیل کا پارہ چڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد مایا نے وٹس ایپ پر پیغام بھیجا: ”باجی کمرے میں آ گئی تھیں۔ مُشاعرے میں کیا ہوا۔۔۔ یہ پُوچھنے لگیں۔ اِس لیے تُمھاری کال نہیں لے سکتی تھی۔۔۔ مَیں اب سونے لگی ہوں۔ مُجھے بہت نیند آ رہی ہے۔“
”مُجھے بات کرنی ہے‘ تُجھ سے۔“ شکیل نے جوابی پیغام بھیجا۔
”کل کریں گے، ناں۔ اِس وقت بہت تھکی ہوئی ہوں۔ آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی ہیں۔“


شکیل پیچ و تاب کھا کے رہ گیا۔ اُسے مایا سے یہ اُمید نہ تھی، کِہ یُوں ٹرخا دے گی۔ ہُوا بھی یہ کِہ شکیل سے بہانہ کر کے مایا صُبح پانچ بجے تک سعید سے بات کرتی رہی، جب تک کِہ سعید کو نیند نہ آ گئی۔ شکیل بار بار دیکھ رہا تھا، کِہ مایا وٹس ایپ پہ آن لائن ہے۔ اُسے چین نہیں پڑ رہا تھا۔ سعید سو گیا، تو مایا نے شکیل کو کال مِلا دی۔ شکیل نے کال کاٹ کر، اپنی برہمی کا اِظہار کِیا۔
”کیا ہے؟ اب کا ل کیوں کاٹ دی؟ تُو مُجھے خُوش نہیں دیکھ سکتا کیا؟ جلتا کیوں ہے؟“
مایا نے یہ میسیج بھیجنے کے تھوڑی دیر بعد دوبارہ کوشش کی، تو شکیل نے کال لے لی۔ اِس سے پہلے کِہ شکیل کوئی شِکوہ کرتا، مایا نے چڑھائی کر دی۔
”تُجھے ہو کیا جاتا ہے؟ جَل گیا ہے، میری خُوشی سے؟“
”یہ بات ہوتی، تو مَیں تُجھے اجازت ہی کیوں دیتا؟“شکیل بھنایا۔
”تو پھِر یہ کیا ہے؟ بتایا تو ہے، تُجھے۔ بہت تھکی ہوئی ہوں، مَیں۔ طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ اوپر سے تیرا یہ رویہ۔ کیسے انجوائے کروں گی، کل میں!“
”تُو اِس حال میں بہت اچھے سے۔۔۔“
شکیل نے بہت نا زیبا زبان استعمال کی۔ مایا کے تَن بَدن میں آگ لگ گئی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran